08:32 am
دو قومی نظریہ اور پاک بھارت کشمکش

دو قومی نظریہ اور پاک بھارت کشمکش

08:32 am

5اگست  سے مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کے لئے ابتلاء اور مشکلات و مصائب بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ 27فروری کو جو کچھ ہوا تھا‘ تازہ منظر میں  اس میں اضافہ ہوا۔ جنگی طور پر کافی زیادہ ممکن ہے‘ عید سے اگلے چند دن بہت زیادہ کشمکش کو لئے ہوئے ہیں۔ مکمل چاند تدبر و فراست اور عقل سے زیادہ جذبات‘ غصے‘ اشتعال کو پیدا کرتا ہے جیسے مکمل چاند 13,14,15 ذی الحج) سمندر میں مدوجذر پیدا کرتا ہے۔ گزشتہ چار گرہن کے اثرات ہیں کہ چین میں اور پاک و ہند میں بارشوں کا سیلابی  صورت عہد ابتلاء شروع ہے۔ اس میں اضافے کے امکان روحانی و جدان میں نظر آرہے ہیں۔  بھارت کے حوالے سے استدلال‘ صبر مگر استقامت کو ترجیح بنائیں۔ روحانی وجدان کے مطابق پاکستان کے اندرونی سیاسی حالات‘ معاشی ابتر حالت نومبر تک پریشان کن رہ سکتی ہے۔ وزیراعظم کی زندگی کی حفاظت کرنا اب ریاست کا فرض ہے۔ بیرونی دشمن اپنے اندرونی کارندوں کے ذریعے وزیراعظم کی زندگی کو ختم کرنے کی مسلسل کوشش کر سکتے ہیں تاکہ پاکستان کا دنیا میں مقبول و محترم ہوچکا سول چہرہ منظر سے ہٹ جائے‘ لہٰذا آرمی چیف کی زندگی کی طرح وزیراعظم کی زندگی کو دینی فرض کی طرح سمجھا جائے۔ سیاسی افراتفری‘ داخلی عدم استحکام اور انتشار اس وقت بیرونی دشمنوں کی بہت بڑی ضرورت ہے۔ علمائے کرام سے بالخصوص غیر سیاسی علماء تمام مکاتب فکر سے‘ حکومتی رابطے زیادہ اور موثر ہونے چاہئیں۔ علماء کرام کے خلاف جو وزیر یا وزراء اخلاقی قدر سے کم تر گفتگو کرتے رہتے ہیں۔ ان کی زبان بندی ضروری ہوگئی ہے‘ مذہبی طبقے سے حکومتی تعلق و رابطہ ریاستی دفاع کا لازمی جزسمجھا جائے۔ دینی مدارس کے حوالے سے پیدا شدہ اگر خدشات موجود ہوں تو ان کا ازالہ کیا جائے۔ اس عمل کو دو قومی نظرئیے  کے لئے مطلوب استحکام اور نئی زندگی کا شدید تقاضا سمجھا جائے۔
 
