08:57 am
ناپاک جسارت‘ پی ٹی ایم اور سیکولر ازم

ناپاک جسارت‘ پی ٹی ایم اور سیکولر ازم

08:57 am

عام تاثر یہ ہے کہ دین اسلام کے دشمن ہی پاکستان کے دشمن ہیں‘ دین اسلام کے چوکیدار علماء کرام جبکہ پاکستان کی سرحدات کے پہریدار اور چوکیدار پاک فوج کے جوان ہیں اس لئے اسلام اور پاکستان کے دشمنوں کو نہ علماء کرام‘ مولوی‘ دینی مدارس اچھے لگتے ہیں اور نہ ان کی پاک فوج سے بنتی ہے۔ (یاد رہے کہ اس میں فوج کے سیاسی کردار کی مخالفت کرنے والے شامل نہیں ہیں)پی ٹی ایم سے میرا نہ کوئی ذاتی جھگڑا ہے اور نہ ہی ضد بازی‘ لیکن ہر گزرتے دن کے ساتھ پی ٹی ایم کے مکروہ چہرے سے پرت در پرت نقاب اترتے جارہے ہیں  بالکل اسی طرح جس طرح پیاز پر سے تہہ در تہہ چھلکے اترتے ہیں۔
 
گزشتہ دو روز قبل ایک وڈیو کلپ دیکھا جس کے مطابق پی ٹی ایم سوشل میڈیا ٹیم کی اہم ترین رکن ڈاکٹر فوزیہ احمد زئی نے فیس بک لائیو میں (نعوذ باللہ) قرآن پاک کو آگ لگا کر شہید کرنے کی ناپاک جسارت کی‘ اس ناپاک جسارت  کے دوران یہ ملعونہ گستاخانہ ہفوات بھی بکتی رہی ۔ملعونہ فوزیہ احمد زئی اصلاً افغانی ہے لیکن سوویت یونین سے جنگ کے آخری ایام میں اس کا خاندان پشاور میں آن بسا‘ اس ملعونہ نے پشاور میں پرائمری کرنے کے بعد لاہور اور پھر قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے تعلیم حاصل کی‘ کہا جاتا ہے کہ یہ 26سال پاکستان میں رہی مگر تب اسے صوفی ازم اور علامہ اقبالؒ کی شاعری سے محبت تھی۔
افغان سنگر سے شادی کے بعد یہ ملعونہ امریکہ منتقل ہوگئی‘ جب پی ٹی ایم کا فتنہ اٹھا تو اس نے سوشل میڈیا کا محاذ سنبھال لیا‘ پاک فوج کے خلاف پروپیگنڈہ کرتے کرتے ایسی بائولی ہوئی کہ یہ ناپاک جسارت کر ڈالی۔
فوزیہ ملعونہ کی اس ناپاک جسارت کو 48گھنٹے ہوچکے ہیں مگر نہ منظور پشتین‘ نہ محسن داوڑ اور نہ ہی پی ٹی ایم کے کسی دوسرے رہنما نے اپنی سوشل میڈیا ٹیم کی اہم رکن کی اس قبیح حرکت کا نوٹس لیا‘ نہ مذمت کی اور نہ ہی اس ملعونہ کو پی ٹی ایم سے نکالنے کا اعلان کیا۔ 
وقاص گورایا نام کا  ایک گستاخ بھگوڑا کہ جو ’’بھینسا‘‘ اور ’’موچی‘‘ نام سے پیج بنا کر آقا و مولیٰﷺ ‘ قرآن مقدس اور دیگر اسلامی شعائیر کی توہین کرتا تھا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے جب اس ناپاک لعنتی کو طلب کیا تو پھر یہ رسے تڑوا کر راتوں رات بھاگا اور انگریزوں کی جھولی میں جا بیٹھا‘ صرف ملعون گورایا ہی نہیں بلکہ اس طرح کا ہر گستاخ قلبی طور پر نہایت ’’بزدل‘‘ ہوا کرتا ہے میں کسی گستاخ کی بزدلی کو بیان کرتے ہوئے ’’گیڈر‘‘ کی مثال اس لئے نہیں دینا چاہتا کیونکہ ہر گستاخ گیڈر سے بھی بدتر ہوتا ہے۔ گیڈر سے بدتر یہ ملعون بھی سوشل میڈیا پر پی ٹی ایم کا فل سپورٹرہے اور پی ٹی ایم کی سوشل میڈیا ٹیم اس بھگوڑے کے ٹوئیٹس اور پوسٹوں کو شیئر کرتی ہے۔
