07:26 am
وزیر ِ اعلیٰ پنجاب کی کارکردگی پر ایک نظر

وزیر ِ اعلیٰ پنجاب کی کارکردگی پر ایک نظر

07:26 am

تحریک انصاف کی حکومت برسر اقتدار آئی تو پنجاب کی کمان سنبھالنے کے حوالے سے مختلف چہ میگوئیاں شروع ہوگئیں
2018  ء میں جب تحریک انصاف کی حکومت برسر اقتدار آئی تو پنجاب کی کمان سنبھالنے کے حوالے سے مختلف چہ میگوئیاں شروع ہوگئیں ، ہر کوئی اپنا اپنا راگ الاپتا نظر آ رہا تھا، جب کپتان عمران خان نے پنجاب کی کپتانی سردار عثمان بزدار کو سونپی تو سیاسی فضائوں میں اڑنے والے کئی عقاب منہ کے بل زمین پر آگرے لیکن تحریک انصاف کی قیادت کی جانب سے اٹل فیصلے کے بارے میں واضح کر دیا گیا اور شرافت ، سادگی اور جذبہ خدمت کی پیکر شخصیت نے کپتان کا انتخاب سچ کر دکھایا۔ اتنی مضبوط اپوزیشن کی موجودگی میں وزیراعلی عثمان بزدار نے حکومت پنجاب کی ذمہ داری جس خوبصورتی سے نبھائی ہے وہ ان کی مثبت کارکردگی سے واضح ہے۔
صوبائی اسمبلی کی نشست پی پی 286 ڈیرہ غازیخان سے جیتنے کے بعد عثمان بزدار پنجاب اسمبلی سے 186 ووٹ حاصل کر کے آبادی کے لحاظ اور سیاسی طور پر سب سے اہم صوبے پنجاب کے وزیراعلی منتخب ہو ئے۔عثمان بزدار تونسہ اور بلوچستان کے قبائلی علاقے میں آباد بزدار قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔عثمان بزدار نے پہلی مرتبہ 2013 میں پاکستان مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لیا تھا تاہم وہ کامیاب نہیں ہو پائے تھے۔انہوں نے2018 کے انتخابات میں اپنی سیاسی وابستگی تبدیل کی اور پاکستان تحریکِ انصاف کے ٹکٹ سے انتخابات میں حصہ لے کر لگ بھگ چھ ہزار ووٹوں کی برتری سے کامیاب ہوئے۔ اس سے قبل سردار عثمان خان بزدار بلدیات کی سطح پر تحصیل ناظم بھی رہ چکے ہیں۔سردار عثمان بزدار سیاسیات میں ایم اے کی ڈگری رکھتے ہیں اور ان کا خاندان روشن خیال تصور کیا جاتا ہے۔
وزیراعلیٰ کی جانب سے محکمہ صحت پنجاب میں یونیورسٹی آف چائلڈ ہیلتھ سائنسز لاہور،مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال لاہور کا قیام، ٹیچنگ ہسپتال ڈی جی خان میں گائنالوجی بلاک کا قیام،ٹریثری کیئر ہسپتالوں میں 279وینٹی ولیٹرز،199آئی سی یو بیڈز اور 333پیشنٹ مانیٹرز کی فراہمی،پنجاب میں صحت انصاف کارڈز کی فراہمی، ڈی جی خان انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا قیام، ڈی ایچ کیو ڈی جی خان کی اپ گریڈیشن، ٹیلی میڈیسن کی سہولت، میانوالی، لیہ اٹک اور راجن پور میں 200بیڈز کے حامل مد ر اینڈ چائلڈ ہسپتال اینڈ نرسنگ کالج کا قیام،ہسپتالوں میں معیاری ادویات کی فراہمی،تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتالوں اوربنیادی مراکز صحت کی ری ویمپنگ،16اربن ہیلتھ سنٹرزکا قیام، وزیراعظم ہیلتھ اقدامات کے تحت 8ارب روپے کی لاگت سے 18اضلاع کے سرکاری ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن، پنجاب کی 38جیلوں میں HIVسکریننگ سہولیات کی فراہمی،نوجوانوں میں ایڈز سے بچاو کیلئے آگاہی کیلئے صوبہ بھر کے تعلیمی اداروں میں آگاہی مہم کا آغاز، تعلیمی اداروں میں ماڈل ہیلتھ رومز کا قیام،کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے شکایات کا ازالہ،سکول ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن پروگرام کا آغاز، اینستھیزیا ماہرین کی کمی کو پورا کرنے کیلئے 225نئے میڈیکل افسروں کی تربیت، 17ہزار ڈاکٹروں کی بھرتی اور سرکاری ہسپتالوں کو سولر انرجی پر منتقل کرنے کے منصوبہ جات سمیت بے شمار اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔
