09:34 am
عیدالاضحی پر قربانی کے اہم مسائل

عیدالاضحی پر قربانی کے اہم مسائل

09:34 am

جو لوگ قربانی کی استطاعت (یعنی طاقت)  رکھنے کے باوجود اپنی واجب قربانی ادا نہیں کرتے، ان کیلئے لمحہ فکریہ ہے، اوّل یہی خسارہ کیا کم تھا کہ قربانی نہ کرنے سے اتنے بڑے ثواب سے محروم رہ گئے مزید یہ کہ وہ گنہگار اور جہنم کے حقدار بھی ہیں۔ فتاویٰ امجدیہ جلد3 صفحہ 315 پر ہے: ’’اگر کسی پر قربانی واجب ہے اور اُس وقت اسکے پاس روپے نہیں ہیں تو قرض لیکر یا کوئی چیز فروخت کر کے قربانی کرے‘‘۔
سرکار نامدار، مدینے کے تاجدار جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’انسان بقرہ عید کے دن کوئی ایسی نیکی نہیں کرتا جو اللہ عزوجل کو خون بہانے سے زیادہ پیاری ہو، یہ قربانی قیامت میں اپنے سینگوں، بالوں اور کھروں کیساتھ آئیگی اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ کے ہاں قبول ہو جاتا ہے لہٰذا خوشدلی سے قربانی کرو‘‘۔ (ترمذی، ج3، ص162، حدیث 1498) 
حضرت علامہ شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: قربانی، اپنے کرنیوالے کی نیکیوں کے پلڑے میں رکھی جائیگی جس سے نیکیوں کا پلڑا بھاری ہو گا۔ حضرت سیدنا علامہ علی قاری علیہ رحمۃ اللہ الباری فرماتے ہیں: پھر اس کیلئے سواری بنے گی جسکے ذریعے یہ شخص باآسانی پل صراط سے گزرے گا اور اُس (جانور) کا ہر عضو مالک (یعنی قربانی کرنے والے) کے ہر عضو (کیلئے جہنم سے آزادی) کا فدیہ بنے گا۔ 
مفسر شہیر حکیم الامت حضرت مفتی احمدیار خان علیہ رحمۃ الحنان ایک حدیث پاک (جب عشرہ آ جائے اور تم میں سے کوئی قربانی کرنا چاہے تو اپنے بال و کھال کو بالکل ہاتھ نہ لگائے) کے تحت فرماتے ہیں: ’’جو امیر وجوباً یا فقیر نفلاً قربانی کا ارادہ کرے وہ ذوالحجۃ الحرام کا چاند دیکھنے سے قربانی کرنے تک ناخن، بال اور (اپنے بدن کی) مردار کھال وغیرہ نہ کاٹے نہ کٹوائے تاکہ حاجیوں سے قدرے مشابہت ہو جائے کہ وہ لوگ احرام میں حجامت نہیں کرا سکتے اور تاکہ قربانی ہر بال، ناخن (کیلئے جہنم سے آزادی) کا فدیہ بن جائے۔ یہ حکم استحبابی ہے وجوبی نہیں (یعنی واجب نہیں، مستحب ہے اور حتی الامکان مستحب پر بھی عمل کرنا چاہئے البتہ کسی نے بال یا ناخن کاٹ لئے تو گناہ بھی نہیں اور ایسا کرنے سے قربانی میں خلل بھی نہیں آتا، قربانی درست ہو جاتی ہے) لہٰذا قربانی والے کا حجامت نہ کرانا بہتر ہے لازم نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اچھوں کی مشابہت (یعنی نقل) بھی اچھی ہے‘‘۔ مفتی صاحب مزید فرماتے ہیں: ’’بلکہ جو قربانی نہ کر سکے وہ بھی اس عشرہ میں حجامت نہ کرائے، بقرہ عید کے دن بعدنمازِ عید حجامت کرائے تو ان شاء اللہ (قربانی کا) ثواب پائیگا۔ 
