07:29 am
  ہندو شدت پسندی اور رسمِ شبیری

ہندو شدت پسندی اور رسمِ شبیری

07:29 am

مدت ہوئی خانقاہوں میں براجمان گدی نشینوں نے ظالم حکمرانوں کو للکارنے کی رسم ترک کر ڈالی ! اقبالؒ کی نصیحت کانوں میں گونجتی ہے
 مدت ہوئی خانقاہوں میں براجمان گدی نشینوں نے ظالم حکمرانوں کو للکارنے کی رسم ترک کر ڈالی ! اقبالؒ کی نصیحت کانوں میں گونجتی ہے۔
نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم ِ شبیری
کہ فقرِ خانقاہی ہے فقط  اندوہ ِ  دلگیری
بھارت میں مہاسبھائی یلغار کا ایسا زور پڑا ہے کہ ارضِ اجمیر پر قائم سلطان الہند خواجہ معین الدین چشتی ؒ کی درگاہ پر فقر ِ خانقاہی میں مصروف گدی نشین سید سرور چشتی بھی مسلمانانِ ہند سے متحد ہونے کی اپیل کرنے پر مجبور ہوئے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کا جینا دوبھر کر دیا گیا ہے۔ نہتے پہلوخان نامی مسلمان کو سر بازار چھ جنونی ہندوئوں نے گائے کی حرمت پر قتل کیا ۔ دل دہلا دینے والی واقعے کی فوٹیج تک موجود ہے لیکن بھارتی عدالت نے ملزمان کو ضمانت پر رہا کردیا ۔ سید سرور چشتی ؒ مزید کہتے ہیں کہ کشمیر میں لاکھوں مسلمان محصور ہیں ۔ ایک ریاست کا وزیر اعلیٰ کہتا ہے کہ اب ہندو لڑکے خوبرو کشمیری لڑکیاں بیاہ کر لائیں گے ۔ کشمیر میں ہی چند ماہ قبل سات سالہ بچی کو کئی روز ہندو جنونیوں نے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد بے دردی سے قتل کیا تو مقامی ہندو آبادی مجرموں کی حمایت میں آن کھڑی ہوئی تھی ۔
سجادہ نشین نے بی جے پی ، آر ایس ایس اور بھارتی حکومت کو تنبیہ دی ہے کہ ہندوستان میں بسنے والے کروڑوں مسلمانوں کو معمولی مت جانو ! تم ہماری بہنوں بیٹیوں کی عزتوں پر ہاتھ ڈالو گے اور قاتلوں کو عدالتیں تحفظ دیں گی تو پھر مسلمانوں کی جانب سے رد عمل بھی آئے گا۔ حالات اندازوں سے کہیں زیادہ بگڑ چکے ہیں وگرنہ عموماً مصلحت آمیز خاموشی اختیار کرنے والے سجادہ نشین حضرات ا س طرح کے سخت لب و لہجے میں بات نہیں کیا کرتے۔ فقر خانقاہی میں مصروف طبقہ اگر رسم ِ شبیری ادا کرنے پر مائل ہوتا دکھائی دے رہا ہے تو یہ سمجھنا مشکل نہیں رہا کہ  بھارت میں ہندو جنونیت کے پہاڑ کے نیچے رد عمل کا آتش فشاں پوری شدت سے کھول رہا ہے ۔ اور جب خانقاہی روایات پر یقین نہ رکھنے والا سخت مزاج مسلمان مسلمان جہاد کی جانب مائل ہوا تو پھر بات کہاں جا پہنچے گی ؟ ہندو شدت پسندی کی چند جھلکیاں آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہیں ۔ یو پی کے وزیر اعلیٰ یوگی ادیتیا ناتھ نے تین برس قبل ایک ریلی میں تقریر کرتے ہوئے اپنے پیروکاروں کو مسلمان عورتوں کی لاشیں قبروں سے نکال کر جنسی زیادتی کی ترغیب دی تھی ۔ دوسری بار بھارت میں وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہونے والے نریندر مودی نے خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے صحافی روس کیلون کو بطور وزیر اعلیٰ گجرات انٹر ویو دیتے ہوئے فسادات میںآر ایس ایس کے ہندو جنونیوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے مسلمانوں کو کتے کے پلے سے تشبیہ دی تھی ۔ بی جے پی کے مرکزی لیڈر سبرامنیم سوامی نے پاکستان کو چالیس ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا ۔ راج ناتھ سنگھ نے ماضی میں پاکستان کو دہشت گردی کے کانٹے سے سبق سکھانے کی بات کی تھی اور آج ایٹمی حملے کی دھمکی دی ہے۔ پوجا شکون پانڈے نے بھارت کے بانی کے قاتل نتھو رام گوڈسے کو گاندھی جی کی تصویر پر گولیاں مار کر شردھانجلی پیش کرتے ہوئے برسرعام کہا کہ پاکستان کے حق میں مرن برت رکھنا گاندھی جی کا بہت بڑا پاپ تھا ۔ جھاڑ کھنڈ میں شدت پسند جماعت ہندو سماج پارٹی کا ایک لیڈر یہ تلقین کرتا پھرتا ہے کہ ہر ہندو گھر میں کلاشنکوف یا رائفل ضرور رکھی جائے تاکہ وقت پڑنے پر ہندوستان سے جلد از جلد اسلام اور مسلمانوں کا صفایا کیا جا سکے۔ امیت شا کا دعویٰ ہے کہ آسام کو کشمیر نہیں بننے دیں گے اور کشمیر کو آزاد نہیں ہونے دیں گے ۔ ہریانہ کا وزیر اعلیٰ منوہر کٹھڑ کشمیری لڑکیوں کا ہندئووں کی رکھیل بنانے کے ارادے کھلم کھلا ظاہر کر رہا ہے ۔ یہ ہندو شدت پسندی کی دیگ کے چند دانے ہیں! یہ ہے بھارت کی جمہوریت ۔ یہ ہے بھارتی سیکولر ازم کی حقیقت ۔ یہ ہے نہرو کے بھارت کی اصلیت ۔ وہ مہا سبھائی سوچ جو نہرو اور پٹیل جیسے نیتا دل میں چھپائے رکھتے تھے وہ آر ایس ایس کے جنونیوں کی زبانوں سے زہر بن کے ٹپک رہی ہے اور بھارتی ریاست کے ہر عمل سے آشکار بھی ہو رہی ہے۔ وہ دو قومی نظریہ جسے اندرا گاندھی نے سقوط ڈھاکہ کے وقت خلیج بنگال میں غرق کرنے کا اعلان کیا تھا آج مقبوضہ کشمیر میں پوری قوت سے ابھرا ہے ۔ گواہی وہ جو مخالف کی زبان سے نکلے اور جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے ! بھارتی سیکیولر ازم اور آئین پر اپنا ایمان اور ریاستی تشخص نسل دس نسل گروی رکھنے والے  مفتی سعید مرحوم کی دختر محبوبہ مفتی نے ببانگ دہل کہا کہ دو قومی نظریہ ٹھیک تھا اور پاکستان پر بھارت کو ترجیح دینا ہمارے بزرگوں کی غلطی تھی ۔ کویتا کرشنن اور ان کے دلیر صحافی ساتھیوں کو سلام کہ جنہوں نے بلا امتیاز مذہب و نسل اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی بد ترین خلاف ورزی کو دنیا بھر میں بے نقاب کر ڈالا ۔ دنیا بھر میں مودی سرکار پر تھو تھو ہو رہی ہے ۔ سیکولرازم کی آڑ میں جاری ہندو شدت پسندی اور مسلم کشی بے نقاب ہوئی ۔ ہوش سنبھالنے کے بعد پہلی مرتبہ مسئلہ کشمیر کو حقیقی معنوں میں بین الاقوامی سطح پر اجاگر ہوتے دیکھا ہے ۔ بچہ نہ روئے تو ماں بھی دودھ نہیں دیتی ۔ کشمیریوں کا مقدمہ لڑنے والا وکیل یعنی ہمارا دفتر خارجہ ہی سویا رہا تو پھر عالمی برادری کو دوش کیوں دیا جائے۔ بعد از خرابی بسیار اب دفتر خارجہ جھر جھری لے کر گہری نیند سے اٹھ بیٹھا ہے ، وزیر خارجہ فعال دکھائی دئیے ہیں اور وزیر اعظم نے پر عزم لہجے میں بھارت کو للکارتے ہوئے عالمی برادری کو کشمیر کی جانب متوجہ کیا ہے تو دنیا بھر میں ایک لہر سی اُٹھی ہے۔ راقم ہمیشہ دفتر خارجہ کی کارکردگی پر شاکی رہا ہے۔ یہ کمزوری آج پھر آشکار ہوئی ہے۔ انگریزی زبان کے اخبارات اور ویب سائٹس پر متحرک بھارت اور مغرب سے مرعوب میڈیا کے مٹھی بھر حلقے حسب عادت بے جا تنقید ، بے بنیاد تجزیوں اور لغو طنز کے ذریعے قوم میں فکری مایوسی پھیلا رہے ہیں ۔ جس وقت  ایل او سی پر بھارتی فوج کے خلاف سینہ سپر پاک فوج کے  شہداء کے جنازے پڑھے جا رہے ہیں اور  بلوچستان میں را اور این ڈی ایس کے دہشت گرد مساجد میں نمازیوں اور آبادیوں میں عام شہریوں سمیت قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو شہید کر رہے ہیں اس وقت خبث باطن سے مغلوب کچھ عقل کے اندھے سوشل میڈیا پر افواج پاکستان کے خلاف زہر آلود پروپیگنڈے اور اخلاق سے عاری طنز کی مہم چلا کر شہداء کے لواحقین کی توہین کر رہے ہیں ۔ ان کورچشموں کے لیے عقل سلیم کی دعا کے ساتھ یہ کہنے کو دل کرتا ہے !
شرم تم کو مگر نہیں آتی

 

تازہ ترین خبریں