08:04 am
  کشمیر میں بپا ہونے والا معرکہ 

  کشمیر میں بپا ہونے والا معرکہ 

08:04 am

 کشمیر کی خودمختاری پر ہندوتوا بریگیڈ کے تازہ وار سے جڑے ایک اہم نظریاتی پہلو کا تذکرہ نہ کیا گیا تو بڑی زیادتی ہوگی۔ کسی بھی قومی قائد یا راہنما میں دو وصف لازم ہیں ! ایک اپنے پیروکاروں کی تربیت اور دوسرا مستقبل میں جھانکنے کی صلاحیت۔ اقبال اور جناح کو یہ دونوں اوصاف عطا ہوئے۔  اقبال اور جناح نے مستقبل کی درست نشاندہی کی تھی کہ برطانوی راج کے بعد ہندوستان میں جمہوریت کی آڑ میں ایسا سفاک ہندو راج نافذ ہوگا جس میں کسی اقلیت کا وجود محفوظ نہ رہ پائے گا ۔ مسلمان اس ہندو راج کا خصوصی نشانہ بنیں گے۔ قائد اعظم نے بر وقت شیخ عبداﷲ کو کانگریس کے بچھائے جال سے خبردار کیا لیکن شیخ محترم تاریخ کی غلط سمت جا کھڑے ہوئے۔ جس بھارت کی محبت میں شیخ عبداﷲ نے قائد اعظم محمد علی جناح کے مخلصانہ مشوروں کو رد کرتے ہوئے کانگریس کی گود میں پناہ لی آج اُسی بھارت سرکارنے شیخ عبداﷲ کے سیاسی وارثوں کو بھی قید میں ڈالاہوا ہے ۔ بھارت نواز سابق کٹھ پتلی فاروق عبداﷲ نظر بندی کی حالت میں دہائی دے رہا ہے کہ یہ وہ بھارت تو نہیں جسے میں جانتا تھا ؟ میرا بھارت تو جمہوری تھا ! عمر عبداﷲ بھارت سرکار کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا دعویٰ کر رہا ہے۔ کٹھ پتلی بنت کٹھ پتلی مفتی سعید مرحوم کی دختر نیک اختر اپنے آقائوں کی قید میں جانے سے پہلے غضب کا بیان دے گئیں کہ دو قومی نظریہ ٹھیک تھا ۔ ہمارے بز ر گو ں نے بھارت کو پاکستان پر ترجیح دے کر تاریخی غلطی کی ۔ ہائے اُس زود پشیماں کا پشیماں ہونا ! تحریک حریت کشمیر کی لہو میں بھیگی تاریخ میں دو قومی نظریئے پر آنے والی تازہ گواہی جلی حروف سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے درج ہوئی ۔
 
