08:34 am
کشمیرپر سلامتی کونسل کا اجلاس،بھارت کو شکست!

کشمیرپر سلامتی کونسل کا اجلاس،بھارت کو شکست!

08:34 am

٭کشمیر کے بارے 50 سال بعد آج سلامتی کونسل کا اجلاسO اینٹ کا جواب پتھر سے، آزاد کشمیر اسمبلی میں وزیراعظم عمران خان کا اعلانO ہم تیار ہیں، جنرل قمر جاوید باجوہ O مقبوضہ کشمیر مجھے بلا رہا ہے، وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدرO سارے عرب ممالک خاموشO اننت ناگ کا باغی ڈپٹی کمشنر گرفتارO بھارت کا یوم آزادی، پاکستان میں یوم سیاہ۔
 
٭بھارت نے سلامتی کونسل کا اجلاس رکوانے کی پوری کوشش کی۔ روس کے ذریعے دبائو ڈالنے کی کوشش کی مگر آزاد کشمیر اسمبلی میںپاکستان اور آزاد کشمیر کے وزیراعظم کی اینٹ کے جواب میں پتھر کی شعلہ بار تقریروں اور اس کے بعد پاک فوج کے چیف آف سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کا بھارت کو کھلا چیلنج کہ ہم تیار ہیں، نے اک دم جنگی ماحول پیدا کر دیا۔ اب صرف جنگی ترانے باقی رہ گئے تھے۔ اس پر سلامتی کونسل کو حالات کی سنگینی کا احساس ہوا اور کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا گیا۔ پاکستان اور امریکہ کے وقت میں دس گھنٹے کا فرق ہے۔ امریکہ میں اجلاس پاکستان میں شام کے بعد دیکھا جا سکے گا۔ 1971ء کے بعد، 50 برسوں میں کشمیر کے مسئلہ پر سلامتی کونسل کا یہ پہلا اجلاس ہے۔ اس وقت پاکستان اور بھارت میں عملی طور پر کوئی جنگ نہیںہو رہی اور سلامتی کونسل کا اجلاس ایک فریق کی شکائت پر بلایا گیا ہے۔ اس لئے اس میں کسی بھی بڑے فیصلے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ روس نے مقبوضہ کشمیر میںبھارتی اقدامات کو آئینی حیثیت قرار دی ہے۔ بھارت کو توقع تھی کہ روس سلامتی کونسل کا اجلاس رکوا دے گا، مگر روس کے پاکستان کے ساتھ نئے تعلقات قائم ہوئے ہیں۔ اس نے اجلاس رکوانے کی بجائے اس میں شرکت کا اعلان کر دیا ہے، تاہم بھارت کو اطمینان دلایا ہے کہ اس کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں ہونے دے گا۔ پاکستان اس کامیابی پر مطمئن ہے کہ 50 سال بعد کشمیر کا مسئلہ پھر عالمی سطح پر ابھر آیا ہے۔ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے تو عالمی عدالت انصاف میں بھی جانے کا اعلان کر دیا ہے، اس پر بھارت کی پریشانی بڑھ گئی ہے۔ شملہ معاہدہ کے باعث پاکستان اس مسئلے کو عالمی سطح پر نہیں اٹھا سکتا تھا مگر بھارت کے ’بہت سیانے‘ وزیراعظم نے خود ہی یہ موقع پیدا کر دیا ہے۔ شملہ معاہدہ کے تحت کنٹرول لائن میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا سکتی مگر بھارت نے اسے تبدیل کر کے کشمیر کی بجائے بھارتی سرحد بنا دیا اس سے شملہ معاہدہ عملاً ختم ہو گیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے تو بھارت کے ساتھ تمام معاہدے ختم ہونے کا بھی اعلان کر دیا ہے۔ یہ خاصی ہنگامہ خیز صورت حال ہے۔ امکان یہ ہے کہ سلامتی کونسل ایک ڈھیلی ڈھالی قرارداد کے ذریعے پاکستان اور بھارت کو تلقین کر دے گی کہ اپنے مسائل پُرامن افہام و تفہیم کے ساتھ طے کرو اور بس! مگر یہ بھی اہم بات ہے۔
اب مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورت حال، وہاں لاکھوں کشمیری باشندوں کو گھروں میں قید کئے ہوئے بارہ دن ہو گئے ہیں۔ ہر گھر کے باہر بھارتی فوجی کھڑا ہے،بے شمار بھوکے پیاسے خاندان شدید بے بسی کے عالم میں ہیں۔ اس پر اننت ناگ کا ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر خالد اُبل پڑا۔ اس نے ٹویٹ کر دیا کہ ’’بھارتی آئین میںدفعہ 370 ختم کر کے کشمیر کو ایک پنجرے کی شکل دے دی گئی ہے، جس کے اندر لوگ بھوک پیاس اور بیماریوںسے مر رہےہیں، روزمرہ کی ضروریات کی اشیا ء ختم ہو گئی ہیں، اس پر ستم یہ کہ بھارتی فوج اور پولیس ان پر تشدد کر رہی ہے۔‘‘ ڈاکٹر خالد کا یہ ٹویٹ فوراً دنیا بھر میں پھیل گیا اس سے بھارت کی بدحواسی میں مزید اضافہ ہو گیا۔ فوج نے ڈپٹی کمشنر کو گرفتار کر کے سری نگر منتقل کر دیا، وہاں سے اسے دہلی بھیجا جا رہا تھا۔ اس واقعہ نے مقبوضہ کشمیر کی سلگتی آگ میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
