07:34 am
سیکورٹی کونسل کا اجلاس ، پاکستان کی سفارتی کامیابی

سیکورٹی کونسل کا اجلاس ، پاکستان کی سفارتی کامیابی

07:34 am

گزشتہ جمعے 50سال کے بعد سیکورٹی کونسل کا اجلاس منعقد ہوا ہے جس میں مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورت حال پر بڑی تفصیل سے
گزشتہ جمعے 50سال کے بعد سیکورٹی کونسل کا اجلاس منعقد ہوا ہے جس میں مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورت حال پر بڑی تفصیل سے غور کیا گیا۔ اس غیر معمولی اہمیت کے اجلاس میں جو پاکستان کی کوششوں کا نتیجہ تھا یہ فیصلہ کیا گیا کہ مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ بھارت کا اندرونی مسئلہ نہیں ہے یہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک متنازعہ مسئلہ ہے جس کا حل بھارت اور پاکستان کے مابین مذاکرات کے ذریعے حل ہو سکتا ہے ۔
اس سلسلے میں خود اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے گزشتہ روز واضح الفاظ میں کہا تھا کہ بھارت کو مقبوضہ کشمیر کو ضم کرنے کا یکطرفہ فیصلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کو نفی کرنا ہے بھارت کے اس غیر قانونی اور غیر آئینی اقدام کی وجہ سے پورے خطے کا عمل خطرے میں پڑ گیا ہے چین نے بھی اسی قسم کے خیالات کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ بھارت کے اس یکطرفہ اقدام سے خود چین کی سالمیت اور خود مختاری متاثر ہوئی ہے چین بھارت کے اس فیصلے کی مذمت کرتا ہے اور اس کو تسلیم نہیں کرتا ہے اس طرح سے پوری کونسل میں موجود 15ارکان نے مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارتی فیصلے کو مسترد کر دیا ہے اور بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فی الفور پاکستان کے ساتھ اس حساس مسئلے پر مذاکرات کا آغاز کرے
 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے اور پاکستان کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اس مسئلے پر بھارت کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کرے تاکہ اس خطے میں پائے جانے والی کشیدگی دور ہو سکے تاہم میں یہ نہیں سمجھتا ہوں کہ فی الحال بھارت کے ساتھ پاکستان بات چیت کے لئے تیار ہو گا چونکہ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں سماجی، مذہبی اور سیاسی صورتحال انتہائی دگرگوں اور تشویشناک ہے بھارت کی فوج نہتے کشمیریوں کو ختم کر رہی ہے سرینگر میں کسی کشمیری کی عزت محفوظ نہیں ہے ہر طرف بربریت اور ظلم کا دور دورا ہے خواتین کی عصمتیں لوٹی جارہی ہیں عالمی میڈیا میں مقبوضہ کشمیر میں جانے کی اجازت نہیں ہے لیکن بی بی سی کے ایک نمائندے نے وہاں پوچھ کر مقبوضہ کشمیر میں عوام پر ہونے والے ظلم و زیادتی کی تصویر کھینچی ہے دنیا حیران رہ گئی انتہا پسند ہندو مودی سرکار اس نامہ نگار سے ناراض ہو گئی ہے اور اس کو دوبارہ کشمیر جانے سے روک دیا گیا ہے ۔
اس وقت پر بھی مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ ہے بیشتر مساجد بند ہیں ٹیلیفون اور انٹرنیٹ کا رابطہ منقطع کر دیا گیا ہے گزشتہ دو جمعوں سے سرینگر کی جامع مسجد میں نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ملی ہے یہ سب کچھ مودی سرکار کی مسلمان دشمنی کا کھلا ثبوت ہے ۔