 بھارت کے لیے نرم گوشہ رکھنے والے اور دو قومی نظریئے کا مذاق اڑانے والے لبرل ٹوڈیو ں کے منہ پر طمانچہ پڑا ہے ۔ بھارتی ریاست کا حصہ بن کر ہندوستانی نیتائوں سے حسن ظن رکھنے والے اصحاب جبہ و دستار کے کھوکھلے سیاسی شعور کو ایک بار پھر شکست فاش ہوئی ہے۔ کیا عجب واقعہ ہے کہ کشمیریوں کو سبز باغ دکھا کر جعلی الحاق کے جال میں پھانسنے والے نہرو کے سیاسی پیروکار اور جانشین بھارتی پارلیمان میں بی جے پی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں ۔ یہ احتجاج کشمیریوں کی محبت میں نہیں بلکہ مودی کے بغض میں کیا جا رہا ہے ۔ کوئی غلط فہمی کا شکار نہ ہو ! بی جے پی اور کانگریس کے پٹارے سے کشمیریوں کو خیر نصیب نہیں ہو سکتی ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ بی جے پی اپنا بغض زبان پر بھی لے آتی ہے جبکہ کانگریس دل میں چھپا بغض زبان پر لائے بغیر پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی عادی ہے۔ 
کشمیر کی تحریک حریت نے نیا موڑ لیتی دکھائی دے رہی ہے ۔ کاش اس قدیم مسئلے کا پرامن سیاسی حل نکل پاتا ۔ کاش کشمیری نوجوانوں کو آزادی کی منزل پانے کے لیے آگ اور خون کے مزید دریا نہ عبور کرنے پڑتے ۔ مودی سرکار کا حالیہ غیر دانشمندانہ اقدام بارود کے ڈھیر کو آگ دکھانے کے مترادف ہے۔  دلی میں لکھا گیا ایک کاغذ کا ٹکڑا کروڑوں انسانوں کی تقدیر کا فیصلہ نہیں کر سکتا ۔ خانہ پری والی ریاستی اسمبلی اور کٹھ پتلی حکومتوں کے ہوتے ہوئے بھی کشمیر غلام تھا ۔ آرٹیکل 370 اور 35A جب نافذ تھے تب بھی کشمیری  بھارتی سنگینوں کی نوک اور بندوقوں کی زد میں تھے ۔ آج بی جے پی کے ہاتھوں ان دونوں آرٹیکلز کے خاتمے کے بعد بھی کشمیر جبر کی چکی میں پس رہا ہے ۔ کشمیری کل بھی بھارت کے غاصبانہ تسلط کو تسلیم نہیں کرتے تھے اور آج بھی دلی سے جاری کیے جانے والے حکم ناموں کو جوتے کی نوک پر رکھے ہوئے ہیں ۔ دنیا کی سب سے بے اصول جمہوریہ بھارت اس سوال کا جواب نہیں دے سکتی کہ کشمیر کو بھارتی یونین کا حصہ قرار دینے کا فیصلہ اگر اتنا ہی مفید ہے تو پھر کشمیر میں کر فیو کیوں نافذ کر رکھا ہے ؟ انٹرنیٹ سمیت تمام مواصلاتی رابطے کیوں منقطع ہیں؟ تما م کشمیری راہنما کیوں قید کر دیئے گئے ہیں ؟ بھار ت نوازکٹھ پتلیاں بھی دو قومی نظریے کی دہائی دیتے ہوئے پاکستان پر بھارت کو ترجیح دینے کی تاریخی غلطی کا ماتم کیوں کر رہی ہیں ؟ نسل در نسل بھارت سرکار کی چاکری کرنے والے ! کشمیریوں کے حقوق کا سودا کرنے والے ! قومی غیرت کو چند مراعات کے عوض مہا سبھائی گروہ کے قدموں میں ڈالنے والے ملت فروشوں نے ہی آج بھارت کی نام نہاد جمہوریت کا اصل چہرہ بے نقاب کر ڈالا ہے۔ کل تک لیلائے اقتدار کی گود میں ہلکورے کھانے والے یہ ضمیر فروش بھی کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم میں بھارت کے شریک جرم ہیں ۔ بھارت کے مزاج شناس مودی سرکار کے حالیہ اقدام پر قطعاً حیران نہیں ۔ بھارت سے ایسے ہی اقدام کی توقع تھی ۔ ایسے میں پاکستانی حکومتی حلقوں میں ہڑبڑاہٹ کے آثار کیوں ؟ 
کشمیر بارے بی جے پی کے عزائم پر تقریباً پانچ برس سے تجزیے ہو رہے ہیں ۔ یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ حسب عادت ہمارے دفتر خارجہ کے بابوئوں نے کوئی تیاری نہیں کر رکھی تھی۔ اگرچہ پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں کشمیریوں سے اظہار یک جہتی کرتے ہوئے بھارتی اقدام کو مسترد کیا گیا تاہم مجموعی طور پر سرکاری رد عمل نے غم و غصے میں مبتلا قوم کی تکلیف میں اضافہ کیا ۔ خدا خیر کرے ! مودی سرکار کی جنونیت نے پورے خطے کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ پاکستان ہی نہیں چین نے بھی بھارتی اقدام کو اپنی سالمیت کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ کشمیر میں عوامی رد عمل کا آتش فشاں کسی بھی لمحے پھٹ سکتا ہے۔ آئندہ برس آزاد خالصتان کے لیے ساری دنیا میں سکھ برادری ریفرنڈم کروانے جارہی ہے۔ مشرقی پنجاب میں خالصتان تحریک کی دبی چنگاریاں پھر سے سلگ اٹھی ہیں ۔ افغانستان میں یک لخت طالبان کی متوقع آمد اور تیزی سے گھٹتا اثرو رسوخ بھی بھارت کے لیے نیک شگون نہیں۔ اسرائیل کی شہ پر کشمیر میں پھینکا گیا پانسہ جس رخ پر بھی پڑا بھارت کو اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ کشمیری عوام کی جد وجہد دشوار اور طویل ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ برہان وانی اور ذاکر موسیٰ کو مشعل راہ ماننے والے کشمیری نوجوان شیخ عبداﷲ اور مفتی سعید جیسے بھارت نواز سیاستدانوں کی اولادوں سے سوال پوچھ رہے ہیں کہ تم نے جعلی سیاسی عمل اور پرامن جمہوری اقدامات سے کیا پایا؟ بے ضمیر عالمی براداری اور بے حس مسلم امہ کے دروازے کھٹکھٹا کے فلسطین ، منڈانائو ، برما اور شام میں کون سا امن قائم ہوا؟ آج مسلمان کو آزادی طشتری میں سجا کر کوئی پیش نہیں کرے گا ۔ 
افغانستان میں طالبان نے جہاد کا آغاز کیا تو عالمی طاقتیں بھی ان کے وجود کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوئیں۔ اشرف غنی جیسی کٹھ پتلیاں اقتدار میں ہوتے ہوئے مذاکرات کی بھیک مانگتی پھرتی ہیں ۔ پاکستان میں عوامی سطح پر چند تاثر مضبوط ہوتے دکھائی دے رہے ہیں اول، بھارت لاتوں کا بھوت ہے یہ باتوں سے کبھی نہیں مانے گا ۔ دوم، سفارتی محاذ پر پاکستان نے جارحیت کے بجائے شرمناک پسپائی اختیار کر رکھی ہے۔ سوم، بھارت مقبوضہ کشمیر میں اسرائیل ماڈل اپناتے ہوئے نسل کشی کا ارادہ رکھتا ہے۔ تحریک حریت کشمیر نیا موڑ لیتی دکھائی دے رہی ہے۔ کانگریسی نیتا پی چدم برم نے پارلیمان میں کھل کے کہا کہ مودی سرکار کے ہلاکت انگیز اقدام کی قیمت ہندوستان کی آنے والی نسلیں ادا کریں گی ۔ 

تازہ ترین خبریں