09:58 am
بھارت کو پاک فوج کا نیا سخت انتباہ!

بھارت کو پاک فوج کا نیا سخت انتباہ!

09:58 am

٭بھارت کی کسی مہم جوئی پر 27 فروری سے زیادہ سخت کارروائی ہو گی۔ جنرل آصف غفورO کشمیر: اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کیا جائے۔ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہO ملائیشیا، عرب امارات، سعودی عرب بھی بول پڑےO مقبوضہ کشمیر، جیلیں بھر گئیں، قیدی آگرہ منتقلO مریم نواز، گرفتار، عدالت میں پیش، لیگی کارکنوں کا پتھرائو، لاٹھی چارجO مولانا فضل الرحمان، ’’کشمیر بھارت کا حصہ نہیں‘‘O بلاول زرداری: مریم نواز کی گرفتاری پر آپے سے باہر، گالیاں، جوابی گالیاں O بھارتی ہائی کمشنر چلا گیاO سمجھوتہ ایکسپریس، تھر ایکسپریس ، بھارتی فلمیں، ڈرامے بند۔
 
صورتحال زیادہ گمبھیر ہوتی جا رہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں پانچویں روز بھی کرفیو جاری رہا۔ اخبارات، مارکیٹیں دوائوں کی دکانیں بند، خوراک اور دوائوں کی شدید قلت، سینکڑوں مظاہرین گرفتاری، جیلوں میں جگہ کم پڑ گئی۔ طیاروں کے ذریعے 560 قیدی آگرہ جیل میں منتقل۔ پانچ روز کے کرفیو سے ڈیڑھ کروڑ کشمیریوں کی جانیں خطرے میں پڑ گئیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا واضح بیان، کہ کشمیر کا تنازع اقوام متحدہ کی قراردادوں کے ذریعے ہی حل ہو سکتا ہے۔ اسی نوعیت کے بیانات اب ملائیشیا، سعودی عرب اور عرب امارات کے بھی آئے ہیں۔ دُنیا بھر میں کشمیری اور پاکستانی باشندوں کے مظاہرے جاری ہیں ان میں ماسکو میں مظاہرہ نئی بات ہے۔ امریکہ نے دہرایا ہے کہ کشمیر کے بارے میں اس کی پالیسی تبدیل نہیںہوئی کہ یہ تنازع موجود ہے، دونوں ملک مذاکرات کریں۔ موجودہ صورت حال یہ ہے کہ پاکستان اور بھار ت کے درمیان سمجھوتہ ایکسپریس بھی بند کر دی گئی ہے۔ گزشتہ روز آخری سمجھوتہ ایکسپریس 109 مسافروں کو لے کر بھارت روانہ ہوئی اور 85 پاکستانی افراد واپس آئے۔ واہگہ کے سرحدی ریلوے سٹیشن پر مسئلہ پیدا ہو گیا جب ٹرین کے ڈرائیوروں اور گارڈ نے ٹرین کو سرحد پار لے جانے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے بھارت میں سکیورٹی کے خطرہ کی بنا پر ایسا کیا۔ ٹرین چار گھنٹے واہگہ سٹیشن پر کھڑی رہی۔ بالآخر بھارت سے ایک انجن آیا اور ٹرین کو لے گیا۔ معاہدہ کے مطابق اس ٹرین میں چھ چھ ماہ کے بعد پاکستانی اور بھارتی بوگیاں تبدیل ہوتی ہیں۔ آج کل بھارتی بوگیاں چل رہی تھیں۔
