09:56 am
کشمیر : بحران اورامکانات

کشمیر : بحران اورامکانات

09:56 am

ابھی تک یہ واضح نہیں کہ بی جے پی  370اور 35اے کی دفعات کو آئین سے نکال کر کشمیر کی خصوصی حیثیت حتمی طور پر ختم کرنے میں کامیاب ہوگی یا نہیں۔ کیا آئین میں اتنی بنیادی تبدیلی محض صدارتی حکم نامے کے ذریعے لائی جاسکتی ہے؟ اس اقدام کو بھارتی سپریم کورٹ میں پہلے ہی چیلنج کیا جاچکا ہے۔ بھارت میں حزب اختلاف کی تقریباً ہر جماعت نے اس کے خلاف آواز بھی اٹھائی لیکن مریم کے چچا مودی کو یہ قدم اٹھاتے ہوئے حقیقی مخالفت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ سیاسی طور پر دیوالیہ ہوچکی کانگریس کی قیادت کو حالیہ انتخابات میں ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ مودی کی سیاست میں صرف طاقت ہی اصول ہے، ایسی صورت حال میں یہ ’’رسمی بیانات‘‘ کسی گنتی میں نہیں آتے۔ بی جے پی نے دوسری بار منتخب ہونے کے لیے جو منشور پیش کیا اس میں مذکورہ آئینی دفعات کا خاتمہ سر فہرست تھا یہی وجہ ہے کہ یہ اقدام ہرگز غیر متوقع نہیں تھا۔ 
 
فروری میں پاکستان پر جارحیت کی ناکام کوشش نے بھارت کی جنگی صلاحیتوں کا پول کھول دیا۔ اس میں انھیں جنگی طیارے سے ہاتھ دھونا پڑا جبکہ ایک جنگی پائلٹ گرفتار ہوگیا۔ اس کے بعد عالمی عدالت انصاف کی جانب سے بھارتی جاسوس کو پاکستان کی فوجی عدالت سے ملنے والی سزائے موت کی توثیق ہوگئی اور بھارت کو صرف جینیوا کنوینشن کے تحت ’’قونصل رسائی‘‘ کی رعایت ہی مل سکی۔ لائن آف کنٹرول پر مسلسل حملے اور پاکستانی شہریوں پر کلسٹر بموں کے استعمال سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بھارت اپنی ان ناکامیوں سے کتنا مضطرب ہے۔ اس کے علاوہ وزیر اعظم عمران خان کے کامیاب دورۂ امریکا نے بھارت کی پاکستان مخالف پراپیگنڈے کی بیس سالہ کوششوں پر پانی پھیر دیا۔ صدر ٹرمپ نے یہ کہتے ہوئے کشمیر میں ثالثی کی پیش کش کی کہ مودی نے ہی اس کے لیے ان سے آمادگی حاصل کی تھی۔ بظاہر یہی وہ اسباب ہیں جن کی وجہ سے بی جے پی نے جلد بازی میں کشمیر کا ’’حتمی حل‘‘ کرنے کے لیے یہ قدم اٹھایا۔ 
وادی کی آبادی 70 لاکھ سے بھی کم ہے جب کہ وہاں 5لاکھ فوجی تعینات ہیں، ان میں مزید تیس ہزار کا اضافہ کیا گیا، سیاحوں کو زبردستی کشمیر سے نکالا گیا اور پاک بھارت سرحد پر ہائی الرٹ جاری کیا گیا،یہ سبھی اقدامات کسی غیر معمولی پیش قدمی کی نشان دہی کررہے تھے۔ افغانستان میں قیام امن سے، جس میں پاکستان کلیدی کردار ادا کررہا ہے،اگر دنیا کا کوئی ملک پریشان ہے تو وہ بھارت ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں بھارت کے ہاتھ سے  پاکستان کے خلاف پراکسی جنگ لڑنے کے آسان مواقع نکل جائیں گے۔ بھارت نے 80کی دہائی میں روس کے فوجیوں کی زندگیوں اور وسائل کے بل پر افغانستان کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا اور اس صدی کے آغاز سے وہ امریکا کا کندھا استعمال کررہا ہے تو کیا یہ امریکا اور طالبان کے مابین امن مذاکرات کو پٹڑی سے اتارنے کی ایک کوشش ہے؟ 
عالمی تنظیموں سے شکایت بے سود ہے۔ عالمی عدالت انصاف جانے سے کیا ہوگا؟ معزز جج صاحبان سے کسی واضح اور ٹھوس موقف کی توقع نہیں رکھی جاسکتی۔ سات دہائیوں سے اس معاملے میں کچھ نہ کرنے والی سلامتی کونسل اب بھی مدد کو نہیں آئے گی۔ پارلیمنٹ میں ہونے والی تقریروں سے اتحاد و یگانگت کا پیغام تو خاک ملا، سیاسی تقسیم کھل کر سامنے آگئی۔ بھارت کے اس اقدام کو  بھارتی عوام اور کشمیری ہی تبدیل کرسکتے ہیں، بھارت میں مقتدر قوتوںکے ہوتے اس کی امید بھی بہت کم ہے۔ کیا ہماری حکومت کشمیر کے لیے اعلان جنگ کردے؟اگر یہ غلطی کی گئی تو غربت کے خاتمے، معیشت کے استحکام اور احتساب کے لیے تحریک انصاف کے تمام منصوبے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔ 
شہباز شریف نے اپنی تقریر میں کہا کہ یہ حکومت کی بہت بڑی ناکامی ہے کہ وہ بھارت کے اس غیر معمولی اقدام سے بے خبر رہی اور گہرائی کے ساتھ صورت حال کا جائزہ نہیں لے سکی،کیسی کھلی منافقت ہے؟ قائد حزب اختلاف جب اقتدار میں تھے تو انہوں نے اس مسئلے کے حل کے لیے کیا تیر مارا تھا؟ سابق سفیر ضمیر اکرم بتا سکتے ہیں کہ کس طرح انہوں نے طارق فاطمی کو ڈیووس میں نواز شریف کی بھارتی کاروباری شخصیات سے ملاقات کا اہتمام کروانے سے انکار کیا۔ زرداری سے پوچھیے کہ حسین حقانی کو امریکا میں سفیر کیوں مقرر کیا؟ اشفاق کیانی سے سوال کیا جائے کہ امریکی سفیر کے لیے حسین حقانی کو سیکیورٹی کلیئرینس کیسے مل گئی؟ مولانا فضل الرحمن کو کشمیر کمیٹی کا چیئرمین بنانے سے بڑھ کر کشمیریوں کے ساتھ کیا مذاق ہوگا۔     ( جاری ہے )

تازہ ترین خبریں