08:11 am
  پاکستان بنانے اور بگاڑنے والے 

  پاکستان بنانے اور بگاڑنے والے 

08:11 am

۔ کراچی میں جو کام نسل پرست دہشت گرد کیا کرتے تھے وہ اب سرکار کے ادارے کر رہے ہیں ۔ بیگناہ شہری کو مارنے کے لیے کسی لنگڑے، ٹنڈ ے یا کن ٹُٹے کی ضرورت نہیں رہی! یہ کام کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کے کھمبے بلاامتیاز رنگ ونسل کر رہے ہیں ۔ پہاڑی علاقوں میں کالی گھٹا برسے تو بجلی آسمان سے گرتی ہے۔کراچی میںگھٹا برسے تو بجلی الیکٹرک پول سے کسی کے نورنظر پرگرتی ہے اور پورے خاندان کو جیتے جی مار دیتی ہے۔ مائوں کے ہنستے کھیلتے لختِ جگر پل بھر میں برقی جھٹکے کا شکار ہو کے لاشے میں تبدیل ہو گئے۔ نہ کوئی مدعی، نہ گواہ ، نہ مقدمہ اور نہ ہی کوئی مجرم ۔ شہر کے میئر میڈیا کی ٹیمیں ہمراہ لئے ایف آئی آرکٹوانے کا ڈرامہ رچاتے رہے۔ لاشوں پر سیاست کی عادت بھلا کوئی آسانی سے جاتی ہے۔ 
 
