08:19 am
سلامتی کونسل کااجلاس، بھارت میں خاموشی!

سلامتی کونسل کااجلاس، بھارت میں خاموشی!

08:19 am

٭کوئٹہ، مسجد میں دھماکہ، امام مسجد سمیت 5 نمازی شہیدO کنٹرول لائن، ایک اور پاکستانی فوجی شہیدO کشمیر، سلامتی کونسل کا اجلاس بھارتی میڈیا، حکومت خاموش! O سلامتی کونسل: کسی نے بھارت کی حمائت نہ کیO چین کا بھارت کے خلاف دو ٹوک سخت موقفO بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ کی پاکستان پر ایٹمی حملے کی دھمکیO روس نے بھی بھارت کا ساتھ نہ دیا O محبوبہ مفتی کی بیٹی کا خط O مقبوضہ کشمیر، کرفیو کا 16 واں دن۔
 
٭قارئین کرام! سلامتی کونسل کے مشاورتی اجلاس کے بارے میں کچھ سوالات ابھر رہے ہیں عام حلقوں کا خیال تھا کہ اس اجلاس میں اہم فیصلوں کا اعلان ہو گا اور پھر سلامتی کونسل کا مکمل باضابطہ اجلاس شروع ہو جائے گا۔ اس ضمن میں چند اہم نکات پر غور ضروری ہے۔ نکات یہ ہیں: ’’50 سال کے بعد پھر کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ میں ابھر آیاO سلامتی کونسل کے باضابطہ اجلاس سے پہلے 15 رکنی کونسل کا خفیہ مشاورتی اجلاس ہوتا ہے کہ باضابطہ اجلاس کے لئے شواہد کی نوعیت کیا ہے؟O باضابطہ اجلاس ہنگامی صورتِ حال پر بلایا جاتا ہے جس سے عالمی امن کو سنگین حالات کا سامنا ہو O سلامتی کونسل کا اجلاس صرف اس کے کسی رکن کی طرف سے بلایا جا سکتا ہے۔ پاکستان رکن نہیں ہےO اجلاس چین نے بلایا O اجلاس کسی فریق کے حق میں یا خلاف کوئی فیصلہ نہیں سنا سکتاO اس کی کارروائی کی کوئی باضابطہ بریفنگ، پریس کانفرنس وغیرہ نہیں ہوتی O اہم بات حالیہ اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا گیا O بھارت کے موقف کو قبول نہیں کیا گیاOاجلاس میں اقوام متحدہ کے نمائندوں کی رپورٹوں پر انحصار کیا گیاO پاکستان، بھارت دونوں اجلاس میں شریک نہیںہو سکےO اجلاس رکوانے کے لئے بھارت کی کوششیں ناکام، فرانس اور روس نے بھی ساتھ نہ دیاO چین نے طویل عرصہ بعد بھارت کے خلاف واضح رویہ اختیار کیا۔
٭ان نکات کا خلاصہ یہ کہ بھارت کی سخت کوشش کے باوجود کشمیر کا مسئلہ عالمی سطح پر ابھر آیا ہے۔ یہ بہت اہم بات ہے۔ بھارت روس سے اربوں ڈالر کے ہتھیار اور اتنی ہی قیمت سے فرانس سے بھاری تعداد میں جدید جنگی طیارے خرید رہا ہے۔ بھارت کا ساتھ نہ دینے پر اس کا ان دونوں ملکوں کے ساتھ سودا خطرے میں پڑ سکتا تھا۔ روس مقبوضہ کشمیر کے معاملہ کو بھارت کا اندرونی مسئلہ قرار دے چکا تھا۔ فرانس نے خاموش رہنے کا فیصلہ کیا تھا مگر پاکستان کی سفارتی جدوجہد اور اقوام متحدہ کے نمائندوں کی رپورٹوں کو نظر انداز نہ کیا جا سکا۔ چین کا بھارت کے خلاف رویہ بہت ٹھوس اور حقائق پر مبنی تھا۔ اس پر روس اور فرانس بھی ساتھ دینے اور صورتحال کو تشویش ناک قرار دینے پر مجبور ہو گئے۔ یہ بات سراسر بھارت کے خلاف گئی اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ بھارت کے سیاسی حلقوں اور میڈیا نے اس زبردست ہزیمت کے بعد مکمل خاموشی اختیار کر لی ہے جب کہ خود بھارت کے اندر مقبوضہ کشمیر پر 16 روز سے زیادہ کے کرفیو پر سخت احتجاج اور مذمت شروع ہو گئی ہے۔
پاکستان کی حکومت کی بعض پالیسیوں اور اقدامات پر سخت تنقید کے باوجود میں کھلے دل سے پاکستان کی وزارت خارجہ اور دوسرے اداروں کی بھرپور جدوجہد کی ستائش کرتا ہوں۔ بلاشبہ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی، ملیحہ لودھی اور دوسرے سفارت کار دن رات متحرک رہے، مختلف ملکوں کے دورے، 189 ممالک کو سپیکر اور سینٹ کے سپیکر اور چیئرمین کے خطوط، وزیراعظم عمران خان کا آزاد کشمیر اسمبلی سے خطاب، یوم سیاہ اور دوسرے بہت عوامل نے پاکستان کی اس بہت بڑی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ قارئین کرام! ایسے معاملات میں بہت تیز رفتار، ہروقت متحرک،مکمل صحت مند اور حالات پر گہری نگاہ رکھنے والے وزیر کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس معیار پر شاہ محمود قریشی اور ان کے ساتھی پورے اترے ہیں۔ سامنے کی بات ہے کہ نوازشریف کی وزارت عظمیٰ کے چار برسوں میں پاکستان کا کوئی وزیرخارجہ ہی نہیں تھا۔90 سالہ بزرگ سرتاج عزیز کو وزارت خارجہ کامشیر بنا رکھا تھا۔ وہ بے حد محترم شخصیت ہیں مگر پوری طرح چل پھر بھی نہیں سکتے، نوازشریف نے وزیرخارجہ کا عہدہ جیب میںڈال رکھا تھا۔ نریندر مودی کی حلف برداری میں شریک ہوئے اسے گھر بلایا اور بار بار لندن اور امریکہ کے ’خوش گوار‘ دوروں کے سوا اور کوئی مصروفیت ہی نہیں تھی۔ ایک بار دو ماہ تک لندن میں زیر علاج رہے وہیں سیکرٹریٹ کے افسروں کو بلایا جاتا تھا۔ پاکستان کے وزرائے خارجہ میںذوالفقار علی بھٹو اور اب شاہ محمود قریشی، جیسے تیز طرار وزیر خارجہ کی بجائے شریف الدین پیرزادہ، منظور قادر اور صاحبزادہ یعقوب علی خان جیسے سست اور نواب قسم کے صاحب بہادر وزرائے خارجہ آتے رہے۔ بھٹو مثالی وزیرخارجہ تھے۔ 73ء میں مصر اسرائیل جنگ کے دوران بیک وقت چار ملکوں میں پہنچ گئے، سلامتی کونسل میں زبردست تقریریں، عرب ممالک سے بار بار رابطے! اب یہی تیزی طراری شاہ محمود قریشی میں دیکھنے میں آئی۔ اک دن سعودی عرب اگلے دن چین! اور بہت سے ملکوں سے مسلسل رابطے!
