08:33 am
 احمقوں اور حکمرانوں کی جنت؟

 احمقوں اور حکمرانوں کی جنت؟

08:33 am

یوم آزادی منانے کا اصل مزہ کشمیر کی آزادی کے ساتھ منسلک ہے‘14اگست1947ء کے دن قیام پاکستان کی بنیاد بننے والا نعرہ پاکستان کا مطلب کیا ؟ لاالہ الا اللہ بنا تھا مگر پاکستان آج تک اسلامی نظام کے نفاذ سے محروم ہے تو کیوں؟ بانی پاکستان قائداعظمؒ نے کشمیر کو پاکستان کی شہہ رگ قرار دیا تھا آج نریندر مودی جیسے درندے نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے وہاں کے عوام پر خوفناک مظالم ڈھانے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔
 
کشمیر کے سوا کروڑ سے زائد مسلمانوں کو نہ جمعہ کی نماز ادا کرنے دی گئی اور نہ عید کی نماز‘ کشمیر کی بیٹیاں پاکستانی فوج کو بار بار مدد کے لئے پکار رہی ہیں اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی فرماتے ہیں کہ ’’مسئلہ کشمیر پر پاکستانی قوم احمقوں کی جنت میں نہ رہے‘ بھارت ایک ارب عوام کا ملک ہے‘ امہ کے محافظوں نے وہاں سرمایہ کاری کر رکھی ہے‘ بھارت سے جنگ خودکشی ہوگی۔‘‘
دکھ کی بات یہ ہے کہ جب حکمران مافیاء بن کر ایوانوں کو جنت سمجھنا شروع کر دیتے ہیں تو پھر ایسے ہی بیانات داغنا شروع کر دیتے ہیں...ابھی شاہ محمود قریشی پیدا بھی نہیں ہوئے تھے کہ جب قبائلی مجاہدین نے کشمیری مجاہدین کے ساتھ مل کر اسی بھارت کے خون آلود منہ سے آزادکشمیر کو چھینا تھا‘ تب پاکستان کے پاس نہ ایٹم بم تھا اور نہ ہی اس کے عوام کی تعداد 22کروڑ تھی‘ آج تو پاکستان اللہ کے فضل سے ایٹمی قوت ہے‘ ہاں البتہ پاکستان کی باگ ڈور بدقسمتی سے  جیسے نازک انداموں کے ہاتھوں میں آگئی ہے۔
کشمیر کی آزادی کی بات کرنے والے‘ کشمیری عوام کے آزادی کے مطالبے کی حمایت کرنے والے قائداعظمؒ کے فرمان کے ساتھ کھڑے ہیں‘ اسلام کے حکم جہاد کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ’’احمقوں‘‘ کی جنت اور حکمرانوں کی جنت آپ جتنے چاہیں نام بدل لیں لیکن ہر ذی شعور انسان جانتا ہے کہ یہ دونوں ایک ہی جنت کے نام ہیں‘ شاہ محمود قریشی پاکستانی قوم کو احمق قرار  دینے کی بجائے حکمرانوں کی جنت سے باہر نکل کر دیکھیں تو پاکستان کا ایک ایک بچہ حکمرانوں سے سوال کرتا ہوا نظر آئے گا کہ اگر قبائلی مجاہدین کشمیر کے ایک حصے کو بھارت کے خون آلود منہ سے چھین کر آزادکشمیر بنا سکتے ہیں تو ایٹمی اسلامی نظریاتی ’’ریاست‘‘ اس قدر کمزور کیوں ہے کہ جس کا وزیر خارجہ 21کروڑ توحید کے متوالوں کو ہندو مشرکوں سے ڈرا کر کشمیر کی آزادی کی جدوجہد میں شامل ہونے سے باز رکھنا چاہتا ہے؟
یاد رکھیے! ریاست پاکستان نہ 1948ء میں کمزور تھی اور نہ آج 2019ء میں کمزور ہے‘ ہاں البتہ اگر حکمرانوں نے اقتدار کے ایوانوں کو ’’جنت‘‘ قرار دیکر یہ سمجھ لیا ہے کہ وہ  ہمیشہ ہمیشہ اس ’’جنت‘‘ میں رہیں گے تو یہی اصل حماقت ہے۔
