08:32 am
 آزادی کی نعمت

 آزادی کی نعمت

08:32 am

 سوئے اتفاق اوربد قسمتی سے دنیامیں تصادم کی فضاہے،ظلم وناانصافی ہے اورسب سے یکساں سلوک مفقودہے۔یہ بھی عجب ستم ظریفی ہے کہ یہ ظلم اور ناانصافی صرف مسلمانوں سے روارکھی جارہی ہے۔ ظالمانہ تصادم کی فضا کاعملی شکاربھی مسلمان ہیں۔اس سے بھی عجیب ترین بات یہ ہے کہ اس تصادم اور ظلم وفسادکی جڑبھی مسلمانوں کوٹھہرایاجارہاہے اورعجیب ترین بات یہ ہے کہ مسلمانوں نے یہ کیفیت چپ چاپ برداشت کرلی ہے، کم سے کم دنیابھر کے مسلم حکمران توبالکل چپ ہیں، اس پراحتجاج بھی نہیں کررہے جیسے کچھ دیکھتے نہ ہوں ،جیسے کچھ سمجھتے نہ ہوں۔اس المناک صورت حال کاسبب یہ ہے کہ یہاں عوام اور حکمرانوں کے درمیان وسیع خلیج حائل ہے۔اس کانتیجہ یہ ہے کہ ہمارے یہ حکمراں اسلام مخالف قوتوں کے رحم وکرم پرہیں اورعالمِ اسلام ظالم لٹیروں کی زدمیں ہے۔
 
