08:05 am
بھارت بوکھلا گیا، مذاکرات کی اپیل!

بھارت بوکھلا گیا، مذاکرات کی اپیل!

08:05 am

٭بھارت بوکھلا گیا، سفارتی تعلقات بحال کرنے اور مذاکرات کی اپیلO مقبوضہ کشمیر: بھارتی فوج نے مزید چھ کشمیری شہید کر دیئےO کشمیریوں پر بے دریغ فائرنگO شملہ معاہدہ ختم، بھارت نے بنیاد ختم کر دی۔ لندن، امریکہ، فرانس، بنگلہ دیش اور دوسرے ممالک میں بھارت کے خلاف مظاہرے O مقبوضہ کشمیر میں کرفیو برقرار، ختم کرنے سے انکارO تمام عرب ممالک خاموشO چین کا سخت انتباہ، پاکستان کے موقف کی حمائتO پاک بھارت تجارت بند، بھارت کو اربوں کا نقصانO امریکہ کو پیشگی مطلع کیا تھا، بھارت…بالکل نہیں کیا، امریکہO برطانیہ کی تشویشO مقبوضہ کشمیر، ہزاروں لوگ کرفیو توڑ کر نکل آئےO خورشید شاہ کے 500 ارب کے اثاثے، 105 بنک اکائونٹس، ملازمین کے نام پر 83 جائیدادیں۔
 
