08:45 am
منافقانہ روئیے ۔ سورہ نساء کی روشنی میں

منافقانہ روئیے ۔ سورہ نساء کی روشنی میں

08:45 am

 سورۃ النساء کا معاملہ اس اعتبار سے بہت اہم ہے کہ معاشرتی اصلاح کے حوالے سے یہ بہت اہم راہنمائی اور ہدایات پر مشتمل ہے۔ چنانچہ اس کے آغاز ہی میں یتیموں کے ساتھ حسن ِسلوک کا ذکر ہے۔ یتیم ہر انسانی معاشرے کا حصہ ہوتے ہیں ۔ یہ جس حسن سلوک کے مستحق ہیں اس کے تقاضے قرآن نے کھول کر بیان کیے ہیں۔ اس لئے کہ جب بھی معاشرے کی اصلاح کی بات ہو گی، یہ کمزور اور ضعیف طبقات کے نگہداشت سے شروع ہو گی ۔یتیموں کے ذکر کے بعد وراثت کا قانون آیا۔ پھر شادی بیاہ کے حوالے سے بعض اہم اصولی مباحث آئے ہیں کہ کن کن عورتوں سے نکاح جائز ہے اورکون سی خواتین ہیں جن سے ہمیشہ کے لئے نکاح نہیں ہو سکتا۔پھر یہ کہ مرد و عورت کے حقوق و فرائض میں توازن کیاہے، یہ ایک بہت اہم ایشو ہے۔ بعض معاشروں میں عورت کو بالکل پائوں کی جوتی بنا کر رکھ دیا جاتا ہے ۔ خود عیسائیوں میں ایک تصور تھا کہ عورت شرمحض ہے۔ اور کہیں آج کی غالب تہذیب میں اُس کو مردوں کے بالکل برابر بلکہ اُن سے بھی اوپر کر دیا گیا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ عورت کی اپنی ایک نفسیاتی ساخت ہے۔ اس کو اسی حوالے سے اپنا ایک کردار ادا کرنا ہے۔ مرد کی اپنی ایک نفسیاتی ساخت ہے اُس کا کردار بھی اُسی حوالے سے ہے۔ مغربی تہذیب یہ کہتی ہے کہ ان سب کو نظر انداز کر کے انہیں ہر اعتبار سے برابر کر دو۔ یہ دونوں رویے افراط و تفریط پر مبنی ہیں۔ یہاں قرآن نے واضح کر دیا کہ گھر کے ادارے کا سربراہ مرد ہے۔ ’’مرد عورتوں پر حاکم ہیں۔‘‘(النساء۔۳۴)
بیوی کی حیثیت سے عورت کی سب بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ مرد کی اس اتھارٹی کو تسلیم کر کے اس کی اطاعت میں زندگی گزارے۔ قرآن حکیم نے نیک عورتوں کی ایک صفت قانتہ بیان کی ہے۔ قانتہ فرماں بردار کو کہتے ہیں۔ یہ ضرور ہے کہ شرف انسانیت میں مرد اور عورت یکساں ہیں، لیکن جب گھر کے ادارے کی بات آئے گی تو اِس میں قوامیت مرد کی ہو گی۔ پھر خواتین کی ذمہ داریاں وہ نہیں ہوں گی جو مردوں کی ہیں۔ بلکہ مردوں اور عورتوں دونوں کو جس فطرت پر تخلیق کیا گیا،اُسی کے مطابق اُن پر ذمہ داریاں بھی ڈالی گئی ہیں۔ اِسی طرح یہاںمیاں بیوی میں نا چاقی کی صورت میں اصلاح احوال کے لئے اقدامات کی تفصیل آئی ہے۔ اس لئے کہ گھر کا ادارہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔ آج ابلیسی تہذیب کا فوکس ہی اس امر پر ہے کہ کسی طرح گھر کے ادارے کو تباہ کر دیا جائے، اور ابلیس کے فرزند اس میں بہت حد تک کامیاب ہیں۔ وہ اپنے ممالک کے علاوہ مسلمان ممالک میں فحاشی و عریانی عام کر کے خاندانی انتشار کا زہر پوری طرح پھیلا چکے ہیں۔اور اب ایک عرصے سے سفارشات کے نام پر UNO کے ذریعے اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ میاں بیوی میں نا چاقی کی صورت میں اصلاح احوال کے لئے اقدامات کے بعد یہاں سابقہ مسلمان اُمت کی یہود کی بات شروع ہو گئی اور بتایا گیا ہے کہ ان کا کردار کیا ہے؟ انہیں بھی شریعت ملی تھی، مگر اب وہ کس مقام پر کھڑے ہیں۔ اس وقت وہ اسلام اور دین کے سب سے بڑے دشمن ہیں اور آنحضور ﷺ کی شان میں گستاخی کرتے ہیں اور بے ادبی کے مواقع تلاش کرتے ہیں۔ حالانکہ وہ یہ جانتے ہیں کہ آپﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں، اور قرآن اللہ کی سچی کتاب ہے۔ اس کے باوجود ضداور تعصب کی وجہ سے وہ یہ حرکتیں کر رہے ہیں ۔ یہود کے تذکرے کے بعد سچے اہل ایمان کی بھی کچھ خصوصیات اور ان کے لئے بشارتیں آئیں۔ 
(جاری ہے)

تازہ ترین خبریں