07:40 am
 کوئی پاکستان کی مدد نہیں کرے گا!

 کوئی پاکستان کی مدد نہیں کرے گا!

07:40 am

مقبوضہ جموں وکشمیرپر بھارت کامکمل قبضہ ایک بین الاقوامی سازش ہے جس کا مقصد پاکستان کے اہم ترین تجارتی وتدبیراتی راستوں پر قبضہ کرنا ہے تاکہ پاکستان ایک بین الاقوامی طاقت اور تجارت کا مرکز نہ بن سکے ۔ اسے پانی کے قطرے قطرے کیلئے بھارت کا محتاج کرنا ہے ۔ پاکستان میں موجود (حسین حقانی اور اسکے سرپرستوںجیسے) اپنے بااثر اور طاقتور ایجنٹوںکے ذریعے اسکی خارجہ پالیسی پر اثر انداز ہوکر اسے روس اور چین سے دور رکھنا ہے ۔ 
پاکستان دشمن بین الاقوامی طاقتوں کا مقصد پاکستان کوصبر وتحمل کا لالی پاپ دیکر مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارت کو اتنا وقت فراہم کرنا ہے کہ وہ تحریک آزادی کشمیر کو بھرپور فوجی طاقت کے ساتھ کچل سکے ۔باخبر بین الاقوامی ذرائع کے مطابق اس دوران پاکستان میں بھارت سے گہرا ذاتی اورتجارتی تعلق رکھنے والی شخصیات کی ذاتی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے ذریعے بدامنی پھیلانے کیلئے بھی را نے فنڈ جاری کردیئے ہیں۔ بھارت اس سے چار بڑے اور کئی ذیلی مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے ۔
اول: بھارتی فوج کشمیریوں کے قتل عام کیلئے وقت حاصل کرنا چاہتی ہے ۔جس کا آغاز ہوچکا ہے ۔
 دوم: جنگی لحاظ سے اپنی پوزیشن مضبوط کرکے سیالکوٹ میں بجوات کے علاقے اور آزاد جموں وکشمیر کے اہم ترین تدبیراتی علاقوں اور شہروں پر قبضے کا منصوبہ مکمل کرنا ۔تاکہ پاکستان کو بے بس کرکے مقبو ضہ جموں وکشمیر کے مسلمانوں کو اس طرف نقل مکانی پر مجبور کیاجائے۔
سوم: کشمیر پر فوجی قبضہ مکمل کرنے اور قتل عام کے بعد پاکستان کے تمام دریائوں کا پانی استعمال کرتے ہوئے انہیں فوجی مقاصد کیلئے سیلاب کی شکل میں پانی چھوڑ کرپاکستانی فوج کا راستہ روکنے کیلئے ، یا پانی بند کے حملے کیلئے راستہ بنانے کیلئے استعمال کیا جاسکے ۔پاکستان میں خشک سالی پیدا کرکے اسکی زراعت کو مکمل طورپر تباہ کردیا جائے گا۔بین الاقوامی طاقتوں کی طرف سے کشمیر پر قبضہ تسلیم کرنے کی شکل میں سندھ طاس معاہد ہ بے اثر ہوجائے گا۔ اور پاکستان پانی کے قطرے قطرے کا محتاج ہوجائے گا۔
چہارم: وہ بھارت افغان تجارتی راسے کی آڑ میں وسطی ایشیائی ریاستوں تک مہینوں کی بجائے گھنٹو ں میں پہنچنے کیلئے واہکہ یا اٹاری سے افغانستان تک مختصر راستہ حاصل کرنا چاہتا ہے ۔جس کا نہ صرف وعدے بلکہ MOU پر پاکستان پیپلزپارٹی کے آصف علی زرداری اور نواز شریف نے اپنی حکومتوں دستخط کیے تھے اور یہ شرمناک شرط بھی قبول کی تھی کہ بھارتی اور افغانی ٹرکوں اور ٹریلرز میں جانے والے سامان کو کوئی پاکستانی اتھارٹی چیک نہیں کرسکے گی ۔
 جہاں تک چین کا سوال ہے تو بین الاقوامی ذرائع کے مطابق وہ اس جنگ میں شامل نہیں ہوگا ۔ چین اس بات سے بھی شاکی ہے کہ پاکستان کا جتنا بھی ساتھ دیا جائے ،اسکی ایک مخصوص لابی اسے امریکہ کی گود میں ڈال دیتی ہے ۔ جونہی امریکہ نے عمران خان پاکستانی وزیر اعظم کو دورہ امریکہ کی دعوت دی ،تمام سفارتی نمائندوں ،میڈیا اور سیاستدانوں نے امریکہ کے گیت گانے شروع کردئے ۔اسی لئے چین کسی حد تک سفارتی اور بین الاقوامی فورم پر ساتھ دے گا۔ کچھ ذرائع کے مطابق فی الوقت بھارتی چین کو نہیں چھیڑیں گے ۔ اور اندرون خانہ اس کی کافی باتیں تسلیم کرلیں گے لیکن کشمیراور پاکستان کا دبائو کم ہونے پر اس سے نمٹا جائے گا۔ 
