09:54 am
 حزب اختلاف کی عبرت ناک شکست 

 حزب اختلاف کی عبرت ناک شکست 

09:54 am

آخر کار حزب اختلاف کی سینیٹر سنجرانی کو چیئرمین سینیٹ سے ہٹانے کی تمام کوششیں نامراد اور ناکام ثابت ہوئیں، انہیں پوری قوم کے سامنے شرمندگی اور ہزیمت کا سامان کرنا پڑاہے۔ حزب اختلاف کی سازش یہ تھی کہ وہ سنجرانی کو سینیٹ میں اکثریتی ووٹوں کے ذریعہ ہٹاکر بعد میں قومی اسمبلی میں عمران کی حکومت کو بھی گرانا چاہتے تھے لیکن انسان کچھ سوچتا ہے اور ہوتا کچھ ہے۔ اب حزب اختلاف ان سینیٹرز کو تلاش کر  رہی ہے جنہوں نے ان کے امیدوار حاصل بزنجو کو ووٹ نہیں دیا تھا لیکن اس تلاش مہم کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا جن سینیٹرز نے ان کے امیدوار کو ووٹ نہیں دیا تھا یہ سمجھ چکے تھے کہ بلاول زردار ی، شہباز شریف جیل میں قید آصف زرداری اور نواز شریف کے مشوروں سے یہ ساز باز کر رہے تھے تاکہ ان کے خلاف کرپشن کے کیسز ختم ہو جائیں۔ ان کا جمہوریت سے دور دور کا واسطہ نہیں ہے بلکہ یہ سازشیں اور جوڑ توڑ کر کے جمہوری اداروں مثلاً سینیٹ اور قومی اسمبلی کی جمہوریت کے فروغ کے حوالے سے اہمیت اور افادیت کو بے توقیر اور بے اثر کرنا چاہتے تھے۔ مزید برآں ان کا ایک ہی مقصد تھا کہ نواز شریف اور زرداری کی کرپشن کو تحفظ دیا جائے چنانچہ جن سینیٹرز کا ضمیر بیدار اور جاگ رہا تھا اور جو اس سازش کی تہہ تک پہنچ چکے تھے، انہوں نے سینیٹ کے انتخابات میں حزب اختلاف کے امیدوار کو ووٹ نہیں دیا۔ اسلام آباد کے باخبر صحافی سمجھ رہے تھے کہ سینیٹ کے چیئرمین سنجرانی کو ہٹانے کے پیچھے حزب اختلاف کے کیا عزائم ہیں ۔ 
 
