07:35 am
مُودی کا غرور خاک میں ملے گا

مُودی کا غرور خاک میں ملے گا

07:35 am

ظُلم کی انتہا ہو چکی ہے۔ جنت نظیر وادی کشمیر کربلا کا منظر پیش کر رہی ہے۔ ظالم یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ شائد اُس کی
ظُلم کی انتہا ہو چکی ہے۔ جنت نظیر وادی کشمیر کربلا کا منظر پیش کر رہی ہے۔ ظالم یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ شائد اُس کی طاقت ہمیشہ قائم رہنے والی ہے۔ ایسا بالکل نہیں ہے…ظُلم کی عُمر بہت کم ہوتی ہے۔ مظلوم کشمیریوں کو ایک دِن اِس ظلم سے ضرور نجات ملے گی۔ مُودی کو یہ زعم ہے کہ شائد! وہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا کلمہ پڑھنے والوں کو اُن کے مقاصد میں ناکام کر دے گا۔ ایسا نہ پہلے کبھی ہو سکا ہے اور نہ ہی آئندہ کبھی ہو سکے گا۔ مُودی کے غرور کا بُت بہت جلد پاش پاش ہونے والا ہے۔ یہ صبر کی گھڑیاں ہیں جو استقامت کے ساتھ گزرنے والی ہیں۔ یہ مُودی کیا چیز ہے؟ اِس سے پہلے سورج کی آنکھ اِس سے زیادہ بڑے ظالموں کے ظلم کودیکھ چُکی ہے۔ ہم نے فرعون، نمرود اور شداد کے مظالم بھی ہنس کر سہہ لئے تھے اور آج مُودی کے مظالم بھی سہہ جائیں گے۔ مگر مودی سرکار ایک بات یاد رکھ لے کہ مظلوموں کی آہیں عرش بریں پر سُنی جاتی ہیں۔
 ہم نے مُودی جیسے فرعون ماضی میں بہت دیکھے ہیں۔ لیکن مُودی کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اُن فرعونوں کا غرور بھی ہمارے خدا نے خاک میں ملا دیا تھا۔ اب وہ دِن دور نہیں جب تمہارا غرور بھی خاک میں مل جائے گا۔ یہ اخلاقِ ربانی ہیں کہ جب کوئی شخص، ریاست، معاشرہ، گروہ یا حکمران اُس کے بندوں کو تکلیف دیتا ہے تو وہ اُسے ظلم سے نجات دِلانے کے لئے ظالموں کو صفحہ ہستی سے مٹا ڈالتا ہے۔ کشمیری مسلمانوں کا کیا قصور ہے؟ صرف یہ کہ وہ ایک خدا کی عبادت کرتے ہیں۔ صرف یہ کہ وہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا کلمہ پڑھتے ہیں۔ اِس قصور کی پاداش میں مُودی سرکار نے اُن پر مظالم کے پہاڑ توڑ دیئے ہیں۔ مُودی کو اِن مظالم کا حساب دینا پڑے گا اور یہ حساب اِنسانوں کے سامنے نہیں خدا کے حضور دینا پڑے گا۔
 دوسری بات مودی کو باور کروانا چاہتا ہوں کہ مودی سرکار آپ نے کشمیر کی حیثیت ختم کر کے بڑی حماقت کا مظاہرہ کیا ہے۔ تمہیں اِس حماقت کا بھی خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ پاکستانی قوم ایک غیور قوم ہے۔ ہم دشمنی نبھانا بڑی اچھی طرح جانتے ہیں ہم جنگ میں پہل نہیں کرتے۔ ہم امن کا دامن مضبوطی سے پکڑے رکھتے ہیں اور آخر دم تک کوشش کرتے ہیں کہ خطّے کا امن تباہ نہ کیا جائے۔ ہم صلح جو قوم ہیں۔ لیکن اگر کوئی ہمارے امن کی خواہش کو کوئی ہماری کمزوری سمجھے تو یہ اُس کی بُھول ہے اگر مودی سرکار نے ہم پر جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی تو اُسے ناکوں چنے چبوائے جائیں گے۔ اور وہ اپنی اگلی اور پچھلی نسلوں کو یہ بتانے پر مجبور ہو جائے گا کہ پاکستان سے کبھی پنگا مت لینا۔ یہ جذبہ ایمانی سے سرشار ایک ایسی قوم ہے جو اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی صلاحیت رکھتی ہے  اور امر واقعہ بھی یہی ہے کہ پاکستان کے ہر دل عزیز وزیراعظم عمران خان نے مودی سرکار پر یہ واضح کر دیا ہے کہ اگر اُس نے کوئی حماقت کی تو پھر اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے گا۔ عساکر پاکستان بھی اِس وقت انتہائی مستعد ہیں۔ عساکر پاکستان کی صلاحیتوں کے بارے میں بھارت بخوبی علم رکھتا ہے۔ ماضی کی تمام جنگوں میں افواجِ پاکستان نے ہمیشہ بھارتی افواج کو دُم دبا کر بھاگنے پر مجبور کر دیا تھا۔
