07:23 am
مذاکرات کس کے ساتھ ؟

مذاکرات کس کے ساتھ ؟

07:23 am

بھارت کو جنوبی ایشیا ء میں کشیدگی پیدا کرنے اور حالات کو امن کے پس منظر میں خراب کرنے میں ع
(گزشتہ سے پیوستہ)
بھارت کو جنوبی ایشیا ء میں کشیدگی پیدا کرنے اور حالات کو امن کے پس منظر میں خراب کرنے میں عالمی سامراج کی حمایت حاصل ہے ورنہ بھارت کبھی بھی مقبوضہ کشمیر سے متعلق یکطرفہ فیصلہ کر کے اس پر قبضہ نہیں کر سکتا اور نہ ہی اس کو وہاں مزید فوج بھیجنے پڑتی جس کی وجہ سے حالات اور زیادہ خراب ہوتے ۔
یہاں یہ لکھنا بہت ضروری ہے کہ عالمی عدالت انصاف میں یہ مسئلہ ایک طویل عرصے تک بھارت اور پاکستان کی جانب سے زیر بحث رہے گا اس دوران بھارت مقبوضہ کشمیر میں فوجی طاقت کے ذریعے اپنا تسلط مضبوط کر لے گا۔ اس لئے پاکستان کو چاہئے کہ وہ عالمی عدالت انصاف میں جانے کے ساتھ ساتھ دیگر اہم ممالک کے ساتھ اپنی سفارتی سرگرمیاں تیز کر دے تاکہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے کئے جانے والے ظلم و بربریت کو بے نقاب کرتے ہوئے اس کو روکنے کی کوشش کی جائے ۔
دوسری طرف بھارت کا انتہا پسند وزیر داخلہ ناتھ سنگھ نے پاکستان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت پاکستان کے خلاف ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے میں پہل کر سکتا ہے حالانکہ دونوں ممالک کے درمیان یہ سمجھوتہ موجود ہے کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے میں پہل نہیں کریں گے ۔ بھارت کے وزیر داخلہ کے اس بیان سے پاک بھارت تعلقات میں مزید تنائو اور تلخی پید ہو گئی ہے مزید براں آر ایس ایس کے غنڈے اس بیان کے پس منظر میں شیر ہو کر بھارتی مسلمانوں کے لئے روز مرہ کی بنیاد پر زندگی اجیرن بنائے ہوئے ہیں ۔ اس گھمبیر صورتحال کے پیش نظراور مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کا بھارتی فوج کی جانب سے جاری تشدد و بربریت کے پس منظر میں ایک معروف امریکی کانگریس ایڈم اسمتھ نے واشنگٹن میں بھارت کے سفیر کو طلب کیا اور انہیں واشگاف الفاظ میں کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں نہتے مسلمانوں پر ظلم و تشدد بند ہونا چاہئے ۔ انہوں نے بھارتی سفیر کو متنبہ کیا کہ انہیں مقبوضہ کشمیر کے موجودہ حالات سے مکمل آگاہی ہے یہاں واشنگٹن میں قیام پذیر کشمیری مسلمان میرے ووٹرز ہیں جنہوں نے مجھے بڑی تفصیل کے ساتھ بتایا ہے کہ بھارتی فوج نوجوانوں اور خواتین کے ساتھ کتنا وحشیانہ سلوک کر رہی ہے اس درندگی کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر میں نوجوانوں میں مزید غم و غصہ پایا جا رہا ہے ۔ اسی طرح کے بیانات دیگر امریکی سینیٹرز نے بھی دئیے ہیں اور بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر سے متعلق 5اگست کا اپنا فیصلہ واپس لے ۔
اس وقت پوری دنیا میں بھارت کا مسلمان دشمن چہرہ بے نقاب ہو چکا ہے بعض عرب ممالک اپنی داخلی کمزوریوں کی وجہ سے بھارت کی مقبوضہ کشمیر میں ظلم و بربریت کی کھل کر مذمت نہیں کر رہے ہیں لیکن بہت جلد ان عرب ممالک کو معلوم ہو جائے گا کہ بھارت ، اسرائیل کے ساتھ مل کر آئندہ مقبوضہ کشمیر میں کس قسم کے اقدامات اٹھا سکتا ہے ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ بھارت اپنے عوام کی معاشی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے آزاد کشمیر پر بھی حملہ کر سکتا ہے ۔ یہاں یہ بات بھی گوش گزار کرنے کی بہت ضرورت ہے کہ یہودی اور نصاریٰ دونوں کبھی بھی پاکستان سمیت مسلمانوں کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے اور نہ ہی ان سے اس قسم کی توقع رکھنی چاہئے ان کے دلوں میں اسلام کے خلاف شدید بغض ، عناد اور کینہ پایا جاتا ہے ۔ خلافت اسلامیہ کو ختم کرنے میں بھی یہودی اور نصاریٰ نے اہم کر دار ادا کیا ہے یہ سب کچھ تاریخ میں درج ہے اور پاکستان کو اس پر غور کرنا چاہئے ۔ ہماری آزادی بھی مقبوضہ کشمیرمیں جارحیت کی وجہ سے دائوں پر لگ گئی ہے ۔

 

تازہ ترین خبریں