09:33 am
کشمیر : بحران اورامکانات 

کشمیر : بحران اورامکانات 

09:33 am

(گزشتہ سےپیوستہ)
فوج، کارگل سے پہلے تک اس مسئلے کے لیے عسکری حل چاہتی تھی۔ فوج بھارت کے ساتھ کشمیر پر تین جنگیں لڑ چکی ہے لیکن اس کے زیادہ حوصلہ افزا نتائج برآمد نہیں ہوئے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے تاریخ سے سبق سیکھنا شروع کردیا ہے کہ کشمیر اور افغانستان جیسے مسائل کا  صرف سیاسی حل ہوسکتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ جنرل مشرف نے اپنے دور اقتدار میں کارگل کی اپنی غلطی کو درست کرنے لیے مسئلہ کشمیر کا قدرے مختلف انداز میں حل نکالنے کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے کشمیر کے لیے ’’چار نکاتی حل‘‘پیش کیا۔ غالباً 2000ء میں این ڈی یو میں انسٹرکٹر رہنے والے، ائر مارشل (ر) مسعود اختر بتا سکتے ہیں کہ یہ ’’بہترین خیال‘‘ جنرل مشرف کے ذہن میں کہاں سے آیا۔ مختلف ذرائع سے اس کی تصدیق بھی ہوچکی ہے کہ اٹل بہاری واجپائی کو بھی اصولی طور پر یہ حل قبول تھا لیکن دستخط کی تقریب سے چند گھنٹے پہلے ہی معاملہ بگڑ گیا۔ مشرف نے افواج کے بتدریج انخلا، ایل او سی کے دونوں اطراف آزادانہ نقل وحرکت اوردونوں جانب آزاد ہونے کے بجائے خود مختار حکومت کے قیام سمیت مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے غیر روایتی حل پیش کیے۔ یہ مؤثر اقدامات ہوسکتے تھے جوحقیقت کا روپ نہیں دھار سکے۔ پاکستان میں آنے والی سویلین حکومتیں  اس مسئلے کا کوئی غیر روایتی حل پیش کرنے میں ناکام رہیں۔ اس کے بجائے یہ  1948ء میں اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل اور استصواب رائے کے موقف سے بھی دستبردار ہوگئیں۔ 1950ء اور 1960ئکی دہائی میں  حل کے امکانات 1972ئکے شملہ معاہدے کے بعد تبدیل ہوگئے۔ اس کے بعد سے بھارت کشمیر کو دو طرفہ تنازعہ ہی بتاتا ہے کیوں کہ بھٹو نے بھی یہ تسلیم کرلیا تھا۔ اس کے بعد اقوام متحدہ کی قرار دادوں پراصرار زمینی حقائق سے چشم پوشی کے علاوہ کچھ نہیں۔ 
پاکستان کو اپنی روایتی کشمیر پالیسی پر نظر ثانی کرتے ہوئے اس معاملے پر اپنے موقف کی تشکیل نو کرنا چاہیے۔ بھارتی فیصلے کے اثرات گلگت بلتستان پر بھی ہوں گے جسے اب پوری طرح پاکستان کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔ یہ سمجھ لینے کے بعد کہ جنگ اس مسئلے کا حل نہیں ہمیں ’’بلند ترین  جنگی محاذ‘‘ سے فوج کم کرنے پر غور کرنا چاہیے۔ آخر میں، ایک بار پھر اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کیوں بنایا گیا تھا، ہندوستانی مسلمان ہندوؤں کے زیر نگیں رہنے کو تیار نہیں تھے اسی لیے علیحدگی کا راستہ اختیار کیا۔ آج بھارت میں مسلمانوں کی آبادی پاکستان کے برابر ہوچکی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں کشمیری مسلمانوں کی زندگی سنگین حالات سے دو چار رہی ہے اور اس میں مزید ابتری آئے گی لیکن ہند توا بنتے بھارت میں مسلمانوں کا مقدر کیا کشمیریوں سے مختلف ہوگا؟ اس لیے جب ان کے حقوق پر ضرب پڑے گی تو پاکستان فطری طور پر بھارتی مسلمانوں  کے حق میں آواز اٹھائے گا تاہم یہ حمایت سیاسی اور سفارتی سطح تک ہی ہوسکتی ہے۔ تجارتی و سفارتی تعلقات میں کمی لانے یا ختم کرنے جیسے اقدامات ہی ہم کرسکتے ہیں۔ 
زمینی حقائق میں بڑی تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں۔ لیکن بھارتی اقدام سے امید کی ایک کرن یہ بھی پیدا ہوئی ہے کہ کشمیر کا مسئلہ بین الاقوامی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ ہمیں مودی نے ایک سنہرا موقع دیا ہے جس کا بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔ پوری دنیا میں عوامی تاثر کو درست کرنے کے لیے ہمیں اپنی سابق سفیروں کی خدمات حاصل کرنی چاہیں اور انھیں تین سے چار ہفتوں کے لیے ایسے ممالک میں بھیجنا چاہیے جہاں وہ خدمات انجام دے چکے ہیں، اس دوران وہ اپنے پرانے رابطوں اور مقامی میڈیا کی مدد سے کشمیر کے بارے میں حقائق ان ممالک کے شہریوں کے سامنے لائیں۔ اگرچہ بھارت کے حالیہ اقدامات ایک بہت بڑا چیلنج ہے تاہم  کیا ہم یہ حوصلہ اور صلاحیت رکھتے ہیں کہ اس چیلنج کو کشمیر پر عالمی ضمیر جھنجوڑنے کے موقعے میں تبدیل کردیں؟ اس دوران میں ہمیں اپنی قوت مجتمع رکھنا ہوگی۔ ہم جنگ کو خارج از امکان قرار نہیں دے سکتے اور نہ ہی ایسا ہونا چاہیے، اگر حالات ہمارے قابو سے باہر ہوجائیں تو یہ ہم پر مسلط ہوکر رہے گی۔  (فاضل کالم نگار سیکیورٹی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار ہیں) 

تازہ ترین خبریں