٭گزشتہ روز ہوا کے گھوڑے پر سوار مریم نواز کو بالآخر نیب نے گرفتار کر لیا۔ اس پر بلاول زرداری نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں جس انداز میں انتہائی غیض و غضب اور شعلہ بیانی کا مظاہرہ کیا، حکومت کو بے غیرت قرار دیا اور اجلاس سے واک آئوٹ کیا۔ اس پر سنجیدہ  طبقے حیرت زدہ رہ گئے ہیں۔ بلاول کی اس بدزبانی کے جواب میں انتہائی مشتعل مراد سعید کی کئی گنا زیادہ بدزبانی ناقابل بیان حد تک پہنچ گئی۔ یہ ’جمہوریت‘ کی دین ہے کہ مریم نواز اور بلاول کو جھولا جھولنے کی عمروں میں ہی موروثی بادشاہتیں مل گئی ہیں۔ دونوں کسی سیاسی تربیت کے بغیر ہوا کے گھوڑوں پر سوار ہو گئے۔ مریم نواز صرف اپنے والد کو جیل سے نکالنے کے لئے ہر قسم کے آئین، قوانین اور ضابطوں کو ٹھوکریں مار رہی ہے۔ کوئی ادب آداب، کچھ نہیں۔ پہلے بیان دیا کہ اس کے نام پر کوئی جائیداد نہیں بلکہ رہنے کا گھر بھی نہیں، مگر نیب نے اس کے نام پر اربوں کی خفیہ جائیداد، جعلی اکائونٹس اور منی لانڈرنگ دریافت کر لی تو نیب کے سوالات پر مضحکہ خیز جواب دیا کہ میرے نانا اور چچا (دونوں مرحوم) سے پوچھ لو۔ نیب نے گزشتہ روز طلب کیا تو پیش ہونے سے انکار کر دیا۔ نیب نے اسے اور عباس شریف کے دو بیٹوں کو بھی گرفتار کر لیا۔ موجودہ صورتِ حال یہ ہے کہ شہباز شریف تو ضمانت پر رہا ہیں (پتہ نہیں کب تک!) اور شریف خاندان مردوں سے خالی ہو گئے ہیں، صرف خواتین رہ گئی ہیں۔ نوازشریف، مریم جیل میں دونوں بیٹے لندن میں (مفرور قرار)، گھر میں صرف بوڑھی والدہ، شہباز شریف خود ضمانت پر، دونوں بیٹے حمزہ اور سلمان جیل میں! ادھر آصف زرداری اور بہن فریال جیل میں، بلاول آزاد ہے مگر بے قابو ہوتا جا رہا ہے۔ اس نے جس انداز میں مریم نواز کی گرفتاری پر انتہائی غیض و غضب کا مظاہرہ کیا، اس پر ناگفتنی قسم کی افسوس ناک داستان تراشی شروع ہو گئی ہے۔ اسے کسی نے نہ سکھایا کہ غیر خواتین کے بارے میں غیر ضروری جذباتی پن کا کیا نتیجہ نکل سکتا ہے؟ شہباز شریف ن لیگ کے منتخب صدر ہیں۔ مریم نے یہ صدارت خود ہی اپنے اوپر طاری کر لی اور لاہور سے ریلی نکال کر اسلام آباد پر چڑھائی کا اعلان کر دیا۔ اس کا کوئی منطقی نتیجہ تو نکلنا ہی تھا! میں ٹیلی ویژن پر احتساب عدالت کے باہر مریم کے حامیوں اور پولیس میں تصادم دیکھ رہا ہوں۔ سخت دکھ کہ سرحدوں پر دشمن کھڑا ہے اور ہم!!
٭مولانا فضل الرحمان کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ وہ مقبوضہ کشمیر پر بھارت کے موجودہ حملے کے بارے میں خاموش کیوں ہیں؟ گزشتہ روز انہوں نے کھل کر بھارت کی مذمت کر دی۔ ان کے جملے پڑھئے۔ ’’کشمیر بھارت کا حصہ نہیں، بھارت اسے اندرونی معاملہ قرار نہیں دے سکتا۔ اس نے تمام بین الاقوامی دستاویزات کی نفی کر دی ہے۔ وہ کشمیری عوام کو دبا نہیں سکتا، کشمیری عوام کی آزادی کی جدوجہد جاری رہے گی۔ جمعیت العلمائے اسلام کشمیریوں کی جدوجہد کی حمائت جاری رکھے گی، اس سلسلے میں ریلیاں بھی نکالی جائیں گی‘‘ مولانا کا یہ بیان کچھ دیر سے آیا مگر پھر بھی بروقت ہے۔ اس وقت تمام سیاسی پارٹیوں کو ملک کو کسی بھی قسم کی سیاست کی بجائے صرف کشمیر کی طرف بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ افسوس کہ یہ بات کوئی بھی نہیں سمجھ رہا۔ گزشتہ روز قومی اسمبلی میں جس شرمناک انداز میں حکومتی اور اپوزیشن کے ارکان ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہوئے اسے جس طرح بھارتی میڈیا نے اچھالا ہے، اس پر ہر پاکستانی کرب میں مبتلا ہے۔ ان لوگو ںنے قومی اسمبلی کے نہائت باوقار ادارے کو لڑاکا جانوروں کی مویشی منڈی بنا دیا ہے۔ میرا سر بوجھل ہو رہا ہے!
٭حکومت اور اس کے اداروں نے ملک کے عوام کو شائدیرغمال شدہ مدمقابل دشمن سمجھ لیا ہے کہ انہیں کسی صورت سکون و آرام سے نہیں رہنے دینا۔ ڈھونڈ ڈھونڈ کر انہیں تکلیف دینے کے طریقے تلاش کئے جا رہے ہیں۔ نئی واردات یہ ہے کہ پی آئی اے کے طیاروں میں سفر کرتے وقت کھڑکی کے پاس بیٹھنے یا کسی کھلی جگہ والی نشست پر سفر کرنے پراضافی اخراجات وصول کئے جائیں گے۔ امریکہ و کینیڈا تک کھلی کھڑکی کے ساتھ بیٹھنے پر 15 ڈالر (تقریباً ڈھائی ہزار روپے) سعودی عرب کے لئے 15 ریال (650 روپے)، برطانیہ کے لئے 10 پونڈ (2050 روپے) یورپ کے لئے 10 یورو، عرب امارات و دوسرے عرب ممالک کے لئے 15 درہم، عمان کے لئے ایک عمانی ریال اضافی وصول کیا جائے گا۔ کہا جائے گا کہ غریب عوام طیاروں میں سفر نہیں کرتے۔ یہ بات بالکل غلط ہے۔ عرب امارات، یورپ، امریکہ، کینیڈا میں آباد لاکھوں پاکستانی دن رات محنت کر کے پیسہ پیسہ جوڑ کر اپنے والدین سے ملنے یا شادی غمی کی تقریب میں شرکت کے لئے طیاروں کے ذریعے وطن آنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ میں بہت سے ممالک میں گھوما ہوں ایک سے زیادہ بار لکھ چکا ہوں کہ بیرون ملک کام کرنے والے لاکھوں پاکستانی، ہم اندرون ملک آباد پاکستانیو ںسے کہیں زیادہ محب وطن ہیں۔ دن رات وطن سے بے پناہ محبت میں سرشاراس کے حالات پر پریشان رہتے ہیں۔ یہ لوگ دن رات محنت کر کے وطن عزیز کو اربوں کا زرمبادلہ بھیجتے ہیں جس سے ملک کی معیشت چلتی ہے۔ ان عزیزان وطن کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کرنے کی بجائے طیاروں میں سفربھی مشکل بنایا جا رہا ہے۔ اب آپ طیارے میں ٹانگیں لمبی نہیں کر سکتے، اس کی اضافی فیس دینا پڑے گی۔ اس انوکھی لوٹ مار کا شرف صرف پی آئی اے کو حاصل ہے۔ دُنیا بھر کی کوئی دوسری کمپنی اس قسم کی فیس وصول نہیں کرتی! الامان!
 

تازہ ترین خبریں