 15 ارب کی لاگت سے 1200 کلو میٹر روڈز تعمیرکی گئیں۔ سڑکوں کی تعمیر و بحالی کا تعین اب پرانے فرسودہ نظام کی بجائے جدید اور شفاف جی آئی ایس میپنگ سسٹم کے ذریعے کمپیوٹرائزڈ نظام سے فنڈز کے ناجائز استعمال کا خاتمہ، ای ٹینڈرنگ کا باقاعدہ اجرا کیا گیا،حکومت پنجاب نے ای ٹینڈرنگ متعارف کرائی، آفیسرز کی ٹریننگ اور ٹھیکیداروں کی تفصیلات کی اپ لوڈنگ کا کام بھی آخری مراحل میں ہے۔
عثمان بزدار کی زیر قیادت بین الاقوامی اداروں کے اشتراک سے پنجاب کے لئے لائیو سٹاک پالیسی کی تشکیل، پنجاب اینمل ہیلتھ ایکٹ 2019 کی منظوری، جس سے بین الاقوامی سطح پر پنجاب کے شعبہ لائیو سٹاک کے فروغ، ایکسپورٹس میں اضافہ اور پیداوار کی او آئی ای اے کے معیار سے مطابقت، موبائل ویٹ ڈسپنسریوں کا قیام، ڈیرہ غازی خان سے منصوبے کا آغاز، لائیو سٹاک کی پیداوار بڑھانے کے لئے PPR کے خاتمے کے لئے خصوصی مہم، جنوبی پنجاب میں ملتان، ڈی جی خان اور بہاولپور میں آغاز کیا گیا۔پنجاب میں 213 روایتی بھٹوں کو زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کیا گیا جس سے فضائی آلودگی میں خاطر خواہ کمی ہوئی۔ دس ہزار صنعتی یونٹس کی انسپکشن کی گئی تا کہ ماحول دشمن مواد کے اخراج پر قابو پایا جا سکے۔ سات سو سے زائد دھواں چھوڑنے والے صنعتی مراکز کو سیل کر دیا گیا، ایسی 26 ہزار دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف کریک ڈائون، اس دوران 46 صنعتی یونٹس میں ایئر پلوشن کنٹرول ڈیوائسز نصب کئے گئے۔
اقلیتی ڈویلپمنٹ فنڈ، تعلیمی وظائف، اقلیتی آبادی والے علاقوں کی خصوصی ڈویلپمنٹ، مذہبی مقامات کی رینوویشن، سماجی اور اقتصادی بہتری کیلئے320 ملین روپے کا اقلیتی ڈویلپمنٹ فنڈ، 300 ملین روپے سے اقلیتی آبادی والے علاقوں کی خصوصی ڈویلپمنٹ، 100 ملین روپے سے مذہبی مقامات کی تزئین و آرائش، سماجی اور اقتصادی بہتری کے لئے 100 ملین روپے کی گرانٹ مختص، 50 ملین روپے کے تعلیم وظائف، صلاحیتوں کو ابھارنے اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لئے سرکاری نوکریوں میں 5 فیصد کوٹے کا مکمل اطلاق اور PSDF کے ذریعے پانچ ہزار اقلیتی نوجوانوں کو فنی تربیت کی فراہمی۔
چند ماہ کی قلیل مدت میں 345 ملین روپے کی لاگت سے لاہور میں 5 پناہ گاہوں کا قیام، ریلوے سٹیشن، داتا دربار، سبزی منڈی، لاری اڈہ، ٹھوکر نیاز بیگ میں قائم پناہ گاہوں میں 30 ہزار سے زائد لوگوں نے قیام کیا اوار ایک لاکھ سے زائد لوگوں کو کھانے، افطاری، سحری فراہم کی گئی۔ 5 کروڑ کی لاگت سے ادارے کے متعدد انسٹی ٹیوشنز کی اپ گریڈیشن اور غیر میسر سہولیات کی فراہمی، لودھراں، پاکپتن اور لیہ میں شیلٹر ہومز کا قیام، 5 کروڑ کی لاگت سے خواجہ سرائوں کے لئے خصوصی کمیونٹی سینٹرز کا قیام، 3 کروڑ کی لاگت سے صنعت زار اور قصربہبود پراجیکٹس کی اپ گریڈیشن، سوشل ویلفیئر انسٹی ٹیوٹس میں رہائش پذیر افراد کا خوراک کا ڈیلی بجٹ دگنا کر دیا گیا ہے۔ پروونشل کونسل فار ری ہیبلی ٹیشن آف ڈس ایبلڈ پرسنز کو فعال بنایا گیا۔ تین فیصد سپیشل کوٹہ پر بھرتیوں کی بحالی، ساڑھے چار ہزار پوسٹوں پر بھرتیوں کا عمل شروع کیا گیا۔، 2012 ء سے کھٹائی میں پڑی لیبر کالونیوں کی الاٹمنٹ کی بحالی،ملتان اور لاہور میں 3کالونیوں کی تکمیل، 700 خالی آسامیوں پر میرٹ پر بھرتی ،208پرائمری سطح کے اساتذہ کی ترقی، PESSI قوانین میں ترمیم کی بدولت ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کو صحت انصاف کارڈ کی فراہمی،تمام سوشل سکیورٹی ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن، رحیم یار خان، سرگودھا اور ڈی جی خان میں نئے سوشل سکیورٹی ہسپتالوں کا قیام اور کاروباری مراکز اور اداروں کی رجسٹریشن جیسے اقدامات شامل ہیں۔

 

تازہ ترین خبریں