پولیس نے میئر کو ٹکا ساجواب دیا کہ مقدمہ ادارے کے خلاف تو ہو سکتا ہے لیکن کسی فرد کو نامزد نہیںکیا جاسکتا! مئیر صاحب سے سوال ہے کہ جب ان کی جماعت شہر کی بلاشرکت غیرے مالک تھی اور جب وہ خود بھی اس صوبے کے وزیر داخلہ تھے تو اس دور میں کراچی شہر سمیت صوبے بھر میں سرکاری اداروںکی غفلت سے مرنے والے شہریوں کی ایف آئی آر کس کس کے نام پر کٹوائی جائے؟ کراچی شہر کا مقدمہ کیا ہے؟سادہ بات یہ کہ صوبہ سندھ کو جو سیاسی کینسرلاحق ہے کراچی اس سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ کبھی  لیاری کے گینگسٹر،کٹی پہاڑی کے دہشت گرد اورلالوکھیت کے بدمعاش کراچی پر حکومت کرتے تھے۔ ہر برانڈاورماڈل کے غنڈے، بدمعاش، ٹارگٹ کلر، بھتہ خوراورڈکیت راجہ بن کے کراچی پر راج کرتے رہے۔ شہری ان کی رعایا بنے رہے۔ یہ غنڈہ راج جمہوری نظام پر مکمل یقین رکھنے والی جماعتوں کا عطا کردہ متوازی نظام حکومت تھا۔ کراچی شہر غنڈوں کے گروہوں میں بٹا رہا ۔ مرنے والے شہری کی لاش سڑک سے اٹھانے سے پہلے اُس کی قومیت اورلسانی شناخت کا تعین کیا جاتا تھا۔ لسانی شناخت کی بنیادپرمتعلقہ گینگ واویلا مچانے کا ڈرامہ رچاتا تھا۔ کراچی شہر لسانی بنیادوںپرتقسیم کیا گیا۔ اردو،پشتواور سندھی بولنے والوں کے اپنے اپنے محافظ تھے۔ بلوچی اورپنجابی بولنے والے اپنے اپنے علاقوںکے گینگسٹرز کے آگے سر نگوں ہوتے رہے۔ 
کراچی شہر کی کمر پرغیر قانونی طورپر مقیم افغانی، بنگالی، برمی آبادی کا بوجھ بھی لدا ہوا ہے۔ یہ غیرملکی تارکین لسانی بنیادوں پراٹھنے والے تنازعات میںکسی نہ کسی بڑے گینگ کے دامن میں پناہ لے کے سنگین وارداتوں کے ارتکاب میں ملوث رہے ہیں۔ کراچی شہر میںتھانے،تعلیمی ادارے اورہسپتالوں جیسے عوامی خدمت کے ادارے بھی لسانی تفریق کا شکار ہو گئے۔ اس شہر کو لندن،دلی اورکابل سے کنٹرول کیا جاتا رہا ۔ را ،ایم آئی سکس اورخاد کے تنخواہ دارصرف کراچی شہر ہی پر راج نہیںکرتے رہے بلکہ صوبائی اور وفاقی حکومتوں کو اپنے اشاروں پرنچاتے رہے۔ سندھ کی شہری اوردیہی آبادی کو لسانی تعصب کے زہریلے نشے کا عادی بنا کے بربادی کی راہ پر ڈال دیا گیا ۔ 
یہاں سندھ کارڈ کھیلاگیا! یہاں مہاجر کارڈکھیلا گیا۔ یہاںپختون ،پنجابی اور بلوچی کارڈ کھیلا گیا۔ نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ مہاجروں،پٹھانوں ، سندھیوں ، پنجابیوںاوربلوچوںکے نام نہاد محافظ کل بھی اقتدارمیں تھے اور آج بھی کسی نہ کسی شکل میں اقتدارمیں شریک ہیں ۔کراچی ہی نہیں پورے سندھ کو سوچناچاہئے کہ لسانی کارڈ کھیلنے والوں نے انہیںکیادیا؟  آج کراچی ایک کچرا کنڈی بن چکا ہے۔ بارش برسے تو بجلی کے کھمبے موت کے پھندے بن جاتے ہیں۔ نالے اور مین ہول زندہ معصوم بچوںکو نگل کر اُن کی لاشیںاگل دیتے ہیں۔ آندھی چلے تو ہورڈنگز شہریوں کے لیے دست اجل بن جاتے ہیں۔ دیہی سندھ کا حال تصور سے زیادہ خراب ہے۔ نہ بجلی،نہ پانی،نہ گیس۔ تھانہ وڈیرے کا ڈیرہ ہے جہاں مزارعہ وقت کے فرعون کو اپنی جان،مال اورآبروکاخراج دینے ہمہ وقت حاضرباش رہتاہے۔ ڈکیتوں،رسہ گیروں،نسل پرستوں اوردہشتگردوں کے پنجے میں سندھ سسک رہاہے۔ خودکو وفاق کی زنجیر کہنے والی جماعت پی پی پی اپنے گریبان میںکب جھانکے گی ؟ سندھ میں پی پی پی کاطرزعمل ایک لسانی تنظیم جیسا رہا ہے۔ ووٹ بٹورنے ہوں تو سندھی ووٹرکوکبھی پنجاب کی دہائی دی جاتی ہے اور کبھی شہری علاقوں میں ایم کیو ایم کی سیاسی قوت کو لسانی تعصب میں  رنگ کے حّوا بنا کے پیش کیا جاتا ہے۔ 
پی پی پی کے حامی اس رائے سے اختلاف کا حق رکھتے ہیں لیکن کسی بھی اختلاف سے پہلے پارلیمان میں سابق صدر زرداری کے اس بیان کی کوئی قابل قبول تشریح فرمادیںکہ جس میںانہوں نے قیام پاکستان کے وقت ہندوستان سے ہجرت کر کے آنیوالوں کے خلاف نفرت انگیز خیالات کا اظہار فرمایا ہے۔ تاریخ کے نازک موڑ پر مسئلہ کشمیر جیسے اہم موضوع پر ہونے والے اجلاس میں قومی یکجہتی کو نسل کو تعصب کے ایندھن سے نذرِ آتش کیوں کیا گیا؟ مقام ِ افسوس کہ افریقہ کے کسی دور افتادہ مقام پر ہونے والے واقعے پر نسل پرستی اورلسانی تعصب کا ماتم کرنے والے طبقے اپنے ملک کی پارلیمان میں ہونے والی اس واردات پرخاموش کیوں رہے؟ 
کیا پی پی پی کی صفوں میں کوئی ایک حق گو ایسانہیںجو اس بیان کی مذمت کرسکے؟ نون لیگ، جے یو آئی ، اے این پی سمیت دو درجن سے زائد جماعتوںکو حق بات کہنے کی توفیق کیوں نہیں ہوئی؟ ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کی مذمت سیاسی مجبوری سے زیادہ کچھ نہیں تھی۔ سابق صدر شائد جانتے نہیں کہ پاکستان بننے کے بعد محض اردو بولنے والے ہی نہیں بلکہ پنجابی، گجراتی،مارواڑی اورکشمیری زبانیں بولنے والے پورے پاکستان میں آباد ہوئے۔ سندھ پر بھٹو کے نام پر حکو مت کرنے والے اپنے گریبان میں جھانکیں اور اس سوال کا جواب دیں کہ آخر سندھ میں ہی ہجرت کر کے آنے والوں کو طعنے کیوں دئیے جاتے ہیں؟ رہی یہ بات کہ پاکستان کس نے بنایا تھا تو فی الحال دو باتیں پیش خدمت ہیں۔ اول،پاکستان برصغیر کے مسلمانوں نے اقبال کی فکر اور جناح کی قابل فخر قیادت میں عشروں کی طویل جدوجہد کے بعد حاصل کیا تھا۔ اس ملک کے بنانے میںکسی بھٹو،شریف ، زرداری ، الطاف ،اچکزئی یا سرحدی گاندھی کا کوئی کردار نہیں تھا ۔دوم ، پاکستان بنانے والے اکابر اب اس دنیا میں نہیں۔ البتہ پاکستان بگاڑنے والے اب اس ملک پر مسلط ہیں۔ بہتر ہے اپنے اپنے گریبان میں جھانکیں اور بتائیں کہ کس کس نے پاکستان کا کتنا بیڑہ غرق کیا ہے؟      

تازہ ترین خبریں