07:41 am
آزاد ی مبارک

آزاد ی مبارک

07:41 am

اگست کا مہینہ پاکستان اور بھارت کے لئے انتہائی اہمیت رکھتا ہے ۔اس ماہ دونوں اپنا اپنا یوم آزادی مناتے ہیں جسے پاکستان میں یوم استقلال بھی کہا جاتا ہے۔ 72سال قبل اسی ماہ کے وسط میں دونوں ممالک نے انگریزوں سے آزادی حاصل کی اور دنیا کے نقشے پرآزاد و خودمختار ممالک کے طور پر نمودار ہوئے۔یہ برس کشمیریوںکی غلامی کے ہیں۔ گو کہ دونوں ممالک برٹش پارلیمنٹ کے 18جولائی 1947ء کے انڈین انڈی پینڈنس ایکٹ کے تحت آزاد ہوئے اور دونوں کو 14اگست 1947ء کو آزاد ہونا تھا۔لیکن کانگریسی انتہا پسندی کا یہ عالم تھا کہ وہ یہ جشن پاکستان کے ساتھ منانا تک گوارا نہ کر سکے اور اسے ایک دن کی تاخیر کی نذر کر دیا گیا۔پاکستان کے لئے انگریزوںکے ساتھ ساتھ کانگریسی انتہا پسند ہندئوں سے بھی آزادی کی جنگ لڑنا پڑی۔ اگست کی 14 تاریخ کو پاکستان ایک آزاد وخود مختار ملک بن گیا ۔ پنجاب کے یونینسٹ اور سرحد کے خدائی خدمت گار کانگریس کی حمایت اور پاکستان کی مخالفت میں سرگرم رہے۔یہاں جشن کے مواقع پر تعطیل کی جاتی ہے۔ جنوبی افریقہ کے لیڈر نیلسن منڈیلا کی 93ویں سالگرہ کے موقع پرتعطیل کے بجائے اضافی محنت و مشقت سے کام لیا گیا۔یہ ایک مشعل راہ تھی لیکن تاریخ سے سبق سیکھنے کا عمل اور قوموں کے مثبت امور عملانے کی جانب توجہ انتہائی تعلیم یافتہ اور سوجھ بوجھ کے حامل معاشروں کا ہی طرہ امتیاز ہوتا ہے۔غیر ترقی یافتہ اور نیم خواندہ قومیں پیامبر کو قتل اور آئینہ توڑنے میں ہی بھلائی و عافیت سمجھتی ہیں۔چند برس قبل پاکستان نے سیلاب زدگان سے اظہار یک جہتی اور اخراجات سے بچنے کے لئے یوم آزادی کی تقریبات کو منسوخ کرکے اچھی روایت قائم کی۔قربانیاں دے کر آزادی اور مقام حاصل کرنے والوںکی ذمہ داریاں اور بھی بڑھ جاتی ہیں۔ پاکستان کو حاصل کرنے میں لاکھوں افراد نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے۔قیام پاکستان کے وقت تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت ہوئی۔پاکستان میں 1951ء کو کئے گئے پہلے سروے میں یہ انکشاف ہوا کہ ڈیڑھ کروڑ افراد نے ہجرت کی۔80لاکھ مسلمان پاکستان آئے اور 60لاکھ ہندو پاکستان سے بھارت گئے۔اس دوران مختلف واقعات میں 10لاکھ لوگ مارے گئے۔50ہزار مسلم خواتین کو اغوا کیا گیا۔ ہندوانتہاپسندوں نے برصغیر کی تقسیم کے وقت مختلف قافلوں میں پاک سر زمین پر قدم رکھنے کے آرزو مند مسلمانوں کو بڑی بے دردی سے شہید کیا۔بزرگوں ،بچوں اور خواتین کو بھی نہیں بخشا گیا بلکہ سینکڑوں کی تعداد میں جوان عورتوں اور کم سن بچیوں کو اغوا کرنے کے افسوسناک سانحات بھی پیش آئے ،آج 72 برس گزرنے کے باوجودان گمشدگان کی تلاش جاری ہے ۔