09:48 am
پاکستان کے صحافی کنٹرول لائن پر

پاکستان کے صحافی کنٹرول لائن پر

09:48 am

٭مقبوضہ کشمیر، مظاہرے، دوبارہ کرفیوO بھارت کے آرمی چیف جنرل بپن کی ملازمت میں تین سال کی توسیعO بھارت سابق وزیرخزانہ چدم برم، 11 خفیہ جائیدادیں،17غیر ملکی بنک اکائونٹس 307 کروڑ روپے کے گھپلےO وہاڑی: دریائے ستلج میں سیلاب کا پھولوں سے استقبالO ضلع خیبر: دو نومنتخب ارکان اسمبلی نے 5000 نوجوانوں کو کالام کی سیر کرائی۔ 30 دُنبے،160 دیگیں، 50 ہوٹل، تین ہزار گاڑیاں، مزید 10 ہزار آئیں گے، O بھارت شدید مالی بحران، ماروتی کار کمپنی بند، سوزوکی 25 فیصد بند، سینکڑوں ٹیکسٹائل ملوں کے 40 سے 50 لاکھ کارکن فارغ، اربوں کا بحرانO الیکشن کمیشن دو ارکان کے تقرر کا مسئلہ اہم شکل اختیار کر گیا۔
 
٭ٹائمز آف انڈیا اور ہندوستان ٹائمز کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے باوجود ہزاروں مظاہرین باہر نکل آئے۔ پولیس اور فوج سے جگہ جگہ تصادم کے باعث کرفیو میں دو گھنٹے کا عارضی وقفہ پھر ختم کر دیا گیا۔ سری نگر میں دکانیں زبردستی بند کرا دی گئیں۔ ٹائمز آف انڈیا ایک رپورٹ میں لکھتا ہے کہ سری نگر میں تو مسلسل گڑ بڑ جاری ہے مگر جنوبی کشمیر کے پلوامہ، بلگام، شوپیاں اور اننت ناگ میں حالات ایک حد تک پرسکون ہیں اور کوئی مظاہرے نہیں ہو رہے۔ ایک شخص گلزار احمد میر نے کہا کہ ان علاقوں کے سارے لوگ تو جیلوں میں ہیں، مظاہرے کس نے کرنے ہیں۔
٭بھارت میں بھی کرپشن کی داستانیں ابھرنا شروع ہو گئی ہیں۔ گزشتہ روز مسلسل 10 سال کانگریس کے سابق وزیرخزانہ چدم برم کو بھاری کرپشن کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ اس کے بارے میں اس قسم کے الزامات ہیں جو پاکستان میں مختلف ’ملزموں‘ کے خلاف لگائے گئے ہیں۔ بھارت کی سپریم کورٹ کو بتایا گیا ہے کہ چدم برم نے خزانہ کی وزارت کے دوران گیارہ بڑی بڑی خفیہ جائیدادیں بنائیں، بیرون ملک 17 بینک اکائونٹس دریافت ہوئے ہیں۔ ملزم نے شَیل کے نام سے بہت سی کمپنیاں بنائی ہوئی تھیں جو اندرون و بیرون ملک منی لانڈرنگ کرتی تھیں۔ اب تک 307 کروڑ روپے کے گھپلے سامنے آ چکے ہیں۔ یہ تو ایک مثال ہے۔ بھارت کے وزیراعظم مودی کے خلاف بھی فرانس کے ساتھ طیاروں کے سودے میں تین ارب روپے کا کمیشن وصول کرنے کا الزام چل رہا ہے۔ تاہم پاکستان کے بعض سابق حکمرانوں کی کھربوں کی مبینہ کرپشن کے مقابلے میں چدم برم کی کرپشن بہت معمولی دکھائی دیتی ہے۔ خبر میں یہ نہیں بتایا گیا کہ پاکستانی زیرتفتیش دو نظر بند افراد کی طرح چدم برم کی کمر اور ٹانگوں میں کوئی تکلیف شروع ہوئی ہے یا نہیں؟
