07:23 am
آرمی چیف کو مدد کیلئے بلاتا ہوا کراچی

آرمی چیف کو مدد کیلئے بلاتا ہوا کراچی

07:23 am

کوئی شک نہیں کہ کراچی ایک لاوارث شہر ہے‘ سندھ حکومت اور کراچی کے بلدیاتی اداروں کی نااہلی
کوئی شک نہیں کہ کراچی ایک لاوارث شہر ہے‘ سندھ حکومت اور کراچی کے بلدیاتی اداروں کی نااہلی اور اس شہر سے بے توجہی اب تقریباً ثابت ہوچکی ہے‘ لیکن ان سے پوچھے کون؟ آصف زرداری نیب کی تحویل میں ہیں اور بلاول زرداری انہیں رہا کروانے کے مشن پر گامزن‘ اس لئے کراچی میں جگہ جگہ پڑے ہوئے گندگی کے ڈھیر جانے  یا پھر کراچی میں بسنے والے عوام‘ کراچی بارش گزرے15دن ہوگئے لیکن بارش کے پانی سے کراچی والوں کی جان آج تک نہ چھوٹی‘ عیدالاضحی کو گزرے تقریباً10,11 دن بیت گئے مگر قربانیوں کے جانوروں کی الائشیں آج بھی پیپلزپارٹی کی حکومت اور کراچی کے بلدیاتی اداروں کی بدترین کارکردگی کو بے نقاب کر رہی ہیں۔ شہر میں جا بجا پڑے ہوئے گندگی کے ڈھیر‘ جانوروں کی الائشوں کو مناسب طور پر ٹھکانے نہ لگانے سے ان سے اٹھنے والے تعفن اور بارشوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے کراچی کے ڈھائی کروڑ عوام کی زندگیوں کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔
راولپنڈی‘ اسلام آباد کچرا کنڈی میں  وہ گندگی اور تعفن نہیں ہوگا کہ جو کراچی کے گلیوں‘ بازاروں حتیٰ کہ پوش علاقوں کی سڑکوں سے اٹھ رہا ہے۔ اس خوفناک گندگی اور غلاظت بھرے تعفن کے سبب شہر کراچی میں پیٹ کے امراض‘ ڈائیریا اور گیسٹرو میں یکایک اضافہ ہوگیا ہے‘ کہا جاتا ہے کہ سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں ڈائیریا اور گیسٹرو کے مریض زیادہ ہونے کی وجہ سے جگہ کم پڑ چکی یہ‘ جگہ جگہ کھڑے بارشوں کے پانی‘ گندگی اور کچرے کے ڈھیروں کے سبب گزشتہ چند روز میں مختلف وبائی بیماریوں کا شکار ہو کر کراچی والوں کے 16ہزار  سے زائد بچوں کو ہسپتالوں میں لایا جاچکا ہے‘ دکھ کی بات یہ ہے کہ اس تعداد میں کمی ہونے کی بجائے مزید اضافہ ہی ہوتا چلا جارہا ہے‘ کراچی میں اگر صوبائی حکومت ہوتی یا کوئی بلدیاتی ادارہ متحرک ہوتا تو کراچی میں رہنے والوں کے گھروں‘ سڑکوں‘ گلیوں‘ بازاروں اور پارکوں میں سپرے کا انتظام کرتا‘ مگر حکومتی محکمے چونکہ قبرستان کے مناظر پیش کر رہے ہیں۔
وفاقی‘ صوبائی اور بلدیاتی اداروں کے ا ہلکا ر و ں کے درمیان اختیارات کی جنگ عروج پر پہنچ چکی ہے‘ وفاق میں عمران خان کی حکومت ہے‘ سندھ کی صوبائی حکومت پیپلزپارٹی کے جیالوں پر مشتمل ہے‘ جبکہ ایم کیو ایم کے وسیم اختر میئر کراچی کی ذمہ داریاں سنبھالے بیٹھے ہوئے‘ ان تینوں اکائیوں میں شامل خواتین و حضرات کے اللے‘ تللوں کے سارے اخر ا جا ت پورے ہیں‘ حکومت پروٹوکول ان سب کے سروں پر سایہ فگن ہے۔ مگر شہر کراچی کا کوئی والی وارث نہیں ہے‘ شاید اسی لئے پی ایس پی کے مصطفیٰ کمال نے کراچی کے ڈھائی کروڑ عوام کی زندگیوں کے تحفظ کی بھیک آرمی چیف جنرل قمر باجوہ سے مانگی ہے‘ وہ کہتے ہیں کہ ’’کراچی کے حالات وفاقی‘ صوبائی اور بلدیاتی حکومتوں کی نااہلی اور ناکامی کا کھلا ثبوت ہیں‘ پاکستان کی معیشت کو چلانے والے شہر کو اقتدار کی ہوس نے تباہ کرکے رکھ دیا۔ اس لئے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کراچی کی بربادی کا نوٹس لیں۔‘‘