پاکستان ہجرت کرنے والے ہزاروں خاندانوں کے ساتھ پیش آئے ۔ ان کے لواحقین پر کیاگزری ؟اس بارے صرف سوچاہی جاسکتاہے اس دکھ ودردکو محسوس کرنا انتہا ئی مشکل ہے۔ ہندوانتہاپسندوں نے تلواروں، کرپانوں ،سلاخوں اور برچھیوںپر مسلمان شیر خوار بچوںکو اچھالا ۔ مسلمانوںکے گھروں،املاک و باغات کو آگ لگادی ۔ بستیاں اور بازار راکھ بنادئیے گئے ۔ان کی جائیدادوں پر قبضہ جمالیاگیا ،جو قافلے پاکستان کے لئے روانہ ہوئے ان کو جگہ جگہ لوٹاگیا اور گاڑیوں کو آگ لگادی گئی۔لاتعداد لوگ زندہ جل مرے۔لاتعداد عفت مآب خواتین کی حرمت کو پامال کیا گیا ۔مسلمانوں کا اجتماعی قتل عام ہوا جو مسلمان بھارت میں رہ گئے انہیںمشکوک، غداراور پاکستان کے ایجنٹ مسلمان کہا گیا ۔ بھارت میں انتہا پسندوں کا آج بھی یہ نعرہ ہے ’’ہندو کا ہندوستان، مسلمان کا قبرستان‘‘۔ برصغیر کے مسلمانوں کی بڑے پیمانے پر تقسیم ہوئی اور ہندو متحد ہو گئے۔ جنوبی ایشیا میں تقسیم کے منفی اور مثبت اثرات مرتب ہوئے۔آج بھارت میں مسلمانوں کو گائے کا گوشت کھانے کے الزامات لگا کر تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بی جے پی حکومت نے حد کر دی ہے۔نریندر مودی کا دوسرا دور اقتدار زحمت بن کر شروع ہوا ہے۔ 
 آج پاکستان اور بھارت ایک بار پھر اپنی آزادی کی سالگرہ منارہے ہیں ۔دشمنان اسلام کی برھتی ہوئی سازشوں سے پاکستان متعدد چیلنجز کا شکارہے۔عمران خان کی صدر ٹرمپ سے ملاقات اور اس میں امریکہ کی مسلہ کشمیر پر ثالثی کرنے کی پیشکش کافی اہم ہے۔ پاکستان میں سبزہلالی پرچم لہرارہے ہیں ۔کشمیریوں کے خون سے چراغاںبھارت میں جشن ہے ۔کشمیریوں پر اس ماہ بھارتی فورسز مظالم کے پہاڑ توڑ دیتے ہیں۔بھارتی ترنگا جھنڈیاں تقسیم ہوتی ہیں ۔ انہیں گھروں ،گاڑیوں اور دکانوں پر لہرانے کے احکامات ملتے ہیں ۔ اگست کی آمد پرپوری وادی کشمیر میں غیراعلانیہ کرفیو نافذ کردیاجاتا ہے ۔15 اگست کو سب سے بڑی تقریب سرینگر کے بخشی سٹیڈیم میں ہوتی ہے۔ اس سٹیڈیم کے گردونواح میںمہاراج گنج، ستھراشاہی ،بٹہ مالو،رام باغ ،گوگجی باغ ،لال منڈی ،راج باغ اور دیگر بستیوں سے لوگ بھارتی فورسز کے مظالم کے باعث ہجرت کرجاتے ہیں۔ رہائشی گھروں پر بھارتی فوجی چوکیاں قائم کی جاتی ہیں ۔یہاں تک کہ اقبال پارک اور بچوں کے لعل دیدہسپتال کا محاصرہ کرلیا جاتا ہے ۔بچوں کے اس ہسپتال پر بھی بھارتی فوجی بنکر بنا کرمریضوں کو ہراساں کرتے ہیں ۔پوری وادی کی سڑکوں پر جگہ جگہ کریک ڈائون ہوتے ہیں۔لوگوں کی تلاشیاںلی جاتی ہیں ۔بستیوں کے تلاشی آپریشن کئے جاتے ہیں۔چھاپے ڈالے جاتے ہیں۔ہزاروں کی تعداد میں نوجوانوں کو گرفتار کرلیا جاتا ہے ۔جیلوں سے رہاہونے والوں کو نئے عتاب کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔انہیں کیمپوں اور تھانوں میں حاضر کیا جاتا ہے۔