٭بہت سی اہم باتیں اور بھی ہیں۔ بھارت کو افغانستان کے امن مذاکرات سے نکال دیا گیا، امریکی صدر ٹرمپ کی ثالثی کی پیش کش پر بوکھلا گیا، سلامتی کونسل کے اجلاس کے بارے میں بری طرح شکست کھائی۔ مثل مشہور ہے کہ بہت زیادہ سیاناکوا بالآخر گندگی پر گرتا ہے۔ نریندر مودی کے ساتھ اس کے چوبدار بھی حواس کھو بیٹھے! اس کے وزیر دفاع پر اک دم جنگ کا بھوت سوار ہو گیا۔ بڑھک ہانک دی کہ بھارت نے ایٹمی ہتھیار کے استعمال میں پہل نہ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے مگر اب اس اعلان کو تبدیل کیا جا رہا ہے گویا اب جب دماغ خراب ہو گا، فوراً پاکستان پر ایٹمی حملہ کر دیا جائے گا۔ اس بے وقوف شخص کو پتہ ہی نہیں کہ ایٹم بم کیا چیز ہے؟ 1945ء میں جاپان پر پھینکے جانے والے دو ایٹم بموں سے 20,20 میل دور تک تباہی پھیل گئی تھی۔ اب تقریباً 20 گنا زیادہ طاقت ور بم تیار ہو چکے ہیں جو 50 میل دور تک پوری پوری آبادیوں کو سرے سے ختم کر سکتے ہیں۔ اس احمق شخص کو کسی نے نہ بتایا کہ جدید ایٹم بم کے گرنے پر 70 ہزار سنٹی گریڈ والی جو قیامت خیز آگ برسے گی، اسے 25 برسوں تک ٹھنڈا نہیںکیا جا سکے گا۔ اس مخبوط الحواس شخص کو یہ بھی بتانا پڑے گا کہ پاکستان کے پاس انڈیا کے مقابلہ میں کئی گنا زیادہ طاقت ور ایٹمی ہتھیار اور میزائل موجود ہیں۔
٭ محترم قارئین!شیخ عبداللہ اس کے بیٹے فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ، مفتی سعید، غلام نبی آزاد، بخشی غلام محمد اور محبوبہ مفتی جیسے بھارتی غلامو ںنے مقبوضہ کشمیر میں اپنے سامنے بھارتی فوج کے ہاتھوں ایک لاکھ سے زیادہ کشمیری باشندوں کو شہید، اتنے ہی لاپتہ اور قید ہوتے دیکھے بلکہ ان انسانیت سوز واقعات میں بھارتی فوج کی مدد کی۔ محبوبہ مفتی اس قوم فروشی میں سب سے آگے نکل گئی پھر! اب خود اور عمر عبداللہ جیلوں میں پڑے سڑ رہے ہیں اور بیان دے رہے ہیں کہ بھارت نے دھوکا دیا! محبوبہ مفتی نے بی اے ایل ایل بی کے امتحانات پاس کئے۔ ایک شخص جاوید اقبال سے شادی ہوئی۔ پانچ سال بعد طلاق ہو گئی۔ دو بیٹیاں التجا مفتی اور ارتقا مفتی ہیں۔ التجا مفتی (گھر میں ثنا مفتی) نے برطانیہ کی واروک یونیورسٹی سے انٹرنیشنل امور میں ماسٹر کی ڈگری لی۔لندن میں انڈیا کے ہائی کمیشن میں بہت عرصہ کام کیا‘ کچھ عرصہ دبئی میں رہی۔ اب محبوبہ مفتی کے پاس تھی۔ دوسری بہن ارتقا ممبئی کے فلمی ماحول میں گم ہو گئی (شرم ناک داستانیں)۔ اب بھارتی فوج نے محبوبہ مفتی کو جیل میں پھینک دیا تو التجا مفتی نے بھارتی وزیر داخلہ کو سخت خط لکھا کہ مقبوضہ کشمیر کو پنجرہ بنا دیا گیا ہے جس میں کشمیری عوام بھوکے پیاسے مر رہے ہیں۔ فوج نے اسے بھی گرفتار کر کے زبان بند کر دی ہے! وطن اور قوم سے غداری کا انجام! عبرت! عبرت!

تازہ ترین خبریں