07:45 am
پاکستان سلامتی کونسل میں!

پاکستان سلامتی کونسل میں!

07:45 am

٭آزاد کشمیر اسمبلی سے وزیراعظم پاکستان کا خطابO مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میںO 72 واں یوم آزادی، ملک بھر میں تقریبات O… کشمیر عنقریب بھارت کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔ سابق بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ O کراچی کے لئے جامع ماسٹر پلان O بلاول زرداری، وزیراعظم پر شدید تنقید، ناروے!O لاس اینجلس: پاکستانی و بھارتی اداکارائوں کی لڑائیOمقبوضہ کشمیر کرفیو، 11 واں دن، لاکھوں افراد بھوک، پیاس،بیماری کے شکارO نیب کے قیدی، (حمزہ شہباز سمیت)، عید پر اعلیٰ مرغن کھانے!O مودی مسلمانوں کا قتل عام کر رہا ہے، اس کے ہاتھ توڑ دیں گے:شہباز شریف۔
 
٭پاکستان نے دنیا بھر میں سفارتی مہم کے بعد مقبوضہ کشمیر پر بھارتی قبضہ کے خلاف سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے۔ شملہ معاہدہ کے تحت پاکستان بھارت کے خلاف کسی مسئلے کو سلامتی کونسل یا کسی دوسرے عالمی فورم میں نہیں لے جا سکتاتھا مگر بھارت نے کنٹرول لائن کو ختم کرنے شملہ معاہدہ کی شرط ختم کر دی ہے کہ کنٹرول لائن میں کسی صورت میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ اس طرح شملہ معاہدہ ختم ہو گیا ہے اور پاکستان سلامتی کونسل میں پہنچ گیا ہے۔ سلامتی کونسل 15 ممبروں پر مشتمل ہے۔ ان میں پانچ ارکان امریکہ، فرانس، چین، روس اور برطانیہ مستقل ممبر ہیں کسی بھی ممبر کو کسی معاملہ کو ویٹو (مسترد) کرنے کا اختیار حاصل ہے۔غیر مستقل ارکان دو دو سال کے لئے منتخب ہوتے ہیں، کسی رکن کو ویٹو کا اختیار حاصل نہیں۔ ان ممالک کے ناموں کے آگے ریٹائر ہونے کا سال درج ہے۔ نام یہ ہیں:۔ کویت، پیرو، پولینڈ، کوٹے ڈیلوائر، گِنی آر (2019ء)، جرمنی، انڈونیشیا، جنوبی افریقہ، بلجیم، ڈومینکاری پبلک (2020ء)۔ بھارت سات بار سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن بن چکا ہے اب پھر امیدوار ہے۔ پاکستان بھی رکن بنتا رہا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ سلامتی کونسل کا رکن بننے کے لئے انفرادی طور پر ووٹ حاصل نہیں کئے جاتے بلکہ اقوام متحدہ نے تقریباً 200 رکن ممالک کو دس بلاکوںمیں تقسیم کر رکھا ہے۔ ہر بلاک ہر سال کسی ایک نمائندہ کو نامزد کرتا ہے۔
پاکستان طویل عرصہ کے بعد سلامتی کونسل میں جا رہا ہے۔ وہاں کسی فوری فیصلے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ چین نے پاکستان کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے مگر روس بھارت کی حمائت کر رہا ہے۔ وہ بھارت کو 14 ارب ڈالر کا اسلحہ فروخت کر رہا ہے۔ سلامتی کونسل میں بھارت کے خلاف کوئی قرارداد منظور نہیں ہونے دے گا۔ اس طرح کونسل کا اجلاس محض تقریروں کا مجموعہ بن کررہ جائے گا۔ یہ بات اس لحاظ سے تو اہم ہو گی کہ کشمیر کا تنازع پھر عالمی سطح پر اُبھر آیا ہے۔ یہ بھی کافی ہے۔ سلامتی کونسل میں جانے سے پہلے ان 15 ارکان میں بھرپور سفارت کاری کی ضرورت تھی۔ وہاں پارلیمانی وفود جانے چاہئیں تھے۔ ان کے سفیروں کو تنازع کشمیر کے مختلف پہلوئوں کے بارے میں مفصل بریفنگ ضروری تھی۔ مگر یہ کچھ نہیں کیا گیا اور کسی مطلوبہ خاص تیاری کے بغیر ہم نے سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔ ایک خدشہ یہ ہے کہ پاکستان کے حق میں کوئی قرارداد نہ آسکی تو اس سے پاکستان کے موقف کو سخت نقصان پہنچے گا۔ ویسے بھی سلامتی کونسل میں صرف 15 ممالک کے نمائندوں کو مخاطب کیا جاتا ہے جب کہ جنرل اسمبلی میں تقریبا 200 ممالک کے نمائندے بیٹھتے ہیں۔ ان سے مخاطب ہونے میں زیادہ فائدہ ہے۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان اگلے ماہ جنرل اسمبلی سے  خطاب کرنے کے لئے نیویارک جا رہے ہیں۔ اس مسئلے کو عالمی سطح پر اٹھانے کے لئے یہ موقع زیادہ موثر اور اہم ثابت ہو سکتا ہے۔
