08:30 am
کشمیر کیوں عالمی توجہ حاصل نہیں کرسکا؟

کشمیر کیوں عالمی توجہ حاصل نہیں کرسکا؟

08:30 am

بھارتی ظلم اور جبر خصوصاً مقبوضہ جموں کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کی تنسیخ کے بعد ریاست کے بڑے حصہ میں کرفیو نافذ ہونے کے باوجود مسئلہ کشمیر کیوں عالمی توجہ حاصل نہیں کرسکا؟ بھارتی اقدامات کے بارے کیوں دنیا میں خاموشی ہے اور کسی ملک نے کشمیریوں کے حق میں کیوں آواز بلند نہیں کی؟ آخر اس کی وجہ کیا ہے اور اس صورت حال کا حل کیا ہونا چاہیے۔یہ درست ہے کہ بھارت ایک بڑا ملک ہے اور دوسرے ممالک کے اس سے تجارتی اور معاشی مفادات وابستہ ہیں لیکن اس کے ساتھ ہمیں اپنی حکمت عملی پر بھی نظر ثانی کرنی چاہیے۔ بھارت کی جانب مقبوضہ جموں کشمیر کے اس آئین میں موجود دفعہ 370 اور 35اے کی منسوخی کے بعد بہت کچھ کہا اورلکھا گیا اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ مقبوضہ جموں کشمیر کے عوام کو شدید عدم تحفظ کا احساس ہورہا ہے اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والے ملک نے یہ کام جبر اور کرفیو کی فضا میں کیا اور یہاں تک کہ مقبوضہ کشمیر کی نام نہاد اسمبلی سے بھی یہ قرار داد منظور نہیں کروائی۔ غیر آئینی و جمہوری اور ظلم و جبر کے اس قدم کی خود بھارتی سیاسی جماعتوں نے مخالفت کیااور لوک سبھا کے 72 اراکین نے ا س کی مخالفت میں ووٹ دیا۔ 
 
مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارت نواز سیاستدانوں نے بھی اس کی شدید مذمت کی اور اسے منظور نہ کرنے کا اعلان کیا۔ اس قدم سے مقبوضہ جموں کشمیر میں شدید مسائل ضرور پیدا ہوں گے لیکن مسئلہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت میں کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ اس کی بنیاد اقوام متحدہ کی قراردیں ہیں نہ کہ بھارتی آئین۔ مزید براں جب 1954 ء میں مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی نے بھارت سے الحاق کی قرار داد پاس تو اقوام متحدہ نے جوابی قرارداد پاس کی کہ ریاست کا کوئی حصہ اپنے طور پر الحاق کا فیصلہ نہیں کرسکتا لہذا ٓئینی اور قانونی طور پر حالیہ بھارت کوشش مسئلہ پر اثر انداز نہیں ہوگی‘ البتہ اب ہر کشمیری بھارت سے نفرت کرے گا اور اسے تحریک آزادی کے ساتھ منسلک ہونا پڑے گا جس میں بھارت نواز کشمیری قیادت بھی شامل ہے۔ مودی کے اس عمل نے تحریک آزادی کو نئی جلا بخشی ہے اور اب سب کشمیری یکجا ہوتے نظر آرہے ہیں۔
موجودہ حالات جب ایک بار پھر تحریک آ ز ا د ی میں شدت آرہی ہے ، مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے حکومت پاکستان کو ایک قابل عمل پالیسی بنانا ہوگی اور اس پر حقیقت پسندانہ انداز میں غور کرنا ہوگا خصوصا ان نکات پر پالیسی ساز اداروں کو سوچنا چاہیے ۔ 
1۔بھارتی مقبوضہ کشمیر میں ایک ہی نعرہ مقبول ہے کہ ہمیں کیا چاہیے۔ آزادی‘ اس لئے کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کے لئے صرف ایک قومی نعرہ ہونا چاہیے کہ کشمیرکو ‘آزادی دو۔
2۔ صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے بالکل درست فرمایا کہ مسئلہ کشمیر کے تین فریق ہیں لیکن یاد رہے کہ کشمیری بنیادی اور اصل فریق ہیں اس لئے دنیا کی نظر میں ان کی بات کی زیادہ اہمیت ہے۔مسئلہ کشمیر کو پاک بھارت تنازعہ کی بجائے کشمیری عوام کے حق خود آرادیت کے تناظر میں پیش کرنا چاہیے۔ 
3۔ وزیر اعظم عمران خان نے آزادجموں کشمیر اسمبلی میں بہت شاندار خطاب کیا اور کشمیریوں کا دنیا میں سفیر بننے کا اعلان کیا۔  وزیر اعظم آپ کا جذبہ قابل صد تحسین ہے لیکن دنیا آپ سے زیادہ کشمیریوں کی آواز زیادہ توجہ اور غور سے سنے گی۔ اس بات کی گواہی سفارتی، سیاسی اور صحافتی حلقے بھی دیں گے۔ اس لئے یہ کام آزادجموں کشمیر کی حکومت کے سپرد کریں اور ان کی ہر ممکن اعانت کریں جس طرح فلسطین کی بات خود فلسطینی کرتے ہیں یہی موقع کشمیریوں کو ملنا چاہیے۔ 
4۔ پارلیمانی کشمیر کمیٹی کو تحلیل کرکے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی قیادت کو بین الاقوامی سطح پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کی ذمہ داری دی جائے۔
5۔ اقوام متحدہ، اسلامی کانفرنس اور دیگر بین الاقوامی اداروں میں بھی کشمیر کو نمائندگی دلانے کی کوشش کریں اور دنیا کو یہ باور کروائیں کہ پاکستان نہیں بلکہ کشمیری خود اپنی آزادی کی بات کررہے ہیں ۔ جب تک عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کو خود کشمیری قیادت نہیں پیش کرتی، سفارتی کامیابی ممکن نہیں ۔وزیر اعظم پاکستان کی بجائے اگر آزادکشمیر کا صدر یا وزیر اعظم اقوام متحدہ میں بات کرے گا تو دنیا اسے اہمیت دے گی۔ اس امر کی ضرورت ہے کہ اب کشمیر پالیسی میں بنیادی اور موثر تبدیلیاں کی جائیں تاکہ یہ مسئلہ اپنے حل کی جانب آگے بڑھ سکے۔ 

 

تازہ ترین خبریں