ملتان کے شاہ جی کو کوئی بتائے کہ اگر انہیں کشمیر کے مسلمانوں کی جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفظ کی خاطر بھارت سے جنگ کرنے سے ڈر لگتا ہے تو انہیں پاکستان کے اقتدار کی جان چھوڑ دینی چاہیے‘ انچاس کروڑ خدائوں کے پجاری نریندر مودی کو کشمیریوں کا خون بہانے سے ڈر نہیں لگتا۔ ’’گائے‘‘ کا پیشاب پینے والے پلید ہندوئوں کو پاکستان کی جنگ کی دھمکیاں ہی نہیں بلکہ کنٹرول لائن پر بم اور گولے برسانے سے بھی ڈر نہیں لگتا لیکن ہر تقریر سے پہلے ’’ایاک نعبد و ایاک نستعین‘‘ پڑھنے والے بھارت سے جنگ کو خودکشی قرار دیتے ہیں۔
شاہ جی کو کس پاکستانی نے کہا ہے کہ آپ بھارت سے جنگ کریں؟  جنگ بالکل بھی نہ کریں‘ بھارت کی منت کریں‘ترلے کریں‘ نریندر مودی کی خوشامد کریں‘ اس موذی کے پائوں پکڑیں جس طرح سے بھی ممکن ہو اسے کشمیری مسلمانوں پر ظلم ڈھانے سے تو روکیں؟ یا پھر کشمیر کی پاکباز بیٹیوں کے نام ایک پیغام جاری کر دیں کہ وہ آئندہ پاکستانی حکومت‘ فوج یا عوام کسی سے بھی مدد کی امید نہ رکھیں کیونکہ بھارت ایک ارب عوام کا ملک ہے لہٰذا بھارت سے جنگ کرکے ہم خودکشی نہیں کر سکتے۔
کل تک چند ہزار کشمیری مجاہدین نے جب اپنی عسکری کارروائیوں کے ذریعے 7لاکھ سے زائد بھارتی فوج کو تگنی کا ناچ نچا رکھا تھا تو نواز حکومت ہو‘ زرداری حکومت ہو یا عمران حکومت ان سب نے عالمی صیہونی طاقتوں کے دبائو پر کشمیری مجاہدین کو جہاد سے روکنے کے لئے بے پناہ مظالم ڈھائے۔
 حکمران تو کالعدم جہادیوں کے خلاف تھے ہی مگر بعض مولوی بھی حکمرانوں کی بارگاہ میںجہادیوں کے خلاف دل کے پھپھولے پھوڑتے رہے‘ آج جب نریندر مودی نے کشمیری کی خصوصی حیثیت ختم کرکے وہاں بارہ دنوں سے کرفیو نافذ کرکے کشمیری قوم پر عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے تو یہ موقع تھا ریاستی سطح پر اعلان جہاد کرنے کا‘ اب بدنام زمانہ اینکرز‘ لفافہ کالم نگاروں‘ سیکولرز اور غامدی اینڈ کمپنی کی ذمہ داری بنتی ہے  کہ وہ جہاد کا فتویٰ جاری کرے‘ اکابر علماء نے ریاست کی ڈیمانڈ پر جہاد افغانستان کا فتویٰ جاری کیا‘ جن مسلمان نوجوانوں نے اس فتوے پر عمل کرکے پاکستان کے دفاع کی خاطر افغان جہاد میں حصہ لیا‘ پھر صیہونی طاقتوں کے دبائو پر ہم نے ان کا جو حشر نشر کیا وہ سب کے سامنے ہے۔ اسی طرح 30,35سال قبل جہاد کشمیر کا فتویٰ علماء  نے ہی دیا تھا‘ کشمیر کی جنگ پاکستان کے دفاع کی جنگ تھی‘ علماء کے فتوے پر عمل کرکے جن ’’سرفروشوں‘‘ نے کشمیر کے جہاد میں حصہ لیا اور جنہوں نے کشمیری مجاہدین کے ساتھ تعاون کیا‘ بھارت کو خوش کرنے کے لئے عمران خان حکومت نے ان کے ساتھ جو بدترین سلوک کیا اس کی تفصیلات سن کر کلیجہ منہ کو آتا ہے‘ الحمدللہ‘ اب حکومت اور فوج پہلے سے ایک پیج پر ہے۔ 22کروڑ عوام کو بھی حکومت اور فوج کے پیج پر لانے کے لئے ضروری ہے کہ ہر قسم کے خوف اور بزدلی کو ذہنوں سے جھٹک کر ریاست اعلان جہاد کرے کیونکہ پیغام پاکستان کی روح بھی یہی ہے کہ ’’جہاد‘‘ کے اعلان کا حق صرف ریاست کو حاصل ہے‘ شاہ محمود قریشی سے کوئی پوچھے کہ جب کشمیر کی آزادی کے لئے اعلان جہاد کا وقت آیا تو وہ بھارت سے جنگ خودکشی قرار  دے رہیں ہیں‘ شاہ جی اتنی بزدلی اچھی نہیں ہوتی!


 

تازہ ترین خبریں