07:33 am
پی ٹی ایم کا یوم سیاہ اور سوشل میڈیا کے فتنہ پرور

پی ٹی ایم کا یوم سیاہ اور سوشل میڈیا کے فتنہ پرور

07:33 am

پی ٹی ایم نے سوشل میڈیا پر پاکستان کے یوم آزادی کے دن کو یوم سیاہ کے طور پر منایا‘ لوگ پوچھتے ہیں
 پی ٹی ایم نے سوشل میڈیا پر پاکستان کے یوم آزادی کے دن کو یوم سیاہ کے طور پر منایا‘ لوگ پوچھتے ہیں کہ گزشتہ 15دنوں سے کشمیر کے سکول کالجز اور یونیورسٹیوں کو تالے پڑے ہوئے ہیں‘ کشمیر کے طلباء و طالبات کو بھارتی فوج درندگی کا نشانہ بنا رہی ہے‘ مگر علم کی مصنوعی ’’دیوی‘‘ ملالہ یوسف زئی نجانے کہاں غائب ہے کہ جس نے ابھی تک دہلی کی اس بدمعاشی کے خلاف ایک بیان بھی جاری کرنا گوارا نہیں کیا تو کیوں؟
موم بتی مافیاء کی آنٹیاں ہوں یا پی ٹی ایم کی آنٹیاں اور انکلز‘ ملالہ یوسف زئی ہو‘ شرمین چنائی نام کی آنٹی ہو‘ یا جہاد کشمیر کے خلاف گز گز بھر لمبی زبانیں نکالنے والے غامدی اینڈ کمپنی کے مدرسہ بھگوڑے دانش فروش‘ ان سب کے مکروہ کردار سے اب ساری قوم واقف ہوچکی ہے‘ پاک فوج‘ جہاد مقدس یا اسلامی سزائوں کا معاملہ ہو تو یہ ساری آنٹیاں اور انکلز موم بتیاں ہاتھوں میں اٹھا کر سیاپا ڈالنا شروع کر دیتی ہیں‘ لیکن ایسے لگتا ہے کہ جیسے موم بتی مافیا کے یہ ڈالر خور خرکار اب کانوں سے بہرے اور آنکھوں سے اندھے ہوچکے جو انہیں مقبوضہ کشمیر کے کروڑوں انسانوں پر بھارتی مظالم نہ دھکتے ہیں اور نہ سنائی دیتے ہیں۔
منظور پشتین‘ محسن داوڑ سمیت پی ٹی ایم کے دیگر لیڈران کی ’’پاکستانیت‘‘ پہ میں سوال اٹھانا نہیں چاہتا‘ لیکن یہ سوال اٹھانا میری صحافتی ذمہ داری ہے کہ جنہوں نے 14اگست  یوم آزادی کے دن کو سوشل میڈیا پر یوم سیاہ کے طور پر منایا‘ انہوں نے ان سیاہ باطنوں کی مذمت کیوں نہ کی؟ پی ٹی ایم کی اگر کوئی شوریٰ یا عاملہ ہے تو اس نے ان کے خلاف کیا ایکشن لیا؟
اگر ایکشن لینے کی ہمت نہیں تھی تو کم از کم دہلی کے ان راتب خوروں سے اظہار برات ہی کیا ہوتا‘ میرے سامنے تو ابھی تک ایسا کوئی بیان نہ ہے کہ جس میں پی ٹی ایم نے سوشل میڈیا کے اپنے ان فسادیوں کی مذمت کی ہو۔
یہ عجیب بات ہے کہ سوشل میڈیا پر جو چاہے جس کی چاہے پگڑی اچھال دے جس کے خلاف چاہے فتوے جاری کر دے‘14اگست کو اسلام آباد کی سرزمین پر بیٹھ کر ایک مدرسہ بھگوڑے غامدی دانش فروش نے بھی سوشل میڈیا پر نعوذ باللہ ‘ جہاد کشمیر کو فتنہ و فساد اور فراڈ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ نہ وہ جہاد کشمیر کو مانتا ہے اور نہ اس کا باپ‘ افسوس صد افسوس کہ ڈالروں کے نشے نے بعض نظریاتی سرقہ بازوں کو ایسا مدہوش کیا ہے کہ وہ اپنی ’’اصلیت‘‘ ہی بھول بیٹھے ہیں۔ ارے بھائی اگر کوئی مدرسہ بھگوڑا دانش فروش یا اس کا باپ جہاد کشمیر کا منکر ہے تو ہوتا  رہے‘ اس کے اس انکار سے نہ جہاد کشمیر کو کوئی فرق پڑتا ہے اور نہ ہی مسلمانوں کو اس دنیا میں ہزاروں دانش فروش ایسے بھی ہیں کہ جو خدا کے وجود کے ہی منکر ہیں‘ جہاد کشمیر کا انکار کرنے والے بھی اگر ان منکروں کے ساتھ  مل جائیں تو خدا کی خدائی کو کیا فرق پڑے گا؟ ان کا اپنا ہی نقصان ہے۔لیکن جہاد کشمیر کے کسی منکر یا اس کے باپ کو یہ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ اس نازک موقع پر سوشل میڈیا کے ذریعے جہاد کشمیر کو ’’فراڈ‘‘ قرار دیکر خطے کے کروڑوں مسلمانوں کے دلوں پر وار کرتا پھرے‘ یہ شدت پسندانہ روئیے بھی دہشت گردی ہی کی ایک قسم ہے۔
