07:36 am
تحریک انصاف کی حکومت کا پہلا سال

تحریک انصاف کی حکومت کا پہلا سال

07:36 am

انتظامی اعتبار سے حکومت نے امور مملکت کی اصلاح کا بیڑا اٹھایا اور وسیع تر تجربہ رکھنے والے ڈاکٹر عشرت حسین کو گورنینس ریفارمز کا ٹاسک دیا۔ ڈاکٹر صاحب نے مختلف شعبہ جات کی ازسرِنو تنظیم کی سفارشات مرتب کیں اور ان کے انتظامی کنٹرول کی بابت نگران وزارتوں میں رد وبدل تجویز کیا۔ وفاقی کابینہ نے ٹاسک فورس کی سفارشات کی روشنی میں فیصلے کرنا شروع کر دئیے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کی ایک سالہ حکومت کا منفرد پہلو کابینہ کے ہر ہفتے باقاعدگی سے اجلاس منعقد ہونا ہے۔ تمام اہم فیصلے کابینہ اجلاس میں لئے جاتے ہیں چنانچہ وفاقی حکومت بہ لحاظ معنی پہلی مرتبہ بروئے کار آتی دکھائی دی ہے۔ قبل ازیں وفاقی حکومت کے نام پر شخصی فیصلے (وزیراعظم) ٹھونسے جاتے تھے اور کابینہ اجلاسوں کا رواج نہ تھا جس پر عدالت عظمیٰ معترض ہوتی اور وفاقی حکومت کی تشریح کرتے ہوئے قرار دیا کہ وزیراعظم نہیں بلکہ وفاقی کابینہ ہی وفاقی حکومت کی اصطلاح پر پورا اترتی ہے۔ انتظامی لحاظ سے وفاقی حکومت کا ایک اچھا فیصلہ وفاقی محکموں میں اعلی مناصب پر تعیناتیوں کیلئے ہر وزارت کی سطح پر متعلقہ وزیر کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیٹی کا قیام ہے۔ عدالتِ عظمی کے احکامات اور سیکورٹی ایکسچینج اکمیشن آف پاکستان کے قوانین کی روشنی میں تمام محکموں کے چیف ایگزیکٹو افسران کی بھرتی کیلئے پبلک نوٹس کے طریقہ کار کو اختیارکیا جارہا ہے۔ پی ٹی وی کے ایم ڈی کی تقرری اس ضمن میں ایک مثال ہے۔
 
 مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے ادوارِ حکومت میں من مانی تقرریوں کی روایت رہی ہے۔ ایم ڈی پی ٹی وی اور چیئرمین پیمرا کا منصب جس طرح من پسند افراد کے سپرد کیا گیا اس سے مسلم لیگ ن کی حکومت کی گڈگورنینس دنیا کے سامنے عیاں ہوگئی۔ تحریک انصاف کی حکومت پر ایک بھی ایسی بھرتی کا پہلے سال کوئی الزام نہیں لگا۔ کرپشن کو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے ادوار میں ختم کرنے کی کبھی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔ من پسند افراد کو نوازنے اور پسندیدہ کمپنیوں کو ٹھیکے دینے کیلئے قواعد وضوابط میں ترامیم کرنے کا رواج تحریک انصاف کی حکومت نے ختم کر دیا۔ انتظامی کمزوری کا الزام پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت پر ضرور لگا لیکن مالی بدعنوانی کا یہاں بھی کوئی اسکینڈل سامنے نہیں آیا۔ انتظامی کمزوری بھی حکومتی گرفت کے تناظر میں زیربحث آتی رہی جس پر قابو پانے کی وزیراعلی عثمان بزدار اپنے تئیں پوری کوشش کرتے رہے ہیں۔
معاشی اعتبار سے حکومتی کارکردگی اگرچہ بہت اچھی قرار نہیں دی جاسکتی لیکن تحریک انصاف نے جن دگرگوں معاشی حالات میں اقتدار سنبھالا اس کو مدِنظر رکھا جائے تو پہلے مالی سال میں پاکستان کو ممکنہ ڈیفالٹ سے بچانے کیلئے وزیراعظم عمران خان نے دوست ممالک سے جس طرح تعاون حاصل کیا وہ قابلِ تحسین ہے۔ تجارتی قرضے، تجارتی وبجٹ خسارہ اور گردشی قرضے گزشتہ حکومتوں کی چھوڑی گئی معیشت کی نمایاں خصوصیات تھیں۔ وزیراعظم عمران خان نے معاشی بیڑا اٹھایا اور اس ضمن میں جرات مندانہ اقدامات لئے۔گردشی قرضوں کا خاتمہ مکمل طور پر دسمبر 2020 تک ہو جائے گا جبکہ حکومت نے ساڑھے پانچ ہزار ارب روپے کا ریونیو ٹارگٹ رواں مالی سال کیلئے رکھا ہے۔ وزیراعظم نے معیشت کو دستاویزی بنانے اورٹیکس نیٹ کو بڑھانے کیلئے غیرمقبول فیصلے بھی کئے ہیں جو ان کی جرات مندانہ قیادت کے عکاس ہیں۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ڈنگ ٹپائو اقدامات کی بجائے دلیری کیساتھ معیشت کو پائیدار بنیادوں پر کھڑا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ وزیراعظم پرعزم ہیں کہ وہ ریونیو کے ہدف کو دس ہزار ارب روپے سالانہ تک لے جائیں گے اور یہ تبھی ممکن ہوگا جب ٹیکس نیٹ میں نئے افراد اور کاروباری گروپ شامل ہونگے۔ وہ پبلک سیکٹر آرگنائزیشنز جو قومی خزانے پر بھاری بوجھ کا سبب بنتی ہیں ان کی ری سٹرکچرنگ کا کام جاری ہے اور کڑی نگرانی کے عمل کے ذریعے ان کی خامیوں وخرابیوں کو دور کرنے پر حکومتی توجہ قابلِ تحسین ہے۔وزیراعظم عمران خان کی حکومت کا منفرد اعزاز ہمدردی اور احساس پر مبنی معاشرتی اقدامات ہیں۔ بے سہارا افراد کو چھت اور خوراک مہیا کرنے کیلئے بڑے شہروں میں شیلٹر ہومز کا قیام اور غربت کے خاتمے کیلئے احساس پروگرام کا اعلان بلاشبہ غیرمعمولی کاوش قرار دی جا سکتی ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ غربت کے خاتمے کیلئے 180ارب روپے کی خطیر رقم بجٹ میں مختص کی گئی ہے تاکہ غریب کاشتکاروں کو قرضے دئیے جا سکیں اور غریب افراد کو ماہانہ امداد کے علاوہ ان کو علاج معالجے کی معیاری سہولیات کی فراہمی کیلئے ہیلتھ کارڈز کا اجرا کیا جا سکے۔ اثاثے منتقل کرنے کی جو پالیسی ’’احساس پروگرام‘‘ میں شامل ہے اس کے تحت چھوٹی دکان سے لیکر بھینس اور بکریاں وغیرہ بیروزگار افراد کو دئیے جائیں گے تاکہ وہ اپنے اور اپنے خاندان کے کفیل بن سکیں۔ سوشل پروٹیکشن کی اہمیت کو پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں جس طرح اجاگر کیا گیا ہے اور فوری طور پر عملی اقدامات لئے گئے ہیں اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ وزیراعظم عمران خان کے سامنے غربت کے خاتمے کا چینی ماڈل ہے چنانچہ وہ پاکستانی عوام کو غربت کی لکیر سے اوپر اٹھانے کیلئے پوری طرح پرعزم ہیں۔
خارجہ میدان میں تحریک انصاف کی حکومت کی کارکردگی اپنی پیش رو حکومتوں سے بدرجہا بہتر بلکہ بہترین ہے۔ آج عرب ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں بہتری آئی ہے اور عالمی طاقتوں بالخصوص امریکہ اور روس کے ساتھ اعلیٰ سطحی رابطوں کی بھی نئی فضا قائم ہوئی ہے۔
شنگھائی تعاون تنظیم میں روسی صدر کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کو خصوصی اہمیت دی گئی اور اسی طرح صدر ٹرمپ نے بھی دورہ امریکہ میںان کی خوب پذیرائی۔ امریکہ اور روس کے ساتھ اس نئے اعتماد پر مبنی رشتے کا عکس ہمیں اس وقت دیکھنے کو ملا جب کشمیر پر بلائے گئے سلامتی کونسل کے اجلاس کی امریکہ اور روس نے مخالفت نہ کی اور  یوں پچاس سال بعد مسئلہ کشمیر دوبارہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں زیر بحث آیا۔ عرب ممالک سے تعلقات میں جو  سردمہری گزشتہ ادوار میں پیدا ہوئی تھی وہ اب گرمجوشی می تبدیل ہوچکی ہے جس کا مظہر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستان کو دی گئی خصوصی امداد کے علاوہ ولی عہد سعودی عرب اور سربراہ مملکت متحدہ عرب امارات کا دورہ پاکستان ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ عمران خان کے عہد میں پاکستان نے سفارتی محاذ پر جو کامیابیاں سمیٹی ہیں وہ ان کے پیش رو حکمرانوں کو نصیب نہیں ہیں۔ دفاعی اعتبار سے بھی پاکستان کا ڈنکا تمام عالم میں بجاہے۔