08:19 am
سورئہ جمعہ کی ابتدائی آیات کا مطالعہ

سورئہ جمعہ کی ابتدائی آیات کا مطالعہ

08:19 am

سورۃ الصف کا مرکزی مضمون ہے’’ انقلابی مشن کیا ہے؟‘‘ سورۃ الجمعہ کا مضمون ہے کہ اس انقلابی مشن کیلئے کارکن کیسے تیار ہوں گے۔ یعنی محمد عربی ﷺ نے انقلاب کیسے برپا کیا۔ وہ حزب اللہ کیسے تیار ہوئی تھی۔ اس کی تربیت کن خطوط پر ہوئی تھی۔ انقلابی مشن کا ذکر قرآن میں تین جگہ ہے اور اس مشن کیلئے کارکنوں کی تیاری کس نہج پر ہوگی اس کا ذکر چار مرتبہ آیا ہے۔ 
 
بدر میں ایک عظیم الشان فتح ہوئی۔313 نہتے مسلمان تھے۔ مقابل میں ایک ہزار کفار کا لشکر تھا۔ اس سے پہلے15 سال جو محنت ہوئی یہ فتح اصل میں اس کا نتیجہ تھا۔ اس محنت کا آغاز تو غار حرا کی تنہائیوں سے ہوا ہے جہاں پہلی وحی آئی ہے۔ اس کے بعد حضور ﷺ نے مشقت میں 15 سال گزارے ہیں۔ اس عرصہ میں ایک انقلابی جماعت کی تیاری کی گئی ہے۔ جسے اقبال نے بھی کہا: 
با نشہ دوریشی در ساز و دمادم زن
چوں پختہ شوی خود را برسلطنتِ جم زن
انقلابی جماعت کی تربیت کے لئے پہلے تو افراد کے اندر درویشی پیدا کرنی ہوتی ہے۔ اس درویشی کا درس محمد ﷺ نے دیا۔ یعنی دنیا مطلوب و مقصود نہیں ہے۔ بلکہ آخرت اور اللہ کی محبت سب سے اُوپر ہے۔ 15 سال ان افراد کے اوپر جو محنت ہوئی، اسے قرآن مجید نے یوں بیان کیا ہے: ’’وہی تو ہے جس نے ان پڑھوں میں انہی میں سے(محمد کو) پیغمبر (بنا کر) بھیجا جو ان کے سامنے اس کی آیتیں پڑھتے اور ان کو پاک کرتے اور(اللہ کی) کتاب اور دانائی سکھاتے ہیں۔‘‘ یہ اس سورئہ مبارکہ کا مرکزی مضمون ہے۔ اب پہلی آیت کا ترجمہ کرتے ہیں:’’جو چیز آسمانوں میں ہے اور جو چیز زمین میں ہے سب اللہ کی تسبیح کرتی ہے جو بادشاہ حقیقی پاک ذات زبردست حکمت والا ہے۔‘‘ تسبیح و تحمید ہو رہی ہے اس اللہ کی جو الملک ہے القدوس ہے العزیز ہے اور الحکیم ہے۔ اللہ کے اسماء میں سے چار کا یہاں پر ذکر کیا گیا ہے۔ کیونکہ اگلی آیت میں آنحضور ﷺ کا جو منہج بتایا گیا کہ جس نہج سے آپ نے وہ جماعت تیار کی اس کے بھی چار حصے ہیں۔ ان چاروں کا تعلق اللہ کے ان اسمائے حسنیٰ کے ساتھ براہ راست ربط بنتا ہے۔ لفظ اُمی کو یہود حقارت کے طور پر استعمال کرتے تھے کہ یہ بنو اسماعیل اُمی ہیں۔ یہ پڑھے لکھے لوگ نہیں ہیں۔ ان کے پاس نبوت کی روشنی نہیں آئی۔ ڈھائی ہزار سال سے کوئی نبی اور رسول نہیں آیا   اور ہم وہ لوگ ہیں جو کتاب والے ہیں۔ قرآن نے بھی یہودیوں کو اہل کتاب کہا ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ بنی اسرائیل اہل کتاب ہونے پرناز کرتے تھے اور عربوں کو کہتے تھے کہ یہ اُمی ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اسی لفظ کو ان کے منہ پردے مارا اور اس کو ایک مقام عطا کر دیا ۔ فرمایا کہ ان اُمیین میں اللہ نے ایک رسول نبی اُمیؐ کو اُٹھایا ہے۔ تم جنہیں اُمی کہہ رہے ہو یہ پوری دنیا کے لئے معلم بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ یہ پوری دنیا کو اخلاق سکھانے والے ہیں۔ یہ نبی تمہاری اصلاح کرنے کے لئے آئے ہیں۔ یہ رسولؐ کیا کرتے ہیں: یہ چارالفاظ قرآن مجید میں 4 مرتبہ دہرائے گئے ہیں۔وہاں پہلے الفاظ ہیں یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِہٖاللہ ۔یہ آیات انقلاب کی بنیاد ہیں۔ویزکیھم  اللہ کے رسولﷺاپنے ساتھیوں کا تزکیہ فرما رہے ہیں۔ ان کے باطن کو پاک کر رہے ہیں۔یہاںجوالفاظ آئے ہیں ویعلمھم الکتاب  وہ کتاب کی تعلیم دیتے ہیں۔ کتاب سے مراد ہے شریعت کے احکام۔ والحکمہ آپؐ حکمت کی تعلیم دیتے ہیں ۔ آئیے اب اس آیت پر غور کرتے ہیں، فرمایا:یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِہٖیہ پہلا کام ہے۔ یہ کوئی جذباتی نعرے سے بات شروع نہیں ہوتی۔ حقائق سے بات شروع ہوئی ہے۔ کائنات کے جو ابدی حقائق ہیں ان کو مانو کہ تمہارے ان بتوں میں کچھ نہیں ہے کائنات میں ایک ہی ہستی ہے جو مختار کل ہے۔ اس کو ہم ایمان کہتے ہیں۔ ایمان آخرت پر رسالت پر اور جو بھی امور غیبیہ ہیں ان کو ماننے کا نام ہے۔
 غور سے آپ دیکھیں گے تو یہی کائنات کے ابدی حقائق ہیں۔ ان کی خبر رسول لے کر آتا ہے۔ اس لئے کہ ان ابدی حقائق تک پہنچنے کا کوئی واضح اور موثر راستہ نہیں ہے۔ انسان ہمیشہ حقیقت کی تلاش میں دربدر کی ٹھوکر یں کھاتا رہا ہے۔ اگر آپ فلسفے کی داستان سنیں تووہ انسانوں کی ٹھوکروں کی ایک داستان ہے۔ حقیقت کی تلاش میں ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں۔ ان کا اتفاق کبھی نہیں ہو سکا۔ جو کچھ سوچ بچار کر کے لکھتے ہیں تو اس میں بھی کہتے ہیں کہ ہمارا گمان یہ ہے کہ ایسا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایسا ہے۔ کوئی کبھی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ یہ اصل بات ہے جو میں کہہ رہا ہوں۔کسی نہ کسی اندازسے ہر فلسفی کو آنے والے فلسفی نے رد کیا ہے۔ اگرچہ ابدی حقائق کا اجمالی علم ہماری فطرت کے اندر رکھا گیا ہے۔ لیکن ہم اپنے حواس اور عقل کی بنیاد پر وہاں تک پہنچ نہیں سکتے۔ 
گزر جا عقل سے آگے کہ یہ نور
چراغِ راہ ہے منزل نہیں ہے!