٭قارئین کرام! وزیراعظم عمران خان، جنرل قمر جاوید باجوہ، راجہ فاروق حیدر کی پرجوش گرم تقریروں نے فضا کوبے حد گرم کر دیا ہے۔ یہ باتیں اخبارات میں تفصیل سے موجود ہیں۔ صرف چند مختصر باتیں:۔ وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ مودی کا چہرہ بے نقاب ہو گیا ہے۔ پاکستان جنگ میں پہل نہیں کرے گا مگر اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے گا۔ مودی سن لو، تمہیں سبق سکھا دیں گے! تم نے آخری کارڈ پھینک دیا، اب ہماری باری ہے۔ ہم ہر فورم پر، عدالت انصاف میں بھی جائیں گے۔ میں کشمیر کا سفیر بنوں گا۔‘‘ جنرل باجوہ زیادہ زور سے گرجے اور برسے کہ کشمیر کے مستقبل پر کوئی سمجھوتہ نہیںہو گا، ہم بھارتی جارحیت کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے ہیں، کشمیر کاز کے لئے اپنی قومی ذمہ داریاں پوری کریں گے چاہے کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے۔‘‘ راجہ فاروق حیدر اپنی تقریر میں جذباتی انداز میں مقبوضہ کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے اشک بار ہوگئے اور عمران خان کو بھی رُلا دیا، کہا کہ خود میرا تعلق مقبوضہ کشمیر سے ہے۔ میری والدہ اور دوسرے لوگ وہیں پیدا ہوئے۔ میرا نصف خاندان اُدھر ہے۔ میں وہاں جانا چاہتا ہوں، وہاں کی مٹی، وہاں کے پھول دیکھنا چاہتا ہوں۔ یہ کہتے کہتے راجہ فاروق حیدر اشک بار ہو گئے۔ عمران خان کی آنکھوں میں بھی آنسو تیرنے لگے!
٭حیرت کی باتیں! بھارتی میڈیا پاگل پن میں مودی حکومت سے بھی دو ہاتھ آگے جا رہا ہے۔ ٹائمز آف انڈیا بھارت کا سب سے بڑا اخبار ہے (روزانہ 32 لاکھ اشاعت) گزشتہ روز اس کی لیڈ سٹوری کی شہ سرخی تھی کہ سلامتی کونسل نے اجلاس بلانے کے لئے پاکستان کی درخواست مسترد کر دی! مگر پاکستان کے بھی بڑے اخبار کے ارسطو قسم کے تجزیہ نگار نے بھی دانش وری دکھائی کہ سلامتی کونسل کا اجلاس اس ماہ کے آخر سے پہلے نہیں ہو سکتا! اور اجلاس آج ہو رہا ہے!
٭بھارت میں آج یوم آزادی اور پاکستان میں یوم سیاہ منایا جا رہا ہے۔ ہر شہر میں بھارت کے خلاف جلوس نکل رہے ہیں۔ لاہور میں ایک ریلی کی گورنر چودھری محمد سرور اور وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے مشترکہ قیادت کی۔ ملک بھر میں قومی پرچم سرنگوں رہا۔ ادھر دہلی کے لال قلعہ میں یوم آزادی کی تقریب میں وزیراعظم نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے کی کھل کر حمائت کی اور نام لئے بغیرپاکستان کو ایسا دہشت گرد ملک قرار دیا جو بھارت، افغانستان اور بنگلہ دیش کے علاوہ سری لنکا میں بھی دہشت گردی کر رہا ہے اور دہشت گردوں کو بھاری مالی امداد دے رہا ہے! مودی نے سخت لہجے میں کہا کہ بھارت اس دہشت گردی کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گا۔ بھارتی وزیراعظم نے اس موقع پر تینوں مسلح بری، فضائی اور بحری افواج کے مشترکہ چیف آف ڈیفنس سٹاف کے عہدے کا بھی اعلان کیا۔ اس عہدے پر چار ستاروں والا کوئی سینئر جرنیل متعین ہو گا جو وزیردفاع کے مشیر کے طور پر کام کرے گا۔ پاکستان میں چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف کا ایسا عہدہ پہلے ہی موجود ہے۔
٭کچھ گھر کی باتیں: پنجاب اسمبلی میں سابق سینئر وزیر رانا ثناء اللہ اور ان کی بیوی اور بیٹی کی ساری املاک کو منجمد کر دیا گیا ہے۔ ان میں آٹھ پلاٹ اور 31 دکانیں شامل ہیں۔ 
٭منادی: جس نے نہیں سنا، سن لے، جس نے نہیں جانا، جان لے کہ وفاقی حکومت نے مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی پر 116 تمغوں کا اعلان کیا ہے ان میں گانے بجانے والوں کے لئے چھ تمغے ہیں۔ دو معمولی تمغے مرحوم ادیب ابن صفی اور مرحومہ شاعرہ فہمیدہ ریاض کے لئے رکھے گئے ہیں، مگر ملک کے کسی زندہ شاعریا ادیب کے لئے کوئی تمغہ نہیں رکھا گیا۔ ممکن ہے کہ تمغے دینے والے ’اعلیٰ دماغوں‘ کو ملک میں کوئی شاعر یاادیب دکھائی نہ دیا! ایک میراثی کا بیٹا امتحان میں فیل ہوا۔باپ نے وجہ پوچھی۔ بیٹے نے کہا کہ ابا! میں کلاس میں سب سے آخری بنچ پر بیٹھتا تھا، استاد نے سب سے اگلے بنچ سے نمبر بانٹنا شروع کئے۔ مجھ تک آتے آتے نمبر ختم ہو گئے۔ استاد نے مجھے اگلے سال اگلے بنچوں پر بٹھانے کا وعدہ کیا ہے۔ 
 

تازہ ترین خبریں