09:53 am
حج و عمرہ کرنے والوں کیلئے خوبصورت نیتیں 

حج و عمرہ کرنے والوں کیلئے خوبصورت نیتیں 

09:53 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
 گناہوں سے ہمیشہ کیلئے توبہ کرتا ہوں اور صرف اچھی صحبت میں رہا کروں گا۔ (اِحیاء العلوم میں ہے: حج کی مبروریت کی ایک علامت یہ ہے کہ جو گناہ کرتا تھا اُنہیں چھوڑ دے، برے دوستوں سے کنارہ کش ہو کر نیک بندوں سے دوستی کرے، کھیل کود اور غفلت بھری بیٹھکوں کو ترک کر کے ذِکر اور بیداری کی مجالس اختیار کرے۔ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ ایک اور جگہ فرماتے ہیں: حج مبرور کی علامت یہ ہے کہ دُنیا سے بے رغبت اور آخرت کی جانب متوجہ ہو اور بیت اللہ شریف کی ملاقات کے بعد اپنے رب کائنات عزوجل کی ملاقات کیلئے تیاری کرے۔ (اِحیاء العلوم ج 1، ص349،354 )
واپسی کے بعد گناہوں کے قریب بھی نہ جاؤں گا، نیکیوں میں خوب اِضافہ کروں گا اور سنتوں پر مزید عمل بڑھاؤں گا۔ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: حج سے پہلے کے حقوق اللہ اور حقوق العباد جس کے ذمے تھے‘ اگر بعد حج با وَصف قدرت اُن اُمور (مثلاً قضا نمازوروزہ، باقی ماندہ زکوٰۃ وغیرہ اور تلف کردہ بقیہ حقوق العباد کی ادائیگی) میں قاصر رہا تو یہ سب گناہ ازسرنو اُس کے سر ہوں گے کہ حقوق تو خود باقی ہی تھے اُن کے ادا میں پھر تاخیر و تقصیرسے گناہ تازہ ہوئے اور وہ حج ان کے اِزالے کو کافی نہ ہو گا کہ حج گزرے (یعنی پچھلے) گناہوں کو دھوتا ہے آئندہ کیلئے پروانہ بے قیدی (یعنی گناہ کرنے کا اجازت نامہ) نہیں ہوتا بلکہ حج مبرو کی نشانی ہی یہ ہے کہ پہلے سے اچھا ہو کر پلٹے۔ (فتاویٰ رضویہ ج24، ص466)
 مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے یادگار مبارک مقامات کی زِیارت کروں گا۔
 سعادت سمجھتے ہوئے بہ نیت ثواب مدینہ منورہ کی زِیارت کروں گا۔
 سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دربارِ گہربار کی پہلی حاضری سے قبل غسل کروں گا، نیا سفید لباس، سر پر نیا سربندنئی ٹوپی اور اس پر نیا عمامہ شریف باندھوں گا، سرمہ اورعمدہ خوشبو لگاؤں گا۔
 اللہ عزوجل کے اس فرمانِ عالیشان: ’’وَلَوْ اَنَّہُمْ اِذْ ظَّلَمُوْٓا اََنْفُسَھُمْ جَآئُ وْکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰہَ وَاسْتَغْفَرَلَھُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰہَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا‘‘… (پ4، النساء:64)
ترجمہ کنزالایمان: ’’اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب! تمہارے حضور حاضر ہوں اور پھراللہ سے معافی چاہیں ا ور رسول ان کی شفاعت فرمائے تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں) پر عمل کرتے ہوئے مدینے کے شہنشاہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہِ بیکس پناہ میں حاضری دوں گا۔
 اگر بس میں ہوا تواپنے محسن وغمگسار آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمکی بارگاہِ بے کس پناہ میں اس طرح حاضر ہوں گا جس طرح ایک بھاگا ہوا غلام اپنے آقا کی بارگاہ میں لرزتا کانپتا، آنسو بہاتا حاضر ہوتا ہے۔ 
