07:25 am
پل صراط کی دہشت

پل صراط کی دہشت

07:25 am

پل صراط کی دہشت: سیدنا عمربن عبدالعزیز علیہ رحمۃ اللہ الحفیظ کی ایک کنیز نے حاضر ہو کر عرض کی
پل صراط کی دہشت: سیدنا عمربن عبدالعزیز علیہ رحمۃ اللہ الحفیظ کی ایک کنیز نے حاضر ہو کر عرض کی، میں نے خواب میں دیکھا کہ جہنم کو دہکایا گیا ہے اور اُسکے اوپر پل صراط رکھ دیا گیا ہے، اتنے میں اُموی خلفاء کو لایا گیا، سب سے پہلے خلیفہ عبدالمالک بن مروان کو حکم ہوا کہ پل صراط سے گزرو! وہ پل صراط پر چڑھا مگر آہ! دیکھتے ہی دیکھتے دوزخ میں گر پڑا، پھر اُسکے بیٹے ولید بن عبدالمالک کو لایا گیا وہ بھی دوزخ میں جا گرا، اسکے بعد سلیمان بن عبدالمالک کو حاضر کیا گیا اور وہ بھی اسی طرح دوزخ میں گر گیا، ان سب کے بعد یاامیرالمومنین آپ کو لایا گیا۔ بس اتنا سننا تھا کہ حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃ اللہ الحفیظ نے خوفزدہ ہو کر چیخ ماری اور گر پڑے۔ کنیز نے پکار کر کہا: یاامیرالمومنین سنئے بھی تو… خدا کی قسم! میں نے دیکھا کہ آپ نے سلامتی کیساتھ پل صراط کو پار کر لیا‘ مگر حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃ اللہ الحفیظ پل صراط کی دہشت سے بیہوش ہو چکے تھے اور اسی عالم میں اِدھر اُدھر ہاتھ پائوں مار رہے تھے۔ (احیاء العلوم ج 4، ص231، ملخصاً)
اے عاشقانِ رسول! یاد رہے غیرنبی کا خواب شریعت میں حجت یعنی دلیل نہیں، کنیز کے خواب کی بنیاد پر ان خلفاء کو ہرگز جہنمی نہیں کہہ سکتے، اللہ پاک ہی انکا حال جانتا ہے۔ حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃ اللہ الحفیظ میں خوفِ خدا کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا، صرف خواب سن کر پل صراط کی دہشت سے بیہوش ہو گئے۔ واقعی پل صراط کا معاملہ بڑا ہی نازک ہے۔ پل صراط بال سے زیادہ باریک اور تلوار کی دھار سے زیادہ تیز ہے اور یہ جہنم کی پشت پر رکھا ہوا ہو گا۔ خدا کی قسم! یہ سخت تشویشناک مرحلہ ہے، ہر ایک کو اس پر سے گزرنا پڑیگا۔  پھر تیرا یہ ہنسنا کیسا؟
حکایت: حضرت سیدنا حسن بصریٰ علیہ رحمۃ اللہ القوی نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ ہنس رہا ہے۔ فرمایا، اے جوان! کیا تو پل صراط سے گزر چکا ہے؟ عرض کی: نہیں۔ پھر فرمایا، کیا یہ جانتا ہے کہ تو جنت میں جائیگا یا دوزخ میں؟ عرض کی، نہیں۔ فرمایا: ’’فَمَا ھٰذَا الضِّحْکُ؟‘‘ یعنی پھر تیرا یہ ہنسنا کیسا ہے؟ (یعنی جب ایسی مشکلات تیرے سامنے ہیں اور تجھے اپنی نجات کا بھی علم نہیں تو پھر کس خوشی پر ہنس رہا ہے؟) اسکے بعد کسی نے کبھی بھی اس نوجوان کو ہنستے ہوئے نہیں دیکھا۔ (احیاء العلوم، جلد4، ص 227)
خوش ہونے والے پر حیرت!: حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ تعجب ہے اُس ہنسنے والے پر جسکے پیچھے جہنم ہے اور حیرت ہے اُس خوشی منانے والے پر جسکے پیچھے موت ہے‘‘۔
ہر ایک پل صراط سے گزرے گا: اُم المومنین حضرت سیدتنا حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ معظم ہے: جو غزوۂ بدر و حدیبیہ میں حاضر تھے، ان شاء اللہ تعالیٰ وہ آگ میں داخل نہیں ہونگے۔ میں نے عرض کی: ’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، اللہ پاک نے یہ نہیں فرمایا: ’’وَاِنْ مِّنْکُمْ اِلاَّ وَارِدُھَا ج کَانَ عَلٰی رَبِّکَ حَتْمًا مَّقْضِیَّا‘‘۔(ترجمہ کنزالایمان) ’’اور تم میں کوئی ایسا نہیں جسکا گزر دوزخ پر نہ ہو، تمہارے رب کے ذمے پر یہ ضرور ٹھہری ہوئی بات ہے‘‘۔(پ 16، سورۃ مریم 71)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’کیا تم نے نہیں سنا: ’’ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّنَذَرُ الظّٰلِمِیْنَ فِیْھَا جِثِیًّا‘‘۔ ترجمہ کنزالایمان: ’’پھر ہم ڈر والوں کو بچا لیں گے اور ظالموں کو اس میں چھوڑ دیں گے گھٹنوں کے بل گرے۔ (پ16، سورۃ مریم72)
