09:57 am
سودی نظام کے حوالہ سے شریعہ اکیڈمی اسلام آباد کا ایک اہم سیمینار

سودی نظام کے حوالہ سے شریعہ اکیڈمی اسلام آباد کا ایک اہم سیمینار

09:57 am

گزشتہ ہفتہ کے دوران 6 اگست کو بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں شریعہ اکیڈمی کے منعقدہ انسداد سود سیمینار میں شرکت کا موقع ملا جس میں یونیورسٹی کے ریکٹر ڈاکٹر محمد یاسین معصوم زئی میرِ محفل تھے جبکہ شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر مشتاق احمد اور ان کے رفقاء کی دلچسپی اور محنت سیمینار کی بھرپور کامیابی میں نمایاں طور پر جھلک رہی تھی۔ قومی اسمبلی میں انسدادِ سود کا بل پیش کرنے والے مولانا عبد الاکبر چترالی ایم این اے مہمان خصوصی تھے اور خطاب کرنے والوں میں ڈاکٹر زاہد صدیق مغل، مولانا مفتی محمد زاہد، ڈاکٹر حافظ عاطف وحید اور ریٹائرڈ جسٹس محمد رضا کے علاوہ وفاقی شرعی عدالت میں نظرثانی کی اپیل پر جماعت اسلامی اور تنظیم اسلامی کی طرف سے کیس کی پیروی کرنے والی وکلا ٹیم کے سربراہ قیصر امام ایڈووکیٹ بھی شامل تھے۔ 
 
