08:03 am
سفارتی پابندی

سفارتی پابندی

08:03 am

امریکی حکومت نے ملت ایران کے خلاف اپنی خودپسندی اور اقتصادی دہشت گردی کی حکمت عملی کو جاری رکہتے ہوئے سفارتی اصولوں اور بین الاقوامی قوانین کو نظر انداز کر کے30 جولائی 2019 ء کو اسلامی جمہو ر یہ ایران کے وزیر خارجہ جناب ڈاکٹر جواد ظریف کا نام امریکی وزارت خزانہ کی طرف سے پابندیوں والی فہرست میں درج کر لیا ہے۔
 
ٹرمپ انتظامیہ نے گذشتہ ایک سال سے اب تک خودپسندانہ روش کے ذریعے نہ صرف اسلامی جمہو ر یہ ایران بلکہ سفارت کاری اور کثیر جہتی نظریہ کے خلاف غیر قانونی رویہ اختیار کر رکہا ہے۔ ایک دہائی پر مبنی طویل مذاکرات سے انجام پانے والے ایٹمی معاہدے سے یکطرفہ علیحدگی، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے خلاف پابندی، جو کہ ایران کی باقاعدہ اور دفاعی فوج ہے، اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر کے خلاف پابندی اور اب 12 جولائی 2019 ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر بعض رکاوٹوں کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ کے خلاف غیر قانونی رویہ اس کی چند مثالیں ہیں ۔ وزیر امور خارجہ کے خلاف پابندی، امریکہ کی طرف سے بین الاقوامی حقوق کے مسلمہ اصول و ضوابط، اقوام متحدہ کے منشور کی بدولت ذمہ داریوں، سفارتی تعلقات کے حوالے سے ویانا کنونشن منعقدہ 1961ء اور اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر کی 1947 ء کی قرارداد سے متعلق تمام تر معاہدوں اور ذمہ داریوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ اقوام متحدہ ہیڈ کوارٹر کی قرارداد نمبر 11 کے پیراگراف نمبر 4 کے مطابق ’’امریکہ کے تمام فیڈرل، ریاستی اور مقامی ادارے دوسریممالک کے سفارتی مشنز کی ذمہ داریوں اور رفت و آمد کے راستے میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ کھڑی نہیں کریں گے۔‘‘ اسی طرح ویانا کنونشن کے مطابق تمام سفارت کاروں کو قبول کرنے والے ملک کے ہر قسم کے اقدامات کے خلاف مکمل اور غیر قابل تنسیخ ایمونٹی حاصل ہو گی۔
امریکی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ایرانی وزیر خارجہ کے خلاف پابندی، اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دبا کے لئے عمل میں لائی گئی حکمت عملی ہے جس کا مقصد ایرانی حکومت کو اپنا موقف تبدیل کرنے پر مجبور کرنا ہے لیکن جبکہ اس وزیر خارجہ کی بیرون ملک کسی قسم کے اثاثے اور بنک اکائونٹ موجود نہیں، لہٰذا یہ پابندی انکے خلاف کسی عملی صورت سے زیادہ ایک علامت ہے جو امریکیوں کی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے جو اسلامی جمہوریہ ایران کی سفارتی فلسفے اور منطق کے مقابلے میں ثابت ہوتی ہے۔جواد ظریف وزیر خارجہ ہونے کے ساتھ ساتھ اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارتی مشینری کی حقانیت اور سچائی کی آواز ہے۔ پابندی کے امریکی فیصلہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ظریف خارجہ پالیسی کے ذمہ دار کے طور پر عام رائے عامہ اور خصوصی طور پر امریکی عوام کی انکے راہنمائوں کی جہالت و کم علمی کی نسبت کس قدر موثر ہے۔ جی ہاں جب میدان جنگ میں ایک فریق اپنے مد مقابل پر کامیابی حاصل نہ کر سکے تو غیر اخلاقی حربوں سے کوشش کرتا ہے کہ اسے میدان سے باہر رکھے۔
