08:50 am
 مرگ مفاجات 

 مرگ مفاجات 

08:50 am

  بعض احباب کشمیر میں جاری مظالم پر مسلم امہ کی سرد مہری اور بھارت کی جانب حد سے زیادہ جھکائو پر برہم ہیں ۔ یہ غصہ اور ناراضگی سر آنکھوں پر لیکن چند نکات پر ٹھنڈے دل سے غور ضرور کر لیں ۔ پہلی بات تو یہ کہ مسلم اکثریت والے ممالک کو مسلم امہ سمجھنا آج کے دور میں ایک غلط فہمی سے زیادہ کچھ نہیں ! چنانچہ جب مسلم امہ عملی طور پر موثر وجود ہی نہیں رکھتی تو پھر اس کی سرد مہری پر جی کا جلانا بھی مناسب نہیں ۔ بعض جذباتی دوست اس حقیقت کو سمجھے بنا برہم بھی ہوں گے اور دکھ بھی محسوس کریں گے۔ احباب سے درخواست ہے کہ ماضی میں جھانک کر اس نام نہاد مسلم امہ کے بعض اقدامات پر غور فرما لیں جس کا کہ ہم بھی ایک حصہ ہیں ۔ فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کی دلخراش داستانیں کوئی راز گم گشتہ تو نہیں ۔ ایسا نہیں کہ پنجہ یہود میں سسکتے بلکتے فلسطینیوں کی آہ و بکا مسلم حکمرانوں کے عشرت کدوں تک پہنچتی نہ ہو ! یہ صدائیں سماعتوں سے ٹکرا کر لوٹ آتی ہیں ۔
 