٭وہی ہوا جو منطقی طور پر ہونا تھا۔ بھارت کے دھوتی پوش حکمرانوں کو پاکستان کے اتنے سخت ردعمل کی توقع نہیں تھی۔ سفارتی تعلقات ختم، بھارتی سفیر کو نکال دیا، تجارت بند کر دی، اقوام متحدہ میں جانے کا اعلان اور پاک افواج اور حکومت کا مقبوضہ کشمیر کے باشندوں کی مکمل حمائت کا اعلان! بھارت کو پاکستان کے ایک دلیرانہ اقدامات کی کوئی توقع نہیں تھی، اچانک جنگ کا ماحول پیدا ہو گیا تو بھارتی حکمران بوکھلا گئے، ہاتھ پائوں ٹھنڈے پڑ گئے۔ اچانک فوراً پاکستان سے درخواست کر دی کہ مہاراج شُما کیجئے، اتنی سختی نہ کریں۔ ہمارے سفیر کو ملک سے نہ نکالئے، ہماری بہت سبکی ہو رہی ہے اسے اسلام آباد میں ہی رہنے دیں۔ آیئے مذاکرات کرتے ہیں! بھارت کی اس مکارانہ چال پر پھر لکھوں گا مگر یہ انتہائی بزدل قوم! مجھے عربی اور اُردو کے مشہور شاعر کا مشہور شعر یاد آ رہا ہے کہ 
دشمن دلیر ہوتا تو آتا مزا مجھے
فاروق ڈر رہا ہوںکہ بزدل کی زد میں ہوں
٭شملہ معاہدہ 2 جولائی 1972ء کو شملہ میں صدر پاکستان ذوالفقار علی بھٹو اور بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کے دستخطوں سے طے پایا۔ اس کی تفصیلات بہت دفعہ چھپی ہیں۔ یہاں صرف کنٹرول لائن کی بات ہو گی۔ اس معاہدہ کی شق نمبر2 کے الفاظ یوں ہیں کہ ’’17 دسمبر 1971ء کو ختم ہونے والی جنگ کے بعد کشمیر میں جنگ بندی لائن کو کنٹرول لائن کیا جائے گا۔ دونوں ممالک (پاکستان اور بھارت) جموں و کشمیر کے تنازع کے بارے میں اپنے اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے کنٹرول لائن کو برقرار رکھیں گے۔ کوئی فریق اس میں یک طرفہ طور پر کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں کر سکے گا۔ دونوں فریقوں میں کسی قسم کے اختلافات یا قانونی وضاحتوں کے باوجود کنٹرول لائن میں کوئی ردوبدل نہیں کیا جائے گا!‘‘
قارئین کرام! اس عبارت کو ایک بار پھر پڑھئے۔ دو باتیں واضح طور پر سامنے آتی ہیں کہ یہ کہ دونوں ممالک تنازع کشمیر پر اپنے اپنے موقف پر برقرار رہیں گے اور یہ کہ کوئی فریق کنٹرول لائن میں کسی بھی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں کرے گا۔ شملہ معاہدہ میں کشمیر کا ایک ریاست کے طور پر ذکر کیا گیا ہے اور یہ کہ حالات کیسے بھی ہوں (امن یا جنگ) کنٹرول لائن برقرار رہے گی۔ بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت تبدیل کرنے کا جو اقدام کیا ہے اس کے نتیجے میں کنٹرول لائن تبدیل ہو کر باقاعدہ بھارتی سرحد بن گئی ہے۔ پہلے اس لائن کے آر پار تجارتی سرگرمیاں اور آمد و رفت کشمیر کے دو حصوں میں ہوتی تھی۔ اب یہ تجارت اور آمد و رفت کشمیر کی بجائے بھارت کے ساتھ ہو گی۔ یہ سارا عمل بھارت نے یک طرفہ طور پر کیا ہے اور شملہ معاہدہ کی بنیاد ہی ختم کر دی ہے۔ اس طرح شملہ معاہدہ مکمل طور پر ختم ہو گیا۔ اس معاہدہ میںطے پایا تھاکہ پاکستان اور بھارت کشمیر اور دوسرے اختلافی معاملات کسی تیسرے فریق کی مداخلت کے بغیر باہم مذاکرات کے ذریعے طے کریں گے۔ اس معاہدہ کے باعث پاکستان کشمیر کے مسئلہ کو اقوام متحدہ یا کسی دوسرے فورم میں نہیں لے جا سکتا تھا، مگر بھارت نے کنٹرول لائن ختم کر کے خود ہی اس بند راستے کو کھول دیا ہے۔
٭دوسرا معاملہ 21 فروری 1999ء کو بھارتی وزیر واجپائی کی واہگہ بارڈر پار کرکے لاہور میں آمد کا ہے۔ واجپائی نے مینارپاکستان پر کھڑے ہو کر اپنی مشہور نظم پڑھی۔ ’’ہم جنگ نہ ہونے دیں گے‘‘۔ صرف ایک ماہ کارگل کی جنگ شروع ہو گئی۔ واجپائی واپس بھارت گیا تو اس پر شدید تنقید ہوئی کہ اس نے پاکستان کو ’عبوری ملک‘ سمجھنے کی بجائے مینار پاکستان پر جا کر اس کے دو قومی نظریہ کی بنیاد کو تسلیم کر لیا ہے!