گو کہ سندھ ہائیکورٹ نالوں کی عدم صفائی اور شہر کی غلاظت کا ڈھیر بنانے پر میئر کراچی سے جواب طلب کرلیا ہے‘ لیکن اگر پاکستان میں انصاف ہوتا تو ’’وسیم اختر‘‘ کو کراچی کی سینٹرل جیل میں ہونا چاہیے تھا۔ معزز سندھ ہائیکورٹ کی موجودگی میں شہر کراچی غلاظت کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا گیا کراچی کے عوام پوچھتے ہیں کہ آخر انصاف کہاں ہے؟
 اگر ایک طرف مقبوضہ کشمیر میں شیوسینا اور آر ایس ایس کے ’’مچھروں‘‘ نے بھارتی فوج کے درندوں کی زیرنگرانی کشمیری مسلمانوں پر قیامت ڈھا رکھی ہے تو دوسری طرف وفاقی‘ صوبائی حکومتوں اور بلدیاتی اداروں کے دیکھتے ہی دیکھتے ’’مکھیوں‘‘ کے ٹڈی دل لشکر نے کراچی کے عوام پر یلغار کر رکھی ہے‘ صبح 6بجے سے لے کر اذان مغرب تک کراچی کی سڑکوں‘ بازاروں‘ منڈیوں‘ ہوٹلوں‘ دوکانوں‘ سکولوں‘ کالجوں‘ پارکوں اور گھروں پر ’’مکھیوں‘‘ کے لشکر نے قبضہ جمایا ہوتا ہے‘ گلشن حرید کے رہائشی ایک دوست نے بتایا کہ وہ روز جب صبح 7بجے اپنے بچوں کو تھوڑی سی دوری پر واقع سکول چھوڑنے جاتے ہیں تو مکھیاں زبردستی ناک‘ کانوں میں گھسنے کی کوشش کرتی ہیں‘ بدنام زمانہ نریندر مودی کی طرح یہ  ’’مکھیاں‘‘ بھی اس قدر ڈھیٹ واقع ہوئی ہیں کہ الاماں والحفیظ۔
مطلب یہ کہ گندگی کے ڈھیروں‘ کچرا کنڈیوں‘ کھڑے پانی کے جوہڑوں‘ جانوروں کی آلائشوں پر مچھر اور مکھیاں تو پہلے ہی سے تھیں مگر ’’تبدیلی‘‘ کی برکت سے اب انہوں نے اتنی ترقی حاصل کرلی ہے کہ پورا شہر کراچی ہی اپنے شکنجے میں کس لیا ہے‘ ایک دوست نے بتایا کہ لگتا ہے کہ ’’مکھیوں‘‘ کے یہ اضافی لشکر بھی ’’لبرل‘‘ اور ’’سیکولر ازم‘‘ سے زیادہ قریب ہیں کیونکہ ان کا رخ مدرسوں‘ مسجدوں کی بجائے انگلش میڈیم سکولوں اور کالجوں کی طرف زیادہ ہے‘ بلاول زرداری کو ’’سلام‘‘ کہ جنہوں نے کراچی کے عوام کو کچہرے کے ڈھیروں‘ مچھروں اور مکھیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔
عمران خان کے گورنر سندھ کہ جو گایا کرتے تھے کہ ’’روک سکو تو روک لو تبدیلی آئی رے‘‘ کو چاہیے کہ اب وہ فرصت نکال کر نیا گانا تیار کرائیں کہ جس میں کہیں پر یہ شہر بھی فٹ ہوں کہ روک سکو تو روک لو۔مکھیاں آئیں رے۔
ان حالات میں لے دے کے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کی شخصیت ہی رہ جاتی ہے کہ جن سے توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ کراچی کی ڈھائی کروڑ عوام کو عذاب ناک صورتحال سے نجات دلانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔اگر کراچی میں جابجا پڑے کچرے کے ڈھیروں‘ گندے پانی کے جوہڑوں‘ تباہ حال سڑکوں‘ کراچی کی فضائوں میں پھیلی ہوئی بدبو اور تعفن سے جمہوریت خطرے میں نہیں  پڑتی...تو جنرل قمر باجوہ کراچی کے عوام کی بہتری کے لئے اگر کوئی قدم اٹھائیں گے تو اس سے بھی ’’جمہوریت‘‘ کو کوئی خطرہ محسوس نہیں ہونا چاہیے۔

 

تازہ ترین خبریں