کہا جاتا ہے کہ منظور پشتین کے دست راست اور پی ٹی ایم کے رہنما احتشام افغان نےتین روز قبل اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ’’اول انسانیت پھر اسلام‘‘ کوئی اس سے پوچھے کہ کیا انسانیت کا مطلب پاک فوج کو گالیاں بکنا‘ فوج کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ کرنا‘ سوشل میڈیا کے ذریعے اسلامی احکامات کے خلاف باغیانہ خیالات پھیلانا ہی رہ گیا ہےجوکہ اسلام کی حقانیت اور محسن انسانیتﷺ کے حقوق نہیں پہچانتا وہ کیا جانے کہ ’’انسانیت‘‘ کس بلا کا نام ہے؟ ’’انسانیت‘‘ کو تو عروج بخشا ہی میرے سرکارﷺ نے ہے۔
ایک ’’مولوی‘‘ زادہ اسلام آباد سے سوشل میڈیا کو ہتھیار کر بڑے بڑے علماء کی پگڑیاں اچھالنے اور اسلامی احکامات کی غامدی مارکہ تعبیرات عام کرنے میں مصروف ہے‘ اس مولوی زادے کا ایک وائس مسیج اس خاکسار کے موبائل میں محفوظ ہے‘ جس میں موصوف بڑے فلسفیانہ انداز میں فرماتے ہیں کہ ’’ہم تو الحمدللہ پاکستان میں قرآن و سنت کی روشنی میں ’’سیکولر‘‘ نظام کے حامی ہیں اور ہم یہ چاہتے ہیں قرآن و سنت کی روشنی میں ہر فرد اپنے رویوں میں لبرل ہو جائے اور ریاست اپنے روئیے میں سیکولر بن جائے اور یہی اللہ کے رسولﷺ نے قائم کیا تھا۔‘‘ اس مولوی زادے کی فکری دہشت گردی کا اندازہ لگائیے؟ مگر  اس پر دعویٰ یہ کہ موصوف کوئی بہت بڑے ’’مفکر اسلام‘‘ ہیں (خدانخواستہ) کسی اللہ والے نے خوب کہا ہے کہ سیکولر ازم کا روپ ہر ملک میں مختلف ہے لیکن پوری دنیا میں اس کے ہاں ایک قدر مشترک ہے‘ یہ ہندو ازم‘ بدھ ازم‘ عیسائیت وغیرہ کے خلاف ہیں‘ یہ اجتماعی معاملات ہیں ہولی‘ دیوالی‘ کرسمس وغیرہ کو پسند کرتا ہے‘ لیکن جمعتہ المبارک کے خطبے سے اس کی جان نکلتی ہے‘ اسے عید کا اجتماع دیکھ کر موت پڑ جاتی ہے۔
دنیا لاکھوں ٹن بیف کا باربی کیو بنالے‘ آسٹریلیا کی بھیڑوں کی تکا بوٹی کرکے کھا جائے‘ اسے جانوروں کے حقوق یاد نہیں آتے‘ لیکن عیدالاضحی کی قربانی اسے ایک آنکھ نہیںبھاتی‘ اسے کرسمس کی شاہ خرچی بری نہیں لگتی لیکن یہ حج پر جانے والوں کے خرچے کا حساب کرتا ہے۔
چرچ کی راہبائیں حجاب پہنیں‘ یہودی عورتیں شٹل کاک پہنیں‘ اس کو برا نہیں لگتا لیکن وہ مسلمان عورت کے حجاب پر تلملا اٹھتا ہے‘ یہ ہے سیکولر ازم اور سیکولر دانش فروشوں کا اصل دکھ اور  ان کا اصل چہرہ ان کی کتابیں‘ ان کے رسالے‘ ان کی ویب سائیٹس‘ ان کے فیس بک پیجز کو کھنگال کو دیکھ لیں آپ کو صرف اور صرف اسلام اور شعائر اسلام سے نفرت ہی ملے گی۔