08:02 am
سینیٹ میں عدم اعتماد 

سینیٹ میں عدم اعتماد 

08:02 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
حکومت چلانے کا سیاسی تجربہ نہ ہونے کے باوجود عمران خان کی صورت میں ہمیں ایسا متبادل میسر آیا جو جاگیردارانہ خاندانی پس منظر نہیں رکھتا۔ ان کی حکومت کو مشکوک کردار کے حامل کئی ’’الیکٹیبلز‘‘ ، برادری اور خاندانوں کی حمایت حاصل ہے مگر پھر بھی گزشتہ حکومتوں کے مقابلے میں عمران کی حکومت زیادہ معتبر اور قابل اعتماد ہے۔ سیاسی اصلاحات کے بارے میں عمران خان کے ظاہر کردہ عزائم نے سیاست کے پرانے کھلاڑیوں کو اس قدر خوف زدہ کردیا کہ وہ ’’جمہوری کھیل‘‘ کے تحفظ کے لیے ایک صف میں آکھڑے ہوئے۔ انھیں جب اندازہ ہوا کہ 2018کے انتخابی نتائج کے بارے میں شکوک پیدا کرنے کی کوششیں بے اثر ثابت ہورہی ہیں تو انہوں نے حکومت کو نامعتبر کرنے کے لیے جان مارنے کی ٹھانی۔ 
بلاول کے والد کے ہوتے ہوئے بھی ان سے کچھ امید رکھی جاسکتی تھی لیکن بچکانہ رویہ کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہ عمران خان پر ’’سلیکٹڈ‘‘ کے آوازے کسنے ہی میں خوش ہیں۔ یہاں تھوڑی سی وضاحت کے لیے یہ کہنا پڑتا ہے کہ وزیراعظم سے ’’سلیکٹیڈ‘‘ اور ’’الیکٹیڈ‘‘ کی لفظی موشگافیاں بے معنی ہیں۔ عوام نے انہیں منتخب کیا ہے، انھیں افواج پاکستان کی بھرپور حمایت حاصل ہے اور آج سول اور عسکری قیادت واضح طور پر ایک پیج پر ہیں۔ 
2018 کے سینیٹ انتخابات میں، تحریک انصاف کے ٹکٹ پر نہیں، آزاد امیدوار کی حیثیت سے صادق سنجرانی بلوچستان کی جنرل سیٹ پر منتخب ہوئے اور 103میں سے 57ووٹ حاصل کرکے سینیٹ کے آٹھویں چیئرمین منتخب ہوئے۔ پرانے کھلاڑیوں نے سینیٹ کو ’’جمہوریت‘‘ کی آڑ میں اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے والے شریف اور زرداری خاندان کے ہاتھ کی چھڑی بنانے کے لیے صادق سنجرانی کی مخالفت کا فیصلہ کیا۔ پارلیمنٹ کو کمزور بنانے کے لیے لائی گئی تحریک عدم اعتماد کی نکامی حکومت کی بڑی کامیابی ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ سنجرانی کو بچانے کے لیے وہی طور طریقے اختیار کیے گئے، عمران خان اور تحریک انصاف جن کے خاتمے کا دَم بھرتے ہیں۔ 
عدم اعتماد کی ناکامی کو یقینی بنانے کی کوشش سے جمہوریت متاثر ہوئی تاہم ’’نیا پاکستان‘‘ کی تشکیل کا ایجنڈیجاری رکھنے کے لیے یہ مجبوری تھی۔ سینٹ میں انتخاب کا بالواسطہ طریقہ کار ’’ہارس ٹریڈنگ‘‘، خرید و فروخت، اثر و رسوخ کے استعمال اور مداخلت کی راہیں فراہم کرتا ہے۔ سینیٹرز اپنے ضمیر کی آواز پر ملک کے لیے وٹ نہیں دیتے، وہ اپنے فائدے کے لیے اپنے ووٹ کا استعمال کرتے ہیں۔ جب تک سینیٹ کا انتخاب براہ راست عوام نہیں کریں گے، سینیٹرز اپنی زیادہ سے زیادہ بولیاں لگواتے رہیں۔ 
ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے حاصل بزنجو کی جانب سے سینیٹ میں تحریک عدم اعتماد کی ووٹنگ میں ڈی جی آئی ایس آئی کی مداخلت کے الزام کو مسترد کردیا۔ کیا حاصل بزنجو یہ کہنا چاہتے ہیں کہ فیض حمید نے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کو اپنی کرپٹ قیادت کو جیل سے نکالنے کی کوششوں کو ناکام بنا دیا اور ایوان بالا کا کنٹرول حاصل کرلیا۔ پارلیمنٹ کو غیر مؤثر بنانے سے ملک کا معاشی بحران مزید شدید ہوگا اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا انتشار سڑکوں پر بھی آسکتا ہے۔ موجودہ حالت میں کسی صورت 2018میں دیے گئے عوام کے ووٹوں کی نمائندگی نہیں کرتی، یہ 2013اور 2018کے انتخابی نتائج کا ملغوبہ ہے۔ 2013کے انتخابات کے دوران پنجاب میں ن لیگ اور سندھ میں پیپلز پارٹی نے من مانے نتائج حاصل کیے تھے۔ 
ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی کرپٹ قیادت اپنے عزائم میں کام یاب ہوجاتی تو حکومت کو بلیک میل کرنا شروع کردیتیں۔ خطے کی موجوہ صورت حال میں جب ہمیں بھارت کی جانب سے ہائیبرڈ وار فیئر کا سامنا ہے وہ ہمیں کشمیر اور ایل او اسی پر کیے گئے اقدامات سے مسلسل اکسانے کی کوشش کررہا ہے ۔ پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کے لیے ہر جانب سے وار کیے جارہے ہیں۔ اندرونی اور بیرونی خطرات کے مقابلے میں ہر قیمت پر قومی سلامتی کا تحفظ اور بھارتی سازشوں کو ناکام بنانا  ڈی جی آئی ایس آئی کے فرائض میں شامل ہے۔ اگر ڈی جی آئی ایس آئی نے واقعی وہ کیا جس کا الزام ان پر لگایا جارہا ہے تو انہوں نے ’’پارسا‘‘ بننے کے بجائے صرف اپنا فرض نبھایا ہے۔ ان انتخابات میں ایک جمہوری سقم دور کردیا گیا اور دوسرا سینیٹ کے نام پر قوم سے کیا گیا مذاق بھی آشکار ہوگیا۔ اگر یہ فیض حمید کا کام ہے تو اس پر ان کی تحسین ہونی چاہیے۔ جب سوال قومی سلامتی کا ہو تو اس کے لیے کامیابی ہی واحد جواز ہوتی ہے۔ ( فاضل کالم نگار سکیورٹی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار ہیں) 

تازہ ترین خبریں