10:18 am
بھارت سے اسی کی زبان میں بات کریں

بھارت سے اسی کی زبان میں بات کریں

10:18 am

 پاکستان اور بھارت میں کشیدگی کا عنصر پہلے روز سے ہی موجود رہا ہے،ان تعلقات میں کمی بیشی البتہ حالات اور وقت کے ساتھ آتی رہی،  دو ہمسایہ ممالک کے تعلقات کو معمول پر لانے کیلئے حالات کے مطابق دونوں ملکوں کی قیادت کوششیں  کرتی  رہیں مگر بد قسمتی سے یہ کوششیں کبھی بار آور ثابت نہ ہو پائیں ۔ اس ناکامی کی بنیادی وجہ بھارتی قیادت کی ہٹ دھرمی،کہہ مکرنی،اپنی بات پر اڑے رہنا رہی،بھارت نے ہر دور میں پاکستان کو عالمی برادری میں  نیچا دکھانے   کی منصوبہ بندی کی  ،یہ الگ بات کہ اسے ہمیشہ منہ کی کھانا پڑی،اسلحہ کے انبار بھی اسی لئے   لگائے گئے،مگر یہ وقت کا ستم تھا کہ بھارت عالمی قوتوں سے اسلحہ خرید کر اپنی عوام کا معاشی بھرکس نکالتا رہا اور پاکستان نے چین کے تعاون سے اس شعبہ میں خود کفالت حاصل کر لی اور آج پاکستاں اسلحہ کیساتھ جنگی جہاز بھی برآمد کرنے والے ملکوں کی فہرست میں شامل ہوتا ہے۔   بھارت کو  خارجہ  محاذ پر بھی  ہمیشہ   ہزیمت کا سامنا کرنا پڑاکہ بھارت کی ابتداٗ سے پہچان ایک شدت پسند  ہند و  ریاست کے طور پربن چکی تھی،گاندھی جیسا   لیڈر بھی اس تعصب سے پاک نہ تھا نہرو جیسا ترقی پسند رہنما  بھی سر سے پائوں تک اس غلاظت میں لتھڑا ہواء تھا،شاستری اس حوالے سے تمام حدیں عبور کر گیا،اندرا گاندھی کو اس کے زمانے کے لوگ جمہوریت پسند صلح جو اور جدید نظریات کی حامل سیاست دان سمجھتے رہے مگر بھارت کے اندر اور بیرونی دنیا میں ان کی دہری پالیسی زیادہ دیر تک راز نہ رہ سکی،اور ایک دن اندرا خود بھی اسی شدت پسندی کی بھینٹ چڑھ گئیں۔
 