٭بھارت شدید مالی بحران سے دوچار ہو گیا ہے۔ بے شمار صنعتیں اس وجہ سے بند ہو گئی ہیں کہ ملک بھر کی مارکیٹیں چین کی سستی مصنوعات سے بھری ہوئی ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے میں انڈیا کی ایک مارکیٹ میں گیا۔ وہاں جاپان کے یوشیکا کیمرا کی قیمت تقریباً آٹھ ہزار روپے تھی جب کہ اسی مارکیٹ میں چین میں بنے ہوئے اسی کیمرہ کی ہو بہو نقل آٹھ سو میں مل رہی تھی۔ دونوں کیمروں کی شکل اور کوالٹی میں کوئی فرق نہیں تھا۔ بھارت کا بنا ہوا بال پوائنٹ پین پانچ روپے میں اور وہی چین کا بنا ہوا دو روپے میں مل رہا تھا۔ ظاہر ہے اس صورت حال کا جو انجام ہونا تھا، وہ ہو رہا ہے۔ ویسے یہ صورت حال تو پاکستان میں بھی اسی طرح ہے۔ ایک بڑا مسئلہ بھارت میں گاڑیوں کا بھی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ملک کی ماروتی کاریں بنانے والی پرانی فیکٹری بالکل بند ہو گئی جبکہ سوزوکی اور دوسری کمپنیوں کا 25 فیصد سے زیادہ کام رک گیا۔ ان فیکٹریوں میں ہزاروں تیارشدہ گاڑیاں جمع ہو چکی ہیں۔ ان کے لئے گاہک نہیں مل رہے۔ میڈیا کے مطابق موٹر گاڑیوں کی تیاری و تقسیم میں فولاد، ٹائر، ٹیوبوں اور برقی سامان کی تیاری اور خریداری اور پھر ان گاڑیوں کی فروخت کے لئے لاکھوں ڈسٹری بیوٹروں اور گاڑیاں مرمت کرنے والی ورکشاپوں کا کاروبار بھی ٹھپ ہو گیا ہے۔ یہی حال ٹیکسٹائل انڈسٹری کا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق بھارت میں اب تک تقریباً 50 لاکھ کارکن بے روزگار ہو چکے ہیں اور مزید ہونے والے ہیں۔
٭دلچسپ خبر: صوبہ پختونخوا کے ضلع خیبر سے حلقہ 106,105 سے دو افراد بلال آفریدی اور شفیق آفریدی نے انتخابی مہم کے دوران ووٹروں سے وعدہ کیا کہ کامیاب ہو کر انہیں کالام کی سیر کرائیں گے۔ دونوں ایک دوسرے کے کزن ہیں۔ دونوں کامیاب ہو گئے۔ انہوں نے اپنا وعدہ اس طرح پورا کیا کہ ایک روز قبل تین ہزار گاڑیاں کرایہ پر لیں۔ ان میں 5000نوجوانوں کو سوار کرا کے کالام لے گئے وہاں 80 ہوٹلوں میں انہیں ٹھہرایا گیا۔ 30 دنبے ذبح کئے گئے۔ چاولوں کی 160 دیگیں پکیں۔ ان نوجوانوں نے جی بھر کر کالام کی سیر کی۔ بتایا گیا ہے کہ یہ چار دن کا پروگرام ہے۔ اب مزید 5000 افراد کو بھی کالام کی سیر کرائی جائے گی۔
٭گھر کا ملازم چینی لینے گیا۔ کافی دیر کے بعد واپس آیا۔ کہنے لگا کہ چینی بہت مہنگی ہو گئی ہے دکاندار اسے نہیں رکھ رہے۔ چار پانچ دکانوں کے بعد ایک بڑے سٹور پر گیا۔ شائد وہاں بھی ختم ہونے والی ہے۔ دکاندارو ںکا کہنا ہے کہ چینی مہنگی خرید کر سستی کیسے بیچیں! اور چھاپے بھی پڑیں۔
٭الیکشن کمیشن کے سندھ اور بلوچستان کے ارکان کی نشستیں پھر تنازع کا شکار ہو گئیں یہ نشستیں سات ماہ سے خالی پڑی ہیں۔ یہ حلف برداری والی نشستیں ہیں۔ ان کے تقرر کا طریقہ بھی چیف الیکشن کمشنر جیسا ہی ہے کہ وزیراعظم اور اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر متفقہ طور پر کسی نام کی منظوری دیتے ہیں۔ پھر اس رکن کے تقرر کا اعلان کیا جاتا ہے اور چیف الیکشن کمشنر اس سے حلف لیتا ہے۔ حکومت نے اس طریقہ کار کو بے کار قرار دے کر اپوزیشن لیڈر سے مشورہ کئے بغیر سندھ اور بلوچستان سے دو افراد کو الیکشن کمشن کے ارکان مقرر کر دیا۔ چیف الیکشن کمشنر نے اس بنا پر حلف لینے سے انکار کر دیا ہے کہ یہ تقرریاں آئین اور قانون کے مطابق نہیں ہوئیں اس لئے ان سے حلف نہیں لیا جا سکتا۔ ان تقرریوں پر پیپلزپارٹی کے قائدین رضا ربانی، سید خورشید شاہ اور شیری رحمان نے سخت نکتہ چینی کی اور چیف الیکشن کمشنر کے موقف کی حمائت کی ہے۔ وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے سخت غصے کا اظہارکیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کون ہوتا ہے ہمارے فیصلے پر اعتراض کرنے والا۔ وزیر قانون نے یہ معاملہ عدالت میں لے جانے کا اعلان کیا ہے۔ سو یہ معاملہ پھر لٹک گیا ہے!
٭ایک قاری نے پوچھا ہے کہ ڈاکٹر طاہرالقادری کہاں ہیں؟ کیا کشمیر کی موجودہ صورت حال پر کوئی بیان دیا؟ کوئی ریلی نکالی، کبھی کنٹرول لائن کا دورہ کیا؟ میں نے معذرت کر دی کہ میں لاعلم ہوں!
٭لاہور اور اسلام آباد راولپنڈی کے صحافی ایک ریلی کی صورت میں آزاد کشمیر میں کنٹرول لائن پر واقع چکوٹھی کے مقام پر پہنچ گئے اور مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے مظالم کے خلاف سخت احتجاج کیا۔ ان صحافی بھائیوں کے لئے اظہار تحسین کرتا ہوں۔ ملک کے ادیبوں، شاعروں کو بھی کنٹرول لائن پر جا کر احتجاج کرنا چاہئے۔ چند برس پہلے کنٹرول لائن پر کھڑے ہو کر بھارت کی طرف منہ کر کے کشمیری بھائیوں کے خلاف ظلم پر ایک نظم سنا چکا ہوں۔ کیا یہ بات عجیب نہیں لگ رہی کہ 72 برسوں میں پاکستان کی صرف ایک خاتون حکمران، بے نظیر بھٹو نے کنٹرول لائن پر کھڑے ہو کر بھارت کو للکارا۔ کسی دوسرے حکمران، کسی صدر، وزیراعظم، گورنر، وزیراعلیٰ حتیٰ کہ کشمیر کمیٹی کے کسی چیئرمین کو بھی اس مقام پر جانے اور اس سرحدی علاقے میں بھارتی فائرنگ کی تباہی کا جائزہ لینے کی توفیق نہیں ہوئی۔ پانچ ستارہ ہوٹلوں میں پریس کانفرنسوں میں کشمیری باشندوں کی حالت زار کا تو بہت ذکر ہوتا ہے مگر باہر میدان میں کچھ نہیں۔ میں کنٹرول لائن پر محترم صحافی بھائیوں کے مظاہرے پر اظہار تحسین کرتا ہوں۔
٭میں نے کالم میں ذکر کیا تھا کہ مولانا فضل الرحمان 15 برس کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہے۔ بنوں سے ان کے ایک ساتھی اکرام اللہ صاحب نے وضاحت کی کہ 15 سال نہیں، 10 سال تک چیئرمین رہے اور اسمبلی کے اندر کشمیر کے بارے میں بہت سرگرم رہے، بہت سی سفارشات پیش کیں۔ مجھے اچھا لگا کہ حسب معمول دھمکیاں دینے کی بجائے ایک محترم قاری نے بڑی شائستگی کے ساتھ اپنا موقف بیان کیا ہے جسے میں چھاپ رہا ہوں۔ تاہم کوئی صاحب یہ بھی بتا دیں کہ مولانا کبھی کنٹرول لائن پر گئے؟ اس میں ناراض ہونے والی کوئی بات نہیں۔ موجودہ کسی بھی سیاسی جماعت کا کوئی قائد وہاں نہیں گیا! اس پر کیا لکھا جائے!
٭وہاڑی: دریائے ستلج میں سیلاب آیا تو بہت سے لوگوں نے پھول پھینک کر اس کا استقبال کیا کہ اس سے ہزاروں ایکڑ خشک اراضی کو پانی ملے گا اور زمین کے اندر پانی کی تہہ اُبھر آئے گی! 

تازہ ترین خبریں