08:05 am
وادی چترال اور اس کا گرم چشمہ

وادی چترال اور اس کا گرم چشمہ

08:05 am

بلامبالغہ پاکستان کی خوبصورتی میں کوئی کلام نہیں ہے‘ جمتہ المبارک کی علی الصبح کراچی سے اسلام آباد کی طرف عازم سفر ہوئے تو چترال کی خوبصورت وادیوں کے سفر کی ٹھان لی۔
کوئی ڈیڑھ عشرہ قبل چترال کی مرکزی شاہی مسجد میں چترال کے غیور مسلمانوں سے خطاب کرنے کی سعادت حاصل کر چکا تھا‘ تب اور اب میں فرق صرف یہ نظر آیا کہ چترال کی طرف جانے والی سڑکوں میں کچھ بہتری نظر آئی‘ یہ خاکسار اتوار کی رات تقریباً11بجے عزیزم حافظ عبدالحفیظ رحمی اور جمعیت علماء اسلام کے رہنما مولانا قاری سہیل عباسی کے ہمراہ چترال شہر میں داخل ہوا تو بازار بند ہوچکا تھا جبکہ ہوٹل اور ریسٹورنٹ بھی اپنے آخری مراحل کی طرف گامزن تھے اور اگر ہم تھوڑا سا بھی لیٹ ہوتے تو یقینا وہ بھی بند ہوچکے ہوتے‘ رات چترال سٹی میں گزارنے کے بعد اگلی صبح نماز فجر کی ادائیگی کے بعد ہم ضلع چترال کی تحصیل لٹکوہ کے صدر مقام گرم چشمہ کی طرف روانہ ہوئے‘ چترال شہر سے تقریباً چوالیس کلو میٹر کے فاصلے پر ’’گرم چشمہ‘‘ واقع ہے‘ لیکن تحصیل لٹکوہ کے صدر مقام گرم چشمہ تک پہنچنے کے لئے یہ 44کلو میٹر 3 سے 4 گھنٹے میں طے ہوتے ہیں‘ وجہ اس کی بڑی واضح یعنی خطرناک خشک پہاڑی سلسلہ‘ راستہ ٹوٹا پھوٹا اور انتہائی شکستہ حال‘ سڑکوں کی شکستگی اور خستہ حالی صرف چترال سے تحصیل لٹکوہ کے درمیانی راستے میں ہی نہیں بلکہ تحصیل لٹکوہ کے صدر مقام گرم چشمہ کی حدود میں بھی ہر طرف پھیلی ہوئی نظر آئی۔
گرم چشمہ میں تقریباً آٹھ فیصد سنی اور 92فیصد اسماعیلی کمیونٹی سے وابستہ لوگ رہائش پذیر ہیں‘ دارالعلوم تبلیغ الاسلام کو گرم چشمہ کا حسن قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ یہ دارالعلوم اس علاقہ میں سنی طلباء و طالبات کی تعلیمی‘ دینی اور تربیتی ضرورت کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی فلاحی سرگرمیوں کے بل بوتے پر علاقہ کی ’’تعمیر و ترقی‘‘ میں بھی بھرپور کردار ادا کر رہا ہے‘ دارالعلوم تبلیغ الاسلام کی بنیاد1987ء میں چترال کے معروف ماہر تعلیم(ر) ہیڈ ماسٹر حضرت قاری محمد جلال الدین نے اپنی مدد آپ کے تحت رکھتی تھی۔
دارالعلوم کے اساتذہ کرام مفتی عبدالطیف ساجد اور مفتی فتیح الرحمن کے مطابق قاری جلال الدین نے ریٹائرمنٹ کے بعد حکومت سے ملنے والی رقم بھی اسی دارالعلوم کی تعلیمی‘ تبلیغی اور تربیتی سرگرمیوں کو پروان چڑھانے میں لگا دی‘ چنانچہ آج اس مدرسہ میں علاقے کے 300سے زائد بچے اور بچیاں نہ صرف زیور تعلیم سے آراستہ ہو رہے ہیں بلکہ ان کی مکمل کفالت بھی مدرسہ کے ہی ذمہ ہے۔
