09:37 am
کشمیری بہن کا سوال آج نہیں تو پھر کب؟

کشمیری بہن کا سوال آج نہیں تو پھر کب؟

09:37 am

کشمیر کے معاملے پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جو دنگا فساد ہوا، اسے دیکھ کر میں یہ بات پوری ذمہ داری کے ساتھ لکھ رہا ہوں کہ کشمیرپر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاسوں، سڑکوں کے احتجاج، عالمی برادری سے مداخلت کی اپیلوں اور التجائوں سے نہیں بلکہ پاک فوج کے عملی جہاد سے آزاد ہوگا، دنیا نے دیکھا کہ نریندر مودی کی درندہ صفت فوج نے سوا کروڑ سے زائد مسلمانوں کو جمعتہ المبارک کی نماز بھی ادا نہیں کرنے دی …کشمیر کی مائیں، بہنیں، بیٹیاں ایٹمی اسلامی نظریاتی مملکت پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اور مسلح افواج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ کو پکار رہی ہیں ۔ ایسا یہ ایک ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے جس میں ایک کشمیری بہن ایک ٹی وی چینل کو دیئے گئے انٹرویومیں کہہ رہی ہیں کہ کشمیر کے مسئلے کے تین فریق ہیں ،ایک انڈیا، دوسرا پاکستان اور تیسرا کشمیر کے عوام، اگر انڈیا زبردستی کشمیریوں کو دبانے کیلئے کشمیر میں اپنی فوج داخل کرسکتا ہے تو دوسرا فریق پاکستان کشمیر میں اپنی فوج داخل کیوں نہیں کرسکتا؟ دنیا کے پاس پاکستان کو اپنی فوج کشمیر میں داخل کرنے سے روکنے کا کیا جواز ہے؟ اگر دنیا انڈیا کو کشمیریوں کے ظلم سے باز نہیں رکھ سکتی  تواس دنیا کو یہ حق کس نے دیا کہ وہ پاکستانی فو ج کو کشمیر میں داخل ہونے سے روکے؟ کشمیری بہن روتے ہوئے کہہ رہی تھی کہ پاکستانی فوج کو اس وقت تک مقبوضہ کشمیر کے اندر ہونا چاہیے تھا،  عالمی برادری اور امریکہ کشمیر کے لئے کچھ نہیں کرے گا، آج نہیں تو کب؟ پاکستانی وزیراعظم تو ریاست مدینہ کی بات کرتا ہے ، جب ہندوستان آخری حد کو کراس کرچکا تو پھر کس چیز کا انتظار کیا جارہا ہے؟ یہ عالمی برادری یہ  مسلم ’’امہ‘‘ ان میں ضمیر نام کی کوئی چیز نہیں ہے، بحیثیت کشمیری میری توقعات پاکستان آزاد کشمیر کے عوام پاک فوج سے وابستہ ہیں، میں آج کشمیر کی بیٹی کی حیثیت سے آواز دیتی ہو ں پاکستان کی فوج کو اٹھیں اور کشمیر کے اندر داخل ہو جائیں … اگر آج نہیں تو پھر کب؟
 
