09:45 am
بھارتی جنگی جنون پر ہما را درعمل

بھارتی جنگی جنون پر ہما را درعمل

09:45 am

مقبوضہ کشمیر علاقے کے عوام کے پرامن تحریک آزادی سے نمٹنے کے لئے بھارت اعلیٰ فوجی روایات اور انسانی وقار کے لئے احترام کا فخر اور اعزاز کھوچکی ہے۔ آٹھ لاکھ سے زائد بھارتی افواج کی نہتے مظاہرین پر مظالم، تشدد اور بربریت شرمناک امر ہے۔بھارتی فوجیوں کی طرف سے پیلٹ گن اور کلسٹر بموں کے استعمال سے بھارت کا مکروہ ہندوتا چہرہ بے نقاب ہو چکا ہے جو بھارت کے نام نہاد جمہوریت کے سماجی اورسیاسی نظام میں سرایت کر چکی ہے اوراب دفعہ 370 اور35 اے کو منسوخ کرکے مودی نے جموں وکشمیر کی حیثیت تبدیل کرکے ہندو ریاست کے قیام کا فیصلہ کیا ہے، جس طر ح ٹرمپ نے فلسطینی زمین یر وشلم کو اسرائیل کے حوالے کیا ہے۔ بھارتی سازشوں اور ریاست کی حیثیت تبدیل کرنے کے حوالے سے اُن کے مذموم عزائم کے نتیجے میں اُبھرنے والے سیاسی وجفرافیائی حقائق اس بات کا اشارہ کرتے ہیں کہ ہم اُبھرنے والے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلئے بڑے پالیسی فیصلے لینے کے لئے درجہ ذیل عوامل کوملحوظ خاطر رکھیں۔
 
اوّل: جو کچھ بہت جلد ہو نے جا رہا ہے وہ جنگی جنون کے نتیجے میں کشمیری پناہ گزین کی بڑی تعداد میں نقل مکانی اور آمد ہے جو پا کستان پر بڑا بوجھ ہوگا جس طرح فلسطینی ہمسایہ ملکوں کے لئے بوجھ بنے ہیں۔ مودی کو قبضے کیلئے باہر سے ہندو لانے کے لئے جگہ درکار ہے اس کا جواب دینے کے لئے ہمارے پا س آپشنز موجو د ہیں ۔
دوم : افغان جہاد اپنے کامیاب اختتام کے قریب ہے اور طالبان کی طرف سے یہ مطالبہ کہ آخری قابض فوجی افغانستان سے نکل جائے۔ امریکہ کے پا س اسے تسلیم کرنے کے سوااورکوئی راستہ نہیں ہے لہٰذا مقبوضہ کشمیر افغانستان اور دنیا کے دوسرے حصوں میں لڑنے والے جہا دی آزاد ہو جائیں گے اورکشمیر کی طرف روانہ ہو جائیں گے۔ جیسا1989-1990 میں سوویت فوجوں کی واپسی کے بعد ہوا تھا اسکا مطلب ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک آہستہ آہستہ پر تشدد رُخ اختیار کرے گی ۔ لہٰذا تیس ہزار پیدل افواج پر مشتمل مذید دو انفنٹری ڈویژن حالات کوکنٹرول کرنے کیلئے تعینات کی گئی ہے جو دفعہ 35۔اے اور 370کے منسوخی کے بعد اورزیادہ خراب ہو سکتی ہے۔
سوم : ان مزید دستوں کا کام ایل او سی کے دفاع کو مضبوط بنانا ہو گا جو پہلے ہی ریگولر دستوں کے کنٹرول میں رہی ہیں۔ اسکے علاوہ بھارتی فورسزکو امریکہ اوراسرائیل نے جو جدید فوجی ٹیکنالوجی کے ہتھیاراور آلات دئیے ہیں اور جسے غاصب بھارتی فورسز گزشتہ دوسالوں سے اسکی کارکردگی کا اندازہ لگانے کیلئے آزمارہے ہیں اب پورے مقبوضہ کشمیر علاقے میں خوف اور دہشت کا بازار گرم رکھنے کیلئے وسیع پیما نے پر اسکااستعمال ہوگا۔ 
چہارم : بھارتی فوجیوں نے 27فروری کے ناکام بالاکوٹ سرجیکل سٹرائیک کاجوڈھونگ رچایا تھااور اسکے جواب میں اُنکو ہما ری پاک فضائیہ اور فوجی جوانوں سے جو شرمندگی اور ہزیمت اٹھانا پڑی ہے اُسکا بدلہ لینے کیلئے وہ لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب سرجیکل سٹرائیک کرنے کیلئے مزید فوجی استعداد استعمال کرسکتے ہیں۔
پا نچواں: بھارت نے آزادی تحریک کو بے رحمی کے ساتھ کچلنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ وہ خوب جانتے ہیںکہ اگر ایسا نہ ہواا ور تحریک کامیاب ہوگئی تو بھارت میں جاری ایک درجن سے زیادہ چھوٹی اور بڑی سرکشی تحریکوں کی حوصلہ افزائی ہوگی لہٰذا بھارت مقبوضہ کشمیر پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے لئے بے رحمی کے ساتھ لڑے گا۔
چھٹا: چالاک اور مکار مودی پاکستان اور امریکہ کے مابین نئے معاشقہ کے ساتھ ساتھ ٹرمپ کی طرف سے کشمیر پر ثالثی کے وعدے کی گہرائی کا اندازہ لگانے کی کوشش کررہا ہے اور وہ بھی خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جب امریکہ وسطی ایشیاء مشرق وسطیٰ اور اس سے آگے کے خطے میں بھارت کو ایک تزویزاتی دفاعی شراکت دار کے طور پر غالب کرنے کے لئے گماشتہ کے طور پر آگے بڑھانا چاہتا ہے، بالکل اسی طرح جس طرح کی حیثیت مشرق وسطیٰ کے علاقے میں اسرائیل کو حاصل ہے۔
ساتواں: پاکستان کوکشمیر میں مصروف کرکے اسے ایران کی مکمل حمایت کرنے سے روک دے گا کیونکہ ورسہ پلان پر عمل درآمد پہلے ہی شروع ہو چکا ہے جس میں اسرائیل کو اختیاردیا کہ وہ ایران کی معاشی اور فوجی طاقت کوکچل دیں۔
آٹھواں: بھارت کشمیر کے مسئلے کواپنی شرائط پرحل کرنے کی ناکام کوشش اور امریکہ کی طرف سے مکمل اوردوٹوک حمایت کی غرض سے پاکستان کے ساتھ محدود جنگ کی حدود میں رہتے ہوئے فیصلہ کن جنگ لڑنے کی کوشش کرے گا جس طرح وہ 1971ء میں مشرقی پا کستان جیتنے کے لئے لڑا۔ وہ یہ بھی توقع کر رہے ہیں کہ 1971ءکی طرح اب بھی وہ مختلف فورمز پر شورمچائیں گے اور بالآخرکشمیرکو ان کے حوالے کردیا جائے گا۔ پاکستان کو درپیش سیکیورٹی چیلنجوںسے محتاط اورمنظم انداز میں نمٹنے کی ضرورت ہے انھیں پا کستانی قوم کی مرضی سمیت سیاسی، سفارتی معاشی اور عسکری ایک پالیسی میںضم کرکے پا لیسیاں مرتب کرنی ہیں۔ یہ ہما ری فوجی حکمت عملی کے چند اہم پہلوؤں کا مشورہ ہے۔ہماری حقیقی سیکورٹی بیس پاکستان، ایران اور افغانستان کے مابین اتحاد ہے جسے ایک طاقتور قومی ردعمل کے مشترکہ بندھن میں باندھ کر اور زیادہ مستحکم اور مضبوط بنانا ہوگا۔ واضح رہے کہ ایران گزشتہ چاردہائیوں سے امریکہ کی پا بندیوں،طعن وتشنیع اور لعن طعن کے مقابلے میں ایک دلیر انقلابی قوم کے عزم کا مظاہرہ کرتے آئے ہیں اوراس میں ورسہ پلان کے چیلنجوں کا سامنا کرنے کی پوری صلاحیت ہے۔ دوسری طرف افغان جہاد نے گزشتہ چالیس سالوں سے طاقتورترین قوموں کو شکست دی ہے اور انکے اس کارنامے اور کامیابی کی جھگڑوںاورتنازعات کے انسانی معاشرے کی تاریخ میںمثال نہیں ملتی۔ انکی انتھک جدوجہد پا کستان کے لئے روشن اور چمکتی دمکتی مثال ہے۔ پا کستان کی مسلح افواج اسطرح کے چیلنجوں سے نبرد آزما ہونے کیلئے ہما ری قومی طاقت کا ایک اہم عامل بن جا تا ہے۔ الحمدللہ ہما ری مسلح افواج بھارت کی علاقائی بالاستی اور چودھراہٹ کے حصول کی خواہش کے آگے فصیل کے طور پر کھڑی ہے اور اسے دنیا کی چند اعلیٰ اور بہترین فورسزتصورکیا جاتا ہے جواپنی ذمہ داری اور فرض کو پورا کرنے کیلئے ہر دم تیا ر رہتی ہے۔
میں یہ بات کسی پس و پیش کے بغیر کہتا ہوں کہ پاکستان کو بھارت کے ساتھ اپنی آزادی کے تحفظ کی خاطر پوری اور مکمل جنگ کیلئے تیار ہونا چاہئے اور اس طرح کی تیاریوںکے لئے ضروری ہے کہ ہم نہ صرف کشمیر کے عوام کی آزادی کے حصول کے مقصدکو تحفظ فراہم کریں بلکہ ہمیں دیگر ایسے آپشنز بھی بروئے کار لانے چاہئیں جن سے پا کستان کی بقاء، آبی تحفظ کوبھی یقینی بنایا جاسکے۔
(ترجمہ: عبدالوہا ب قریشی)