اگرصحیح جمہوری فضاہوتی تودنیابھرکے مسلم عوام اوراسلامی دنیا کی یہ حالت نہ ہوتی۔آج بھی اگرمسلم عوام اوران کے حکمران متحدہوکراس امتیازی سلوک کے خلاف زوردارآوازیں اٹھائیں تویہ فضابدل سکتی ہے۔ امن وسلامتی کے جھوٹے دعویداراپنی اپنی قوم کے سامنے رسواہوکربے اثرہوسکتے ہیں کیونکہ حسنِ اتفاق سے ان کے اپنے اپنے ملک کے عوام جمہوری قوتوں کے رحم وکرم پرہوتے ہیں اوریہ عوامی جمہوری قوتیں جس طرح اپنے جھوٹے حکمرانوں کو برداشت نہیں کرتیں،وہ پسماندہ قوموں سے ظلم وناانصافی اور ڈبل معیارکی بھی مخالف ہیں  اس لئے ضرورت ہے کہ اسلامی دنیاکے عوام دنیاکے جمہوری عوام تک رسائی اورربط کی صورت پیداکریں توپھروہی ہوسکتاہے جوعراق میں بش اورٹونی بلیئرکے ساتھ ہوا۔
 یقین نہیں آتاتودیکھ لیجئے ہٹلرکے آنے تک مسیحی دنیاخصوصاًیورپ یہودیوں کادشمن تھا،ان سے نفرت کرتا تھا ،اپنے معاشرے سے انہیں نکال باہر کرنا چاہتا تھا۔ دونوں عالمی جنگوں میں اگرسودخوروں کے قرضے نہ ہوتے تویہ جنگیں ایک قدم بھی آگے نہ بڑھ سکتی تھیں۔ سودی کاروبار کس کے پاس تھا؟انہی یہودیوں کے ہاتھ میں۔ دونوں جنگوں میں لگنے والے یہودی سرمائے نے مغرب کوپنجہ یہود میں جکڑدیاتھا۔دوسری عالمی جنگ سے اور بعدکے حالات سے توساری دنیا سودکے جال میں پھنس گئی ہے اوریہ جال یہودیوں شکاریوں کے ہاتھ میں ہے!
گزشتہ صدی کے دوران سودخوروں نے سودی پیسے سے مسلمان حکمرانوں کوخریدناچاہاتھامگرمنہ کی کھائی، یہی پیسہ مغرب کے حکمرانوں کوجکڑنے کیلئے دیاگیا۔ پہلے یورپ کوپھر امریکہ کو،چنانچہ آج سب پنجہ یہودمیں ہیں لیکن یہودی وسیہ کاری ملاحظہ ہوکہ وہ انہی پرانے اور نئے سامراجیوں سے مسلمانوں کوپٹوا رہاہے اورمسلمان سوتے رہے یاسلادیئے گئے،آج بھی سورہے ہیں یا سلائے جارہے ہیں۔اسلام اور مسلمانوں سے یہودی عداوت اورحسدایک فطری ردعمل ہے۔ اس عداوت اورحسدکی ایک لمبی تاریخ ہے جوطویل بھی ہے اورتلخ بھی۔ایک وقت تھاجب مکہ اورعرب کے تمام بت پرست اوریہودی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف متحد تھے،آج بھی متحد ہیں، پہلے مشرکین مکہ اوریثرب وخیبرکے یہودی اسلام کے خلاف متحدتھے۔آج بھی تل ابیب اورنئی دہلی نے ایک مدت کے بعد ایک دوسرے کوپہچان لیاہے۔ پہلے اتحادخفیہ تھالیکن ایڈوانی اورشیرون نے اسے ایک کھلی حقیقت بناکر مسلمان دنیاکوپیغام دیااب مودی ونیتن شیروشکرہیں کہ کل بھی دونوں کادشمن مشترک تھااورآج بھی مشترک ہے۔
اس اشتراک،عداوت اورحسدنے یہود و ہندو کومسلمانوں کے خلاف ایک بنارکھاہے۔ یہودوہنودد ونوں کی خواہش ہے کہ نئے اورپرانے سامراجی انہیں تعاون کیلئے اپنے مہرے بنائیں توخونِ مسلم میں ہاتھ رنگ کرمن کوشانتی ملے اورلوٹ مارمیں سے کچھ حصہ بھی ملے مگرقدرت نے نئے سامراجیوں کوننگاکردیا ہے اور امریکہ اورمغرب کے جمہوریت پرست عوام انہیں تاریخ کی گمنامی میں دھکیل رہے ہیں مگریہ یہودوہنوداب بھی نہیں بدلے۔وہ عدل وانصاف کی ہرآوازپرتلملا اٹھتے ہیں‘وہ ہرصورت میں کچھ نہ کچھ لے مرنے کی فکرمیں رہتے ہیں کہ فلسطین اورکشمیرمیں کسی نہ کسی بہانے مسلمانوں کاخون بہاتے رہیں۔
مسلمانوں کیلئے یہ موقع ہے کہ مغرب کے امن پسنداورانصاف کے داعی تنظیموں سے اپنارابطہ از سر ِنومرتب کریں۔اسی خدشے کے پیشِ نظرمسلم ممالک کیلئے داخلی،علاقائی اورعالمی مسائل پیداکرکے الجھانے کی سرتوڑ کوشش موجودہ وسیہ کاری اورخفیہ سازش کاحصہ ہے ۔ صہیونیوں کوپہلے خطرہ صرف پاکستان کے ایٹمی اسلحے سے تھامگراب تازہ خطرہ فروری میں پاکستان کی حربی صلاحیت کے بعدان کی نیندیں حرام کئے ہوئے ہے۔
مودی کشمیرمیں وہی کھیل کھیل رہاہے جو اسرائیل کاجنونی دہشت گرد فلسطین میں کھیل رہاہے۔ آزادی مانگنے والاہر کشمیری بھارت کے نزدیک پاکستان کاایجنٹ ہے اس لئے اس نے سات لاکھ فوج  میں مزیداضافہ کرکے انہیں مارنے میں  خودکوحق بجانب سمجھتا ہے۔ پاکستان کے حکمراں تواقتدارکی کرسی کیلئے کشمیریوں کی ہرقربانی کوپس پشت ڈالتے ہوئے بھارت کے ساتھ مذاکرات کیلئے انتہائی بے چین نظرآتے ہیں جب کہ بھارت انتہائی مکاری اور ہوشیاری کے ساتھ پاکستان کودبامیں رکھنے کیلئے اصل مسائل پر مذاکرات کرنے کی بجائے دوسرے مسائل میں پاکستان کو الجھا رہاہے لیکن کشمیری اب اس بات سے آگاہ ہوچکے ہیں کہ اگر افغانستان جیساملک دنیاکی سب سے بڑی سپرطاقت اور اس کے اتحادیوں کو شکستِ فاش پرمجبورکرسکتاہے تو بھارتی بنیاتواس کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔کشمیریوں نے اپنے خون کے ساتھ جوحریت کی داستانیں رقم کی ہیں اور اپنی آزادی کی خاطرجو بیش بہاقربانیاں دی ہیں،وہ کبھی رائیگاں نہیں ہوسکتیں اوروہ دن بہت قریب ہے جب کشمیری اپنی اس فصل کوآزادی کی نعمت میں وصول کرکے رہیں گے ان شا ء اللہ!


 

تازہ ترین خبریں