09:55 am
 بھارت کاایک اوراوچھاوار

 بھارت کاایک اوراوچھاوار

09:55 am

بھارت نے آج تک پاکستان کے وجودکودل سے اس لئے تقسیم نہیں کیاکہ برہمن سامراج کا مہابھارت کاخواب شرمندہ تعبیرنہ ہوسکاجس کی صدیوں سے تمنادل میں لئے ہوئے ہے۔ برہمن اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ جس ملک کوبحرِہندکاپانی چھوکرگزرتا ہے وہ مہا بھارت کاحصہ ہے حالانکہ بھارت پرمسلمان حکمرانی کی چھاپ صدیوں پرمحیط ہے۔ قیامِ پاکستان نے ان کی آرزؤں پربری طرح پانی پھیردیا لیکن برہمن آج تک اس زخم کوبھلانہیں پایا، یہی وجہ ہے کہ آج سے چندسال پہلے تک بھارت میں یہ امید اور خواہش بہت جوان تھی کہ پاکستان ایک پکے ہوئے پھل کی مانندان کی جھولی میں آن گرے گا۔ اس میں امیداورخواہش کے الگ الگ پہلوتھے۔ بھارت کے دانشوروں اورسیاستدانوں کی امیدکی بنیادیہ تھی کہ پاکستان ایک قومی ریاست کی تعریف پراس لئے پورانہیں اترتا کہ قومیں اوطان سے بنتی ہیں مذاہب سے نہیں۔ دوقومی نظریہ کی بنیادپر پاکستان وجودمیںآیا ہے اورمشترکہ بودو باش، زبان، ثقافت، تاریخی شعوراورمعاشی مفادات ریاستوں کے بننے اورٹوٹنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں جبکہ پاکستان کی مختلف اکائیوں میں مذہب کے سواکوئی قدرمشترک نہیں کہ اس میں رہنے والوں کامذہب اسلام ہے۔
 
