09:37 am
مقبوضہ کشمیر کو ’عیدمبارک‘!

مقبوضہ کشمیر کو ’عیدمبارک‘!

09:37 am

٭قارئین کرام! کل عید قربان ہے۔ ذہن پر بوجھ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے لاکھوں افراد جیلوں اور گھروں میں بند رہ کر کیسے اور کیا عید منائیں گے؟ اس عید کی تیاری تو کئی روز پہلے کی جاتی ہے۔ منڈیوں میں قربانی کے لئے ہزاروں مویشی لائے جاتے ہیں۔ لوگ انہیں خرید کر کئی روز تک ان کی پرورش اور دیکھ بھال کرتے ہیں۔ پھر عید کے دنوں میں ان کی قربانی کی جاتی ہے اور غریب غربا میں گوشت تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس بار یہ سب کچھ نہیں ہو سکا۔ ہزاروں لوگ جموں، کشمیر اور آگرہ کی جیلوں اور گھروں میں بند ہر قسم کی اشیائے ضرورت سے محروم! جانوروں کی قربانیاں تو کیا دینی ہیں، دو وقت کھانے کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ میرا ذہن بہت دور چلا گیا ہے۔ قیام پاکستان، 27 رمضان المبارک، (14 اگست 1947ء)، بھارت سے ہجرت، شکر گڑھ، دو دن کے بعد عیدالفطر! بیوہ ماں، ہم چھوٹے چھوٹے بچے، ایک چھوٹا سا مکان، اندھیرا، فرش پر ایک چادر، سارے دن کا فاقہ، رات کے وقت دروازے پر دستک ’’ادھر کوئی مہاجر ہے؟‘‘ ایک نامعلوم سفید ریش بزرگ، ہاتھوں میں چاولوں سے بھری ایک ٹرے اٹھائے…!!… اور کشمیر کی جیلوں اور گھروں میں بند لاکھوں بے بس، بے کس انسان!!…عید مبارک!
٭مقبوضہ کشمیر پر بھارت کی حالیہ واردات کے بعد دنیا بھر میں پاکستان اور بھارت کی ایک دوسرے کے خلاف زبردست سفارتی سرگرمیاں شروع ہوگئی ہیں۔ دونوں طرف سے بڑی بڑی کامیابیوں کے اعلانات کئے جا رہے ہیں۔ پہلے بھارتی وزارت خارجہ کی ’’عظیم الشان‘‘ کامیابیوں کے دعوے پڑھیں۔ کہا گیا ہے کہ ’’روس نے کشمیر تنازع پربھارت کی حمائت کر دی ہے اور بھارت کے اس اقدام کو بھارت کے آئین کی شقوں کے مطابق قرار دیا ہے۔ مبینہ طور پر روس کے مطابق یہ بھارت کا اندرونی معاملہ ہے۔ پاکستان اور بھارت شملہ معاہدہ اور اعلان لاہور کے مطابق افہام و تفہیم کا راستہ اپنائیں!‘’ روس کی حد تک بھارتی میڈیا کی خبر کو اہم قرار دیا جا سکتا ہے، مگر دلچسپ خبر یہ چلائی گئی ہے کہ چین، امریکہ اور سلامتی کونسل نے کشمیر کے معاملہ میں کسی قسم کی مدد سے انکار کر دیا ہے۔خبر کے مطابق چین نے پاکستان کو سمجھایا ہے کہ بھارت کے ساتھ تنازعات مل بیٹھ کر حل کرے۔ بھارتی وزارت خارجہ نے خاص طور پر خبر لگوائی ہے کہ سلامتی کونسل نے پاکستان کی درخواست مسترد کر دی ہے کہ سلامتی کونسل مقبوضہ کشمیر کی پوزیشن بحال کرنے کے بارے میں بھارت پر دبائو ڈالے۔ خبر کے مطابق کونسل کے صدر انتونیو گوتریز کے ترجمان نے کہا ہے کہ دونوں فریق جموں و کشمیر کی پوزیشن تبدیل کرنے سے گریز کریں۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق یہ ہدایت پاکستان والے کشمیر کے بارے میں کہی گئی ہے۔ اقوام متحدہ میں بھارتی نمائندہ نے جو تحریری یادداشت پیش کی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ سلامتی کونسل نے 1948ء میں جو قرارداد منظور کی تھی اس کے چھ سال بعد 1954ء میں بھارت کے آئین میں دفعہ 370 شامل کی گئی تھی، اس وقت اس کی مخالفت کیوں نہیں کی گئی؟ مزید یہ کہ امریکہ نے کشمیر کے بارے میں پالیسی تبدیل کرنے سے انکار کیا ہے۔