مجرم جہنم میں گر پڑیں گے:۔ اے عاشقانِ رسول! اس روایت سے معلوم ہوا کہ ہر ایک کو دوزخ سے گزرنا ہوگا۔ خوفِ خدا رکھنے والے مسلمان بچا لئے جائیں گے اور مجرم و ظالم لوگ جہنم میں گر پڑیں گے۔ واقعی انتہائی دُشوار معاملہ ہے، ہائے! ہائے! پھر بھی ہم خوابِ غفلت سے بیدار نہیں ہوتے۔
صحابی کا رونا: پل صراط سے گزرنے کا معاملہ آسان نہیں، ہمارے بزرگانِ دین رحمہم اللہ المبین اس تعلق سے بے حد فکرمند رہا کرتے تھے‘ چنانچہ حضرت سیدنا عبداللہ بن رَواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک بار روتے دیکھ کر ان کی زوجہ محترمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کی کہ  آپ کو کس بات نے رُلایا ہے؟ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: مجھے اللہ پاک کا یہ فرمان یاد آ گیا ’’وَاِنْ مِّنْکُمْ اِلاَّ وَارِدُھَا‘‘۔ ترجمہ کنزالایمان: ’’اور تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا گزر دوزخ پر نہ ہو‘‘۔(پ16: مریم71)، یوں یہ تو جان لیا کہ میں نے اس میں داخل ہونا ہے لیکن یہ نہیں جانتا کہ میں اس سے نجات حاصل کر سکوں گا یا نہیں۔
’’وَارِدُھَا‘‘ سے مراد: صحابہ کرام علیہم الرضوان کا خوفِ خدا مرحبا! سورۃ مریم کی آیت 71 میں لفظ ’’وَارِدُھَا‘‘ (یعنی دوزخ سے گزرنے) کے بارے میں حضرت سیدتنا حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خیال میں بات یہ تھی کہ قرآنِ کریم کے ان الفاظ میں ’’وَارِدُھَا‘‘ کے معنی دَاخِلُھَا (یعنی دوزخ میں داخل ہونے) کے ہیں۔ یاد رہے اس آیت کریمہ’’وَاِنْ مِّنْکُمْ اِلاَّ وَارِدُھَا‘‘، (ترجمہ کنزالایمان: ’’اور تم میں کوئی ایسا نہیں جسکا گزر دوزخ پر نہ ہو‘‘) کے تحت ’’خزائن العرفان‘‘ میں ہے کہ (حضرت) حسن وقتادہ (رحمہما اللہ تعالیٰ وغیرہ) سے مروی ہے کہ دوزخ پر گزرنے سے پل صراط پر گزرنا مراد ہے جو دوزخ پر ہے۔ (تفسیر خزائن العرفان ص 579)
کاش کہ میری ماں نے ہی نہیں جنا ہوتا: حضرت سیدنا ابومیسرہ عمرو بن شرحبیل علیہ رحمۃ اللہ الجلیل ایک بار بچھونے پر آرام کیلئے تشریف لے گئے تو بیقرار ہو کر فرمانے لگے: کاش! میری ماں نے مجھ کو جنا ہی نہ ہوتا۔ ان کی زوجہ محترمہ نے عرض کی: آپ ایسا کیوں فرما رہے ہیں؟ فرمایا: بیشک اللہ کریم نے جہنم پر گزرنے کی خبر دی ہے لیکن یہ خبر نہیں کہ ہم اُس سے نکلیں گے یا نہیں۔ (البدورُ السافرۃ، ص 343)
پل صراط پندرہ ہزار سال کی راہ ہے: اللہ پاک ہم پر رحم فرمائے، پل صراط کا سفر نہایت ہی طویل ہے، چنانچہ حضرت فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے منقول ہے: پل صراط کا سفر پندرہ ہزار سال کی راہ ہے، پانچ ہزار سال اوپر چڑھنے کے، پانچ ہزار سال نیچے اُترنے کے اور پانچ ہزار سال برابر کے۔ پل صراط بال سے زیادہ باریک اور تلوار کی دھار سے زیادہ تیز ہے اور وہ جہنم کی پشت پر بنا ہوا ہے اس پر سے وہ گزر سکے گا جو خوفِ خدا کے باعث کمزور ہو گا۔ (البدورُ السافرۃ، ص 334)

 

تازہ ترین خبریں