08:14 am
اعلیٰ کمانڈ کو مؤثر بنایا جائے

اعلیٰ کمانڈ کو مؤثر بنایا جائے

08:14 am

جنرل میک آرتھر کا معروف قول ہے ’’فوجی مرتا نہیں ، بس نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے‘‘۔ پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے حامل سپاہیوں کے لیے رول ماڈل کی حیثیت رکھنے والے انتہائی دیانت دار اور راست گو جنرل محمد شریف پر یہ قول صادق آتا ہے۔ وہ 70ء کے اوائل میں’’ہائر ڈیفینس آرگنائزیشن‘‘ (ایچ ڈی او)کا تصور تحریر میں لائے جسے بعد میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے عسکری مقاصد کے بجائے سیاسی طور پر استعمال کرکے آرمی چیف کے کردار کو محدود کرنے کے لیے استعمال کیا۔ بھٹو نے 1976ئمیں جنرل شریف کوجوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی  کا چیئرمین بنایا، تینوں افواج کی نگرانی اس منصب کی ذمے داری تھی۔ 
 
1977ئمیں جنرل ضیاء الحق نے جب حکومت کا تختہ الٹا تو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ’’کاغذی شیر‘‘ ثابت ہوا اور جی ایچ کیو کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگئی، گزشتہ 42 برس سے واضح طور پر اس کا تسلسل جاری ہے۔ مارشل لاء کے بعد جنرل شریف کو کنارے کردیا گیا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں اور قومی مفاد کے پیش نظر  انہوں نے فوج کی اثر پذیری کے لیے ایچ ڈی او سے متعلق اظہار خیال نہیں کیا جب کہ ضیاء الحق نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے اس تصور کر غیر متعلق کردیا تھا۔ بعد کے پچیس برسوں میں ان کے پیش رو اس تصور کا دفاع کرتے رہے۔ 2010ئمیں اپنے ایک کالم میں جب میں نے لکھا کہ چیئرمین جے سی ایس ’’کیا کرتے ہیں؟‘‘ تو اس وقت کے چیئرمین جے سی ایس سی جنرل طارق مجید نے، جو شاید (جنرل کیانی کی جگہ) آرمی چیف نہ بنائے جانے پر ناراض تھے، برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس وقت کے ڈی جی آئی ایس پی آر اور میرے اچھے دوست میجر جنرل اطہر عباس کے ذریعے مجھے سخت پیغام بھجوایا۔ اس پیغام رسانی پر اطہر عباس بھی شرمسار ہوئے۔ منافقت کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو خاموش کروانے کی ایسی مثالیں بھی کم ہی ملتی ہیں اور پتہ دیتی ہیں کہ منصب کی اہلیت نہ رکھنے والے کس طرح میرٹ کو نااہلی میں بدل دیتے ہیں۔  
ہمارے ہاں افواج کے اعلیٰ ترین منصب پر فائز چیئرمین جے سی ایس سی کے بجائے حقیقی طور پر آرمی چیف ہی تمام افواج کا سربراہ ہوتا ہے، مراتب کی درجہ بندی میں یہ ایک  تشویش ناک سقم  ہے جسے تسلیم  بھی کرلیا گیا ہے۔ افواج کا حقیقی سربراہ برائے نام سربراہی پر راضی ہے ، برونائی  اور بروندی جیسے ممالک کے دورے کرتا ہے، سویلین کارپوریٹ گروپ سے ولولہ انگیز خطابات کرتا ہے اور اس کی پیشہ ورانہ فراست انہی کاموں میں صرف ہوجاتی ہے۔ اسے تینوں(اور ممکنہ طور پر چاروں) افواج پرکوئی آپریشنل اور انتظامی اختیار نہیں ہوتا۔ یہ دورنگی شاید دورِ امن میں تو کامیابی کے ساتھ جاری رکھی جاسکتی ہے لیکن جنگی حالات میں اس کی حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے افراد کسی ٹھوس جواز کے بغیر جنگ میں کود پڑتے ہیں۔ زمینی حقائق کے پیش نظر  ماضی میں فیصلہ سازی  کے عمل میں جو  خلا پیدا ہوئے انھیں پُر کرنے کا وقت آپہنچا ہے۔ قومی سلامتی کو درپیش خطرات کے تناظر میں اصلاح احوال ناگزیر ہوچکی ہے۔ 