٭کشمیر کو کم تر درجے کی بھارتی کالونی بنانے کے خلاف نیویارک، لندن، فرانس اور دوسرے شہروں میں بھارت کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں، مجھے ڈھاکہ میں بھارت کے خلاف بہت برے مظاہرے کو دیکھ کر خوش گوار حیرت ہوئی ہے۔ بنگلہ دیش پر اس وقت پاکستان کی سخت دشمن بھارت کی کٹھ پتلی وزیراعظم حسینہ واجد حکمران ہے۔ اس نے بھی بنگلہ دیش کو عملی طور پر بھارت کی کالونی بنا دیا ہے۔ اس کی مارکیٹیں بھارتی ساہو کاروں اور ان کی مصنوعات سے بھری ہوئی ہیں مگر عوام میں بھارت کی عملی طور پر اس جبری بالادستی کے خلاف نفرت کا لاوا پک رہا ہے۔
 گزشتہ روز ڈھاکہ میں کشمیر کے سلسلے میںبھارت کے خلاف بہت بڑا مظاہرہ ہوا۔ اس میں بھارت کی مذمت میں پرجوش نعرے لگائے گئے اور بینر لگائے گئے۔ اس پر بھارتی حکومت نے بنگلہ دیش کی حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔ اس پر آسان جواب دیا گیا ہے کہ یہ مظاہرے پاکستان کی آئی ایس آئی ایجنسی نے کروائے ہیں۔ اس جواب پر آئی ایس آئی کی ستائش کی جا سکتی ہے کہ اس نے صرف دو دنوں میں دشمن ملک میں اتنے بڑے مظاہرے کا اہتمام کر دیا!
٭ایک قاری نے سوال کیا ہے کہ صرف چین اور ترکی نے کھل کر پاکستان کی حمائت اور بھارت کی مذمت کی ہے، سعودی عرب، عرب امارات دوسرے عرب ممالک، ایران، انڈونیشیا، ملائیشیا کیوں خاموش ہیں؟ ایک لفظ تک نہیں کہا۔ یہ بات درست نہیں۔ ایران اور ملائیشیا نے ایک سے زیادہ الفاظ کہے ہیں یہ کہ ’’ہم حالات کا بغور جائزہ لے رہے ہیں‘‘ بھارتی ڈالروں کی بھاری سرمایہ کاری کے بوجھ تلے دبے یہ بے چارے اور کیا کر سکتے ہیں!
٭قارئین میری اس بات پر چونک سکتے ہیں کہ میں بھارت کے پیدا کردہ حالات پر اطمینان کا اظہار کر رہا ہوں۔ ایک پرانا نظریہ چلا آ رہا ہے کہ ہر عمل کا اتنا ہی پرزور ردعمل ہوتا ہے۔ دیوار پر گیند مارو تو وہ اسی قوت سے واپس پھینک دیتی ہے۔ میں دیکھ رہا ہوںکہ بھارت کے پیدا کردہ جنونی عمل کا اتنی ہی شدت سے ردعمل اور پھر اس کے واضح نتائج سامنے آنے والے ہیں۔ بھارت کشمیر پر اندھا دھند حملہ کر کے دلدل میں پھنس گیا ہے۔ پوری ریاست میں دن رات کا کرفیو نافذ کر کے اسے ختم کرنا ڈرائونا منظر پیش کر رہا ہے۔ کشمیری حریت پسند تو سخت کرفیو میں بھی باہر نکل آئے، کرفیو ہٹ گیا تو بھارتی حکمرانوں اور فوج کے ساتھ جو کچھ ہونے والا ہے اور پھر اس کا جو منطقی نتیجہ نکلنے کا امکان ہے، میں اس پر اطمینان کا اظہار کر رہا ہے۔ بے پناہ ان گنت قربانیو ںکو کیسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔ رات کتنی ہی سنگین ہو، بہرحال صبح ہو کر رہتی ہے۔ میں سرفراز سید، کشمیر کا بیٹا، اس صبح کا انتظار کر رہا ہوں۔ کچھ گھریلو باتیں!
٭آصف زرداری نے طنز کی ہے کہ حکومت نے بھارتی اقدام پر کچھ بھی نہیں کیا، میں ہوتا تو روس، چین، برطانیہ اور ابوظہبی کے دورے پر نکل جاتا۔ یہ نہیں بتایا کہ وہاں جا کر کیا کرتے۔ ابوظہبی کی بات تو سمجھ میں آتی ہے کہ وہاں اربوں کھربوں کا ذاتی کاروبار ہے (صرف دبئی کے چار پلازوں سے تقریباً 14 ارب روپے سالانہ کرایہ حاصل ہوتا ہے) چین جانے کی ضرورت ہی تھی وہ تو خود بھارت کو آنکھیں دکھا رہا ہے۔ ویسے بھی پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی سعودی عرب کے بعد چین پہنچ گئے ہیں۔ روس بھارت کو کھربوں کا جدید راڈار سسٹم فروخت کر رہا ہے۔ اس وقت اس سے بات کرنی بے کار ہے۔ مجھے آصف زرداری سے ہمدردی سی شروع ہو رہی ہے! افسوس اتنی اہم قومی خدمات سے محروم! ہائے بس چلتا نہیں اور مفت جاتی ہے بہار!

تازہ ترین خبریں