08:16 am
نہیں بھروسہ دم کا

نہیں بھروسہ دم کا

08:16 am

ہاں بہت ہاتھ پائوں مارتاہے انسان بہت کوشش، بہت تگ ودوکس لیے؟اس لیے کہ وہ سکون سے رہے، آرام سے رہے،محفوظ رہے۔ناموری کا خواہش مند ہوتا ہے وہ واہ،واہ سننا چاہتاہے دادوتحسین کاطالب اورچہاردانگ عالم میں تشہیربس یہی ہے۔سکون سے  ر ہنا چاہتاہے اوربے سکون ہوتارہتاہے۔آرام فوم کے گدوں پرسونے سے ملتانہیں ہے،لاکھ توپ وتفنگ پاس ہو،اپنوں سے بھی ڈرتارہتاہے۔سائے سے بھی ڈر جا نے والا۔ناموری کے شوق میں ایسی ایسی بے ہودہ حرکتیں سرزدہوجاتی ہیں اس سے کہ بس۔چہار جانب بچہ جمہو ر ے واہ،واہ کرتے رہتے ہیں اورخلقِ خداتھوتھو۔دادوتحسین کیلئے نت نئے ڈرامے اوراداکاری  لیکن ذلت لکھ دی جاتی ہے۔میں غلط کہہ گیاہوں،اپنی ذلت ورسوائی کاسامان ساتھ لیے پھرتاہے وہ اورپھردیکھتے ہی دیکھتے وقت کا گھوڑااسے اپنے سموں تلے روندتاہوانکل جا تا ہے۔
 