1947ء سے پہلے کچھ علمائے کرام اور کچھ سیاسی گرو اپنے اپنے سیاسی وجود کے لئے دو قومی نظرئیے کے مخالف اور سیکولر و لبرل انڈیا کے وجود کی بقاء چاہتے تھے۔ ان میں سے کچھ اخلاص کی بناء پر بھی دنیا و مذہب کے نئی ریاست کے حصول میں استعمال کو غلط سمجھتے تھے۔ مولانا آزاد اور مولانا مدنی اور ان جیسے بزرگ  کے اس اختلاف کو اب اسلام دشمن اور مسلمان دشمنی نہ سمجھا جائے۔ آج اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہندتوا انتہا پسند مودی حکومت نے اسلام اور بھارتی مسلمانوں کے خلاف اپنی سیاسی جابرانہ جنگ کو ہندو  مذہب کے رنگ میں اتنا زیادہ استعمال کیا ہے کہ مولانا آزاد کا پاکستان مخالف موقف ہی نہیں بلکہ گاندھی اور جواہر لعل کا‘ سیکولر و لبرل انڈیا کا وجود بھی مٹ گیا ہے۔ دلتوں کو کم تر حیثیت اور برہمن کی اعلیٰ تر حیثیت کو بی جے پی کی حکومت مذہبی انداز میں نافذ کر رہی ہے‘ سکھوں اور عیسائیوں کے ساتھ بھی مذہبی‘ تہذیبی‘ تمدنی دشمنی کی فضا پیدا ہوگئی ہے۔
اگرچہ اس ماحول اور فضا کو بھارتی مسلمانوں‘ دلتوں‘ سکھوں‘ عیسائیوں اور خاص طور پر مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے لئے عہد ابتلاء اور مصائب و آلام کا طویل عہد کہا جاسکتا ہے‘ تاہم مودی بی جے پی حکومت کے اس متشددانہ عمل سے دو قومی نظرئیے کا احیاء جدید اور صداقت جدید طلوع ہوگئی ہے۔ قائداعظم  نے ہندو ازم کے جبر و ظلم کو اس وقت بے نقاب کیا تھا جب وہ اکیلے تھے۔ انہیں کچھ علماء کی مخالفت بھی درپیش رہی کہ وہ کہتے تھے اسلام کو مغربی تعلیمی اداروں سے تعلیم پانے والا کیسے سمجھ سکتا ہے اور نافذ کر سکتا ہے؟
اللہ تعالیٰ نے برصغیر میں دو قومی نظرئیے کا اسلامی درخت اسی بظاہر سیکولر اور بظاہر لبرل دکھائی دیتے‘ قائداعظم کے ذریعے اگایا تھا اور اسی درخت کے وجود کی حقانیت کو مسلمان دشمنی مودی‘ امیت شاہ ‘ بی جے پی کی مذہبی سیاسی حاکمانہ و جابرانہ یلغار کرتی حکومت کے ذریعے طلوع کر دی ہے۔ مقبوضہ کشمیر  کے وہ افراد جن کے آبائو وجداد پاکستان مخالف تھے۔ شیخ عبداللہ کی اولاد‘ مفتی سعید کی اولاد‘ وہ سیکولر و لبرل بھارتی مسلمان جو پاکستان مخالف آج بھی ہیں‘ اب وہ سب اعلانیہ اور خاموشی سے دو قومی نظرئیے کی صداقت کی حمایت کر رہے ہیں۔ سکھوں کے رہنما ماسٹرتارا سنگھ اور کشمیری شیخ عبداللہ کو قائداعظم نے پاکستان سے مل جانے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا مستقبل محفوظ  صرف پاکستان میں ہوگا کہ بھارت میں ہندو ازم کا جبر و ظلم ان کو نسیت و نابود کر دے گا۔
شیخ عبداللہ کی اولاد قائداعظم کے موقف کی آج تائید کر رہی ہے اور گولڈن ٹمپل پر عسکری یلغار سے سکھوں کے لئے تہذیبی و تمدنی ارتقاء کی جگہ تنزل و زوال اور  تہذیبی تباہی موجود ہے۔ اسی لئے بیرونی ملک سکھ خالصانی کی تحریک چلاتے ہیں۔ تقسیم کے بعد سکھوں کی اجتماعی طاقت کو بظاہر لبرل و سیکولر بنے۔ سکھوں کو کانگرسی ساتھی بنا کر رکھنے والے نہرو نے تین حصوں والے پنجاب‘ ارونا چل پردیش‘ چندی گڑھ میں تقسیم کرکے جغرافیائی طور پر موت و حیات کشمکش میں دھکیل دیا تھا۔ جموں میں ہندو اکثریت بنانے کے لئے پاکستان کی طرف ہجرت کی ترعیب دے کر اور بسوں پر بٹھا کرجموں کے  پانچ لاکھ مسلمانوں کا قتل عام کر دیا  تھا۔ اب یہ سب کچھ مقبوضہ کشمیر میں ہو رہا ہے اور ہوتا رہے گا۔ جیسے سکھوں کے مشرقی پنجاب کے تین ٹکڑے ہوئے اسی طرح مقبوضہ کشمیر کے تین ٹکڑے کر دئیے گئے ہیں تاکہ بدھ مت اور مسلمانوں کشمیری تقسیم ہو جائیں سکھوں کی طرح‘ ممکن ہے مقبوضہ کشمیر  کے مسلمانوں پر اتنا ظلم ہو جائے جیسا کہ میانمار کے روہنگیا مسلمانوں پر برمی بدھ مت فوج نے کیا اور انہیں زندگی بچانے کے لئے بنگلہ دیش میں پناہ  لینا پڑی تھی۔ ایسا جنگی ماحول اکتوبر کے پہلے اور آخری ہفتے میں زیادہ ممکن ہے۔ اکتوبر میں شدید دبائو‘ جنگی صورتحال پیدا کرتا تنائو محسوس ہوسکتا ہے۔ فوج اور جنرل قمر جاوید باجوہ کو اس شدید دبائو اور اعصاب ماحول کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ممکن ہے جان بچانے کے لئے مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو آزادکشمیر کی طرح ہجرت کرنا پڑے۔ خود جنگ نہ کریں‘ حکمت و دانائی سے ‘ تدبر سے‘ استدلال سے کشمیر موقف دنیا کے سامنے پیش کریں۔ مودی کا 5اگست کا عمل امریکی ٹریب اسٹیٹ اور مغربی حمایت سے مکمل ہوا ہے ۔ امریکہ کے ہاتھوں افغانستان میں اچانک مشرف کی طرح استعمال ہو جانے کے امکان کو ناممکن اور بہت مشکل تر بنائیں۔ عربوں سے تعلقات کو اہمیت دیں۔ امریکہ کی ڈومور اور معاشی جبرلاتی حکمت عملی کا صبر و استقامت تدبر و فراست سے سامنا کرکے نومبر گزار لیں۔ مکمل جنگ دسمبر و جنوری میں  مزید ممکن ہوسکتی ہے۔

 

تازہ ترین خبریں