پاکستان جیسے ممالک کے لیے فضائیہ اور بحریہ انتہائی اہمیت کی حامل ہیں تاہم جغرافیہ اور ملکی رقبے میں گہرائی کم ہونے کی وجہ سے نقل و حرکت کی محدودات کے باعث بری افواج کا کردار بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ کراچی کے پی اے ایف وار کالج اور لاہور میں نیول وار کالج کے ساتھ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں تواتر سے لیکچر دیتا ہوں اور میرے دل میں فضائیہ اور بحریہ کے افسران کا بہت احترام ہے۔ ان میں سے کئی بّری افواج کے افسران کی طرح جنگی حکمت عملی میں مہارت رکھتے ہیں۔ تاہم جنگ کی تیاری کوئی کھیل نہیں، ایک ایسے خطے میں جہاں بڑے محاذوں پر بّری افواج کے لیے بڑی نقل و حمل آسان نہ ہوں ، ایک ہمہ گیر حکمت عملی درکار ہوتی ہے۔ آزاد کشمیر اور شمالی علاقوں، پنجاب کے میدانوں ، رحیم یار خان اور بہاولپور سیکٹر، حیدرآباد چھور بدین سیکٹر جیسے مختلف نوعیت کے محاذ پیش نظر رہنے چاہئیں۔ ہمیں اپنی برتری برقرار رکھنے کے لیے بالخصوص کراچی پر فضائی جنگ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، پاکستانی حدود کے تحفظ کے لیے بحریہ کو سمندری محاذ پر مقابلہ کرنا ہوگا اور جنوب میں ہیلی کاپٹرز کے ذریعے دفاع کی صلاحیتیں ناگزیر ہیں۔ ان میں سبھی محاذ انتہائی اہمیت کے حامل ہیں لیکن فیصلہ کن لڑائی زمین ہی پر ہوگی۔ اس لیے مختلف افواج کے افسران میں یکسوئی پیدا کرنے کے لیے کسی انتہائی قابل اور سینئر فرد کی قیادت کی اہمیت بحث سے بالا تر ہے۔ جنگ کھیل نہیں اور خاص طور پر جب ملک کا وجود خطرے میں ہو۔ یہی وجہ ہے کہ دشمن کی روایتی سامان حرب اور عددی برتری کو زائل کرنے کے لیے ٹیکنیکل جوہری ہتھیاروں پر ہمارا انحصار ہے۔ نیٹو  کی جانب سے  یورپ میں بھی اس اہمیت کو سمجھتے ہوئے بّری افواج کے کمانڈر کو انتظامی اور آپریشنل اختیارات دیے گئے ہیں۔ 
ہائبرڈ وار فیئر کی پیچیدگیوں اور اس میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے باعث اس خامی کو دور کرنا مزید ضروری ہوجاتا ہے۔ پاکستان کے خلاف بھارت کی ہائبرڈ وار میں ہارڈ اور سوفٹ دونوں طر ح کی قوتوں کا استعمال کیا جارہا ہے۔ فنانشل ٹائم کے مطابق ’’مستقبل میں جنگ کا اعلان ضروری نہیں ہوگا اس میں بس جارحیت اور تشدد کے استعمال میں بتدریج اضافے کی دور بیٹھ کر نگرانی کی جائے گی‘‘۔ آج جنگ روایتی حربوں تک محدود نہیں رہی اس میں دہشت گردانہ حملوں، کسی ملک کی نظریاتی اساس سے متعلق شبہات اور  افواج کو بدنام کرنے کے لیے ’’کوٹلیہ ارتھ شاستر‘‘ کی طرز پر اوچھے ہتھکنڈے بھی استعمال کیے جاتے ہیں جس میں ہمارے میڈیا کی کچھ کالی بھیڑیں بھی کارندے کا کردار ادا کررہی ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی اور پینتروں سے کسی بھی جارحیت کے اصل ذمے داران کے چہرے چھپائے جاسکتے ہیں۔  بھارت نے ہائبرڈ وارفیئر کے لیے گیم پلان کو بڑی مہارت سے مرتب کیا ہے۔ شہروں میں تشدد، جبر اور سائبر وار فیئر، ریاستی و غیر ریاستی عناصر اور دونوں کے اشتراک سے کارروائیاں کرنا اس کی حکمت عملی میں شامل ہے۔ اس نئی طرز کی جنگ میں کرنسی میں ہیر پھیر اور منی لانڈرنگ کے ذریعے معیشت کی تباہی،کھیل،ثقافت سمیت شہریوں میں بے چینی پھیلانے کا ہر حربہ شامل ہے۔ ایف اے ٹی ایف کے ذریعے ہمیں دیوار سے لگایا جانا ہائبر وار فیئر کے اقتصادی ہتھکنڈوں کی مثال اورکرنسی کی قدر میں مداخلت بھی اسی کی ایک اور شکل ہے۔  