اور یہی حال پوری مقبوضہ وادی میں ہوتاہے ۔بھارت اپنا یوم آزادی بڑے دھوم دھام سے کشمیر یوں کو گھروں میں بندکر کے اور ان کی تمام آزادیاں چھین کرمناتا ہے ۔آزادی منانے کے لئے بھارت ہزاروں کشمیر یوں کو فوجی کیمپوں پر حاضر ہونے ،نظربند کرنے اور غلامی کاتصوریاد دلاتا ہے ۔اس دن شمالی بھارت میں آزادی پسندمائو لوگ یوم سیاہ مناتے ہیں ،کشمیر میں بھی یوم سیاہ کے دوران عام ہڑتال ہوتی ہے اور سیاہ پرچم لہرائے جاتے ہیں ۔عملی طور پر وادی میں سول کرفیونافذرہتا ہے ۔البتہ 14 اگست کو لوگ عقیدت واحترام میں جگہ جگہ پاکستانی پرچم لہراتے ہیں ۔ پاکستانی پرچم کو سلامی دیتے ہیں ۔بازاروں میں اور رہائشی علاقوں میں بھارتی فورسز کی موجودگی اور جارحیت کے باوجودلوگ چراغاں کرتے ہیں اور دعا کی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو سلامت رکھے اور کشمیریوں کو بھی آزادی کی نعمت سے مالا مال کرے ۔پاکستان کے لئے بزرگوں نے جن قربانیوں کو پیش کیا ان کی وجہ سے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے پاکستان بنا۔تاریخ میں ایک بڑی ہجرت ہوئی ۔لوگ بے گھر ہوئے ۔لیکن انہیں آزاد وطن میں رہنے کی خوشی تھی ،البتہ وہ تاریخ کا ایک سیاہ دور بھی تھا ۔جو مسلمانوں پر 1947 ء کو اگست کے مہینے میں گزرا ۔تاریخ میں اسے سیاہ باب کے نام سے درج کیا گیا ہے۔     
 جن لوگوں نے 1947 ء کا قتل عام اور مسلمانوں کے مصائب نہیں دیکھے وہ بھارتی ریاست گجرات اور اس کے بعد آسام میں مسلمانوں کے قتل عام، خواتین کے ساتھ زیادتیوں، لوٹ ماراور اغواکی داستانیں پڑ ھ ،دیکھ اور سن چکے ہوں گے ۔قیام پاکستان پر جو نفرت ہندوئوں میں تھی ،اسکی گجرات ، سورت اور آسام کے واقعات ایک جھلک ہیں ۔برصغیر سے برطانیہ تو چلاگیا لیکن اس نے اپنے ایجنٹ یہاں موجود رکھے ، جن کی بڑی تعداد پاکستان میں موجود ہے۔ ان جاگیرداروں اور وڈیروں نے ایسٹ ایڈیا کمپنی جیسا کردار اداکیا،وہ لوگ جن کے پاس کچھ نہ تھا وہ باغات اور فیکٹریوں کے مالک بن گئے ۔جن لوگوں نے انگریزوں کی مخبریاں اور جاسوسیاں کیں، وہ مربعوںاور باغات سے نوازے گئے۔ یہی لوگ آج وڈیرے ،جاگیردار ،زمیندار ہیں جو سب کے سب لٹیرے ہیں ۔یہی لوگ انگریز کے ایجنٹ تھے اور ہیں۔جن کو آزادی راس نہ آئی ۔انھوں نے اپنے ہم وطنوں کی آزادی چھین کراُسے پہلے انگریز اور اب امریکہ کے پاس گروی رکھ چھوڑا ہے ۔یہی لوگ مسلمان کو مسلمان کے خلاف اکسارہے ہیں ۔ پاکستانی اپنے اسلاف کی قربانیاں بھول چکے ہیں۔وہ اپنے ہی لوگوں کو انگریزوں اور مسلمان دشمنوںکے اشارے پر دھماکوں اور گولیوں کی نذر کررہے ہیں۔اگر عوام خبردار ہوجائیں ۔اپنے آس پاس کڑی نظررکھیں ۔ذمہ دار شہری کا ثبوت دیں ۔تو کسی کی مجال نہیں کہ وہ پاکستان کی سرزمین پر ایک گولی بھی چلاسکے یا ایک دھماکہ کرسکے ۔دراصل انگریزوں نے مسلمانوں سے انتقام لیا ۔صدیوں تک مسلمانوں نے مشرق اور مغرب پر حکومت کی ۔عدل وانصاف کا بول بالاکیا ۔آج حکمرانوں کے طرز حکومت سے ایسا محسوس نہیں ہوتاکہ یہ ملک بڑی قربانیوں سے حاصل کیا گیا تھا۔