یاد رہے! چالیس دن کے اندر اندر ناخن تراشنا، بغلوں اور ناف کے نیچے کے بال صاف کرنا ضروری ہے، 40 دن سے زیادہ تاخیر گناہ ہے چنانچہ اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت مجدد دین و ملت مولانا شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں: یہ (یعنی ذوالحجہ کے ابتدائی دن میں ناخن وغیرہ نہ کاٹنے کا) حکم صرف استحبابی ہے، کرے تو بہتر ہے نہ کرے تو مضائقہ نہیں، نہ اس کو حکم عدولی (یعنی نافرمانی) کہہ سکتے ہیں، نہ قربانی میں نقص (یعنی خامی) آنے کی کوئی وجہ، بلکہ اگر کسی شخص نے 31 دن سے کسی عذر کے سبب خواہ بلاعذر ناخن نہ تراش ہوں کہ چاند ذی الحجہ کا ہو گیا تو وہ اگرچہ قربانی کا ارادہ رکھتا ہو اس مستحب پر عمل نہیں کر سکتا کہ اب دسویں تک رکھے گا تو ناخن تراشوائے ہوئے 41واں دن ہو جائیگا اور چالیس دن سے زیادہ نہ بنوانا گناہ ہے، فعل مستحب کیلئے گناہ نہیں کر سکتا۔ (ملخص ازفتاویٰ رضویہ ج20، ص 353۔354) 
ہر بالغ، مقیم، مسلمان مرد و عورت، مالک نصاب پر قربانی واجب ہے۔ مالک نصاب ہونے سے مراد یہ ہے کہ اُس شخص کے پاس ساڑھے باون تولے چاندی یا اتنی مالیت کی رقم یا اتنی مالیت کا تجارت کا مال یا اتنی مالیت کا حاجت اصلیہ کے علاوہ سامان ہو اور اُس پر اللہ عزوجل یا بندوں کا اتنا قرضہ نہ ہو جسے ادا کر کے ذِکر کر دہ نصاب باقی نہ رہے۔ فقہائے کرام رحمہم اللہ السلام فرماتے ہیں: حاجت اصلیہ (یعنی ضروریاتِ زندگی) سے مراد وہ چیزیں ہیں جن کی عموماً انسان کو ضرورت ہوتی ہے اور اُن کے بغیر گزراوقات میں شدید تنگی و دُشواری محسوس ہوتی ہے جیسے رہنے کا گھر، پہننے کے کپڑے، سواری، علم دین سے متعلق کتابیں اور پیشے سے متعلق اوزار وغیرہ۔(الہدایۃ ج1، ص 96) 
بعض لوگ پورے گھر کی طرف سے صرف ایک بکرا قربان کرتے ہیں حالانکہ بعض اوقات گھر کے کئی افراد صاحب نصاب ہوتے ہیں اور اس بناء پر ان سب پر قربانی واجب ہوتی ہے، ان سب کی طرف سے الگ الگ قربانی کی جائے۔ ایک بکرا جو سب کی طرف سے کیا گیا کسی کا بھی واجب ادا نہ ہوا کہ بکرے میں ایک سے زیادہ حصے نہیں ہو سکتے، کسی ایک طے شدہ فرد ہی کی طرف سے بکرا قربان ہو سکتا ہے۔ گائے (بھینس) اور اُونٹ میں سات قربانیاں ہو سکتی ہیں۔ (عالمگیری ج5، ص304)
نابالغ کی طرف سے قربانی اگرچہ واجب نہیں مگر کر دینا بہتر ہے۔ بالغ اولاد یا زوجہ کی طرف سے قربانی کرنا چاہے تو اُن سے اجازت طلب کرے، اگر ان سے اجازت لئے بغیر قربانی کر دی تو ان کی طرف سے واجب ادا نہیں ہوگا۔ اجازت دو طرح سے ہوتی ہے (۱)صراحتاً مثلاً ان میں سے کوئی واضح طور پر کہہ دے کہ میری طرف سے قربانی کر دو۔ (۲) دلالۃً (Under Stood) مثلاً یہ اپنی زوجہ یا اولاد کی طرف سے قربانی کرتا ہے اور انہیں اس کا علم ہے اور وہ راضی ہیں۔ (فتاویٰ اہلسنّت غیرمطبوعہ)
قربانی کے وقت میں قربانی کرنا ہی لازم ہے، کوئی دوسری چیز اس کے قائم مقام نہیں ہو سکتی مثلاً بجائے قربانی کے بکرا یا اُس کی قیمت صدقہ (خیرات) کر دی جائے یہ ناکافی ہے۔ (عالمگیری)
(جاری ہے)

تازہ ترین خبریں