ان خدشات کے پیش نظر گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ نے مجھے اسٹیٹ بینک کے عملے کو ہائبر وار فیئر سے ہونے والے نقصانات کے بارے میں آگہی کے موضوع پر گفتگو کے لیے مدعو کیا تھا، بدقسمتی سے میرے کسی جواب سے قبل ہی وہ اپنے منصب سے الگ ہوگئے۔ امید ہے کہ انتہائی قابل اور مخلص گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر زمینی حقائق اور مستقبل کے خدشات کا ادراک رکھتے ہیں کیونکہ انھیں ایسے حالات میں کام کرنے کا تجربہ بھی ہے(انہوں نے مصر میں اپنی تعیناتی سے یقیناً بہت کچھ سیکھا ہوگا)۔
جوہری ہتھیاروں کے اس دور میں تمام جدید افواج پر مشتمل ’’اسٹریٹجک فورس‘‘ تشکیل دی جاتی ہے۔ ’’ہائبرڈ وار فیئر‘‘ کا مقابلہ بھی اسی فورس کی ذمے داریوں میں شامل ہوسکتا ہے۔ جوہری ہتھیاروں اور میزائل پروٹیکشن کے لیے اسپیشل پلینز ڈویژن(ایس پی ڈی) الگ حیثیت میں کام کرتا ہے، اس کی مجموعی تعداد بحریہ اور فضائیہ سے بھی زیادہ ہے، اس کی کمانڈ میں بہتری لا کر اسے فور اسٹار جنرل کے دینی چاہیے۔ تینوں سروس چیف کو باری باری کمانڈ دینا عملی طور پر مناسب نہیں۔ ایک ہی فرد بیک وقت چیئرمین جے سی ایس سی اور آرمی چیف کیوں نہیں ہوسکتا؟ بری افواج کا کمانڈر چیئرمین جے سی ایس سی کی ذمے داریاں بھی نبھائے اور جی ایچ کیو میں موجود رہے۔ 
ایک فائیو اسٹار جنرل کے پاس تمام مسلح افواج کا آپریشنل کنٹرول، بریگیڈیئر (اور فضائیہ و بحریہ میں اس کے مساوی رینک کی)  سطح کی ترقی و تعیناتی کے اختیارات ہونے چاہئیں۔ اس کے علاوہ کور کمانڈر (اور اس کے مساوی) چاروں فورسز کی کانفرنس طلب کرسکتا ہو۔ وزارت دفاع کے قواعد میں تبدیلی کے لیے آئینی ترمیم درکار نہیں۔ اس کے علاوہ جے سی ایس سی سیکرٹیریٹ میں  فضائیہ اور بحریہ سے باری باری نائب چیئرمین ہونے چاہئیں۔ 
ہمیں نئی سروس (جو پہلے ہی موجود ہے لیکن صرف برائے نام) تشکیل دینے کی ضرورت ہے، آرمی چیف کے لیے موزوں چار افسران میں دوکو فور اسٹار جنرل بنا کر ایک کو بطور وائس چیف آف آرمی اسٹاف چیئرمین جے سی ایس سی کے لیے مقرر کیا جائے اور دوسرے افسر کو ’’اسٹریٹیجک فورسز‘‘ کا سربراہ بنا دیا جائے۔ اس سے آرمی میں سینیارٹی بھی متاثر نہیں ہوگی۔ 
بھارت جنگ کے نقارے بجا رہا ہے اور ممکنہ طور پر یہ صورت حال ایک بڑے معرکے میں تبدیل ہوسکتی ہے۔اس لیے ہمیںفوری طورپرحقائق کاادراک کرتے ہوئے مربوط قیادت(یونیفائیڈ کمانڈ) کی جانب منتقل ہونا ہوگا۔ یہ اسی وقت مؤثر ثابت ہوگا جب اس تبدیلی میں ایسے افراد کو شامل کیا جائے جو جے سی ایس سی کو ایک مؤثر مربوط کمانڈ بنانے کے لیے مطلوبہ تجربہ بھی رکھتے ہوں۔ 
اس کے لیے ایسے فرد کے انتخاب ہونا چاہیے جو نہ صرف جمہوریت کا حامی ہو بلکہ قانون کی حکمرانی سے گہری وابستگی بھی رکھتا ہو، اس کی پیشہ ورانہ لگن کو عوامی اعتماد حاصل ہو، دیانت داری، محنت اور فرض کی پکار پر لبیک کہنے والا ہو۔ میرے کچھ مہربان بخوشی میری سفارشات کو یک طرفہ قرار دینے کے لیے بے چین ہوں گے لیکن میں کئی برسوں سے، جی ایچ کیو میں کمان کی تبدیلی قریب آنے پر، ایسی تجاویز پیش کرچکا ہوں، حال ہی میں 2010ء، 2013ئاور 2016ئمیں اس موضوع پر لکھ چکا ہوں۔ اگلے تین برس تک اس عہدے پر فائز رہنے سے کیانی کی دیانت داری اور اوصاف کا کیا حال ہوا۔ اس لیے ایک مؤثر چیئرمین جے سی ایس سی کے طور پر ترقی ایک بنیادی سقم کو دور کرنے کے لیے ضروری ہے اور پاکستان کے لیے یہ تبدیلی ہر اعتبار سے خوش آئند ہوگی۔

تازہ ترین خبریں