09:36 am
آپ جو چاہیں دیں مجھے نام 

آپ جو چاہیں دیں مجھے نام 

09:36 am

گوشہ نشینی کی میٹھی جیل نغمہ گری کی ریاضت سے قریب کر دیتی ہے ۔وطن سے محبت روایت ہی نہیں جان لیوا نشہ ہے جو میٹھی خوشبو سونگھا سونگھا کر واصلِ موت بنا دیتا ہے ۔ایک محب وطن شخص خود کو مجبوریوں کی رسیوں میں جب جکڑا محسوس کرتا ہے وہ زندہ مقبور ہو جاتا ہے ۔اپنے وطن میں تو اب محسوس یہ ہونے لگ گیا ہے کہ ہر بے کس ،مجبور،مقہور روزی کے لیے ترسنے والا مزدور وطن کی مٹی کو چہرے اور ہاتھوں پہ مل کر بغاوتوں کا امام بننا چاہتا ہے ۔اب تو شعر و شاعری کا خون ’’بھوک‘‘ نچوڑ رہی ہے اور نغمے ترانے روشنی سے محروم ہو رہے ہیں ۔مذہبی گرووہاں جا پہنچے ہیں کہ لوگ دھرم کو وشواش اور فریب سمجھنے لگ گئے ۔ارباب کلیسا کی سیاست برقعے اور نقاب نوچ کر خونی سیاست کے دروازے پر ستک دے رہی ہے ۔سوچنے والے سوچ سے محروم ہیں اور سعی و کاوش والے ٹھنڈے کمروں کے دلدادہ بن چکے ہیں ۔کون کسی کو سمجھائے بقول ساحرؔ
 
