09:01 am
 حرم کعبہ سے!

 حرم کعبہ سے!

09:01 am

گزشتہ دنوں میں حرم شریف مکہ میں بعد نماز عصر باہر صحن میں بیٹھا تھا کہ میرے برابر بیٹھے صاحب نے بڑی نیاز مندی سے اسلام وعلیکم کہا اور دریافت کیا۔ کیا آپ کا تعلق پاکستان سے ہے ۔میں نے کہا الحمد للہ میں پاکستانی ہوں مسکراکر بولے میں نے آپ کو کہیں دیکھا ہوا ہے۔ آپ پاکستان میں کہاں رہتے ہیں۔ کیا آپ کا تعلق اخبار سے ہے‘ میں نے ہاں میں گردن ہلادی۔ کیا آپ اخبار میں کچھ لکھتے ہیں‘ میں نے کہا جی ہاں۔ بولے آپ کی تصویر بھی چھپتی ہوگی۔ جی ہاں میں نے آپ کو نہیں آپ کی تصویر دیکھی ہے۔ تب ہی ایسا محسوس ہوا کہ میں نے آپ کو کہیں دیکھا ہے۔ میرا تعلق نواز شریف کی پارٹی سے ہے۔ نہیں نہیں اب تک تھا، اب نہیں ہے۔ میں نے مسکراتے ہوئے انہیں دیکھا اور پوچھا اب کیوں نہیں ہے تعلق آپ کا، بولے آپ تو صحافت سے تعلق رکھتے ہیں، آپ تو خوب اچھی طرح جانتے اور سمجھتے ہوں گے میاں نواز شریف کا مزاج انتہائی انتقامی ہے وہ ڈگے کا کینہ رکھتے ہیں، میں نے کہا ڈگے کا نہیں اونٹ کا کینہ، مشہور ہے۔ کہنے لگے پنجاب میں اونٹ کم اور ڈگے زیادہ ہوتے ہیں اور ویسے بھی ہمیں غیر پنجابی لوگ پنجابی ڈگہ کہتے ہیں اس لیے میں نے ڈگہ کہہ دیا ہے۔ میاں نواز شریف کو جنرل پرویز مشرف نے برطرف کیا، قید کیا اور سعودی عرب کی فرمائش پر انہیں ملک بدر کیا۔ اس کا رنج میاں نواز شریف سے بھلائے نہیں بھول رہا۔ وہ تمام افواج پاکستان کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنا چاہتے ہیں، حالانکہ ان کے دور اقتدارمیں جس طرح جنرل کیانی اور جنرل راحیل شریف نے ان کی تابعداری کی اور کہیں انحراف نہیں کیا، اس کے باوجود وہ عسکری قیادت پر بھروسہ کرنے کو کسی طرح تیار نہیں تھے، ہمیشہ شک و شبہ میں مبتلا رہے ہیں۔ سپہ سالار کے مشورے کو انہوں نے کبھی درخور اعتنا نہیں جانا۔ 
 