 ابدی حقائق کا علم کہاں سے آئے گا۔ بنی وہ حقائق کا علم لے کر آتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ وہ ایک اللہ ہے، اسی کا حکم چل رہا ہے۔ کل اختیار کا مالک وہ ہے۔ تمام اچھے نام اس کے ہیں۔کائنات میں جو خیر و خوبی ، بھلائی ہے، حسن ہے۔ سب کا سر چشمہ وہی ایک ذات ہے۔ مشکل کشا وہی ہے۔ حاجت روا وہی ہے۔ وہی اس کائنات، دنیا اور اس عالم کا بھی مالک ہے اور جو عالم آخرت ہے اس کا مالک بھی وہی ہو گا۔اس نے انسان کو اس دنیا میں ایک خاص مقصد کے تحت بھیجا ہے۔ یہ دنیا تمہارے لئے ہمیشہ کی منزل نہیں ہے۔ دنیا تو ایک عارضی مستقر ہے۔ بہت ہی عارضی سی مہلت عمر ہے جو اس دنیا میں گزارنی ہے۔ ’’ہر متنفس موت کا مزہ چکھنے والا ہے۔‘‘لیکن موت پر حیات کا خاتمہ نہیں ہو جائے گا۔ وہ تو ایک صورت سے دوسرے جہان میں منتقلی کا نام ہے۔ اب عالم برزخ میں شفٹ ہو گئے ہو۔ پھر اٹھا کھڑے کر دیے جائو گے۔ وہ اصل زندگی ہے۔ ’’اور (ہمیشہ کی) زندگی(کا مقام) تو آخرت کا گھرہے۔‘‘یہ ہیں کائنات کے ابدی حقائق جس کو ہم ایمان کہتے ہیں۔یہ کوئی متبرک عقیدہ نہیں ہے کہ جس کا حقائق سے کوئی تعلق نہ ہو۔ بلکہ یہ عین حقائق ہیں۔ اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ گمراہی ہے۔ چنانچہ یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِہٖ کا مقصد اس انقلابی جماعت کی سوچ کو بدلنا ہے۔ اللہ کے ساتھ اس کے تعلق کو قائم کرنا ہے۔ ایک رب کی بندگی اختیار کرنی ہے، کیونکہ وہ مالک حقیقی ہے اور ہم اس کے غلام حقیقی ہیں۔ وہ ہمارا محسن ہے۔اسی نے ہمیں مسجود ملائک اور اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ساری مخلوقات اسی کی پیدا کردہ ہیں۔ یہ چرند پرند بھی اسی کی مخلوق ہیں۔ اللہ نے تمہیں اشرف المخلوقات بنایا ہے۔
(جاری ہے)
  قرآن واقعتا حقائق کو بیان کرتا ہے کہ دنیا میں تمہاری حیثیت کیا ہے، تمہاری منزل کون سی ہے اور اس منزل کے حوالے سے صحیح راستہ کون سا ہے۔ اگر اس صحیح راستے کو اختیار نہ کیا تو پھر جو بھیانک انجام ہے وہ ابھی سے سن لو۔ دنیا میں اللہ نے چھوٹ دے دی ہے۔ ’’(اب وہ) خواہ وہ شگر گزار ہو خواہ نا شکرا۔‘‘دنیادار الامتحان ہے، اللہ کسی پر جبر نہیں کرتا۔ ایک راستہ وہ ہے جو نبی اور رسول دکھا رہے ہیں جبکہ اس کے برعکس جو راستے ہیں وہ سب شیطان کے راستے ہیں۔ اب تم طے کر لو کہ کس راستے پر چلنا ہے۔ اللہ اس میں رکاوٹ نہیں ڈالے گا۔ تمہیں موقع دے گا۔ لیکن سن لو شیطان کی پیروی کا انجام کیا ہونا ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ جس طرح تم روزانہ سو جاتے ہو اسی طرح ایک روز موت کی نیند سو جائو گے، اور جیسے روزانہ صبح اُٹھتے ہو اسی طرح ایک دن میدان حشر میں تمہاری آنکھ کھلے گی، یہ ہو کر رہے گا۔ لیکن اس کے بارے میں کوئی سوچنے کے لئے تیار نہیں ہوتا کہ اس سے ہمارے عیش و آرام میں خلل واقع ہو گا۔’’مگر انسان چاہتا ہے کہ آگے کو خودسری کرتا جائے۔‘‘ انسان چاہتا ہے کہ گناہوں میں آگے بڑھتا رہے۔ لہٰذا آخرت کا انکار کرنا بہتر سمجھتا ہے۔ ورنہ پھر قدم قدم پر دیکھنا پڑے گا کہ یہ چیز اللہ کو پسند ہے کہ نہیں۔ یہ جو میں کام کر رہا ہوں یہ جہنم میں لے جانے والا ہے یا اللہ کو راضی کرنے والا راستہ ہے۔ لہٰذا بہتر یہی ہے کہ آخرت کو بھول جائو    بہر حال تربیت کا پہلا مرحلہ یہ ہے کہ سب سے پہلے اندر کی دنیا میں انقلاب برپا کرنا ہے اور اس کا ذریعہ آیات قرآنی ہیں۔ سوچ کی درستگی، قبلہ کی درستگی آیات کے ذریعے ہی ہو گی۔ 
  جب قرآن  اندر سرایت کر جاتا ہے تو یہ کیفیت لازماً پیدا ہو جاتی ہے۔ آنحضور ﷺ نے یہ کام آیات قرآنی کے ذریعے کیا۔ آپؐ کے مواعظ بہت کم ملتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے کوئی لمبی تقریر کی ہو کوئی خطبہ دیا ہو۔ اگر ہیں بھی تو بہت مختصر۔ جہاں بھی آپؐ ایمان کی دعوت دیتے تھے آیات قرآنی ہی پیش کرتے تھے۔ اس سے زیادہ موثر اور کیا ہو سکتا ہے ۔
اس کے بعد نبی اکرمﷺ نے اپنی جماعت کا تزکیہ فرمایا۔پہلے تلاوت آیات سے سوچ بدلی، پھر ان کا تزکیہ فرمایا۔ تزکیہ کیا ہے۔ دراصل انسان کے اندر ایک طرف حیوانی خواہشات رکھ دی گئی ہیں اور دوسری طرف اس کے اندر ایک ملکوتی عنصر ہے۔ اسی انسان کے اندر لالچ، طمع، حب دنیا، حب مال بھی ہے۔ انتقام اور غصہ بھی ہے۔ یہ ساری چیزیں نفس کی کمزوریاں ہیں۔ اگر ان کمزوریوں پر قابو نہ پایا جائے تو ہدایت اگر آ بھی گئی تو انسان کے لئے صراط مستقیم پر چلنا بڑا مشکل ہے۔ یہ کمزوریاں قدم قدم پر پائوں کی بیڑیاں بن جاتی ہیں۔ تزکیہ اس لئے ضروری ہے تاکہ اندر سے باطن ان کمزوریوں سے پاک ہو جائے۔’’اور انسان (طبعاً) کمزور پیدا ہوا۔‘‘ انسان کی خلقت میں کچھ کمزوریاں بھی ہیں۔ یہ بشر ہے ، اس کے اندر حدود کو پھلانگنے کا معاملہ ہے۔ دوسروں کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کا معاملہ ہے۔ یہ انسان کی طبیعت کا حصہ ہے۔  ’’وہ تو مال سے سخت محبت کرنے والا ہے۔‘‘ لہٰذا تزکیہ کرنا پڑے گا ۔باطن کو ان خرابیوں سے پاک کرنا پڑے گا۔ آنحضور ﷺ کا دوسرا کام یہ تھا کہ تزکیہ کے ذریعے باطن کی صفائی فرماتے تھے۔ زکوٰۃ کیا ہے؟ ہمارے اندر جو کمزوریاں ہیں ان میں ایک کمزوری مال کی محبت ہے۔ زیادہ سے زیادہ مال مل جائے۔ لفظ زکوٰۃ کا مفہوم پاکیزگی ہے۔ پاک کس کو کرنا ہے۔ اندر جو مال کی محبت رچی بسی ہوئی ہے، اس کو پاک کرنے کا ذریعہ یہ زکوٰۃ ہے کہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرو۔ اپنے مال میں سے ایک حصہ نکالو۔ تاکہ مال کی محبت جو رچی بسی ہوئی ہے یہ اندر سے اکھڑنا شروع ہو۔ اگر نفاق کی کیفیت پیدا ہو رہی ہے۔یعنی اسلام تو لے آئے ہیں نہ نماز میں دل لگتا ہے نہ دل کرتا ہے کہ دین کے کام کریں۔ دنیا کی محبت بڑھتی جا رہی ہے تو علاج بھی یہی بتایا گیا کہ انفاق کرو۔ زیادہ سے زیادہ مال اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔ اس سے باطن کی صفائی ہو گی۔ نفاق بھی اس سے دور ہو گا۔ اسی طرح قرآن مجید کی آیات بھی انسان کا تزکیہ کرتی ہیں۔ ان میں وہ تاثیر ہے۔ فرمایا: ’’اے لوگو! آ گئی ہے تمہارے پاس وہ چیز جو تمہارے رب کی جانب سے تمہارے لئے موعظت و نصیحت ہے۔ اور یہ جو کتاب اللہ نے اتاری ہے اس کی آیات سینوں کے امراض کی دوا بھی ہے‘‘۔تزکیہ کیوں ضروری ہے؟ انقلابی جماعت اگر اس کے بغیر ہو گی تو جیسا کہ سورۃ محمد کی ایک آیت کا مفہوم ہے: اے مسلمانو، ابھی اللہ نے تمہیں فتح اس لئے بھی نہیں دی کہ تمہارے اندر کچے پکے لوگ بھی ہیں۔ اگر ان کو اقتدار مل جاتا تو وہ زمین میں اور فساد مچاتے ۔
جن کا تزکیہ نہ ہوا ہو، اگر ان کو اقتدار مل جائے تو وہ دین کے نام پر بھی فساد کریں گے۔ اس لئے تزکیہ کی بڑی اہمیت ہے۔ 
تیسرا کام جو آپؐ نے کیا وہ کیا تھاکہ آپ نے تعلیم دی کتاب کی اور حکمت کی۔‘‘ آپؐ کے گرد جو لوگ اکٹھے ہوئے، جو ایمان لائے، جہاں آپؐ ان کی تربیت فرما رہے ہیں، تزکیہ فرما رہے ہیں، وہیں انہیں کتاب کی تعلیم دے رہے ہیں۔ کتاب اگرچہ قرآن مجید بھی ہے۔ اس کا ذکر تو پہلے آ گیا کہ آپؐ اس قرآن کی آیات پڑھ کر سناتے ہیں۔ تعلیم کتاب میں خاص ایک پہلو کی طرف اشارہ ہے یعنی شریعت کا علم، حلال و حرام اور جائز وناجائز کا علم۔ لفظ کَتَبَ، کُتِبَ قرآن مجید میں فرض اور واجب کے لیے آیا ’’(مسلمانو! ) تم پر(اللہ کے راستے میں) لڑنا فرض کر دیا  گیا ہے۔‘‘’’تم پر روزے فرض کئے گئے۔‘‘ یہ علم بھی ضروری ہے کہ کون سی چیزیں فرض ہیں، واجب ہیں، یہاں پر تعلیم کتاب میں خاص طور پر قرآن کی تعلیم کا وہ گوشہ ہے جس میں شریعت کے حلال و حرام، جائز و ناجائز ،کیا صحیح ہے کیا غلط ہے کی تعلیم ہے۔ یہ تعلیم بھی آپﷺ نے دی۔ چوتھا کام تھا’’حکمت کی تعلیم‘‘۔ حکمت دراصل تعلیم کا بہت اعلیٰ درجہ ہے۔ جس کا مقصد یہ ہے کہ اشیاء کی اصل حکمت معلوم ہو جائے۔
اے اہل نظر ذوق نظر خوب ہے لیکن
جو شے کی حقیقت کو نہ سمجھے وہ نظر کیا!