ان حالات میں پاکستان اپنی تمام تر داخلی اور خارجی مجبوریوں کے باوجودکشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے سیکورٹی کونسل کا حالیہ اجلاس اور اس میں کی جانے والی تقاریر سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عالمی سطح پر ا ب کشمیر کے مسئلے پر غور کیا جارہا ہے گزشتہ 50سال کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ سیکورٹی کونسل میں اس مسئلے پر تمام سیاق و سباق کے حوالے سے تبادلہ خیال کیاگیا اور اس ظلم بربریت اور تشدد کی مذمت کی گئی ہے جو بھارت کی 7  لاکھ فوج نہتے کشمیریوں پر ڈھارہی ہے تاہم یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ سیکورٹی کونسل نے ماضی میں11  مرتبہ اپنے مختلف اجلاس میں کشمیر کو پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک متنازعہ علاقہ قرار دیا تھا اور بھارت سے مطالبہ کیا تھا کہ اس مسئلے کو کشمیری عوام کی مرضی اور منشاء سے حل کیا جانا چاہیے۔
 خود بھارت کے سابق وزیر اعظم آنجہانی پنڈت نہرو نے اقوام متحدہ کے علاوہ اپنی پارلیمنٹ یعنی لوک سبھا میں بیان دیا تھا کہ کشمیر کے مسئلے کا واحد حل استصواب رائے کے ذریعے ممکن ہے یعنی کشمیری عوا م کی مرضی اور منشاء کے بغیر یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا لیکن اس یقین دہانی کے باوجود بھارت استصواب رائے کے لئے تیار نہیں ہوا ہے لیکن اب صورت حال یکسر بدل گئی ہے جنگی جنون میں مبتلا بھارت کے وزیر اعظم نے مقبوضہ کشمیر پر پارلیمنٹ میں اپنی اکثریت کی بنیاد پر فیصلہ کراکر ناجائز قبضہ کر لیا ہے۔ عوامی احتجاج کے خوف کے پیش نظر بھارت نے مقبوضہ کشمیر پر کرفیو نافذ کر دیا ہے جو اب بھی جاری ہے۔ اشیاء خوردو نوش کے علاوہ بیماروں کے لئے ضروری ادویات  ناپید ہو گئی ہے۔ نوجوانوں کو گھر سے نکلنے کے بعد فوراً گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ اب تک گزشتہ ایک ہفتے میں 10افراد کو شہید کر دیا گیا ہے، چنانچہ سوال یہ اٹھتا ہے کہ بھارت کی اس غیر قانونی مکارانہ چال کے پیچھے کون سی طاقت ہے؟ کیا امریکہ اور اسرائیل کی پشت پناہی کے بغیر مودی یہ سب کچھ کر سکتا ہے معروضی حقائق اس طرف اشارہ کر رہے ہیں کیونکہ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں حالات انتہائی سنگین اور تشویشناک  ہیں عزرائیل کا فلسطینی عوام کا دشمن وزیر اعظم نیتھن یاہو مودی کی دعوت پر کل احمد آباد (بھارتی گجرات)   پہنچ چکا ہے مودی نے اسرائیلی وزیر اعظم کو دہلی کے بجائے احمد آباد کیوں بلایا اس کا جواب یہ ہے کہ مودی اسرائیل کے وزیر اعظم کو یہ بتلانا چاہتا تھا کہ یہ وہی جگہ ہے جہاں 2002میں سینکڑوں مسلمانوں کو آر ایس ایس کے غنڈوں نے پولیس کی مدد سے ختم کیا تھا اس طرح پاکستان اور مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے لئے ایک پیغام پوشیدہ ہے تاہم نریندرمودی نے لوک سبھا میں اپنی عدددی اکثریت کی بنیاد پر مقبوضہ کشمیر پر ناجائز غیر قانونی اور غیر آئینی طور پر بھارتی یونین میں ضم کر لیا ہے لیکن مودی کو اس مکارانہ چال کی آئندہ بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی۔
 مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو اب بھارتی فوج کے ظلم و تشدد کے لئے تیار ہو جانا چاہیے اب بھارت کے اس ناجائز تسلط کے خلاف مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو اپنی مدد آپ کے تحت اپنے حقوق کے لئے لڑنا ہو گا پاکستان ان کی سفارتی اخلاقی اور قانونی مدد تو کرتا رہے گا اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان اگر اس مسئلے پر جنگ شروع ہوتی ہے تو پاکستان سے پہلے اپنے ملک کو بھارت کی جارحیت سے بچانا ہو گا۔ بھارت کا مقبوضہ کشمیر پر ناجائز قبضہ بھارت کی توسیع پسندپالیسی واضح ثبوت ہے جس کو روکنا بہت ضروری ہے۔ بھارت نے اس سے قبل حیدرآباد دکن، گوا  اور جونا گڑھ پر اسی طرح قبضہ کیا تھا۔ امریکہ کے صدر نے عمران خان سے جس ثالثی کا وعدہ کیا تھا وہ دھوکہ دینے کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا ۔

 

تازہ ترین خبریں