08:16 am
بھارتی دھمکی ۔۔۔مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں !

بھارتی دھمکی ۔۔۔مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں !

08:16 am

اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مندوب ژینگ جون نے کہا کہ مسئلہ کشمیر ایک تسلیم شدہ تنازع ہے جو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل ہونا چاہئے انڈیاکی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے خطے میں کشیدگی پیدا ہوئی  ہندوستان کا یک طرفہ اقدام کشیدہ صورتحال کو مزید خراب کرسکتاہے بھارتی اقدام سے چین کی خودمختاری بھی چیلنج ہوئی جبکہ پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی کا کہناہے کہ سلامتی کونسل کے اجلاس سے ثابت ہوگیا کہ مقبوضہ کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں اجلاس نے بھارتی حکومتوں کے اکھنڈ بھارت کے دعوئوں کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے گزشتہ روزمقبوضہ جموں کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے بندکمرہ مشاورتی اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔
 
اجلاس میںمقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہارکیاگیاجبکہ اجلاس سے باہر آکر چینی سفیر  کے علاوہ کسی دوسرے نمائندے نے اظہار خیال نہیں کیا۔چینی سفیر ژینگ جون نے میڈیا کو بتایاکہ کشمیر میں حالات بہت کشیدہ اور خطرناک ہیں سلامتی کونسل کے ارکان نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اور وہاں انسانی حقوق کی صورتحال پرتشویش کا اظہار کیا ہے ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارت کا یکطرفہ اقدام پہلے سے کشیدہ صورتحال کو مزید خراب کرسکتا ہے ۔ مقبوضہ جموں کشمیر کا معاملہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک طویل عرصے سے ہے لیکن اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ تنازع ہے۔بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے متعلق آئینی ترمیم کا اقدام خطے میں کشیدگی کا باعث بنا ہے۔چینی مندوب کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کے چارٹر، قراردادوں اور دوطرفہ معاہدوں کے مطابق پرامن طریقے سے حل ہونا چاہیے۔ بھارت کے اقدام نے چین کی خودمختاری کو بھی چیلنج کیا اور دوطرفہ معاہدوں، سرحدی علاقوں میں امن و استحکام کو برقرار رکھنے کے معاہدوں کی خلاف ورزی کی ہے اور چین کو اس پر سخت تحفظات ہیں۔چینی مندوب نے کہا کہ ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بھارت کے اس طرح کے یکطرفہ اقدامات چین کے ساتھ تعلقات کے لیے قابل عمل نہیں ہیں۔
اسی حوالے سے پاکستان جوکہ کشمیریوں کا اقوام عالم میں واحد وکیل ہے اس کا موقف بھی دنیا کے سامنے آیا۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے کہا کہ سکیورٹی کونسل کے اجلاس نے بھارتی حکومتوں کے اکھنڈ بھارت کے دعووں کو مسترد کر دیا دنیا کے سب سے اعلیٰ فورم سلامتی کونسل کی سطح پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی آواز سنی گئی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مقبوضہ کشمیر انڈیا کا داخلی معاملہ نہیں۔
 سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ملیحہ لودھی نے بتایاکہ اجلاس میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس نے تنازعہ کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں کی توثیق کر دی ۔ چین کے علاوہ سلامتی کونسل کے ایک اور مستقل رکن نے بھی کشمیر کی صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مقبوضہ وادی میں بھارتی مظالم کی تحقیقات کی تجویز بھی دی۔ پاکستان کی سفیر ملیحہ لودھی نے اسے پاکستان کی سفارتی کامیابی سے تعبیر کیا ہے۔15 رکنی سیکورٹی کونسل کے ممبر ممالک نے تقریبا 90 منٹ تک باہمی مشورے کے بعد کوئی صدارتی یا اجتماعی بیان جاری نہیں کیا۔ان عالمی کوششوں کے ساتھ ساتھ دوسری طرف بھارت کی ہٹ دھرمی بھی بڑھتی جارہی ہے اوربھارت کا جنگی جنون عروج پر ہے،بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ وہ جوہری حملے میں پہل نہ کرنے کی پالیسی میں تبدیلی کرسکتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں اس کا انحصار حالات پر ہوگا۔میری رائے میںاب کشمیر کی صورت حال میں مستقبل کے حا لا ت کو بنیاد بنا کر بھارتی وزیردفاع راج ناتھ نے نہ صرف ایٹمی جنگ کی ننگی دھمکی دے کر غیر ذمے دار ایٹمی طاقت ہونے کا ثبوت دیا ہے بلکہ اپنے گھمنڈ میں یہ ثبوت بھی دے دیا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ دنیا کا امن ایٹمی جنگ سے تہہ و بالا کرسکتا ہے، اب عالمی طاقتوں پر انتہائی اہم ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کشمیر کی صورت حال کوآسان نہ لے اور تمام فریقوںکے لیے قابل قبول اور اطمینان بخش حل تلاش کرے۔
 مودی سرکار کی اس ایٹمی جنگ کی دھمکی سے کوئی شک باقی نہیں رہاکہ بھارت عالمی امن کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ نیوکلیئر پالیسی میں تبدیلی کے عندیہ سے یہ بھی ثابت ہو گیا ہے کہ بھارت عالمی امن کیلئے ایک خطرہ ہے اور بھارتی وزیردفاع راج ناتھ کا یہ اشتعال انگیز بیان خطے کو ایٹمی جنگ کی طرف دھکیل رہا ہے، یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کیا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی میٹنگ سے پہلے بھارت نے اقوامِ عالم کو دھمکی دی ہے؟راج ناتھ کا بیان ایک خطرناک انتہا پسند سوچ اور ایٹمی جنگ کے خطرے کی طرف اشارہ ہے۔ دنیا کو اس دھمکی کا نوٹس لینا ہوگا ۔بھارت کے وزیر دفاع نے کہا کہ مستقبل میں کیا ہوتا ہے اس کا انحصار حالات پر ہے۔
 بھارتی وزیر دفاع کے بیان نے قومی سلامتی کے معاملے میں غیریقینی کی صورتحال پیدا کردی ہے۔ واضح رہے کہ بھارت نے 1998 ء میں جوہری طاقت بننے کا اعلان کیا تھا اور اس کے مختصر وقفے کے بعد پاکستان نے بھارتی ایٹمی دھماکوں کے جواب میں جوہری طاقت کا مظاہرہ کیا تھا۔بھارت کے سیاسی تجزیہ کار اور ماہرِ دفاع شیکھر گپتا نے کہا کہ بھارتی حکومت جوہری ہتھیار پہلے استعمال نہ کرنے کے معاملے پر وسیع النظر دکھائی دے رہی اور یہ تبصرے پاکستان سے متعلق بھی ہوسکتے ہیں۔  راج ناتھ سنگھ سوچ سمجھ کر بات کرتے ہیں، وہ پالیسی سے منتقلی کی بات نہیں کررہے لیکن جوہری ہتھیار سے متعلق این ایف یوپالیسی پر کشادہ ذہن سے سوچ رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بھارتی اقدام کے نتیجے میں جنوبی ایشیاء کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیاہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے امریکی صدر کو مودی کے جارحانہ اقدامات اور بھارتی مظالم سے آگاہ کیا۔ وائٹ ہائوس کے معاون پریس سیکرٹری جان ہوگن کی جانب سے جاری بیان میں کہاگیاہے کہ جموں و کشمیر کی صورت حال کے حوالے سے امریکی صدر نے اس بات کی اہمیت پر زور دیا کہ بھارت اور پاکستان باہمی مذاکرات کے ذریعے کشیدگی میں کمی لائیںجبکہ وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ فاشسٹ مودی سرکار کی جانب سے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کا گلا گھونٹنے کی تمام کوششیں بری طرح ناکام ہوں گی۔ 

تازہ ترین خبریں