سچی بات ہے کہ کشمیر کی بیٹی کا یہ پیغام جس پاکستانی نے  بھی سنا وہ دھاڑیں مار مار کر رونے پر مجبور ہوگیا، بھارت کے بدمعاش ہندو لیڈروں کے وڈیو کلپس بھی سوشل میڈیا  پر وائر ل ہوچکے ہیں جس میں وہ ہندو شدت پسندوں کو اکسا رہے ہیں کہ وہ کشمیر میں مکان، پلاٹ خریدیں اور کشمیری لڑکیوں سے شادیاں رچائیں۔
مجھے پاک فوج سے محبت ہے، میں فوج کو پاکستان کی سرحدات کا محافظ سمجھتا ہوں، فوج کے جوان آج بھی سرحدات  کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کررہے ہیں، میری فوج کے سپہ سالار اعلیٰ سے گزارش ہے کہ کشمیر کے حالات دیکھے نہیں جاتے، کشمیر کی لاکھوں مسلمان بیٹیوں کی عزت و آبرو کو شدید خطرات لاحق ہوچکے ہیں ۔ جب صورت حال یہاں تک پہنچ جائے کہ بدمعاش ہندو لیڈروں کو کشمیریوں سے شادیاں رچانے کی اوپن ترغیب دیتے پھریں تو سچی بات ہے کہ پھر اس زندگی سے  موت بدرجہا بہتر ہے، جب کشمیر کی پاکباز بیٹیاں کھلے عام نام لے کر پاک فوج کو روتے ہوئے مدد کے لئے پکار رہی ہوں تو اعلان جہاد ہی واحد اور آخری راستہ رہ جاتا ہے۔
 میرا گزشتہ دنوں چترال سے کراچی تک کا سفر ہوا، یقین کرلیجئے کہ میری جس پاکستانی بوڑھے  یا جوان سے بھی ملاقات ہوئی ،اسے کشمیر کے معاملے پر انتہائی متفکر پایا۔ ہر محب وطن پاکستانی  کی رائے یہی ہے کہ اگر بھارت زبردستی کشمیر کو ٹکڑوں میں تقسیم کرکے سوا کروڑ سے زائد کشمیری مسلمانوں کو اسرائیلی ڈنڈے سے ہانکنا چاہتا ہے تو پھر پاکستان کی فوج کو بھی ہر قسم کے عالمی دبائو کو جھٹک کر مقبوضہ کشمیر میں داخل ہو جانا چاہیے، میں آج کے کالم میں نہ تو کسی سازشی تھیوری کو زیر بحث لانا چاہتا ہوں اور نہ ہی عمران خان حکومت اور سیکولر میڈیا پر تنقید کرنا چاہتا ہوں کیونکہ میرے کشمیر کی مائیں، بہنیں ، بیٹیاں اور معصوم بچے ہم پاکستانیوں کی مدد کے لئے پکار رہے ہیں، میرے کشمیر کے جوانوں کی لاشیں روز گرائی جارہی ہیں، میرے کشمیر کے بیٹے پاکستانی پرچم سے لپٹے ہوئے اپنی جانیں نچھاور کررہے ہیں ۔ آج کے کالم میں میرا کسی سے کوئی شکوہ نہیں ہے۔
اگر پاک فوج کے سپہ سالار اجازت دیں تو میں کشمیری بہنوں ، بیٹیوں کی عزت و ناموس کی حفاظت کی خاطر قلم توڑ کر ہاتھوں میں ہتھیار اٹھانا چاہتا ہوں، یہ ایف اے  ٹی اے ایف، یہ امریکہ اور مردہ ضمیر عالمی برادری نہ ہمیں  قبر میں کام آئے گی اور نہ حشر کے میدان میں ، ہم تو دعا مانگتے ہیں کہ حشر کے میدان میں رسول اللہﷺ کی شفاعت نصیب ہو، میدان حشر میں آقاء مولیٰﷺ کے ہاتھوں جام کوثر نصیب ہو،لیکن کل میدان حشر میں اگر آقاء و مولیٰﷺ نے پوچھ لیا کہ تمہاری زندگیوں میں جب میری کشمیری بیٹیوں پر قیامت خیز مظالم ڈھائے جارہے تھے تو بتائو تم نے کیا کیا؟ اس وقت ہمارے پاس کیا جواب ہوگا؟
اس لئے میں پوری دیانت داری سے یہ بات لکھ رہا ہوں کہ اگر پاکستانی ریاست نے بھارت کے خلاف اعلان جہاد کر دیا تو کروڑوں پاکستانی مظلوم کشمیریوں کی عزت و آبرو کی حفاظت کے لئے اپنی جانوں پر کھیلنے کے لئے تیار ہوں گے، یہ وقت سڑکوں کے احتجاج کے عمل سے آگے بڑھ کر  جہادی میدان سجانے کا ہے۔
(وما توفیقی الا باللہ)

تازہ ترین خبریں