07:43 am
کیا بھارت کے ساتھ جنگ ناگزیر ہے ؟ 

کیا بھارت کے ساتھ جنگ ناگزیر ہے ؟ 

07:43 am

بھارت کا انتہا پسند ہندو وزیر اعظم نریندر مودی نے یکطرفہ طورپر مقبوضہ کشمیر سے متعلق جو فیصلہ کیا ہے اس کو اقوام متحدہ سمیت دنیا کی تمام اقوام نے مسترد کردیا ہے ۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ کشمیر کے مسئلے کو اقوام متحدہ اور سیکورٹی کونسل کی قرارداوں کے تحت حل کیا جانا چاہیے بھارت کے اس یکطرفہ فیصلے سے کشمیر کا فیصلہ جوں کا توں موجود ہے جس کو بالاآخرکشمیری عوام کی مرضی کے مطابق حل ہونا ہے پاکستان اور بھارت دونوں اس مسئلے پر ایک فریق ہیں دراصل بھارت کا مقبوضہ کشمیر سے متعلق غیر قانونی، غیر اخلاقی، غیر آئینی فیصلے کی وجہ سے جنوبی ایشیا عدم استحکام کا شکار ہو گیا ہے بھارت نے مقبوضہ کشمیر سے متعلق یہ فیصلہ کر کے خطے میں جنگی جنون کو ہوا دی ہے مقبوضہ کشمیر کی عوام نے بھارت کے وزیر اعظم کے اس فیصلے کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ آزادی کی جدوجہد جاری رہے گی اس طرح چین نے بھی بھارت کے اس یکطرفہ فیصلے کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے چین کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ لداخ چین کا حصہ ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر کا ایک تھوڑا سا حصہ بھی چین کے پاس ہے ترکی نے بھارت کے اس یکطرفہ فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کشمیری عوام کو اپنے تعاون اور حمایت کا بھرپو ریقین دلایا ہے ۔ خود بھارت کی 70کے قریب بڑی سیاسی پارٹیوں نے جس میں کانگریس بھی شامل ہے نریندرا مودی کے اس فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس کو مسترد کر دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ اس فیصلے کو واپس لیا جائے بھارت کی حزب اختلاف کی ان سیاسی پارٹیوں کا خیال ہے کہ بھارت کے اس غیر آئینی فیصلے کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کے امکانات بڑھ گئے ہیں اس وقت پاکستان نے بھارت کے ساتھ ہر قسم کی تجارت ختم کر دی ہے اور اپنے سفارت خانے کے status کو کم کر دیا ہے سمجھوتہ ایکسپریس کی سروس بھی بند کر دی گئی ہے اس طرح اس وقت جنوبی ایشیا  میں انتہا پسند مسلم دشمن بھارتی وزیر اعظم کے اس فیصلے کی وجہ سے جنگ کے بادل منڈلارہے ہیں اور ممکن ہے کہ کسی بھی وقت ان دونوں ملکوں کے درمیان جنگ چھڑ سکتی ہے۔ 
 