1947 ء کو دہلی ،یوپی ،بنگال ،پنجاب، بمبئی، بہار ،کپورتھلہ،فرید کوٹ ،جید،نابھ،میں مسلمانوں کے خون کی ندیاں بہہ گئیں ۔کیا آج حکمرانوں کو اس کا ذرا بھر بھی احساس ہے؟جن سنگھیوں، آرا یس ایس ،شیوسینا ،بجرنگ دل والوں نے مسلمانوں کا قتل عام کیا۔ امریکا افغانستان میں بھارت کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ہدایت دے رہا ہے جس پر من و عن عمل ہو رہا ہے۔امریکا بظاہر انسانوں کے حقوق کی بات کرتا ہے لیکن عملی طور پر وہ مسلمانوں کا قتل عام کرانے میں نہ صرف بھارت بلکہ اسرائیل کا ساتھ دے رہا ہے اور دونوں ممالک کو جدید ترین ہتھیار دینے میں مصروف ہے۔بھارت کو پاکستانی حکمرانوں کی کان پٹی پر بندوق رکھ کر افغانستان اور وسط ایشیا تک رسائی دلائی گئی ۔
 پاکستان ابھی تک آزاد نہیں ہوا۔کشمیر کی غلامی میں پاکستان کی آزادی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ہے۔وقت آ گیا ہے کہ پالیسی ساز ہاتھی کو سوئیاں چبھونے کے بجائے فیصلہ کن کردار کا فیصلہ کریں۔کشمیریوں کو اٹھنے کی’’تم بھی اٹھو اہل وادی‘‘ جیسی صدائیں لگانے والے خود خواب غفلت میں نہ چلے جائیں۔کشمیریوں کی آزادی پسندی کے جذبے کا ایک بار پھرشعوری یا غیر شعوری طور پر استحصال ہوا تو یہ بڑی نا انصافی ہو گی۔کشمیر کی آزادی کے لئے پر عزم اور استقلال کے ساتھ میدان میں کودنے کی ضرورت ہے۔آج شایدیوم استقلال کا تقاضا بھی یہی ہے۔ آج کشمیریوں کا قتل عام تیز کر دیا گیا ہے۔ حریت پسند قیادت کو بدنام زمانہ ایجنسی این آئی اے نے گرفتار کیا ہے۔ ان پر جعلی مقدمات بنائے جا رہے ہیں۔ جائیدادوں کو ضبط کیا جا رہا ہے۔ نوجوانوں کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ کشمیری معیشت میں ریڑھ کی ہڈی یعنی جے کے بینک پر قبضہ کیا جا رہا ہے۔ تجارت کو خراب کر دیا گیا ہے۔ میڈیا کو سنسر شپ کا سامنا ہے۔ ریاستہ دہشگردی کو بے نقاب کرنے پر ریاستی میڈیا کے خلاف شکنجہ کس لیا گیا ہے۔ غلامی کیا ہوتی ہے، یہ کشمیریوں پر واضح کیا گیا ہے۔ ایسے میں پاکستان کا یوم آزادی آ گیا۔ کشمیری آزادی کی نعمت کے قدردان ہیں۔ امید ہے پاک عوام بھی آزادی کی قدر بھی کریں گے اور اس کا تحفظ بھی۔ دفاعی اور معاشی طور پر طاقت ور پاکستان ہی کشمیریوں کی آزادی کا ضامن بن سکتا ہے۔ 



 

تازہ ترین خبریں