امریکہ کسی بھی قیمت پر افغانستان میں بھارت کی موجودگی چاہتا ہے ۔ بھارت نے افغانستان میں پاکستان کے خلاف اپنے خفیہ اڈے بنائے ہوئے ہیں جہاںسے بلوچستان ،سندھ اور پاکستان کے دیگر علاقوں میں دہشت گرد بھیجتا ہے۔ اس کے علاوہ اس نے وہاں سے وسطی ایشیائی تجارتی مارکیٹ پر قبضہ کیلئے اربو ں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہوئی ہے ۔ امن کی صورت میں سب ضائع ہوجائے گا۔ دوسری طرف امریکہ اپنے مفادات کے تحفظ اورامریکی فوجوں کے بحفاظت انخلا کیلئے پاکستان کے تعاون کا محتاج ہے ۔اسی لئے اس نے بھارت کو کو کشمیر میں فری ہینڈ دیا کہ سودا بازی کیلئے پاکستان کو مجبور کیا جاسکے ۔
 پاکستان مخالف بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ اور بھارتیوں کے جس منصوبے پر عمل کیا جارہا ہے وہ یہ ہے کہ پہلے مرحلے میں مقبوضہ کشمیر پرفوجی قبضے کو ریاستی دہشت گردی کے ذریعے مضبوط کیا جائے ۔ تمام حریت قیادت کے 500سے زائد، اور بھارت کے سابقہ حمائتی عمر عبداللہ ،محبوبہ مفتی ،انجینئر رشید جیسے 200سے زائدسیاسی لیڈروں کو قید کردیاہے ۔ کرفیوکے دوران اور بعد ہزاروں کشمیریوں کو قید اور غائب کردیا گیا۔
کرفیو کے بعد 1947کے سانحہ جموں ،اودھم پور ،ڈوڈا، اکھنور،ہندوارہ، کی طرح کم از کم 50ہزار سے لیکر ایک لاکھ تک کشمیریوں کو شہید کردیا جائے گا۔ RSSبجرنگ دل، اوردیگر ہندو جتھوں کے پروگرام کے مطابق بھارتی ریاست ہریانہ کے بی جے پی کے وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا کہ ’’ ہندو جتھے کشمیر کی بیٹیوں ،اور بہنوں کو اغوا کرکے بھارت لے آئیں گے ۔ اب ہمیں ان سے شادی سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ‘‘ حقیقت یہ ہے اب کوئی محمد بن قاسم نہیں آئے گا، دنیا میں امت نام کی کوئی چیز نہیںہے ،مسلم دنیا تقسیم ہے ۔ اکثریت یہود ہنود کی گود میں بیٹھ کر ان کے گیت گارہی ہے ۔  10اگست کی شام کو آبپارہ مارکیٹ اسلام آباد کے چوک میں ایک بہت ہی تعلیم یافتہ نظر آنے بزرگ جن کی آنکھوں میں آنسو کی نمی محسوس کی جاسکتی تھی ۔اپنے ساتھیوں سے کہہ رہے تھے ، ’’موجودہ حالات واقعات اور بیانات سے یہ لگتا ہے ،ہماری حیثیت ،ہمت اور جذبہ شمالی کوریا جتنا بھی نہیں ہے جو تمام تر پابندیوں اور کمزور اقتصادی کے باوجود نتائج سے بے پرواہ ہوکر اپنے ملک کے مفادات کا تحفظ کررہا ہے،بس کشمیریوں کیلئے دعا کریں اللہ ان کی مدد کرے اور ان کی عزتیںمحفوظ رکھے ۔‘‘
 دنیا کے مانے ہوئے ،سفارتی ماہرین اور غیر جانبدار تجزیہ کار اس بات پر متفق ہیں ۔ بین الاقوامی طاقتیں،مافیازاور ان کے مقامی ایجنٹ پاکستان کو کئی مسائل میں الجھا کر اسے کشمیریوں کی براہ راست مدد سے روکے ہوئے ہیں ۔ وہ پاکستانی فوج کو کشمیریوں کے حق میں کسی بھی قسم کی کاروائی سے ایک مخصوص وقت تک روکے رکھیں گے جب تک بھارتی کشمیریوںکے قتل عام کے بعد اس پر پردہ ڈالنے کیلئے آزاد جموں وکشمیر پر حملہ نہیںکردیتا اور اپنا قبضہ مکمل نہیں کرلیتا ۔
(جاری ہے)
 جدوجہدآزادی کشمیرکو کچل دینے ،مسلمانوں کی آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے ،پاکستان کو پانی کے قطرے قطرے کیلئے مجبور کرنے بین الاقوامی طاقتیںبھارت کے ذریعے بھر پور بربریت اور ریاستی دہشتگردی کا آغاز کرچکی ہیں۔ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل میںجانے کیلئے اور وہاں کی کاروائیوں میںجتنا وقت لگے گا ۔اتنے میں بھارتی فوج کشمیر میں اپنے اہداف حاصل کرچکی ہوگی ۔