اس وقت سودی نظام کے خاتمہ کی جدوجہد قومی اسمبلی اور وفاقی شرعی عدالت میں جاری ہے، قومی اسمبلی کے رکن مولانا عبد الاکبر چترالی کا پیش کردہ بل قائمہ کمیٹی کے سپرد ہے جس کی رپورٹ کے بعد ایوان میں یہ بل زیربحث لانے کا مرحلہ ہوگا جبکہ وفاقی شرعی عدالت میں سپریم کورٹ کے فیصلہ پر نظرثانی یا اس کی ازسرنو سماعت کا سلسلہ جاری ہے۔ سیمینار میں ان دونوں محاذوں کی صورتحال سے شرکاء کو آگاہ کیا گیا، سودی نظام کے مختلف پہلوؤں بالخصوص قومی اور عالمی سطح پر سودی نظام سے نجات کے لیے ہونے والے کام کا جائزہ لیا گیا اور اسے موثر اور نتیجہ خیز بنانے کی تجاویز پر غور کیا گیا۔ 
سیمینار میں مختلف اصحاب فکر و دانش کی گفتگو خاصی معلومات افزاء اور فکر انگیز تھی جسے اگر مرتب کر کے شائع کیا جا سکے تو یہ اس مسئلہ پر رائے عامہ اور علمی حلقوں کی راہنمائی کے لیے بہت مفید ہوگی۔ مجھے سودی نظام کے خاتمہ کے لیے دینی حلقوں کی جدوجہد پر تبصرہ کرنا تھا مگر وقت کا دامن تنگ ہونے کے باعث مختصر گفتگو میں اتنا ہی عرض کر سکا کہ اس جدوجہد میں دینی حلقوں بالخصوص دینی تعلیمی اداروں کی جدوجہد کے تین بڑے دائرے ہیں۔ ایک یہ کہ سودی نظام کی نحوست اور اس کے خلاف جدوجہد کی شرعی حیثیت اور ضرورت سے قوم کو ہر سطح پر آگاہ کیا جاتا رہے، دوسرا یہ کہ اسلامی نظام معیشت کے مختلف پہلوؤں کو دلیل و منطق کے ساتھ آج کے اسلوب میں پیش کرنے کا اہتمام کیا جائے اور اس سلسلہ میں عالمی اور قومی سطح پر سامنے لائے جانے والے شکوک و اعتراضات کا معقول انداز میں جواب دیا جائے جبکہ اس کے ساتھ تیسرے مرحلہ میں ملک میں ایسا تحریکی ماحول پیدا کرنے کی بھی ضرورت ہے جو ہمارے ہاں کسی بھی قومی یا دینی مسئلہ پر حکمرانوں کو توجہ دلانے کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔  میں نے اپنے اس احساس کا بھی تذکرہ کیا کہ ان تینوں شعبوں میں خاطر خواہ کام نہیں ہو رہا جس کے لیے دینی جماعتوں، مدارس، خطباء، اساتذہ  اور دیگر علمی حلقوں کو خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ 
قومی اسمبلی میں سودی نظام کے خاتمہ کے بل کے محرک مولانا عبد الاکبر چترالی کے خطاب کا ایک حصہ قارئین کی نذر کیا جا رہا ہے جس میں انہوں نے اب تک محنت کا سرسری جائزہ پیش کیا ہے۔’’ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد قائد اعظم مرحوم نے اپنی زندگی کی جو آخری تقریر کی وہ یکم جولائی 1948ء کو کراچی اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا افتتاح کرتے ہوئے کی تھی۔ اس میں انہوں نے مغربی سرمایہ دارانہ نظام اور کمیونسٹ نظام دونوں کی خرابیوں کی نشاندہی کی اور یہ ہدایت کی کہ اسٹیٹ بینک اسلامی خطوط کے مطابق ایک نئے معاشی نظام کا ڈھانچہ تیار کرے جس کی بنیاد پر پاکستان کا نظام استوار کیا جائے، پھر 1952ء میں دستور سازی کا عمل شروع ہوا، اس وقت کے وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین مرحوم نے ایک مسودہ دستور ساز اسمبلی میں پیش کیا۔1954ء میں محمد علی بوگرہ مرحوم کا مسودہ آیا جس کو غلام محمد مرحوم نے ناکام بنایا اور دستور پاس کیے بغیر اسمبلی توڑ دی۔1956ء کے دستور میں اور پھر 1962 ء کے، بڑی حد تک سیکولر دستور میں فیلڈ مارشل ایوب خان نے یہ بات شامل کی کہ پاکستان کی معیشت سے سود کا خاتمہ کیا جائے۔1973 ء کے متفقہ دستور کے آرٹیکل 38۔و میں لکھا گیا ہے کہ سود کو جتنا جلدی ممکن ہو ملکی معیشت سے ختم کیا جائے گا۔
 اسلامی نظریاتی کونسل نے پہلے 1973ء میں، پھر 1980ء میں، اس کے بعد کئی بار سودی نظام کے خاتمے کی تجاویز اور سفارشات پیش کی ہیں۔29 ستمبر 1977ء کو جنرل ضیاء الحق مرحوم نے اسلامی نظریاتی کونسل کو ہدایت کی کہ وہ سود کے خاتمے کے لیے تجاویز اور دستاویزات پیش کرے۔کونسل نے نومبر 1978ء کو تجاویز، سفارشات تیار کر کے پیش کیں اور فروری 1979ء میں انسداد سود کا تین سالہ منصوبہ سودی معاملات کو ملکی معیشت سے نکال دیا جائے، پیش کیا جس پر عملدرآمد کے آغاز کے طور پر اگست 1979ء کو ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن کے معاملات کو سود سے پاک کر کے کیا گیا لیکن بدقسمتی سے بعد میں ایسا نہ ہو سکا، پھر 1984ء میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے سرکلر نمبر 13 جاری کیا جو کہ 20 جون 1984ء کو جاری ہوا۔ اس سرکلر میں یہ بات لکھی گئی تھی کہ یکم جولائی 1985ء سے ملک کے تمام معاملات اور بینکاری کی تمام سرگرمیاں مکمل طور پر اسلامی خطوط کے مطابق ہوں گی۔ گویا اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور حکومت پاکستان نے 1977ء سے لے کر 1984ء تک تمام ضروری تیاری کر لی تھی۔ یکم جولائی 1985 ء سے پورا سودی نظام تبدیل کیے جانے کا فیصلہ کر لیا گیا تھا لیکن اس پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ 1980ء میں وفاقی شرعی عدالت قائم ہوئی تو اس وقت وفاقی شرعی عدالت کے دائرہ اختیار میں مالیاتی قوانین کا معاملہ نہیں تھا۔ 1990 ء میں مالیاتی قوانین وغیرہ کی عدالتی نظرثانی کا معاملہ ان کے اختیار میں آیا۔16 نومبر 1991ء کو وفاقی شرعی عدالت نے ملک کے 22 سودی قوانین کے بارے میں اپنا مشہور فیصلہ دیا۔ اس کے خلاف حکومت وقت نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی حالانکہ وہ حکومت اسلام کا نام لے کر اقتدار میں آئی تھی۔ 
23 دسمبر 1991ء کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں اس اپیل کا فیصلہ ہوا اور اس فیصلہ کو برقرار رکھا گیا جو وفاقی شرعی عدالت نے کیا تھا پھر 2002ء میں سپریم کورٹ شریعت ایپیلٹ بینچ کا فیصلہ سپریم کورٹ کے ریوینیو بینچ نے ازسرنو سماعت کے لیے وفاقی شرعی عدالت کو بھیج دیا جو ہنوز قائم ہے۔ چنانچہ آج ہم اسی مقام پر کھڑے ہیں جہاں 1980ء میں تھے۔




 

تازہ ترین خبریں