 ٹی وی  ٹاک شوز میں اکثریت نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ سنجرانی ایک اچھے سیاست دان اور سینیٹر ہیں ہمیں ان سے کسی قسم کی شکایت نہیں ہے چنانچہ سوال یہ اٹھ رہا تھا کہ پھر ان کو کیوں ان کے منصب سے فارغ کیا جارہا ہے۔ اس کا معقول جواب حزب اختلاف کے پاس نہیں تھا بس یہ کہا گیا کہ بسا اوقات ان کا رویہ اچھا نہیں تھا چنانچہ حزب اختلاف نے انہیں ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔ خود فضل الرحمٰن دل سے سنجرانی کو ہٹانے کے قائل نہیں تھے کیونکہ وہ زرداری اور نواز شریف کے ساتھ اپنی وفاداری ثابت کرنا چاہتے تھے اس لیے انہوں نے یہ انتہائی غلط قدم اٹھایا، خود بدنام اور بے نام ہوئے جبکہ دونوں پارٹیوں کے سربراہ اس عبرت ناک شکست سے اختلاج قلب میں مبتلا ہو گئے۔
 یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ سینیٹر سنجرانی کو ماضی میں موجودہ عہدہ دلانے میں پی پی پی کا بڑا کردار تھا ۔ پی پی پی اور پی ٹی آئی کی حمایت کی وجہ ہی سے سنجرانی  سینیٹر منتخب ہوئے تھے۔ اب یہ پی پی پی جس کا سربراہ سنگین نوعیت کے کرپشن کے کیسزز میں پس دیوار زنداں ہے،نے سنجرانی کو ہٹانے کی کوشش کی تھی جس میں اس کو منہ کی کھانی پڑی ہے۔ سنجرانی فتح سے ہمکنا ر ہوئے اور حزب اختلاف کا جمہوریت دشمن چہرہ پوری قوم کے سامنے بے نقاب ہو گیا ہے۔ پاکستانی عوام درست کہہ رہے ہیں کہ حزب اختلاف خصوصیت کے ساتھ پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) اپنی ناجائز دولت کو بچانے کیلئے اپنے کارکنوں او ر ثانوی درجے کے رہنمائوں کو گمراہ کر رہے ہیں، انہیں نہ تو جمہوریت سے کوئی دلچسپی ہے اور نہ ہی انہیں جمہوری اداروں  کا کوئی احترام ہے ۔ ان کی حرکتوں اور رویوں سے سینیٹ اور قومی اسمبلی کا تقدس واحترام دیکھا جا سکتا ہے کہ سینیٹ میںجان بوجھ کر ایک ایسے شخص کو ہٹانے کی کوشش کی گئی تھی جس کے خلاف کسی قسم کا کوئی معمولی الزام بھی نہیں تھا۔ اب زرداری کا بیٹا بلاول زرداری چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ ہم پارلیمنٹ کے اندر اور سڑکوں پر لڑیں گے ۔کس کے خلاف؟ محض اپنے والد اور پھوپھی کی ناجائز دولت بچانے کے لیے ؟ میں نہیں سمجھتا ہوں کہ عوام خصوصیت کے ساتھ باضمیر پی پی پی کے نظریاتی کارکن بلاول زرداری کا ساتھ دیں گے کیونکہ اسٹریٹ پاور کے ذریعے حکومت گرانے کا طریقہ تمام جمہوری روایات کے خلاف ہے اورنہ ہی یہ ایسا کر سکتے ہیں۔
اس وقت ایک منتخب حکومت برسراقتدار ہے جو ماضی کی حکومتوں کی ناقص کارکردگی، کرپشن ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس کوشش میں ہر اس فرد کو ساتھ دینا چاہیے جو کرپشن کے خلاف اپنی آواز بلند کرتے رہتے ہیں۔ پاکستان کی سیاسی پارٹیوں مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی نے سیاست کے ذریعہ پاکستان کے وسائل کو بے دریغ لوٹا ہے، ناجائز دولت کمائی ہے، منی لانڈرنگ کے ذریعے روپیہ باہر بھیجا گیا ہے تاکہ پاکستان معاشی طور پر کمزور اور کنگال ہو جائے۔ جس وقت موجودہ حکومت برسر اقتدار آئی تھی (ایک سال قبل) اس وقت کے وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا تھا کہ’’خزانہ خالی تھا اور سرکاری ملازمین کو تنخواہ دینے لیے پیسے نہیں تھے‘‘۔ یہ صورتحال نواز شریف اور زرداری کی لوٹ کھسوٹ کے ذریعے پیدا ہوئی تھی۔ ان کی زندگی کا شاہانہ انداز اس بات کی نشاندہی کر رہا تھا کہ ان کی، عوام کے معاشی و سماجی حالات کو سدھارنے سے متعلق کوئی حکمت عملی یا نظریہ نہیں ہے۔ یہ صرف اپنا، اپنے رشتہ داروں اور اپنے دوستوں کا ناجائز دولت کے ذریعے پیٹ بھرنا چاہتے تھے، یہ پاکستان کی بڑی بد قسمتی ہے۔
عوام اس لوٹ کھسوٹ کو دیکھ رہے تھے لیکن خاموش تھے لیکن 25 جولائی کے عام انتخابات میں ان کرپٹ عناصر کو عبرت ناک شکست ہوئی ۔ اب موجودہ حکومت نواز شریف اور زرداری کی گمراہ کن پالیسیوں اور کرپشن کا خمیازہ بھگت رہی ہے۔ حکومت شب وروز محنت کرکے ملک کے اقتصادی حالات کو سدھارنے کی کوشش کررہی ہے لیکن حزب اختلاف اصلاحات کے سلسلے میں کی جانے والی پالیسیوں کے خلاف راستے کا پتھر بن رہی ہے ۔ ان کا ایک ہی ایجنڈا ہے کہ نواز، زرداری سے ناجائز دولت سے متعلق باز پرس نہ کی جائے جو انہوں نے غیر قانونی اور غیر اخلاقی طریقے سے جمع کی ہے ۔ اس سلسلے میں یہ دونوں لٹیرے اپنی رہائی کے لیے بیرونی ممالک سے بھی مدد حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن عمران خان انہیں رہائی دینے کے لیے آمادہ نہیں ہیں جب تک کہ لوٹی ہوئی رقم واپس نہیں کر دیتے ہیں۔ اسی طرح وہ جیل سے نکل سکتے ہیں اور اپنی سوچ کے مطابق سیاست بھی کر سکتے ہیں ۔ ذرا سوچیے!