اندرونی اوربیرونی سازشوں کی بنیاد پر جب1971ء  میں پاکستان کے مشرقی بازوکوالگ کردیاگیاتوبرہمن زادی اندرا گاندھی نے بڑے تکبرسے یہ اعلان کیا کہ آج ہم نے نہ صرف ایک ہزارسال پراناقرض چکایاہے بلکہ دوقومی نظریہ کوبھی خلیج بنگال میں ڈبودیاہے۔ بظاہر بھارت کی تویہ شدید خواہش تھی کہ باقی ماندہ پاکستان کے بھی ٹکڑے کرکے اس کوہمیشہ کیلئے ایک طفیلی ریاست بنادیا جائے اوراسطرح مہابھارت کے خواب کی تکمیل کاآغاز کیا جائے۔ بھارت کے سیاستدان اوردانشور یہ سوچنے لگے کہ پاکستان کے اندر ایسی بہت سے طاقتیں اب بھی موجودہیں جو قیامِ پاکستان کی مخالف تھیں یاتحریک پاکستان کے دھارے سے الگ تھلگ تھیں اس لئے اب قومیت اورلسانیت کے جّن بوتل سے نکال کران کے درمیان فساد پیداکرکے باقی ماندہ پاکستان کوبے پناہ مسائل اورمشکلات میں مبتلاکرکے اس کے باقی ماندہ وجودکوایساعالمی بوجھ بنادیاجائے کہ اس کے عوام نظریہ قیام پاکستان کوایک غلطی قراردیکر خودبخود یا تو بھارت کاایک حصہ بن جائیں یا پھربھارت کی ایک باجگزارریاست بننا قبول کرلیں۔
مکاربرہمن سمجھتاہے کہ ہندومت دنیاکے قدیم ترین مذہب اورایک وسیع وعریض خطے پران کی عملداری رہی ہے، اس خطے کے یہ تمام مسلمان بھی پہلے ہندودھرم سے ہی وابستہ تھے ۔ ہندوؤں کی عددی برتری وبالادستی کے آگے سرتسلیم خم کرنے سے انکارکرکے تحریکِ پاکستان کے رہنماؤں نے ان کی اناکوبری طرح زخمی کیاہے، اس لئے پاکستان کے قیام کی صورت میں اس تہذیب کا شکست کھا جاناہندوکوکسی بھی صورت ہضم نہیں ہورہا لیکن قسمت کی ستم ظریفی دیکھئے کہ 1971 ء میں بھارت کی کھلی جارحیت کے بعد پاکستان کے مشرقی بازو کوبنگلہ دیش بنانے کے باوجودوہ بھارت اپناحصہ نہ بنا سکابلکہ بنگلہ دیش بھارتی سرحد پرکئی نئے مسائل کا موجب بن گیا۔ متحدہ پاکستان، مشرقی پاکستان کے ذریعے جن علاقوں کومتاثرکرنے کی پوزیشن میں نہیں تھااب بنگلہ دیش کی صورت میں بنگال،آسام اورناگالینڈکی ان سرحدوں پرنئے حوالوں سے کئی خطرات نے جنم لے لیا ہے اوراب کئی بھارتی دانشوراپنی اس فاش غلطی کوکوس رہے ہیں۔
پاکستان کے ایٹمی طاقت کے طور پر ابھرنے کے بعدبھارتی سیاستدانوں اوردانشوروں کی موہوم امیدوں نے جہاں دم توڑا ہے وہاں اٹل بہاری واجپائی کومینارپاکستان کے سائے تلے اوربعدازاں متعصّب ہندولیڈرلال کرشن ایڈوانی کو مزارِ قائداعظم پرپاکستان کے وجود کو مجبوراً تسلیم کرناپڑا۔ اٹل بہاری واجپائی کاایٹمی دھماکوں کے بعدمینارپاکستان لاہور کے سائے تلے تقریرکرنااس بدلتی ہوئی سوچ کاآئینہ دارتھاکہ انہوں نے پاکستان کے اس حق کو تسلیم کرلیاہے کہ دنیامیں جینے کاحق صرف ان کوہے جواپنی حرمت پرمرنے کاعزم رکھتے ہیں حالانکہ جب بھارت نے ایٹمی دھماکہ کیاتھاتودھماکے کے صرف پندہ منٹ بعدایڈوانی نے اپنی پریس کانفرنس میں پاکستان کوکھلی دھمکی دی تھی کہ وہ آزادکشمیر پرحملہ کرکے کشمیرکے مسئلے کوہمیشہ کیلئے ختم کردیں گے۔ بظاہربھارت نے پاکستان کے وجود کوتسلیم توکرلیالیکن اپنی خفیہ ریشہ دوانیوں کواب بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔
بھارت کی یہ پرانی خواہش ہے کہ وہ اس خطے کی سپرپاوربن کرمہابھارت کے نقشے میں اپنی امنگوں کارنگ بھرسکے لیکن پڑوس میں چین اورپاکستان جیسی ایٹمی قوتوں کے بعداس کواپنے خوابوں کی تعبیراور امنگوں کی تکمیل میں ناکامی ہورہی ہے اس لئے وہ اس خطے میں امریکا اورمغربی ممالک کے توسط سے ایک تیرسے کئی شکارکھیلنے کی کوشش کررہاہے۔ پچھلے چارعشروں سے چین کی تیزرفتارصنعتی ترقی نے دنیاکی بیشترمنڈیوں پر قبضہ کرلیاہے بلکہ خودیورپ اورامریکا کی منڈیوں پرچینی مصنوعات نے برتری حاصل کرلی ہے جس کی بنا پر پچاس بڑی صہیونی کارپوریشنزجن کی گرفت میں عالمی تجارت ہے،ان کے مفادات کوبری طرح زک پہنچ رہی ہے۔ان کارپوریشنز کا امریکہ اورمغربی ممالک کی حکومتوں میں عمل دخل اب کوئی ڈھکا چھپا ہوانہیں۔ پچھلی تین دہائیوں سے ہنودویہود لابی نے اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے جوگٹھ جوڑکیاتھا اور جس بری طرح اس لابی نے پینٹاگون اورسی آئی اے میں اپنے خونی پنجے گاڑرکھے ہیں اس کے بارے میں خود امریکی دانشوروں کی ایک کثیر تعداد تشویش میں مبتلا ہے۔
 پاک چین تعلقات کے حوالے سے بلیک میلنگ پرمشتمل پالیسیاں گزشتہ کئی برسوں سے جاری ہیں اوراس کے پس پردہ بھی وہی مقاصد بڑے واضح دکھائی دیتے ہیں۔ ٹرائیکا دراصل اپنی اس ناکامی کے بعداس خطے میں اپنی شرائط پرافغانستان سے انخلا اور سی پیک کو ناکام کرنے کیلئے پاکستان پردباؤ بڑھانا چاہتاہے جس کیلئے امریکی دورے میں ٹرمپ کاٹریپ کارڈ بڑی خوبصورتی سے کھیلا اورہمارے وزیراعظم نے اسے ورلڈکپ کی فتح سے تعبیرکرتے ہوئے جشن مناناشروع کردیاجبکہ بھارت نے گزشتہ فروری میں امریکہ کو کشمیرکی خصوصی حیثیت ختم کرنے کی آڑمیں مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوج کی تعداد میں ایک بڑے متوقع اضافہ کابتادیاتھا ۔ 
اس وقت بھارت کشمیرکی تحریکِ آزادی کوکچلنے میں نہ صرف بری طرح ناکام ہوچکاہے بلکہ کشمیرمیں جاری ظلم وستم کی وجہ سے عالمی طورپربدنام بھی ہورہاہے اوراب بھارت اس بہانے کی آڑمیں کشمیرمیں مزید فوج کے اضافے کے ساتھ اسرائیلی ماہرین کی مددسے جموں میں نئی ہندوبستیاں بسانے کاپروگرام شروع کرنے کی پوری کوشش کرے گا تاکہ مزیدطاقت کے بل بوتے پرکشمیرکے مسئلے سے جان چھڑاسکے اور دوسری طرف امریکہ افغانستان میں اپنی شکست چھپانے کیلئے امریکی عوام کویہ احساس دلانا چاہتاہے کہ اگرانہوں نے افغانستان سے اپنی فوجیں نکالیں توچین جوپہلے ہی پاکستان آچکاہے وہ اس خطے پرمکمل قبضہ کرلے گا۔ تاہم گزشتہ فروری میںاقوام عالم کوپتہ چل چکا ہے کہ جنگ کی صورت میں پاک افواج کوبالخصوص بھارت کے مقابلے کیلئے اب کسی اور کی مددکی قطعاً ضرورت نہیں۔ 

 

تازہ ترین خبریں