08:01 am
حج و عمرہ کرنے والوں کیلئے خوبصورت نیتیں

حج و عمرہ کرنے والوں کیلئے خوبصورت نیتیں

08:01 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
 اپنے رفقاء کیساتھ حسن اَخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کے آرام وغیرہ کا خیال رکھوں گا، غصے سے بچوں گا، بیکار باتوں میں نہیں پڑوں گا، لوگوں کی (ناخوشگوار) باتیں برداشت کروں گا۔
 تمام خوش عقیدہ مسلمان عربوں سے (وہ چاہے کتنی ہی سختی کریں، میں) نرمی کے ساتھ پیش آئوں گا۔’’بدوئوں اور سب عربیوں سے بہت نرمی کیساتھ پیش آئے، اگر وہ سختی کریں (بھی تو) ادب سے تحمل (یعنی برداشت) کرے، اِس پر شفاعت نصیب ہونے کا وعدہ فرمایا ہے، خصوصاً اہل حرمین، خصوصاً اہل مدینہ۔ اہل عرب کے اَفعال پر اعتراض نہ کرے، نہ دل میں کدورَت (یعنی میل) لائے، اس میں دونوں جہاں کی سعادت ہے)۔
 بھیڑ کے موقع پر بھی لوگوں کو اذیت نہ پہنچے، اِس کا خیال رکھوں گا اور اگر خود کو کسی سے تکلیف پہنچی تو صبر کرتے ہوئے معاف کروں گا۔ حدیث پاک میں ہے: جو شخص اپنے غصے کو روکے گا، اللہ عزوجل قیامت کے روز اُس سے اپنا عذاب روک دیگا۔ (شعب الایمان ج6، ص315، حدیث 8311)۔
 مسلمانوں پر انفرادی کوشش کرتے ہوئے ’’نیکی کی دعوت‘‘ دیکر ثواب کماؤں گا۔
 سفر کی سنتوں اور آداب کا حتی الامکان خیال رکھوں گا۔
اِحرام میں لبیک کی خوب کثرت کروں گا۔ (اسلامی بھائی بلند آواز سے کہے اور اسلامی بہن پست آواز سے)
 مسجدین کریمین (بلکہ ہر جگہ ہر مسجد) میں داخل ہوتے وقت پہلے سیدھا پاؤں اندر رکھوں گا اور مسجِد میں داخلے کی دُعا پڑھوں گا، اسی طرح باہر نکلتے وقت اُلٹا پہلے نکالوں گا اور باہر نکلنے کی دُعا پڑھوں گا۔
 جب جب کسی مسجد خصوصاً مسجدین کریمین میں داخلہ نصیب ہوا، نفلی اعتکاف کی نیت کر کے ثواب کماؤں گا۔ (یاد رہے! مسجد میں کھانا پینا، آب زم زم پینا، سحری و اِفطار کرنا اور سونا جائز نہیں، اعتکاف کی نیت کی ہو گی تو ضمناً یہ سب کام جائز ہو جائیں گے)
 کعبہ شریف پر پہلی نظر پڑتے ہی درودِ پاک پڑھ کر دعا مانگوں گا۔ دَورانِ طواف ’’مستجاب‘‘ پر (جہاں ستر ہزار فرِشتے دُعا پر آمین کہنے کیلئے مقرر ہیں، وہاں) اپنی اور ساری اُمت کی مغفرت کیلئے دُعا کروں گا۔
 جب جب آب زم زم پیوں گا، ادائے سنت کی نیت سے قبلہ رُو، کھڑے ہو کر، بسم اللہ پڑھ کر، چوس چوس کر تین سانس میں، پیٹ بھر کر پیوں گا، پھر دُعا مانگوں گا کہ وقت قبول ہے۔ فرمانِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے: ہم میں اور منافقوں میں یہ فرق ہے کہ وہ زمزم کوکھ (یعنی پیٹ ) بھر نہیں پیتے۔ (ابن ماجہ ج3، ص 489، حدیث 3061)
 ملتزم سے لپٹتے وقت یہ نیت کیجئے کہ محبت و شوق کیساتھ کعبہ اور ربِّ کعبہ عزوجل کا قرب حاصل کر رہا ہوں اور اُس کے تعلق سے برکت پا رہاہوں۔ (اُس وَقت یہ اُمید رکھئے کہ بدن کا ہر وہ حصہ جو کعبہ مشرفہ سے مس (ٹچ) ہوا ہے، ان شاء اللہ عزوجل جہنم سے آزاد ہوگا)۔
 غلاف کعبہ سے چمٹتے وقت یہ نیت کیجئے کہ مغفرت وعافیت کے سوال میں اِصرار کر رہا ہوں، جیسے کوئی خطاکار اُس شخص کے کپڑوں سے لپٹ کر گڑگڑاتا ہے جس کا وہ مجرم ہے اور خوب عاجزی کرتا ہے کہ جب تک اپنے جرم کی معافی اور آئندہ کے اَمن و سلامتی کی ضمانت نہیں ملے گی، دامن نہیں چھوڑوں گا۔ (غلافِ کعبہ وغیرہ پر لوگ کافی خوشبو لگاتے ہیں لہٰذا اِحرام کی حالت میں اِحتیاط کیجئے)۔
 رَمی جمرات میں حضرت سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیٰ نبینا علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مشابہت (یعنی موافقت) اورسرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت مبارکہ پر عمل، شیطان کو رسوا کر کے مار بھگانے اور خواہشات نفسانی کو رَجم (یعنی سنگسار) کرنے کی نیت کیجئے۔ 
سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بالخصوص چھ مقامات یعنی صفا، مروہ ، عرفات، مزدَلفہ، جمرہ اُولیٰ، جمرہ وسطی پر دُعا کیلئے ٹھہرے، میں بھی ادائے مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ادا کی نیت سے ان جگہوں میں جہاں جہاں ممکن ہوا و ہاں رُک کر دُعا مانگوں گا۔
طواف و سعی میں لوگوں کو دھکے دینے سے بچتا رہوں گا۔ (جان بوجھ کر کسی کو اس طرح دھکے دینا کہ ایذا پہنچے بندے کی حق تلفی اور گناہ ہے، توبہ بھی کرنی ہو گی اور جس کو ایذا پہنچائی اُس سے معاف بھی کرانا ہو گا۔ بزرگوں سے منقول ہے: ایک دانگ کی (یعنی معمولی سی) مقدار اللہ تعالیٰ کے کسی ناپسندیدہ فعل کو ترک کر دینا مجھے پانچ سو نفلی حج کرنے سے زیادہ پسندیدہ ہے۔(جامع العلوم والحکم لابن رجب ص 125)
علماء ومشائخ اہلسنّت کی زیارت و صحبت سے برکت حاصل کروں گا، ان سے اپنے لئے بے حساب مغفرت کی دُعا کروائوں گا۔ عبادات کی کثرت کروں گا بالخصوص نماز پنجگانہ پابندی سے اداکروں گا۔
(جاری ہے)

تازہ ترین خبریں