07:22 am
 عربوں سے حسن ظن برقرار رکھیں

عربوں سے حسن ظن برقرار رکھیں

07:22 am

چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی نے متحدہ عرب امارات جانا تھا ، ان کا دورہ طے شدہ عمدہ معاملہ تھا، مگر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی
 چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی نے متحدہ عرب امارات جانا تھا ، ان کا دورہ طے شدہ عمدہ معاملہ تھا، مگر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو اماراتی ولی عہد محمد بن زید النہیان نے24 اگست کو قصر الوطن میں امارات کا سب سے بڑا اعزاز اور تمغہ دیا تو امارات پر جاتے ہوئے چیئرمین سینٹ نے اپنا مجوزہ دورہ ملتوی کر دیا ہے کہ اہل کشمیر پر مظالم کی روشنی میں جب نریندر مودی جیسے مسلمان دشمن قصائی کو قصر الوطن میں اماراتی سب سے بڑا تمغہ اور اعزاز دیا گیا ہو تو چیئرمین کا امارات جانا نامناسب عمل ہے۔ ہمارے ہاں نریندر مودی کے حوالے سے موجود اس نئی عرب بھرپور پذیرائی پر شدید ناراضی ہے۔ خود ساختہ امت مسلمہ کا تصور جو ہم نے اپنی معصومانہ ، زمینی حقیقت سے  سے ماورا ء اور خیالی دنیا میں تخلیق کر رکھا ہے وہ پاش پاش ہوگیا ہے جبکہ نریندر مودی البحرین میں بھی قدم رنجہ ہو رہے ہیں اور سعودیہ میں بھی ۔ گویا اہل کشمیر پر مظالم اور ہندتوا کا جارحانہ مسلمان کش رویہ ہمارے محبوب عربوں نے نظر انداز کر دیا ہے۔ کچھ تجزیہ نگاروں نے تصور امت مسلمہ کو پس پشت ڈال کر ہندتوا مسلمان دشمن اقتدار کو گلے سے لگانے ، بھارت میں بھرپور عرب سرمایہ کاری کو عربوں کی خود غرضی، مطلب پرستی اور مالی مفادات کا نام دیا ہے۔
 میں عربوں کو ان کی اپنی ’’نفسیات‘‘ کی روشنی میں بھی دیکھتا ہوں، اپنی طے کردہ محدود نفسیات اور تعصبات اور انڈیا دشمنی کی روایت سے بھی ہٹ کر دیکھتا ہوں۔ پہلے تو ہم اپنا معاملہ خود دیکھ لیں۔ اپنی شناخت اور حیثیت کا بار بار جائزہ لے لیں کہ خود ہم کیا ہیں؟ ایک دائمی مفلس ریاست؟ اکثر نااہل قیادت و حکمرانی کی تاریخ؟ عوامی سطح پر بددیانت؟ وہ تمام شرعی  و سماجی و معاشرتی عیوب جن سے قرآن پاک میں دوسری امتوں کا تذکرہ کرکے شدید ممانعت ہے وہ سب شرعی، سماجی، معاشرتی، سیاسی گناہ کبیرہ ہماری زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ ہم بطور ریاست اتنے مفلس ہیں کہ سعودی عرب اور امارات اگر ہماری مالی مدد نہ کرتے، چین ہمارا دست و بازو نہ بنتا تو خدانخواستہ ہم اب تک دیوالیہ ہوچکے ہوتے لہٰذا امارات، سعودیہ پر اظہار ناراضی سے پہلے اپنا دامن افلاس دیکھ لیں اور امارات و سعودیہ کے موجودہ مالی احسانات کو دیکھ لیں، پھر فروری میں جو پاک بھارت جنگ وقوع پذیر ہو رہی تھی اس کو رکوانے میں اور نفسیاتی طور پر پاکستان کو مستحکم کرنے میں ولی عہد محمد بن سلمان اور ولی عہد محمد بن زید النہیان نے کس قدر فعال اور متحرک اور انسان دوست کردار ادا کیا تھا؟ ذرا عربوں کو ان مظلوم، بے بس مسلمانوں کے حوالے سے بھی دیکھ لیں جو بھارت میں بستے ہیں اور سماجی و معاشرتی و سیاسی ہندو ظلم و جبر کا سامناکررہے ہیں۔ کیا ان کے لئے عربوں  سے امیدیں وابستہ کرنا نعمت خداوندی کے مترادف نہیں ہوسکتا؟ اگر یہ عرب بادشاہتیں مظلوم وبے بس، لاچار بھارتی مسلمانوں کے لئے  خیر، نعمت، رحمت بن سکتے ہیں تو اس کا طریقہ بھی وہی ہوگا جو عرب نفسیات  ترجیحات میں بھی مفید اور ثمر آور بن سکتا ہو۔ میں بدقسمتی تصور کرتاہوں کہ ہم اہل  پاکستان برصغیر کے مسلمانوں کے لئے قلعہ، پاسبان، محافظ نہیں بن سکے بلکہ ہم تو اپنا  جغرافیہ تک نہیں بچاسکے۔ ہماری مفلسی کی بے توقیر حیثیت  کا حسینہ واجد کے بنگلہ دیش  کی عمدہ معاشی حالت سے تقابل کرلیں؟ لہٰذا نہایت محبت اور احترا م کے ساتھ استدعا ہے کہ عرب دوستوں سے ناراض ہونے، انہیں معتوب کرنے کی جذباتی عادت سے نجات پائیں۔ یہ بھی سوچیں کہ عرب بادشاہتیں مستحکم ریاستیں اور مضبوط معیشت کیسے بنی ہیں؟ ایک زمانہ تھا شاہ عبد العزیز کا سعودیہ مفلس ترین ریاست تھی۔ تنخواہ دینے کے لئے مال و دولت ہی نہیں تھا۔ اتنی مفلسی کے باوجود شا عبدالعزیز نے جس قوت ارادی، یقین محکم کے ساتھ سعودیہ کو قائم کیا ،اسے اعداء کی دشمنی سے بچاکر مستحکم کیا، وہی قائدانہ کردار، اخلاص ، حب الوطنی، ایقان  و ایمان ، ایثار اور قربانی کیا ہماری فیصلے سازی میں آج موجود ہے؟ اگر عملاً موجود ہے تو پھر یقین رکھیں جس طرح مفلس ترین سعودیہ شاہ سعود کے زمانے میں کچھ مالدار اور شاہ فیصل کے زمانے میں بہت مالدار ہوا پاکستان بھی ہوسکتا ہے۔ ان شاء اللہ
ایک زمانہ تھا الشیخ زید النہیان ہمارے صدر جنرل ایو ب سے ملنا چاہتے تھے۔ اس وقت ابھی امارات کا وجود بہت کمزور اور ناتواں جسم کا سا تھا۔ ہمارے صدر جنرل ایوب نے ان سے ملاقات کی زحمت ہی نہ اٹھائی کیونکہ اس زمانے میں الشیخ زید النہیان  غیر اہم اور بہت کمزور تھے۔ میری نظر میں ہمارے صدر ایوب کا رویہ غیر اخلاقی تھا انہیں الشیخ النہیان کو عزت و اکرام دینا چاہیے تھا مگر اسی الشیخ زید النہیان نے یقین و ایمان اور قوت ارادی ، ایثار و قربانی سے چھوٹی چھوٹی ریاستوں کو جغرافیائی وحدت دی اور مارات تخلیق کیا اور دنیا بھر کا معاشی مرکز بنا ڈالا۔ کیا ہماری فیصلہ سازی میں وہی قوت ارادی، قوت عمل ، ایمان و ایقان کا سرمایہ موجود ہے جو امارات بناتے ہوئے الشیخ زید النہیان کے دل و دماغ میں موجزن تھا۔ ایک اور بات کہ عربوں کی موجودہ  نفسیات میں اگر دشمن کوئی موجود ہے تو وہ صرف ایران ہے۔ مگر جب ہم سے سعودیہ و امارات و البحرین ایران کی جارحانہ روش کے خلاف مدد مانگتے رہے ہیں تو ہمارا عمل ایرانی  دوستی کی بناء پر عربوں کے لئے کتنی بڑی مایوسی کا سامنا تھا؟ یمن کے حوالے سے شاہ فیصل کے عہد سے 1960-62 میں ہمارا سعودیہ سے عسکری معاہدہ تھا کہ یمن میں ہم سعودیہ کا ساتھ دیں گے۔ بار بار نئے عسکری معاہدے بھی ہوئے اس کے باوجود ہماری پارلیمنٹ نے سعودیہ و امارت کی خواہش پر یمنی بارڈز کی حفاظت کے لئے چند ہزار فوجی بھجوانے سے دو ٹوک انکار کر دیا تھا۔ یوں ہم خود کتنے سچے اور مخلص دوست، ساتھی ثابت ہوتے رہے ہیں اپنے مخلص ترین عرب دوستوں کے ؟ لہٰذا اگر عرب  اپنی دانست میں مودی کو اعزاز و اکرام دیکر اس کی شر سے بھارت کے مسلمانوں، کشمیری مسلمانوں کو، تدبر و فراست کے استعمال سے بچانا چاہتے ہیں تو ہمیں اس پر ناراض ہونے کی بجائے  خاموش رہنا چاہیے بلکہ عربوں کے بارے میں مکمل حسن ظن برقرار رکھیں۔
پس تحریر: پاکستان کو 30 مارچ2020 ء تک بہت محتاط رہنا ہوگا۔ اختتام مارچ2020 کے بعد پاکستان مستحکم ہوتا جائے گا اور بھارت اندرونی خلفشار، عدم  استحکام، معاشی تباہی کا نشانہ ہوگا۔  جبکہ عرب پاکستان کا نقصان ہرگز نہیں ہونے دیں گے۔ان شاء ال

تازہ ترین خبریں