 رب کائنات نے ایسی نا فر ما ن اور بے حس مخلوق کا ذکر اپنی اُس کتاب ہدایت میں کیا ہے کہ جس کے ایک حرف کی صداقت پر بھی رتی برابر شک نہیں کیا جاسکتا ۔ نافرمانوں کا وہ گروہ جس کے آنکھوں ، کانوں اور دلوں پر مہر لگ جاتی ہے۔ عشرت کدوں میں مدہوش پڑے سیکیولر لبرل مادہ پرست حکمرانوں کو ہم مسلم امہ کے قائد سمجھ بیٹھے ہیں ۔ ارض فلسطین پر قبلہ اول میں عبادت کو جانے والے مسلمان اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں ذلت و خواری اٹھاتے ہیں ۔جس ارض مقدس پر شب معراج سیدالمرسلینﷺ نے انبیاء علیہم السلام کی امامت فرمائی وہاں آج کلمہ گو مسلمانوں کے سینے گولیوں سے چھلنی کر دئیے جاتے ہیں ۔ تاریخ کے صفحات اُلٹ کے دیکھ لیں عرب اسرائیل جنگ کے دنوں میں بھی مسلم امہ کہیں دکھائی نہیں دیتی تھی کیونکہ جری حکمرانوں پر عربوں کی قیادت کرنے کا بھوت سوار تھا ۔ شام ، برما، یمن اور فلپائن کا تذکرہ کرنے کی ضرورت نہیں ۔ سب جانتے ہیں کہ کیڑے مکوڑوں کی طرح کٹتے مرتے مظلوم مسلمانوں کے لیے امہ کے سینے میں کتنا درد اٹھتا ہے ۔ عراق نے کویت پر چڑھائی کی تو او آئی سی بھنگ پی کر سوتی رہی ۔ دو مسلم ممالک میں ثالثی کروا کر مشرق وسطیٰ کی بربادی روکی جاسکتی تھی لیکن امہ کی ناک کے نیچے امریکہ نے عراق کی اینٹ سے اینٹ بجائی ۔ 
مسلم مقدس مقامات کو عراق کے مسلمانوں سے بچانے کے لیے عیسائی یہودی فوجی امریکہ سے دستیاب ہوئے۔ سیدالمرسلینﷺ نے جس ارض مقدس سے مشرکین کو نکالنے کا حکم دیا تھا اس پر امریکی فوجی کیمپ قائم ہوئے ۔ جو میزائیل عراق پر برسائے گئے ان پر یہودیوں اور عیسائیوں نے مسلما نو ں کے خلاف جو ذلت آمیز نعرے لکھے تھے وہ ناقابل بیان ہیں ۔ جرم اگر صدام حسین کا تھا تو سزا عراقی عو ا م کو کیوں دی گئی ؟ عراق کو کیوں برباد کیا گیا ؟ ا قتصا د ی پابندیوں کی آڑ میں مسلم نسل کشی کی گئی ۔ ادویات اور دودھ دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے پانچ لاکھ بچہ مرنے کا ذکر اس مسلم امہ کی تاریخ کے سیاہ ترین ابواب میں درج رہے گا ۔ مورخ یہ بھی درج کر چکا ہے کہ اس نسل کشی کا سارا اہتمام اور خرچہ مسلم امہ نے ہی اٹھایا تھا ۔ یورپ کے قلب میں میلازووچ نے مسلم نسل کشی کی تب بھی سلامتی کونسل ، یو این امن مشن اور او آئی سی جیسے نمائشی ادارے گونگے کا گُڑ کھا کے بیٹھے رہے۔ 
ستم بالائے ستم لاکھوں یتیم مسلمان بچے عیسائی مشنری تنظیمیں اُٹھا کے لے گئیں ۔ ہمارے مسلم امہ کے شیوخ کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی ۔ وہ بچے آج کہاں ہیں اور کیا کر رہے ہیں ؟ امہ کو کچھ پتا نہیں ۔ اسرائیل کے جنگی جہاز اور گن شپ ہیلی کا پٹر جب فلسطینیوں پر بمباری کر کے اُن کے پرخچے اُڑاتے ہیں تو مسلم امہ کے باغیرت شیوخ  حج کے موقعے پر کی گئی قربانیوں کا گوشت جہازوں میں لاد کر یتیموں ، بیوائوں اور لاوارثوں کی اشک شوئی فرماتے ہیں ۔ فہرست بنا لیں کہ کتنے مسلم ممالک کے اسرائیل سے سفارتی تعلقات ہیں اور گرمجوشی کا معیار کیا ہے؟ جو بے حس حکمراں قبلہ اول کی بیحرمتی پر ٹس سے مس نہ ہوں ہم اُن سے کشمیر پر رد عمل کی امید ہی کیوں لگاتے ہیں ؟ خود ہم نے کشمیر سمیت بھارت کے دیگر علاقوں میں مسلم کُش فسادات پر کتنی آواز اٹھائی ؟ گجرات اور احمدآباد میں حاملہ عورتوں کے پیٹ تلواروں سے چیرے گئے ۔ باپ اور بھائیوں کے سامنے بیٹیوں اور بہنوں سے اجتماعی زیادتی کر کے زندہ جلایا گیا ۔ کون سا ظلم ہے جو کشمیر میں نہ ڈھایا گیا ہو ۔
 ہم سفارتی تعلقات ، بین الاقوامی قوانین اور رسمی مذمتی بیانات کی بھنگ پی کے سوئے رہے۔ دشمن ہماری جڑیں کاٹتا رہا اور ہمارے چپڑ قناطی دانشور امن کی آشا کا ڈھکوسلہ کرتے رہے۔ بھارت میں آر ایس ایس کا ظہور آج نہیں ہوا ۔ مسلم دشمنی اور مذہبی جنونیت کے گرد گھومتی یہ تحریک عشروں سے جاری ہے۔ جنگ نہ ہونے دیں گے کا ترانہ پڑھنے والے منوج باجپائی کا اصل چہرہ دیکھنا ہو تو ایٹمی دھماکے کے بعد بھارتی پارلیمان میں کی گئی وہ تقریر پڑھ لیں جس میں پردھان منترینے پاکستان میں گھس کر حملہ کرنے(ہاٹ پرسوٹ) کی دھمکی دی تھی۔ بھارت کا دماغ مذمتی بیانات سے نہیں بلکہ جوابی ایٹمی دھماکوں سے ٹھکانے پر آیا تھا ۔ کمزوری نہیں طاقت سے قومی وجود بقا پاتے ہیں ۔ تعلیم ، معیشت اور تحقیق میں پیچھے رہنے والی قومیں باقی نہیں رہتیں لیکن یہ حقیقت بھی پیش نظر رہے کہ اس عہد میں عسکری قوت کے بغیر وجود قائم رکھنا ممکن نہیں ۔ امریکہ ، اسرائیل اور برطانیہ کو بد دعائیں دیتے ہوئے اُن کی بقا کی وجوہات پر بھی نظر ڈالیں ۔ 
کیا وجہ ہے کہ تیل کی دولت سے مالا مال مضبوط معیشت والے ممالک ذرا سی آبادی اور رقبے والے اسرائیل کا بال بھی بیکا نہیں کر پاتے۔ میدان جنگ میں دشمن کے دل پر ہیبت طاری کرنے کے لیے گھوڑے تیار رکھنے والے جب ریس کے گھوڑوں پر دائو لگانے شروع کر دیں تو پھر رب کی طرف سے ذلت ہی مسلط ہوا کرتی ہے۔ شاعر مشرق نے بھی کچھ ایسی ہی بات کہی تھی۔
تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے 
ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات