07:51 am
کشمیری عوام پر ہونے والے مظالم

کشمیری عوام پر ہونے والے مظالم

07:51 am

میری نسل کے لوگوں نے جب سے آنکھ کھولی ہے کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں قومی سطح پر بھی اور بین الاقوامی سطح پر بھی‘لیکن دنیا میں امن کے ذمہ دار ممالک کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔انہوں نے کسی بھی وقت اور کسی بھی جگہ پر ہندوستانی فوج کے سپاہیوں کے ہاتھ ظلم سے نہیں روکے۔اب تو سوشل میڈیا کا دور ہے اور چھوٹی چھوٹی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں ۔ہم نے تقسیم ہند کے وقت کے مظالم کی داستانیں پڑھ بھی رکھی تھیں لیکن ان لوگوں سے زبانی سننے کا اتفاق بھی ہواجنہوں نے اپنی آنکھوں سے مظالم دیکھے تھے۔خاص طور پر خواتین اور نوجوانوں کا جو حشر کیا گیا تھا وہ سن کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے تھے۔اس سے پہلے دوسری عالمی جنگ کے چشم دید لوگ جو داستانیں سناتے تھے وہ بھی اپنی جگہ دل دہلادینے والی باتیں ہیں لیکن گزشتہ دو ہفتے سے ہندوستانی فوجی مقبوضہ کشمیر کے نوجوانوں اور خواتین کا جو حشر کر رہے ہیں اس کا ثبوت پہلے کبھی شاید تاریخ کے حصے میں نہ ملتا ہو۔اب بھی دنیا کے منصفوں کے ہونٹوں پر سلوشن ٹیپ لگی ہوئی ہے۔
 
آج بھی ہمیں صرف حوصلے دئیے جا رہے ہیں اور عملی کوئی قدم نہیںاٹھایا جا رہا۔اب پاکستانی قوم اور خصوصاًپاکستانی صحافیوں کا یہ فرض بنتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام پر ہونے والے مظالم سے دنیا کے سپرپاور ممالک کے حکمرانوں کے ضمیروں کو کچوکے لگا کر ان کی توجہ اس طرف دلائیں ۔پاکستان کے ہر تحصیل اور ضلعی ہیڈ کوارٹر ز پر پر امن احتجاجی اجلاس کر کے دنیا کی توجہ حاصل کریں ۔ہندوستان نے کشمیریوں کی جس تحریک کو دبانے کی کوشش کی ہے اب تو اس تحریک میں مزید شدت آگئی ہے۔پاکستان میں اس وقت مکمل جمہوریت ہے اور جمہوری دور میں ہر مسئلے پرکھل کر بات ہو سکتی ہے اور ہو بھی رہی ہے۔اب اگر تمام گھریلو جھگڑوں کو پس پشت ڈال کر ساری توجہ مقبوضہ کشمیر پر دی جائے تو بہت بہتر ہوگا۔ 
یہ حقیقت ہے کہ موجودہ دور میں مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے لیکن یہ مہنگائی ہر شعبے کے ذمہ داروں کی طرف سے خود ساختہ ہے خاص طور پر مارکیٹ میں بیٹھے ہوئے بڑے بڑے تاجروں نے جن کی جس بھی چیز میں مناپلی تھی اس نے اپنی سطح پر ہی اضافہ کر لیا ہے اور جب وہ اشیاء چھوٹے دکانداروں تک مہنگے داموں پہنچی تو انہوں نے عوام پر اپنی کسر نکال لی۔اس وقت میرا ذاتی خیال ہے کہ جن اداروں کو قیمتوں پر کنٹرول کرنا چاہیئے تھاوہ اس طرح قیمتوں پر کنٹرول نہیں کر رہے۔ اگر وہ کوئی سرکاری گاڑی لے کر قیمتیں چیک کرنے کے لئے نکلتے بھی ہیں تو وہ صرف ریڑھی چھابڑے والوں کی قیمتیں چیک کر کے ان کو جرمانے کر کے اپنی کارکردگی دکھا دیتے ہیں۔قیمتیں وہاں سے چیک نہیں ہو رہیں جہاں سے قیمتوں کا تعین کیا جاتا ہے۔دل کے مریضوں کی جان بچانے کی ٹیبلٹس اینجیسڈ (Angised) کا ایک پیکٹ 8روپے کا ملتا تھا۔ ان ٹیبلٹس کو ڈبل کر کے اس ڈبیا کو تھوڑا سا بڑا کر کے اس کی قیمت50روپے کر دی گئی ہے۔جبکہ ٹیبلٹس پہلے سے صرف دوگنی ہوئی ہیں۔8روپے کے پیکٹ کو ڈبل کر کے 16روپے کر دیا جاتا ، 20روپے کر دیا جاتا، 25کا کر دیا جاتا لیکن 16روپے کی جان بچانے والی میڈیسن کی قیمت 50روپے کر دینا نہ صرف زیادتی ہے بلکہ ظلم ہے۔اس لئے حکومت وقت کو چاہئے کہ کشمیر کی جنگ کو سفارتی سطح پر پورے زوروشور سے لڑنے کے ساتھ ساتھ اندرونی محاذوں پر بھی پوری توجہ دیں ۔یہ لوگ جہاں حکومت کی بدنامی کا سبب بن رہے ہیں وہاں وہ غریب عوام کی بھی کھا ل ادھیڑ رہے ہیں ۔اس کے ساتھ جرائم کی شرح میں بھی کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔
آج شام کو آئی جے پی روڈ پر پولیس چیک پوسٹ پر فائرنگ کر کے دوجوانوں کو شہید کر کے حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب بھی ہو گئے۔شاید ہی کوئی ایسا دن گزرتا ہو جس دن چوریوں ،  ڈاکوئوں اورقتل مقاتلے کی صرف ایک شہر میں ایک سے زیادہ بڑی وارداتیں نہ ہوتی ہوں ۔شاید ہم اس طرح مجرموں کا پیچھا نہیں کر رہے جس طرح کرنا چاہیئے۔پولیس کی جدید طریقوں سے مجرموں تک پہنچنے کے لئے ٹریننگ کروائی جائے کیونکہ جرائم خطرناک حد تک بڑھ رہے ہیں اور اس میں بھی عوام کا خیال ہے کہ یہ چور ڈاکو ہمارے پڑوسی ممالک سے آ کر وارداتیں کرتے ہیں۔ہندوستان نے ہمیں نفسیاتی طور پر پریشان کرنے کے لئے افغانستان میں بھی پوری طرح اپنے خونی پنجے گاڑ رکھے ہیں جہاں سے وہ پاکستان کے اندر وارداتیں کروا رہا ہے۔مغربی سرحدپر کانٹا دار تار کی باڑ لگانے کی مخالفت کرنے میں بھی جہاں بین الاقوامی اسمگلر شور کر رہے ہیںوہاں اس سارے شور کے پیچھے بھی ہندوستان کے انتہائی گھناؤنے پر و پیگنڈ ے کا اثر ہے۔اس وقت پاکستانی حکومت کے ساتھ ساتھ پاکستانی عوام کو بھی چار چار آنکھیں اور چار چار کان کھول کر رکھنے کے علاوہ ہر واردات کو سمجھنے کے لئے ہندوستان کو بری الزمہ قرار نہیں دینا چاہئے۔ اس وقت خطے کا سب سے جلتا اور سلگتا ہوامسئلہ مقبوضہ کشمیر ہے جو تمام مسلمانوں اور مسلم ممالک کی توجہ اپنی طرف مبذول کروارہا ہے۔