ڈاکٹر ظریف حالیہ امریکی پابندی سے متعلق کہتے ہیں ’’کسی ملک کے وزیر خارجہ خلاف پابندی کا مفہوم، مذاکرات میں شکست، سفارتکاری میں ناکامی اور مکالمے کی مخالفت ہے۔‘‘ انہوں نے مختلف ممالک خصوصا یورپی ممالک کی طرف سے اس پابندی کی مخالفت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہا ۔امریکی حکومت کی نئی سازش میں حتیٰ اپنے گاہکوں کو اپنے ساتھ ملانے میں ناکامی سے امریکی اعتبار پوری طرح ختم ہو چکا ہے اورامریکی وزارت خزانہ کی پابندی فہرست میں ایرانی وزیر خارجہ کے نام کا اندراج ایک خود مختار اور اقوام متحدہ کے رکن ملک کے وزیر امور خارجہ کے طور پر اور ذاتی حیثیت میں اپنی ذمہ داریوں سے روکنے کے لئے غیر قانونی عمل اور اپنی مثال آپ ہے، جو کہ اس ملک کے دوسرے ممالک اور تنظیموں کے ساتھ تعلقات کے راستے میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔
امریکی حکومت نے اپنے اس فعل کے ذریعے ایران کے پوری دنیا کے ساتھ خارجہ تعلقات کو مجموعی طور پر نشانہ بناتے ہوئے یہ ثابت کر دیا کہ ظاہری دعوئوں کے برخلاف اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ مذاکرات چاہتا ہی نہیں ہے اور یہ باتیں فقط بین الاقوامی برادری کو فریب دینے کیلئے ہیں۔ جواد ظریف پر پابندی انکی ذات پر پابندی نہیں بلکہ یہ قدم اور پابندی عالمی سطح پر سفارتکاری کے خلاف شمار ہوتا ہے۔ یہ پابندی قانونی، عرفی اور اخلاقی کسی بہی طور پر قابل قبول نہیں ہے اور یہ بین الاقوامی اختلافات کے حل کے لئے سفارتکاری، مکالمہ اور تمام پرامن راستوں کی بندش اور علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر تشدد کے رجحان میں اضافے پر ختم ہو گا۔سفارتکاری کو کمزور کرنے والے اس غیر قانونی فعل کی مذمت اگر بروقت نہ کی گئی تو اس کے کسی خطرناک رویہ میں تبدیلی کیامکانات بڑھ سکتے ہیں۔ یہ پہلی بار ہو رہا ہے  کہ ایک ملک کی حکومت کسی دوسرے ملک کے حکام اور اداروں پر منظم انداز میں پابندیاں عاید کر رہی ہے لیکن ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں پابندی دوسرے ممالک کو دبائو میں لانے کے لئے ایک خطرناک اور روزمرہ ہتھیار میں تبدیل ہو گیا ہے۔
ایک مقتدر ملک کی سفارتی مشینری کے سربراہ کے خلاف حالیہ امریکی پابندیاں سفارتکاری کی روح کے واضح منافی ہے اور امریکی حکام کے ایران کے ساتھ بلا مشروط مذاکرات کی دعوت جیسے دعوئوں اور حقائق کے درمیان امریکی خارجہ پالیسی کے تضاد کو پہلے زیادہ سے واضح طور پر آشکار کرتے ہیں۔ اسی طرح ملت ایران پر پابندی اس کی خوراک دواں اور اپنے تیل کی برآمدات سے حاصل ہونے والے مفادات پر دسترس کی ممانعت، انسانی حقوق اور سفارتکاری کی حمایت پر مبنی امریکی جہوٹے دعوئوں سے متضاد تھے، ایرانی اثاثوں کو منجمد کرنے ، ایرانی تیل کی فروخت روکنے اور دوسرے ایرانی مفادات کی راہ میں روڑے اٹکانے کا عمل امریکہ کی طرف آزاد بین الاقوامی تجارت کے دعوئوں کے منافی ہے اور اجتماعی ہلاکتوں کے ہتھیاروں کی علاقائی ممالک کو کھلم کھلا فروخت نے امن پسندی کے نعرے کو کھوکھلے نعرے میں تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔
ریاست ہائے متحدہ امریکہ نے کئی بار یہ ثابت کیا ہے کہ اپنے من گھڑت مفادات کے لئے کوئی بھی قدم اٹھا سکتا ہے اور کسی بھی تعلقات کیاصول اور بین الاقوامی قانون کو پایمال کرنے سے روگردانی نہیں کریگا۔ اب وہ وقت آ چکا ہے کہ خطے سے باہر کی بڑی طاقتوں سے امید رکہنے کے بجائے اپنے خطہ کے مسائل کو حل کرنے کیلئے باہمی طور پر اکٹھا ہوا جائے اور بین الاقوامی حقوق، امن، سلامتی اور خطہ کی ترقی جیسے مفادات کی اپنے اتحاد کے ذریعہ نگرانی کریں۔ ڈاکٹر ظریف اس بارے میںکہتے ہیں کہ خطے کی اقوام، امریکہ کے انخلا ء کے بعد لمبے عرصہ تک ایک دوسرے کی ہمسایہ رہیں گی۔ وہ وقت آن پہنچا ہے کہ خطے کے راہنما علاقائی خطے ہی کے حل پر متمرکز ہو جائیں۔ مکالمہ اور عدم جارحیت اس کام کا بہترین آغاز ہے۔

تازہ ترین خبریں