کیا جانیں تیری امت کس حال کو پہنچے گی؟
بڑھتی چلی جاتی ہے تعداد اماموں کی
وہ لوگ جنہیں کل تک دعویٰ تھا رفاقت کا 
تذلیل پہ اترے ہیں ،اپنوں ہی کے ناموں کی
عصرِ رواں میں مدینہ کی فلاحی ریاست کا بڑا شہرہ ہے ۔سچی بات یہ ہے جو شخص نسیم مدینہ کے معطیٔ حیات ہونے پر یقین نہ رکھے وہ بد قسمت ہی تو ہوتا ہے لیکن جان رحمت ﷺ نے جو زندگیوں کے سمندر موجزن کیے وہ شعور کی یہ گہرائی رکھتے تھے کہ کائنات میں ثبات و دوام صرف منفعت بخش نظام سے عبارت ہے ۔ہر وہ کوشش ،ہر وہ اقدام اور ہر وہ اہتمام دریائی جھاگ کی طرح مٹ جائے گا جس میں انتقام ہوگا ،فریب ہوگا اور وہ صداقت سے محروم ہوگا ۔انسانی اور ایمانی سطح پر کم از کم اسلام کا یہ اٹل اصول ہے کہ انسانی منفعت کے مفاد میں بقا اور استحکام کی دولت میسر آتی ہے ۔
ما ینفع الناس فیکمث فی الارض جو لوگوں کو فائدہ دے زمین میں دیر تک بقا کی دولت پاتا ہے ۔
دنیا میں تبدیلی کی سوچ اچھی سوچ ہے لیکن اس بات کو قلب و روح میں اچھی طرح اتار لیا جائے کہ مدینہ کی فلاحی ریاست صرف میکانکی نظام نہیں دیتی بلکہ اپنے دامن فکر میں وہ اعتقادی اور عملی اور روحانی سرمایہ رکھتی ہے جس کا ادراک اس ریاست پر عقیدہ رکھنے والوں کے باطن کو روشن کر دیتا ہے ۔یہ کوئی انقلاب نہیں ہوتا جو اعتمادِ نفسی کو کچل کر ایک گندی تہذیب کے روبرو کر دے جہاں تک ہم اس عظیم ریاست کی باطنیت کا ادراک کر سکے ہیں اس میں صرف ظاہری اسباب کی تجمیع کافی نہیں تھی اصل تبدیلی داخلی تھی ،نفسیاتی تھی ،روحانی تھی اور اخلاقی تھی جس کی بنیاد پر کی جانے والی کوششیں اس وقت کی دنیا سے لے کر آج تک مقنا طیسیت رکھتی ہیں ۔قرآن مجید کی یہ آیت کیا چونکا نہیں دیتی 
ان اللّٰہ لا یغیر مابقوم حتی یغیروا ما بانفسھم ’’بے شک جب تک کوئی قوم اپنے اندر تبدیلی پیدا نہیں کرتی اس کی انقلابی کوششیں بار آور نہیں ہو سکتیں ‘‘
دنیا میں جتنے بھی عاشق رسول ہیں ان کی محبتِ رسول بے سند اور بے حوالہ نہیں لیکن اس سے پہلے بڑے بڑے عبقری اپنے مخصوص مفادات کے لیے اسلام کا نام استعمال کر چکے ہیں ،دین کی طاقت کا تازیانہ لہرا چکے ہیں ۔بڑے بڑے تیمور اس دنیا میں تسخیری طیارے آزما چکے ہیں اب عشقِ رسول کی دنیا اگر آپ پر کشش بنا کر خود یا اپنے وطن کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں تو ہم اس طاقت کی سیمابیت سے انکار نہیں کر تے لیکن تاریخ کا غیر محتاط مطالعہ،نبوی حکومت کے شعائر کا غلط استعمال ،ذاتی ادراکات میں غیر عملی اور غیر روحانی بلکہ مصنوعیت بھری روش قومی نقصانات کا باعث ہو سکتی ہے۔اگر آپ اپنی سوچ میں بھی سنجیدہ نہ ہوئے اور قوم کو قوم نہ سمجھا اور کسی اور کی باغیانہ تاریخ کا چونا اپنی عمارت میںبے جا استعمال کیا تو ایک بات قطعی ذہن میں رکھ لیں کہ یاجوج ماجوج سے مسلمانوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا اور مغربی قارون بھی مسلمانوں کے لیے کسی سخاوت کی فکر اپنا نہیں سکتے ۔ کام اور تبدیلی کا زور دروں (Momentum)یا مادی محنتوں کا سلسلہ کچھ وقت کے لیے ’’چل چلائو‘‘ کا رقص کرتا رہے گا لیکن تھوڑا دور جا کر رک جائے گا اور وہ لمحہ بہت خطرناک ہوگا ۔کوشش کریں کہ بے کار ،گندے اور مصنوعی لوگوں سے کام لینے کے بجائے با صلاحیت اور لائق لوگوں سے کام لیں جو اللہ سے بھی قریب ہوں مدد کرنے والا اللہ ہے وہی حیٔ و قیوم ہے ۔قرآن مجید کی ایک آیت پڑھ لیں :وما کان ربک لیھلک القرٰی بظلم و اھلھا مصلحونایسا نہیں ہو سکتا کہ تیرا رب آبادیوں کو ظلم کے ساتھ ہلاک کر دے جبکہ ان میں رہنے والے باصلاحیت صالحین ہوں ۔