سامان سوبرس کاہوتاہے اورپل کی خبرنہیں ہو تی۔ اپنی اناکے بت پوجنے والاکب کسی کوخاطرمیں لاتا ہے! بس ذراسااختلاف کیجیے توچڑھ دوڑتاہے اپنے لشکرکو لیکر،یہ جانتے بوجھتے بھی کہ لشکروں کوپرندوں کاجھنڈ کنکریاں مارکرکھائے ہوئے بھس میں بدل دیتا ہے۔ دنیاعبرت سرائے ہے یہ لیکن نہیں مانتاوہ‘وہ نازکرتا ہے اپنے لشکرپراوردنیائے فانی میں کوئی سدا نہیں جیتا۔اپنے سینے پرسجے تمغے دیکھ کرنہال ہوجانے والے بھی تنہا اور لاچارہوجاتے ہیں اس لیے کہ زندگی پر موت کاپہراہے اورموت کسی سے خائف نہیں ہوتی۔ہاں وہ کسی چارد یو ا ری، کسی پناہ گاہ،کسی قلعے، کسی نسب،کسی منصب وجلال،کسی لشکرکونہیں مانتی، دبوچ لیتی ہے اورپھرایسا کہ سامان سوبرس کاہوتا ہے، جودھراکادھرارہ جاتاہے۔جسم کے پنجرے کوتوڑکر موت اچک لیتی ہے اس کی روح۔
کشمیرمیں جاری آزادی کی لہرنے ایک امید پیداکررکھی ہے۔اس میں شک نہیں کہ بھارت اپنے عالمی استعماری دوستوں کے بل بوتے پربین الاقوامی صورتِ حال کوتبدیل کرنے کی اپنی سی کوشش کررہاہے اورعالمی استعمار کی پالیسیوں کے باعث اس تحریک کوسردکرنے کی کوششیں بھی جاری وساری ہیں لیکن اس کے باوجودمعاملات میں کوئی کمزوری پیدا نہیں ہورہی بلکہ دن بدن حالات قابوسے باہرہوتے جارہے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ امریکہ اوراس کے اتحادیوں کے افغانستان میں داخل ہونے کے بعد پاکستان پرشدید دباؤ کے نتیجے میں مسئلہ کشمیرمتاثر ضرورہواہے لیکن جوں جوں امریکہ اوراس کے اتحادی افغانستان میں ناکام ہوئے،اتحادیوں نے واپسی میں عافیت جانی اوراب امریکہ واپسی کی راہ تلا ش کرنے میں دن رات کوشاں ہے،کشمیر کی تحریک ِآزادی چلانے والے مرد مجاہدسیدعلی گیلانی اوران کے ہمنوا ؤں کوپورایقین ہے کہ افغانستان سے ان بیرونی غاصبوں کی واپسی کے بعدحالات یکسر بدل جائیں گے ۔
یہ مفروضہ بھی یقیناغلط ہے کہ تحریکِ آزادی کمزور ہوگئی ہے اوراب رابطہ کاروں کی طے شدہ رپورٹ پرکشمیریوں کوکسی لالی پاپ پرراضی کرلیاجائے گا اور کشمیریوں کی بے پناہ اوربے مثال قربانیوں کوکسی انجانی قبرمیں دفن کردیا جائے گالیکن اب یہ اس لئے ممکن نہیںکہ ’’شرائن بورڈ‘‘اور’’کشمیرچھوڑدو‘‘کی تحریکوں نے عسکری سے زیادہ عوامی رنگ اختیارکیاہے ۔پچھلی سات دہائیوں سے بھارتی جنتاکوبلا کسی ثبوت اورشواہد کے کشمیر میں جاری کسی بھی تحریک آزادی کی پشت پرپاکستان نظرآتاتھا لیکن اب جوتحریک اٹھی ہے اس کے پس پشت ماضی کی تحریک اورقربانیوں کے اثرات کوبین الاقوامی طورپر بھی شدت سے تسلیم کیاجارہاہے اورخود بھارت کے کئی انصاف پسند دانشورکشمیرپرہونے والے مظالم پر بھرپور احتجاج کر رہے ہیں اوریہی وجہ ہے کہ کشمیر کا تحریکی پہلوپہلے سے کمزور نہیں بلکہ کئی گنامضبوط ہو کر ابھراہے۔ میراوجدان اس بات کی گواہی دیتاہے کہ جونہی امریکہ  افغانستان سے نکلے گاکشمیرکی آزادی کوکوئی روک نہیں سکے گااوراگر اب اس معاملے کوطاقت کے بل بوتے پردبانے کی کوئی کوشش کی گئی توبھارت کوکشمیر کے ساتھ بہت کچھ اور چھوڑنا پڑے گاجو یقینا بہت مہنگاسودا ہوگا۔
کشمیرکی تحریکِ آزادی کودبانے کیلئے ایک اورخدشے کا اظہار بھی تواترکے ساتھ کیا جاتا ہے کہ افغانستان میں روسی جارحیت کے دوران مجاہدین ،دینی جماعتیں اورامریکہ باہمی حلیف تھے مگرجونہی امریکہ کے مقاصدحاصل ہوئے وہ حلیف سے حریف بن گیا، اس طرح مجاہدین امریکہ کے آلہ کارکے طوراستعمال ہوئے اورامریکہ اپنے مقاصد حاصل کرکے ان تمام مجا ہد ین کو تنہااورپاکستان پرایک خطرناک بوجھ ڈال کر فرار ہوگیا۔ امریکہ کی تاریخ سے جو واقف ہیں وہ اس بات سے باخبرہیں کہ امریکہ  اب تک دودرجن سے زائدملکوں میں جارحیت کا مرتکب ہوالیکن باوجود دنیا کی سپر پا و ر ہونے کے اس کو ہرملک میں عوامی شکست سے دوچار ہوناپڑا۔امریکہ کچھ دیرکیلئے ضروروہاں اپنے من پسند ایجنٹ حکمرانوں کی مدد سے اپنی مرضی کے احکامات پرتعمیل کرواتارہالیکن بالآخراس کو شدیدجانی اورمالی نقصان کے بعدہزیمت سے دوچارہوکرنکلناپڑابلکہ ویتنام میں تواس کے فوجیوں نے ہیلی کاپٹر سے لٹک کرراہِ فرار اختیار کیا۔
کئی صاحبِ نظرتواس بات کی پیش گوئی کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کواس صدی میں غلبہ عطافرماناہے۔پندرہویں صدی کے بالکل آغازہی میں روس افغانستان آیاتھا جس کی بناء  پرافغان جہاد شروع ہوگیاتھا،امریکہ کے روس کے خلاف اپنے مفادات تھے اوراس نے اپنے مفادات کے تحت حکومتوںسے ڈیل کی اورافغان جہادمیں اپنے مفادات کی تکمیل میں شامل ہوگیاتھامگروہ ایک پہلوتھا لیکن مجاہدین نے جوقربانیاں اخلاص اورجذبے کے تحت دی ہیں انہیں یہ کہناکہ امریکہ استعمال کرگیا۔یہ ایسے چندلوگوں کی سوچ ہے جواب بھی اپنے مفادات امریکہ کی دوستی میں تلاش کرتے ہیں اور وہ اس پہلو کوبھول جاتے ہیں کہ امریکہ کے اپنے مفادات ہیں جس کی تکمیل میں وہ کبھی بھی کسی کی قربانی دینے سے گریزنہیں کرتا اوریہی وہ تلخ حقیقت ہے۔ کشمیریوں کی قربانیاںبھی ضروررنگ لائیں گی اورتاریخ اس بات پرشاہدہے کہ اگر روس اورامریکہ جیسی سپرطاقتیں افغانستان میں نہ ٹھہرسکیں توپھربھلابھارت طاقت کے بل بوتے پرکشمیریوں کوکتنی دیرتک دباسکتا ہے جبکہ وہ خودان دونوں طاقتوں کے مقابلے میں کہیں کمزوراور ناتواں ہے۔
 یہ ہے دنیا جناب!سب ساتھ چھوڑ جاتے ہیں،زندگی خودبھی گناہوں کی سزادیتی ہے۔ آگے آگے دیکھئے ہوتاہے کیا۔انسان کرہی کیاسکتاہے جناب! جواپنے رب پر بھروسہ کریں انہیں ملتاہے سکون،انکارکی جرات اورخوف سے نجات۔بندہ بشرہے ہی کیا اپنے سائے سے بھی خوفزدہ۔جی جناب! وقت کاگھوڑاانہیں اپنے سموں تلے روندتاہوا چلا جاتا ہے اور پھرنعرہ بلند ہوتاہے ’’دیکھو جومجھے دیدہ عبرت نگاہ ہو‘‘۔
 

تازہ ترین خبریں