٭مودی حکومت نے جِس ہنگامی انداز میں مقبوضہ کشمیرپر جبری قبضہ کر کے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے ہیں، اس پر خود بھارت کے اندر شدید مخالفت اور مذمت شروع ہو گئی ہے۔ بھارت کے سابقہ وزیر چدم برم، کانگریس کے سابق صدر راہول گاندھی، سابق وزیرخارجہ یشونت سنگھ، بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ امریندر سنگھ کے بعد اب سابق وزیراعظم من موہن سنگھ نے بھی مودی حکومت کی شدید مذمت کی ہے کہ اس نے ہنگامی انداز میں احمقانہ طور پر جلد بازی میں کشمیر کے بارے میں جو اقدام کیا ہے، اس کے نتیجے میں کشمیر بہت جلد بھارت کے ہاتھوں سے نکلتا دکھائی دے رہا ہے!
٭میرے علم میں نہیں تھا کہ پاکستان کی حکومت عمران خان نہیں، بلاول زرداری چلا رہا ہے! بلاول نے گزشتہ روز حکومت کو جو احکام جاری کئے، اور حکومت نے جس طرح فوری ’’تعمیل‘‘ کی، مجھے اس پر حیرت ہو رہی ہے۔ گزشتہ روز پریس کانفرنس میں بلاول (عمر30 سال) نے حکم دیا کہ کشمیر کے بارے میں فوری طور پر سفارتی سرگرمیاں شروع کی جائیں۔ اس پرحکومت کے نمائندے فوراً زلفی بخاری لندن اور فواد چودھری ڈنمارک(وہاں کیوں؟) پہنچ گئے۔ بلاول نے ہدائت کی کہ سلامتی کونسل سے رجوع کیا جائے۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے فوراً سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کر لیا۔ بلاول ناراض ہوا کہ وزیراعظم پاکستان نے آزاد کشمیر اسمبلی سے خطاب کیوں نہیں کیا! اس پر وزیراعظم پاکستان سارے کام چھوڑ کر آزاد کشمیر اسمبلی میں پہنچ گئے۔ اس دوران بلاول نے حسب معمول اپنے والد سے بھی عمر میں بڑے عمران خان کو نالائق وزیراعظم قرار دیا۔ (بلاول 30 سال، آصف زرداری 64 سال 20 دن، عمران خان 66 سال 10 ماہ 5 دن) مگر گفتگو کا یہ انداز برخوردار کو خاندانی طور پر ورثہ میں ملا ہے۔ میں یہاں وہ الفاظ درج کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا جو بے نظیر بھٹو نے نوازشریف کو شیر کہے جانے پر کہے تھے۔ اور جو بلاول کے نانا ذوالفقار علی بھٹو نے چودھری ظہورالٰہی اور اصغر خان مرحوم کے بارے میں سرعام کہے تھے، اور پھر والد آصف زرداری نے پورا منہ کھول کر پاک فوج کے جرنیلوں کو خطرناک دھمکیاں دی تھیں۔ گھر کی تربیت ہی ایسی ہو تو کیا کہا جا سکتا ہے؟ ویسے جمعہ جمعہ آٹھ دن کی سیاست سے عروج پانے والے برخوردار بلاول سے پوچھنا ہے کہ کیا اس کے والد  5 سال کی صدارت کے دوران کبھی کنٹرول لائن پر گئے؟ وہاں سرحدی علاقے میں مشکلات سے دوچار کشمیری باشندو ںکا حال پوچھا؟ اور بلاول! تم بھی مظفرآباد میں فوٹو سیشن کے بعد واپس آ گئے، کنٹرول لائن پرکیوںنہیں گئے؟ تم نے مظفر آباد اور اسلام آباد میں طویل پریس کانفرنس کے آخر میں دل کا غبار نکال کیا کہ تمہارے والد کو قید کیوں کیا گیا ہے اور پھوپو فریال کو رات کے وقت ہسپتال سے جیل کیوں لے جایا گیا؟ برخوردار اس وقت کیوں یہ اعتراض کیوں نہ کیا جب سپریم کورٹ نے نوازشریف کی ضمانت منظور کی تو قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انہیں جیل سے نصف رات کے وقت رہا کیا گیا تھا؟
٭ایک دلچسپ واقعہ: امریکہ کے شہر ’لاس اینجلس‘ میں ایک پرفیوم کی تقریب میں پاکستانی ایک لڑکی عائشہ نے بھارت کی مشہور اداکارہ پریانکا چوپڑا کی ایسی تیسی کر دی۔ پریانکا چوپڑا نے گزشتہ دنوں بھارت کو پاکستان پر حملہ کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ لاس اینجلس کی تقریب میں پریانکا کو مہمان خصوصی کے طور پر بلایا گیا۔ پاکستان کی لڑکی عائشہ ملک اسے دیکھ کر مشتعل ہوگئی اور اسے مخاطب کر کے بلند آواز میں کہا کہ ’’تم منافق ہو، یونیسف نے تمہیں امن کا سفیر بنایا ہے اور تم پاکستان کے خلاف جنگ کی باتیں کر رہی ہو۔ خبروں کے مطابق اس پر پریانکا شرمندہ ہو گئی اور معذرت کرنے لگی۔
٭ایک صاحب نے پاکستان کے وزیردفاع کا نام پوچھا۔ فوری طور پر یاد نہیں آ رہا تھا، اتفاق سے اخبار پر ایک چھوٹی سی چار پانچ سطری خبر میں نام دکھائی دیا؟ پرویز خٹک! پھر بھی کچھ شک سا رہا کہ بھارت کے ساتھ موجودہ بحران کے دوران وزیردفاع کی ذمہ داریاں کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہیں مگر پچھلے ایک سال کے دوران  وزیر دفاع کا کبھی کوئی بیان، کوئی کارکردگی دکھائی نہ دی اور میں نام بھول گیا۔ بہرحال اب معلوم ہو گیا ہے، پرویزخٹک!‘‘
 

تازہ ترین خبریں