٭اب دوسری طرف آیئے: چین نے کھل کر سرکاری طور پر کشمیر کے بارے میں پاکستان کے موقف کی مکمل حمائت کی ہے اور سلامتی کونسل میں اس کا پورا ساتھ د ینے کا اعلان کیا ہے۔ چین نے تو لداخ کو بھارتی علاقہ قرار دینے کی بھی شدید مخالفت اور مذمت کی ہے اور دفعہ 370 کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ سلامتی کونسل والی بات تو پاکستان کے حق میں جاتی ہے کہ ریاست کی پوزیشن کو تبدیل نہ کیا جائے!! البتہ روس کے بارے میں بھارتی دعوے کی کوئی وضاحت تادم تحریر سامنے نہیں آئی تھی۔ پاکستان کی وزارت خارجہ نے مختلف ممالک کے ساتھ رابطوں کی خبریں دی ہیں مگر روس میں کسی وفد کے جانے یا براہ راست رابطہ کی کوئی خبر نہیں دی۔ بھارت کی خبر اگر درست ہے کہ  روس نے بھارت کے اقدامات کو درست قرار دے کر اس کی حمائت کی ہے تو یہ بات بہت اہم اور قابل توجہ ہے، اس لئے کہ روس سلامتی کونسل میں پاکستان کے حق میں کوئی قرارداد منظور نہیں ہونے دے گا۔ روس کا اپنا کردار یہ ہے کہ اس نے وسطی ایشیا کی مقبوضہ، ریاستوں کو مجبوراً آزاد کرنے کے بعد بھی ان پر اپنا دبائو برقرار رکھا ہے اور فوج بھیج کر یوکرائن کے ایک حصہ پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس پر روس اور یو کرائن میںشدید کشیدگی چل رہی ہے۔ دوسرا اہم معاملہ یہ ہے کہ روس بھارت کو کئی ارب ڈالر کا راڈار سسٹم اور اسلحہ فروخت کر رہا ہے۔ بھارتی ایئرفورس کے بیشتر طیارے روس سے آئے ہیں۔ وہ بھارت کو کیسے نظر انداز کر سکتا ہے؟ ویسے بھارت کے ’سیانے‘ بزرجمہروں کو روس کی ’’مبینہ حمائت‘‘ پر مسرت کا اظہار کرتے وقت یہ بات مدنظر نہ رہی کہ اس نے شملہ معاہدہ اور اعلانِ لاہور کے مطابق آگے چلنے کی بات کی ہے۔ جب کہ شملہ معاہدہ میں دفعہ 370 کو ختم کرنے کی کوئی بات نہیں کی گئی بلکہ کنٹرول لائن کو برقرار رکھنے کا عہد کیا گیا ہے اور بھارت نے کنٹرول لائن کو تبدیل کر کے خود ہی شملہ معاہدہ کی تنسیخ کر دی ہیے!
٭کچھ اپنی باتیں۔ قارئین نے بچپن میںٹارزن کی کہانیاں ضرور پڑھی ہوں گی۔ ایک جنگل میں ایک نومولود بچے کو ایک مادہ ریچھ پالتی ہے۔ ریچھنی کے دودھ سے اس بچے میں بھی ریچھ والی طاقت آ جاتی ہے۔ وہ جوان ہوتا ہے تو جنگل میں درندوں پر سواری کرتا ہے وغیرہ وغیرہ جس طرح ہر ملک میں ایک نہ ایک ’ٹرمپ‘ ضرور ہوتا ہے اس طرح ایک آدھ بلکہ ایک سے زیادہ ٹارزن بھی پائے جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں بہت سے ٹرمپ اور ٹارزن موجود ہیں (کچھ ٹارزنیاں بھی ہیں) یہ ٹارزن کسی بھی سیاسی پارٹی میں ہوں، ایک دوسرے کو تسلیم نہیں کرتے۔ ہر وقت، ہر ایک سے لڑتے رہتے ہیں۔ ایک خبر! ریلوے کے وزیر شیخ رشید نے پاکستان بھارت کے درمیان سمجھوتہ ٹرین بند کرنے کا اعلان کیا۔ اطلاعات کے سابق اور سائنسی امور کے موجودہ وزیر فواد چودھری نے حسب عادت اعتراض کر دیا کہ شیخ رشید کو ٹرین بند کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔ شیخ رشید نے جواب میں کہا کہ ’’فواد چودھری ٹارزن بننے کی کوشش کر رہا ہے وہ دوسری وزارتوں میں منہ مارتا رہتا ہے یہ ذرا ٹرین چلا کے دکھائے؟‘‘ فواد چودھری کو وزارت اطلاعات چھینے جانے کا صدمہ برداشت نہیں ہو رہا۔ چند روز قبل اطلاعات کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان کو کم ترحیثیت والی غیر منتخب معاون خصوصی قرار دیا۔ اس کے جواب میں فردوس عاشق اعوان نے مختصر جواب میں قصہ تمام کر دیا کہ ’’کون فواد چودھری؟‘‘قارئین کرام! کافی عرصہ پہلے کی بات ہے کہ شدید لُو پسینے والی گرمیوں میں لاہور نارووال ٹرین نے بے تحاشا رَش میں ایک بھکاری گھس جاتا تھا وہ جو کچھ مانگتا تھا، ایک دوسرے میں پھنسے ہوئے مسافر اسے فوراً دے دیتے تھے اور وہ اگلے ڈبے میں چلا جاتا تھا۔ اس کا مانگنے والے کا طریقہ یہ تھا کہ صرف ایک نیکر پہنی ہوتی اور سارے جسم پر تیل ملا ہوتا تھا! مجھے دو ’ٹارزنوں‘ کی لڑائی پر نہ جانے وہ شخص کیوں یاد آ گیا ہے!

تازہ ترین خبریں