 اِس سال کے آغاز میں ہی جب بھارتی فضائیہ نے پاکستان سے پنگے بازی کی تو اُس کا مزہ وہ چکھ چُکا ہے۔ یہ پاکستان کی امن پسندی تھی کہ پاکستان نے انڈین فضائیہ کے پائلٹ کو واپس اُس کے وطن بھیج دیا۔ اِسی بات سے انڈیا کو اندازہ کر لینا چاہئے کہ عساکرِ پاکستان کس حد تک باصلاحیت ہیں۔ مودی سرکار کو یہ بات ذہن نشین کر لینی  چاہئے کہ پاکستانی افواج کا مقابلہ کرنا کوئی عام بات نہیں ہے۔ دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں یہ بات مانتی ہیں کہ پاکستانی افواج ایک پروفیشنل فوج ہے اور دنیا کی بڑی سے بڑی فوج اِس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ ہمارے پاس نہ صرف دنیا کا جدید اسلحہ ہے بلکہ ہم اُس اسلحہ کو بروقت اور برمحل استعمال کرنا بھی جانتے ہیں۔ 1965ء کی جنگ ہو یا 1971ء کی جنگ پاکستانی فوج کے کارہائے نمایاں کا تذکرہ اقوام عالم بھی کرنے پر مجبور ہیں۔
ہم صرف پاکستان کی ہی بات نہیں کرتے۔ ہم یہ یقین کامل رکھتے ہیں کہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے۔ کشمیر پاکستان کا حصہ ہے اور ہر مظلوم کشمیری پاکستان کا حصہ بننے کے لئے بے قرار ہے۔ ہم ہر قیمت پر اپنے مظلوم کشمیری بھائیوں کو پاکستان کا حصہ بنانے کے لئے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔ اور وہ دِن دُور نہیں جب کشمیر ہمارا ہو گا  اور مودی اور اُس کے ہمنوا منہ تکتے رہ جائیں گے۔ آج ہم اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتوں کے سامنے کشمیر کے حوالے سے اپنا موقف رکھ چکے ہیں اور اُمید کرتے ہیں کہ اِنسانیت کا دم بھرنے والی عالمی طاقتیں اِس ضمن میںاپنا مثبت کردار ادا کریں گی۔ اگر پھر بھی انڈیا باز نہ آیا اور اپنی طاقت کے غرور میں وہ مظلوم کشمیریوں کو تختہ مشق ستم بناتا رہا تو پھر ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے گا  اور اگر ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا تو پھر ہندوستان ماضی بن جائے گا۔
ہندوستانی انتہا پسندو ںکو یہ بات سوچ لینی چاہئے کہ راجا داہر نے دیبل کی بندرگاہ پر ایک مسافر جہاز میں سے چند عورتوں کو اپنا قیدی بنایا تھا اور اُس کے نتیجہ میں محمد بن قاسم نے ایک عورت کی صدا پر دیبل پر حملہ کر دیا تھا۔ پھر راجا داہر تاریخ میں عبرت کا نشان بن کر رہ گیا۔ آج تک عبرت کے اُس نشان کے حوالے دیئے جاتے ہیں۔ یہ راجا داہر مودی کا ’’دادا‘‘ تھا جسے ایک سترہ برس کے مسلمان نوجوان نے شکست فاش دے کر نہ صرف اُن مظلوم مسلمان عورتوں کو رہا کروا لیا تھا بلکہ دیبل کی اینٹ سے اینٹ بھی بجا دی تھی۔ آج پھر اُسی راجا داہر کا ’’پوتا ‘‘اپنی اوقات بھلا کر مظلوم کشمیریوں کے لئے خدا کی زمین تنگ کر رہا ہے۔ ہم مودی کو بتلا دینا چاہتے ہیںکہ اب کے بار اگر وہ اِس ظلم سے باز نہ آیا تو پاکستان کے ایک ایک گھر سے محمد بن قاسم نکلے گا۔ ہم تمہارے تکبر کے تمام بُت پاش پاش کر کے تمہیں عبرت کا ایسا نشان بنائیں گے کہ قیامت تک قومیں تمہارے غرور کے پارہ پارہ بُت کو تاریخی حوالوں میں یاد کرتی پھریں گی اور تم ایک ایسے فرعون صفت انسان کے طور پر تاریخ میں یاد کئے جائو گے جس کا غرور مسلمانوں نے توڑا ہو گا۔
ہم تمہیں نصیحت کرتے ہیں کہ اب بھی باز آ جائو۔ کشمیر پر سے اپنا تسلط ختم کر دو ، اور خدا کے اِن بندوں کو اپنی  زندگی کی سانسیں آزادی سے لینے دو۔ وہ چاہیںتو آزاد ریاست کے طور پر رہیں اور چاہیںتو پاکستان کے ساتھ مل جائیں یہ اُن کا بنیادی اِنسانی حق ہے۔ جو اُن سے کوئی نہیں چھین سکتا، اگر تم باز نہ آئے تو پھر اپنی بربادی کے دِن گننے شروع کر دو پھر تمہیں پاکستان کے غیور مسلمانوں سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔

 

تازہ ترین خبریں