 غامدی کی پٹاری کے یہ کیسے دانش فروش ہیں کہ جو دہلی سرکار کی دہشت گردی کے خلاف تو ایک لفظ بولنے کے لئے تیار نہیں ہیں‘ لیکن جہاد کشمیر کو فراڈ اور فساد قرار دیتے ہیں جنہوں نے بی جے پی‘ آر ایس ایس‘ شیوسینا سمیت دیگر ہندو دہشت گرد تنظیموں کی تو کبھی مذمت نہیں کی‘ مگر جہاد کشمیر کرنے والے مجاہدین کے خلاف سوشل میڈیا پر روز پروپیگنڈہ کرتے نظر آتے ہیں‘ آخر یہ سب کیا ہے؟ غیر ملکی این جی اوز کی راتب خوری میں ایسا کیا شامل ہوتا ہے کہ یہ قرآن و سنت کے احکامات تک کا مذاق اڑانے پر تل جاتے ہیں؟ یہ خاکسار جب اپنے کالموں میں ’’جہاد کشمیر‘‘ کا ذکر کرتا ہے تو اس سے مراد وہ جہاد ہے کہ  جو سرینگر‘ بانڈی پورہ‘ کپواڑہ اور مقبوضہ کشمیر کے دیگر علاقوں میں ہو رہا ہے‘ جہاد کشمیر کی شمع کو کشمیری مسلمانوں نے  اپنے لہو سے فروزاں کر رکھا ہے‘ جہاد کشمیر میں کشمیری مائوں نے اپنے کڑیل بیٹے‘ کشمیری بہنوں نے اپنے پیارے بھائی کشمیری بیٹیوں نے اپنے باپ قربان کئے‘ جہاد کشمیر وہ جہاد ہے کہ کشمیری قوم نے آزادی کی خاطر جس جہاد مقدس پر اپنا سب کچھ تج دیا۔
جس جہاد کشمیر میں ایک لاکھ سے زائد کشمیری مسلمانوں کا خون بہہ گیا ہو‘ جس جہاد کشمیر میں کشمیری خواتین بھی ہندو آرمی کے خلاف برسرپیکار ہو چکی ہوں‘ اس جہاد کشمیر کو اگر غامدی کا کوئی غندہ نہیں مانتا تو نہ مانے‘ مگر سرعام اس کا مذاق تو مت اڑائے‘ کشمیریوں کی قربانیوں کو فراڈ تو مت قرار دے۔لیکن مجھے پتہ ہے کہ پی ٹی ایم کی طرح کچھ مدرسہ بھگوڑے دانش فروش بھی سوشل میڈیا کو نظریہ پاکستان اور اسلامی احکامات کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کر رہے ہیں۔ پاکستانی قوم بالخصوص نوجوانوں کو مزید چوکنا ہو کر ایسے نان اسٹیٹ ایکٹرز کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔
نریندر مودی‘ جنرل بپن راوت سے لے کر راجناتھ تک پاکستان کے خلاف نیوکلیئر استعمال کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں‘ مقبوضہ کشمیر کو ڈیڑھ کروڑ کے لگ بھگ انسانوں کے لئے جیل میں تبدیل کیا جاچکا ہے‘ مگر اس سب کے باوجود کشمیر کے بہادر بیٹے پاکستان کی محبت میں سینوں پہ گولیاں کھا کر پاکستانی سبز ہلالی پرچموں میں لپٹے قبروں کے پاتال میں اتر رہے ہیں اور اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے بعض کم ظرف مدرسہ بھگوڑے دانش فروش جہاد کشمیر کے خلاف گز گز پھر لمبی زبانیں نکال رہے ہیں۔
ہم ایسے این جی او مارکہ کم ظرفوں کا قلمی تعاقب جاری رکھیں گے۔ ’’ان شاء اللہ‘‘14اگست کے یوم آزادی کو سوشل میڈیا پر یوم سیاہ کے طور پر منا کر پی ٹی ایم نے پاکستانی قوم کے دلوں میں اگر ہمدردی کے کچھ جذبات تھے تو انہیں ختم کرنے کی کوشش کی ہے‘ میں اس سے پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ پاکستانی فوج کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے اور پاکستان کے یوم آزادی کو یوم سیاہ قرار دینے کا تعلق پختون حقوق سے نہیں بلکہ عالمی یہود و ہنود ایجنڈے سے ہے ‘ بالکل اسی طرح جہاد کشمیر کے خلاف فتوے بازی کرنا بھی اسی یہود و ہنو ایجنڈے کا ہی حصہ ہے لیکن پاکستان کے 22کروڑ عوام پاک فوج کے شانہ بشانہ ہر سازش کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن کے دکھائیں گے(ان شاء اللہ)

 

تازہ ترین خبریں