 سرکارِ نامدار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شاہی دربار میں ادب واحترام اور ذوق وشوق کے ساتھ درد بھری معتدل (یعنی درمیانی) آواز میں سلام عرض کروں گا۔
حکم قرآنی: ’’یٰآَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَاتَرْفَعُوْآ اَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَلَا تَجْھَرُوْا لَہٗ بِالْقَوْلِ کَجَھْرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُکُمْ وَاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ…(پ26 ، الحجرات:2)۔ ترجمہ کنز الایمان: ’’اے ایمان والو !اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی) کی آواز سے اور ان کے حضور بات چلا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اَکارت نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو) پرعمل کرتے ہوئے اپنی آواز کو پست اور قدرے دھیمی رکھوں گا‘‘۔
 اَسئَلُکَ الشَّفاعۃَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ( یعنی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میں آپ کی شفاعت کا سوالی ہوں ) کی تکرار کر کے شفاعت کی بھیک مانگوں گا۔
 شیخین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی عظمت والی بارگا ہوں میں بھی سلام عرض کروں گا۔
 حاضری کے وَقت اِدھر اُدھر دیکھنے اور سنہری جالیوں کے اندر جھانکنے سے بچوں گا۔
 جن لوگوں نے سلام پیش کرنے کا کہا تھا اُن کا سلام بارگاہِ شاہِ انام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں عرض کروں گا۔ 
 سنہری جالیوں کی طرف پیٹھ نہیں کروں گا۔
 جنت البقیع کے مدفونین کی خدمتوں میں سلام عرض کروں گا۔
 حضرتِ سیدنا حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور شہدائے اُحد کے مزارات کی زیارت کروں گا، دُعا و ایصالِ ثواب کروں گا، جبل اُحد کا دیدار کروں گا۔
 مسجد قبا شریف میں حاضری دوں گا۔
 مدینہ منورہ کے درودیوار، برگ وبار، گل وخار اور پتھر و غبار اور وہاں کی ہر شے کاخوب ادب واحترام کروں گا۔ 
 مدینہ منورہ کی کسی بھی شے پر عیب نہیں لگاؤں گا۔ 
 عزیزوں اور اسلامی بھائیوں کو تحفہ دینے کیلئے آبِ زم زم، مدینہ منورہ کی کھجوریں اور سادہ تسبیحیں وغیرہ لاؤں گا۔ بارگاہِ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ میں سوال ہوا: تسبیح کس چیز کی ہونی چاہئے؟ آیا لکڑی کی یا پتھر وغیرہ کی؟ الجواب: تسبیح لکڑی کی ہو یا پتھر کی مگر بیش قیمت ( یعنی قیمتی) ہونا مکروہ ہے اور سونے چاندی کی حرام۔ (فتاویٰ رضویہ ج۳۲ ص ۷۹۵) ۔ 
 جب تک مدینہ منورہ میں رہوں گا درود و سلام کی کثرت کروں گا۔
 مدینہ منورہ میں قیام کے دَوران جب جب سبز گنبد کی طرف گزر ہو گا، فوراً اُس طرف رُخ کر کے کھڑے کھڑے ہاتھ باندھ کر سلام عرض کروں گا۔ 
 اگر جنت البقیع میں مدفن نصیب نہ ہوا اور مدینہ منورہ سے رخصت کی جاں سوز گھڑی آگئی تو بارگاہِ رسالت میں الوداعی حاضری دوں گااور گڑ گڑا کر بلکہ ممکن ہوا تو رو رو کر بار بار حاضری کی التجا کروں گا۔
 اگر بس میں ہوا ا توماں کی مامتا بھری گود سے جداہونیوالے بچے کی طرح بلک بلک کر روتے ہوئے دربارِرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بار بار حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے رخصت ہوں گا۔ 

تازہ ترین خبریں