ہر حکم کا ایک ظاہر ہے، ایک باطن ہے۔ مثلاً احکام شریعت ہیں، روزہ فرض کر دیا گیا، لیکن اس کی حکمت کیا ہے۔ ٹھیک ہے اللہ نے فرض کیا، اللہ کو اختیار ہے۔ وہ مالک ہے، وہ خالق ہے، ہمارا آقا ہے۔ ہم اس کے بندے ہیں، ہم پر جو شے چاہے فرض کر دے، لیکن اس کی کوئی حکمت بھی ہے ،ہمارے لیے اس میں کوئی افادیت بھی ہے؟ نماز کیوں فرض کی گئی، اس کی حکمت کیا ہے؟۔ یہ حکمت بھی قران مجید کا ایک مستقل موضوع ہے۔ حکمت ہے بحیثیت مجموعی دین کے پورے سسٹم کو سمجھنا۔ حکمت دراصل چوٹی کی شے ہے۔ قرآن کریم میں فرمایا گیا:   ’’جس کو حکمت عطا کی گئی، یقینا اسے خیر کثیر عطا ہوئی۔‘‘ دین کی تعلیمات بہت سی ہیں۔ نماز کی کچھ سنتیں ہیں، کچھ فرض ہیں، کچھ چیزیں واجب بھی ہیں۔ اب اگر کوئی شخص ان کا خیال نہ رکھے، صرف مستحبات کا خیال رکھ رہا ہے اور فرض اور واجب کو نظر انداز کر رہا ہے تو وہ پورے ڈھانچے کو تلپٹ کر رہا ہے۔ اسی طریقے سے کیا چیز جائز ہے کیا ناجائز، اس کی درجہ بندی ہے۔ دین میں بڑی بڑی باتیں کیا ہیں جن سے بچنا ضروری ہے اور وہ کیا چیزیں ہیں جن کا اہتمام ضروری ہے۔ جب بگاڑ آتا ہے تو چھوٹے چھوٹے معاملات پر زور دیا جاتا ہے۔ مثلاً جو چیزیں اختلافی ہیں یا جن میں معمولی علمی اختلاف ہیں، ان کو بڑھا دیا جاتا ہے۔ آمین بالجہر کہنی ہے یا دل ہی دل میں پڑھنی ہے۔ اسی طرح تراویح کا مسئلہ ہے۔ رفع یدین کا مسئلہ ہے۔ یہ چیزیں پورے دین میں معمولی علمی اختلافات ہیں جن سے کوئی بڑا فرق واقع نہیں ہوتا، اور جو بڑے معاملات ہیں جن کی وجہ سے مسلمان اللہ سے حالت جنگ میں ہیں، بغاوت کے مرتکب ہو رہے ہیں، ان کا شعور ہی نہیں ہے۔ حکمت یہ ہے کہ انسان جان لے کہ اصل ایشو کیا ہے۔ اہم ترین معاملات کیا ہیں اور پھر ان کو اسی کے مطابق ترجیح دے۔ افسوس ہم بڑی چیزوں کو چھوڑ کر چھوٹی چھوٹی چیزوں پر ایک دوسرے سے باہم دست و گریبان ہیں، اسی کے فتویٰ دیئے جا رہے ہیں یعنی مچھر چھانتے ہیں اور سموچے اونٹ نگل جاتے ہیں۔ یہ تب ہوتا ہے جب کوئی قوم حکمت سے بے بہرہ ہو جائے۔ دین میں کیا احکام ہیں، ان کی کیا حکمت ہے، یہ بھی ایک گوشہ ہے، اس کی بھی آپؐ تعلیم دے رہے ہیں۔ خود حکمت کا ایک بہت بڑا ذخیرہ  قرآن مجید ہے۔ احادیث رسولﷺ بھی حکمت کا بہت بڑا خزانہ ہے۔
بہر حال یہ چار کام آپؐ نے کیے تو وہ انقلابی جماعت تیار ہوئی۔ آج بھی اگر کوئی انقلابی جماعت بنتی ہے تو وہ اس پر اسیس سے گزر کر ہی حقیقی معنوں میں اسلامی انقلابی جماعت ہو گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اسی رُخ پر کام کرنے کی توفیق دے۔(آمین)










 

تازہ ترین خبریں