امریکہ کو بھی اس بات کا احساس ہے کہ بھارت کے اس غیر قانونی یکطرفہ فیصلے سے جنوبی ایشیا میں سیاسی حالات ہر گزرتے د ن کے ساتھ بدسے بدتر ہو رہے ہیں تاہم سوا ل یہ پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ نے بھارت کے اس فیصلے کے کھل کر مذمت کیوں نہیں کی بلکہ بین بین راستہ اختیار کیا ہے جو اس بات کی غمازی کر رہا ہے کہ امریکہ بہادر کو بھارت کی اس مکا رانہ چال کا پہلے سے علم تھا یہی وجہ تھی کہ امریکی صدر نے مسئلہ کشمیر سے متعلق ثالثی کا کردار ادا کرنے کا پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کو یقین دلایا تھا لیکن اب ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ امریکہ کا مقبوضہ کشمیر سے متعلق وعدہ ہوا میں تحلیل ہو گیا ہے امریکہ یہ کہہ رہا ہے کہ اس کو بھارت کے اس فیصلے کا پہلے سے علم نہیں تھا یہ سراسر جھوٹ ہے امریکہ کو اس کا علم تھا بھارت کے وزیر خارجہ جے شنکر نے اپنے ایک حالیہ بیا ن میں کہا ہے کہ بھارت نے اپنے اس فیصلے سے امریکہ کو پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا خود نریندر مودی نے اعتراف کیا ہے کہ G-20کے اجلاس میں انہوں نے مقبوضہ کشمیر سے متعلق ہونے والے فیصلے سے امریکی صدر کو اعتماد میں لیا تھا اس طرح یہ کہا جاسکتا ہے کہ امریکہ نے عمران خان کو دھوکا دیا تھا اور کہا تھا کہ کشمیر کے ستر سالہ پرانے مسئلے کو حل کرانے میں پاکستا ن کی مدد کریں گے ۔
اب تازہ صورتحال یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ ہے انٹرنیٹ اور ٹیلیفون کی سروسز بند کر دی گئی ہیں نوجوانوں کو گھروں سے نکلنے سے پہلے ہی گرفتار کر لیا جاتا ہے مزید برآں بھارت نے مزید 10,000 فوج مقبوضہ کشمیر میں اتار دی ہے اس طرح وادی کشمیر میں بھارتی فوج کی کل تعداد 7لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے بھارت کا یہ قدم یعنی مقبوضہ کشمیر میں مزید فوج بھیجنا پاکستان کے ساتھ جنگ کرنے کے مترادف ہے یہ ایک فسطائی طریقہ ہے جو بھارت نے اسرائیل کی ایما پر اپنایا ہوا ہے پاکستا ن بھارت کی اس جارہانہ عزائم سے کلی طور پر آگاہ ہے۔ پاکستان نے آئندہ حالات سے نپٹنے کے لئے مکمل تیاری کر لی ہے بلکہ پاکستا ن کی فوج بھارت کی ہر چال کا مقابلہ کرنے کیلئے ذہنی اور جسمانی طور پر تیار ہے ۔ 
دوسری طرف پاکستا ن نے بھارت کے اس فیصلے کے خلاف سفارتی سرگرمیاں تیز کر دیں تاکہ دنیا کے تمام ممالک کو بھارت کے اس جارہانہ انتہا پسند پالیسی سے آگاہ کیا جاسکے اس وقت پاکستان کے وزیر خارجہ بیجنگ میں موجود ہیں اور چین کے وزیر خارجہ کو اس صورتحال سے آگاہ کر رہے ہیں اور یہ بھی بتا رہے ہیں کہ بھارت کے آئین کا آرٹیکل 370کو یکطرفہ طور پر منسوخ کرنا خود بھارت کے آئین کی خلاف ورزی ہے اس آرٹیکل کے تحت مقبوضہ کشمیر کو جو خصوصی حیثیت حاصل تھی وہ اب بظاہر ختم ہو گئی ہے جب کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے اس ناجائز غیر قانونی اور غیر آئینی یکطرفہ فیصلے کی وجہ سے کشمیری عوام میں زبردست غم و غصہ پایا جارہا ہے اور انہوں نے تہیہ کر لیا ہے کہ آزادی کی جدوجہد پورے زور و شور سے جاری و ساری رہے گی یقینا آئندہ آنے والے دنوں میں اس مسئلے پر پاکستان او ر بھارت کے درمیان جنگ کے امکانات واضح نظر آرہے ہیں وفاقی وزیر برائے ریلوے شیخ رشید نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ آئندہ چھ ماہ کے درمیان بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ چھڑ سکتی ہے چین بھی بھارت کی اس مکارانہ توسیع پسندانہ چال کو سمجھ چکا ہے وہ بھی ہر قسم کے حالات سے نمٹنے کے لئے تیار ہے جنوبی ایشیا میں آئندہ دنوں میں جو کچھ بھی ہو گا اس کی تمام تر ذمہ داری بھارت پر عائد ہو گی اور امریکہ پر بھی جس کو سب کچھ معلوم تھا لیکن بھارت کے فیصلے کو روکنے کی کوشش نہیں کی گئی ۔ ۔۔۔ذر ا سوچیئے۔ 



 

تازہ ترین خبریں