فھل یھلک الا القوم الفاسقونتو کیا فاسقین کے سوا کوئی اور ہلاک ہو سکتا ہے ۔
چھینا چھپٹی مسائل کے حل کا طبل مسّرت نہیں بجا سکتی ’’تعمیر ملت‘‘ کے منشور پر شعور ،قربانی ،انسان دوستی کی تحریکات رنگ لا سکتی ہیں ۔عطار کے بیٹے کس قدر سادہ دل ہیں کہ گندے جوہڑ کے پانی سے اپنے پسرِ ایمان کو غسل دینا چاہتے ہیں اس وقت مسلمانوں کا سارا سرمایہ تو یہودیوں کے ہاتھ میں محصور ہے وہ آپ کو ’’حرم ایمان‘‘ کی سلطنت میں کیسے خرچ ہونے دے سکتے ہیں ۔ میں اپنے ہم وطن قائدین کے پائو ں چھوکر ہی عرض کر سکتا ہوں کہ سمجھئے اگر ہمارے پڑوسی ملک کی کسی سرحد پر چھوٹی سے بھی ریاست اسرائیلی مفاد میں قائم کر دی گئی خواہ اس کا نام کوئی بھی ہو وہ مسلمانوں کے حق میں ہرگز بہتر نہ ہوگا ۔وہ وقت آنے سے پہلے خود کو مضبوط کرلیں اور استحکام کا کوئی سریع النتیجہ منشور اپنائیں ایسا منشور جو مادر گیتی پر ایک اور اسرائیل قائم ہونے سے دنیا کو بچا لے ۔یہ بات درست ہے کہ جدید دنیا میں معاش کا مسئلہ اہمیت اختیار کرگیا ہے اور نئی ریاستوں میں نئی منصوبہ بندیاں دعویٰ رکھتیں ہیں کہ انسان معاشی حیوان ہے ۔اس بات کو تسلیم کر بھی لیا جائے تو یہ حقیقت اپنی جگہ اٹل ہے کہ انسان ایک ذہنی ،اخلاقی اور روحانی وجود بھی رکھتا ہے ۔کوئی ایسا نظام ،کوشش یا اقدام خواہ کتنی ہی مخلصانہ ہو اگر ایک ہی ضرورت کو اہمیت دے اور دوسرے پہلوئوں کو گھٹائے یا نظر انداز کرے تو وہ دیر پا نہیں ہو سکتا ۔کتاب المجاذیب میں یہ بات لکھی گئی ہے کہ ایسا جنوں اور اندھا عشق جو جو کثیر التعداد انسانوں کے غم اور غصہ میں اضافہ کر دے وہ ردِّ عمل کی شدت سے اچھی کوشش کو بھی عبث کر دیتا ہے ۔اس بات کو کیوں نہیں تسلیم کیا جارہا  کہ انتہا پسندی اگر عوام اور مذہبی لوگوں میں ہو تو وہ بربادیوں کو جنم دیتی ہے اور یہ چیز اگر حکومتوں اور اداروں میں آجائے تو وہ ایٹم بم سے زیادہ مہلک ہو جاتی ہے ۔
ایک مجنون خاندان جب اپنی کشتی کے چار ملاح مقرر کر کے سب کو بے جہت کشتی چلانے کی آرزو کا پابند بنا دے تو کشتی بے چاری کیا کرے گی اور کسی معصوم خاندان کی آرزو کی تکمیل کیسے کرے گی۔امریکہ ،چین ،روس اور برصغیر پاک و ہند سب کا ماضی ،حال ،تاریخ اور مفادات اپنے اپنے ہیں سب کو ہم اپنا پیشوا نہیں بنا سکتے اور سب کی تہذیب کو اپنا روڈ میپ بھی نہیں بنا سکتے ۔شاید بطخ کے انڈوں سے مرغی بچے نکال کر دے سکتی ہے لیکن سانپ کے انڈوں سے شاہین پیدا نہیں کیے جاسکتے ۔ہماری قومی بد قسمتی ہے کہ گذشتہ چند سالوں سے جنسی انارکی ،ملی بے اعتدالی ،بے معنیٰ تعصبات اور پائمال اخلاقیات کے علمبرداروں کو ہم طاقت دے رہے ہیں ۔اب تو سوچیں اس ڈگر پر تیزی سے دوڑنے لگ گئی ہیں۔ 
جو خود بڑھ کر اٹھالے ہاتھ میں مینا اسی کا ہے 
مدینہ کی فلاحی ریاست کسی کو ننگا نہیں کرتی ۔کسی کی عزت پائمال نہیں کرتی ۔حضور ﷺ کی ریاست میں تو عیسائی حاتم کے بیٹے کے لیے حضور ﷺ چادر بچھا دیتے تھے اور فرماتے تھے جب تمہارے پاس کوئی باوقار شخص آئے تو اس کو عزت دو ۔
اسلام زندہ باد۔۔پاکستان پائندہ باد

تازہ ترین خبریں