کشمیری قوم شائد اپنی بقاء اپنی عزتوں کے تحفظ کی فیصلہ کن جنگ لڑے گی۔ کشمیر پر بھارتی حملے کی ایک وجہ افغانستان میں پاکستان کا ممکنہ کردار بھی ہے ۔جس کی وجہ سے بھارتیوں کو طالبان حکومت دور کی طرح سے وہاں سے بھاگنا پڑ سکتا ہے ۔ یہ خوف بھی بھارتیوں کیلئے سوھان روح بنا ہواہے ۔
 سنجیدہ طبقہ فکر کی نظر میں پاکستان نے سفارتی محاذ پر لیاقت علی کی طرح ایک بڑی غلطی کردی ہے ۔ ایک ایسے وقت میں جب اس کے تعلقات روس سے بہت ہی دوستانہ ہورہے تھے ۔ یہ امریکی دورے کے بعد اسے بھول گئے ۔جس طرح چین کو نظر انداز کرنے لگ گئے تھے ۔ یاد رہے کہ پاکستان کے سیاستدانوں ،بیوروکریسی اور اسٹیبلشمنٹ میں ایسے افراد کی بہتات ہے جو قومی مفاد کی بجائے ذاتی مفاد کو ترجیع دیتے ہوئے روس اور چین کی بجائے امریکہ کو ترجیح دیتے ہیں ۔ بلاشبہ پاکستان نے ایک بار پھر روس سے حقیقی دوستی اور فائدہ اٹھانے کا وقت ضائع کردیا ہے ۔
ایسے حالات میں کشمیریوں کی مدد کیلئے اگر حکومت پاکستان سنجیدہ ہے تو اسے پہل کرکے نتائج کی پرواہ کئے بغیر بھارت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاکر اہم تدبیراتی پوزیشن ہولڈ کرنا ہوگی ۔یہ کھیل پہل پن کا ہے ۔ پاکستان کو کشمیریوں کی طرح بے جگری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
جس طرح کشمیری قوم لازوال جذبوں اور بے مثال ہمت کے ساتھ جدوجہد جاری رکھی ہوئی ہے ۔ وہ بے دریغ قربانیاں دے رہے ہیں ۔بھارتی انتہاپسند وزیر اعلیٰ کا یہ اعلان کہ وہ کشمیریوں کی گوری بیٹیوں کو زبردستی اٹھا کر ان کی عزتیں پامال کریں گے ۔اس سے پہلے یوپی کاوزیر اعلیٰ یہ اعلان کرچکا ہے کہ ایک ایک ہندو دس دس مسلمان عورتوں کی عزتیں پامال کرے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان محمد بن قاسم کا کردار ادا کرتا ہے یا محض اعلانات اورتاریخی طور پر مذاکرات کے کھیل میں وقت ضائع کرے گا ۔ سلامتی کونسل سے بھارتی مفادات کے تحفظ کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔ 
 یہ باتوں نہیں ،عمل کا وقت ہے ۔ ایک ایک لمحہ قیمتی ہے ۔ ہرایک گھنٹے میں ایک سے زائد کشمیریوںکو شہیدکیاجارہا ہے انہیں گرفتار کرکے نامعلوم مقامات،عقوبت خانوں اوربھارت کی دور دراز جیلوں میں منتقل کیا جارہاہے ۔جس کاکوئی ریکارڈ نہیں ہے بھارتی فوجیوں نے کشمیرکی بیٹیوں کی عصمت دری کاسلسلہ تیز کردیا ہے۔ انہیںاغوا کرکے غائب کیاجارہاہے ۔پورے کشمیر میں ریڈیو ،ٹیلی وژن ،انٹرنیٹ ،موبائل فون اور ٹیلی فون بند کردیئے گئے ہیں۔ خاص طور پر کشمیری نوجوانوںکو شہید کیا جارہاہے ۔ بھارتیوں کو کوئی پوچھنے والا نہیں ۔سید علی گیلانی نے سچ کہا ہے ۔’’ تم اس وقت آئو گے جب بھارتی ہمیں شہید کرچکے ہوں گے ۔‘‘ دنیا اس کے ساتھ کھڑ ی ہوتی ہے جو خود اپنے پائوں پر کھڑا ہوتا ہے ۔اگر پاکستان نے کشمیریوں کی مدد کرنی ہے تو اسے کسی کا انتظار نہیںکرنا چاہیے ۔ کوئی ان کی مدد کو نہیں آئے گا ماسوائے اللہ تعالیٰ کے۔ پاکستانی عوام سے درخواست ہے تم کچھ نہیںکرسکتے ۔ مجبور ہو بے بس ہو تمہارے جذبات بے مثال ہیں۔ کم از یہ کردینا جب نماز اداکررہے ہوتو کشمیریوں کی کامیابی کی دعاکرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا ضرور مانگنا کہ اللہ تعالی کشمیرکی عفت مآب بیٹیوں کو ہندوئوں کے انسانیت سوز سلوک ظلم کا نشانہ بننے کی بجائے باعزت موت دے دے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی مائوں،بہنوں اور بیٹیوں کی عزتیںمحفوظ رکھے ۔ آمین 





 

تازہ ترین خبریں