دارالعلوم کے بزرگ مہتمم قاری جلال الدین سے ان کے کسی سفر پر روانگی کی وجہ سے ملاقات تو نہ ہوسکی‘ لیکن سچی بات ہے کہ اس بزرگ محترم کو خراج تحسین پیش نہ کرنا بھی زیادتی کے مترادف ہوگا کہ جس نے انتہائی نامساعد حالات اور مشکل ترین راستوں پر چلتے ہوئے نصف صدی سے زائد عرصہ سے پہاڑی وادیوں میں ’’تعلیم‘‘ کی شمع کو بجھنے نہیں دیا اور علاقے کے انتہائی غریب اور نادار بچوں کو نہ صرف دینی اور دنیاوی تعلیم سے بہرہ مند کیا بلکہ ان کی اخلاقی تربیت کے ساتھ ساتھ ان میں حب الوطنی کے جذبے کو بھی کوٹ کوٹ کر بھر دیا۔مفتی فتیح الرحمن کی یہ بات میرے لئے کسی انکشاف سے کم نہ تھی کہ اس علاقے میں درجنوں غیر ملکی اور یورپین این جی اوز سالہا سال سے موجود ہیں لیکن ان این جی اوز نے کبھی بھی ’’دارالعلوم‘‘ کی تعلیمی سرگرمیوں کو پروان چڑھانے میں کسی قسم کی سپورٹ فراہم کرنا گوارا نہیں کیا۔
ہمارے لئے یہ خبر کسی خوشخبری سے کم نہ تھی گرم چشمہ میں رہنے والی مسلم کمیونٹی ہویا اسماعیلی کمیونٹی‘ ان کے آپسی تعلقات ہم وطن ہونے کے ناطے بہت اچھے ہیں‘ میں ’’مثالی‘‘ کا لفظ صرف اس لئے استعمال نہیں کر رہا کہ بہرحال بحیثیت انسان یہاں بھی اونچ نیچ ہونا کوئی بڑی بات نہیں ہے لیکن مجموعی طور پر الحمدللہ گرم چشمہ فرقہ وارانہ مخاصمت کی ’’گرمی‘‘ سے تقریباً پاک نظر آیا۔اس کی وجہ مرکزی جامع مسجد کے خطیب شیخ الحدیث مولانا رحمت حسین نے مسلم کمیونٹی کے علماء اکابرین اور عام مسلمانوں میں پائی جانے والی اعتدال پسندی اور وسعت ظرفی کو قرار دیا۔ یقیناً یہ بات درست بھی ہوگی لیکن میرے نزدیک اسماعیلی کمیونٹی کے اکابرین بھی اعتدال اور امن کے راستے کے راہی ہیں‘تبھی وہاں کی مذہبی صورتحال میں اچھا خاصا ٹھہرائو اور سنجیدگی نظر آتی ہے۔
’’گرم چشمہ‘‘ کہنے کی حد تک سیاحتی مقام بھی ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ وہاں سیاحوں کے لئے کوئی ایک بھی سہولت میسر بھی ہے‘ لٹکوہ کے صدر مقام گرم چشمہ سے افغانستان کے صوبہ بدخشاں کی سرحد تقریباً چار گھنٹے کی مسافت پر ہے‘ صوبہ نورستان بھی تقریباً اسی مسافت پہ واقع ہے‘ گرم چشمے کا معروف زمانہ گرم پانی کے نیچے گندھک کا پہاڑ ہے جس میں سے اس پانی کا چشمہ نکلتا ہے‘ کہا جاتا ہے کہ گرم چشمہ کے گرم پانی میں غسل کرنے سے جلدی بیماریوں سے نجات ملتی ہے۔
 کے پی کے کی حکومت ہو یا وفاقی حکومت ان کی اس سیاحتی مقام پر توجہ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ وہاں آنے والے سیاحوں کے لئے ایک ہوٹل بھی نہ بناسکی‘ کچھ ترقیاتی کاموں اور سڑکوں کی تعمیر کے معاملے پر میں نے وہاں کے لوگوں کی زبان سے نواز شریف کا نام سن کر حیران رہ گیا‘ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ مسلم لیگ (ن) سے وابستہ ہیں‘ انہوں نے نہایت سادگی سے جواب دیا کہ نہ‘ نہ ہم کسی مسلم یا غیر مسلم لیگ سے وابستہ نہیں ہیں‘ لیکن اتنا جانتے ہیں کہ اگر نواز شریف ایک دو سال اور رہ جاتا تو ہماری سڑکیں ضرور بن جاتیں‘ تبدیلی مارکہ وزیراعظم نے آتے ہی ہر قسم کے ترقیاتی کاموں کو مکمل طور پر روک دیا ہے۔قاری سہیل عباسی نے مجھ سے مخاطب ہو کر کہا کراچی سے لے کر چترال کے پہاڑوں تک نواز شریف دور کے موٹر ویز اور سڑکوں کے پھیلائے ہوئے جال کا جادو لوگوں کے سر چڑھ کر بول رہا ہے۔

تازہ ترین خبریں