           دو ہمسایہ مماک میں تعلقات کے نئے دور کی امید عمران خان کے وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد جاگی جب انہوں نے قوم سے خطاب میں بھارت کو تمام متنازعہ امور پر بات چیت کی دعوت دی ،عالمی طاقتوں نے عمران خان کے جذبہ،حوصلہ مندی،صلح جوئی کی تعریف کی بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی اس پیشکش کا جزبہ خیر سگالی سے جواب دیا،لیکن مذاکرات کا اونٹ کسی کروٹ بیٹھنے سے پہلے ہی اندرونی تنقید کے سامنے ڈھیر ہو گیا،مذاکرات کی بیل منڈھے چڑھنے کی بجائے باد صر صر کی زد میں آگئی،اس سے قبل بطور وزیر اعظم میاں نواز شریف کے دور میں بھی خیر سگالی کی ایک ہواء چلی مگر جلد معلوم ہو گیا کہ ہمارے وزیراعظم ذاتی کاروبار اور مودی اپنے ملک کے مفادات کو سامنے رکھ کر دوستی کی بساط پر چالیں چل رہا تھا،محب وطن حلقوں کیلئے مودی کی بغیر شیڈول بناء ویزا کے آمد،مزاکرات سرکاری رہائش گاہ کے بجائے جاتی امراء،سرکاری عمال کے بجائے ذاتی ملازمین کی موجودگی،وزات خارجہ کو مودی کے دورے اور بات چیت سے بے خبر رکھنا بھی بہت سے سوالات کو جنم دے رہا تھا،مودی کیساتھ آنے والے صنعتکار کیساتھ تجارتٰ معاہدوں کا فیصلہ بھی مودی کے دوست کے حق میں نکلا،گر محب وطن قوتوں نے ان معاہدوں کو بھی ملک و قوم کے مفادات کے منافی قرار دیکر تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔
     پاک بھارت تعلقات میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب وزیر اعظم کے دورہ امریکہ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بغیر اپیل کے مسئلہ کشمیر میں ثالثی کی پیشکش کر دی،عالمی قوت کی طرف سے اتنے بڑے اقدام کو پوری دنیا نے انتہائی سنجیدگی سے لیا مگر بھارت نے اسے کوئی اہمیت نہ دی،پہلے تو ثالثی کو تسلیم کرنے سے انکار کیا گیا مگر جب وہائٹ ہائوس ترجمان نے وضاحت کی کہ مودی نے باقاعدہ طور پر امریکی صدر سے درخواست کی تھی کہ جنوب ایشیاء کے اس سلگتے مسئلہ کے حل کی کوئی سبیل نکالی جائے توبھارت اس سے بھی مکر گیا جس پر امریکی وزارت خارجہ کو مداخلت کرناپڑی اور کہا گیا کہ ٹرمپ عام انسان نہیں وہ جو کہتے ہیں ذمہ داری سے کہتے ہیں،بھارت کی پالیسی یہاں بھی مگر میں نہ مانوں کی رہی،اس کے ساتھ ہی بھارت نے کشمیر میں ایسے اقدامات کا آغاز کر دیا جن کی مدد سے کشمیریوں کی صوبائی خودمختاری ختم کر کے انہیں مرکزی حکومت کے کنٹرول میں لے لیا،کشمیر کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی سازش کا بھی آغاز کر دیا گیا،جس پر چین نے باقاعدہ اعتراض کیا مگر بھارت نے اس کو کوئی اہمیت نہ دی،ہندو اکثریتی علاقہ جموں میں پنڈتوں کی آبادکاری بھی اسی منصوبے کا حصہ ہے،سب سے خطرناک بات مگر بھارت کا کشمیریوں کی حق خودارادیت کی تحریک کو کچلنے کیلئے اسرائیل کی مددد حاصل کرنا ہے،مگر بھارت بھول گیا کہ فلسطینی ایک چھوٹے سے علاقہ تک محدود ہیں،ان کی نقل و حرکت بھی محدود ہے،اور ان کے ساتھ یکجہتی کرنے کیلئے پاکستان بھی موجود نہیں۔
          بھارتی وزیراعظم نے کشمیریوں کے جذبہ حریت کا شائد درست اندازہ نہیں کیا،بھارت 70 سال سے ریاستی دہشت گردی کے باوجود کشمیریوں کو دبانے میں ناکام رہا ہے،پیلٹ گنیں بھی کشمیریوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں ڈال سکیں اور اگر بھارت نے اس حوالے سے کوئی ایڈونچر کیا تو مسلح تحریک آزادی جو کشمیریوں نے ایک عرصہ سے ترک کر کے جمہوری انداز اپنایا تھا کو ایک مرتبہ پھرپذیرائی مل سکتی ہے ۔پاکستان نے اگرچہ اپنا سفیر بھارت سے واپس بلا لیا ہے،ان کا سفیر واپس بھجوا دیا ہے  مگر سفارتی تعلقات ابھی  ختم نہیں کئے،البتہ تجارتی تعلقات اور افغان ٹرانزٹ کے تحت ہونے والی تجارت روک دی ہے،یہ بڑے اقدامات ہیں مگر ان سے آگے جانے کی ضرورت ہے،موجودہ حالات میں بہترین پالیسی بھارت کو غیر مستحکم کرنے کی ہے اس کیلئے خالصتان تحریک کی مدد کرنے کی ضرورت ہے ،یہ تحریک آزادی  ایک مرتبہ پھر مشرقی پنجاب میں زور پکڑ رہی  ہے،عملی طور پر اس تحریک کا حصہ بننے کی بجائے اگرصرف   اس  سکھ  تحریک کی اخلاقی مد د  ہی کی  جائے  بہت کچھ حاصل ہو سکتا ہے  ۔ اس  طرح  بھارت کی    توجہ کشمیریوں سے ہٹائی )
جا سکتی ہے،سکھ قوم ویسے بھی بھارت سے مایوس ہے اور پاکستان میں ان کے اہم مذہبی مراکز ہونے کی وجہ سے سکھ برادری پاکستان کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے،گورودواروں کے بہترین انتظامات یاتریوں کو دی جانے والی سہولیات کے باعث سکھ قوم پاکستان کی ہر دور میں مشکور رہی،ایسے میں اگر ان کے مذہبی جذبات اور خالصتان تحریک کو  اخلاقی مدد   دی جائے تو مشرقی سرحد کا بڑا حصہ ہم محفوظ بنا سکتے ہیں،افغانستان میں امن کے قیام اور وہاں پاکستان نواز حکومت کے قیام سے بھی بھارت کو بڑی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے لہذٰا طالبان کو افغان حکومت کا مستقل حصہ بنا کر یہ مقصد آسانی سے حاصل کیا جا سکتا ہے،اب موقع ہے کہ بھارت سے اسی کی زبان میں بات کی جائے۔
 

تازہ ترین خبریں