آخر افواج کب تک اپنی تذلیل و ہتک برداشت کرتی اس بار عسکری قیادت نے غیر قانونی راستہ مارشل لا کی جگہ قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے میاں صاحب کی کرسی اور کرسی کے نیچے بچھا قالین کھینچ لیا، میاں صاحب کی سمجھ میں ہی نہیں آیا کہ انہیں کیوں نکالا گیا۔ وہ یہی نعرہ لگاتے رہے کہ مجھے کیوں نکالا۔ مجھے کیوں نکالا اور عسکری قیادت کے لیے بھی انہوں نے خلائی مخلوق کا نعرہ لگایا۔ اگر میاں صاحب واقعی سیاست دان ہوتے تو عقل مندی اور سیاسی پختہ پن کا تقاضا تھا کہ ماضی کو بھول کر قدم آگے بڑھاتے وائے خراب نصیب میاں صاحب دودھ کے جلے کی طرح چھاج سے بھی ڈرتے ہی رہے‘ حالانکہ جنرل کیانی کے دور میں ایسے حالات پیدا کیے گئے کہ جنرل کیانی وسیع تر قومی مفاد میں میاں صاحب کو گھر بلکہ سرکاری گھر بیچ سکتے تھے لیکن انہوں نے ملک و قوم کے وسیع تر مفادات اور اپنی ذمہ داریوں اور اختیارات کو سمجھتے ہوئے کوئی منفی قدم اٹھایا نہ کوئی منفی راستہ اختیار کیا۔ اس طرح ان کے بعد آنے والے سپہ سالار راحیل شریف کا تمام دور جو میاں صاحب کے لیے خوفناک دور کہا جاسکتا ہے حزب اختلاف ان کے خلاف میدان سجائے رہتی تھی، عمران خان میدان میں جم کر کھڑے ہوگئے تھے۔ عوام خواہش مند تھی کہ ملکی اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے راحیل شریف حکومت کی باگ ڈور سنبھالیں اور میاں صاحب جن سے حکومت نہیں سنبھالی جا رہی کو گھر بھیج دیں، لیکن جنرل راحیل شریف نے بھی تمام تر عوامی خواہشات کے اپنی حدود کو پھلانگنا مناسب نہیں سمجھا۔ لیکن آخر کب تک صبر کی بھی حد ہوتی ہے۔ ویسے بھی ہمارے حکمران تو حکمران دیگر تمام قوتیں جو ملک کی سلامتی و حفاظت کی ذمہ دار ہیں وہ بھی امریکی احکامات کے اشارے پر کام کرتی ہیں۔
 میاں صاحب کا مزاج مسلسل اقتدار میں رہنے سے خراب ہو گیا انہوں نے اپنے پہلے دور میں اور اس کے بعد کے دور میں بھی امریکی حکام کے احکامات سے انحراف کیا اور کسی قیمت پر کسی مثبت تجویز پر کان دھرنے کو تیار نہیں تھے، یہی وجہ ہے کہ وہ بار بار رسوائی سے دوچار ہوتے رہے۔ اس طرح ان کے اندر غصہ اور کینہ بڑھتا رہا، پھر آخری بار تمام تر کوشش کے وزیر اعظم کے منصب پر رہتے ہوئے انہوں نے خلائی مخلوق کے نعرے مارنے شروع کردیے اور اپنی تباہی کا سامان خود اپنے ہاتھوں کر بیٹھے غرور و تکبر کبھی کسی انسان کو راس نہیں آتا، میاں صاحب مسلسل تیسری بار وزیر اعظم کیا بنے انہیں یہ غلط فہمی ہوگئی کہ وطن عزیز تو ان کی اپنی جاگیر ہے۔ انہیں روکنے ٹوکنے والا کوئی نہیں ہے وہ بھول گئے کہ اس سارے نظام کائنات کے ذرے ذرے پر رب ذوالجلال کی حکمرانی ہے۔ وہ جب جیسے جس طرح چاہتا ہے عزت سے سرفراز کرتاہے اور جب چاہتا ہے بلند ترین مرتبہ اور اختیارات کے حامل افراد کو خاک چٹا دیتا ہے۔ تخت سے تختے تک آنے میں دیر نہیں لگتی۔ اللہ تعالی جب چاہتا ہے اچھے اچھوں کو ذلیل و رسوا کردیتا ہے اور بے توقیر لوگوں کو عزت و مرتبہ عطا کردیتا ہے۔ 
سب خیر و شر اسی مالک الملک کے ہاتھ میں ہے۔ اپنی ذلت و رسوائی بے عزتی اور قید و بند کے باوجو دمیاں نواز شریف کے پیر اب بھی زمین پر نہیں ٹک رہے وہ اب بھی اپنے آپ کو بہت بڑی اور اہم چیز سمجھ رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے یہ قید و بند یہ مشکل لمحات عارضی اور لمحاتی ہیں، جو جلد اچھے اور خوشگوار حالات سے بدلنے والے ہیں۔ میں نے یہ سارا تماشا بڑے غور سے دیکھا ہے کیونکہ میرا سیاسی مستقبل بھی میاں صاحب سے وابستہ تھا۔ جو اب نہیں رہا۔ میاں صاحب کو اللہ نے ایک اور موقع دیا تھاکہ وہ اگر خلائی مخلوق سے سیاسی نعرے کے تحت ہی مصلحت کرلیتے تو پھر سیاسی طور پر تخت نشین ہوسکتے تھے، لیکن انہوں نے اپنے غرور و تکبر میں یہ موقع بھی ضائع کردیا۔ حالانکہ حکومت کرنے کے تمام حربوں سے وہ بخوبی واقف ہیں۔ لیکن شاید میاں صاحب ملک کو بھی اتفاق فانڈری کی طرح چلانا چاہتے ہیں جہاں ان کا حکم ہی آخری اور حتمی ہوتا ہے۔ اتنا کہہ کر وہ صاحب ایک ٹھنڈی سانس لے کر خاموش ہوگئے۔ چہرے سے وہ بڑے رنجیدہ دکھی محسوس ہو رہے تھے۔ پھر کچھ دیر خاموش رہ کر بولے میں ایک کھرا پاکستانی ہوں، میں سمجھتا تھا کہ میاں نواز شریف اور شہباز شریف وطن عزیز سے مخلص ہیں اور پوری دیانت داری سے وطن کی حفاظت کے ساتھ اس کے مسائل کو حل کرنا ان کی اولین ذمہ داری ہے۔ جسے وہ بہت اچھی طرح بہت خوبی سے نباہ رہے ہیں لیکن وائے قسمت سوچا تھا کیا کیا ہوگیا۔ میاں صاحب کو اللہ تعالیٰ اب بھی عقل سلیم دے اور ملکی اور قومی مفاد میں سب کو ساتھ لے کر چلنے کا حوصلہ عطا کرے اتنا کہہ کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے، میں نے انہیں دلاسا دیا فکر نہ کریں اللہ بڑا مسبب الاسباب ہے۔ ان شا اللہ وہ پاکستان کو کچھ نہیں ہونے دے گا۔ چاہے کتنے ہی تیس مار خان آتے جاتے رہیں رہی بات خلائی مخلوق یا عسکری قیادت کی تو وہ واحد ادارہ ہے جو ہر طرح سے ملک و قوم کا سچا وفادار اور نگران ہے۔ 
عمران خان، نواز شریف،زرداری اور دیگر تمام اکابرین سیاست اللہ کے حکم سے ہی اچھا یا برا سوچتے اور کرتے ہیں۔ اللہ پر بھروسہ رکھیے اللہ کبھی اپنے مخلص بندوں کو تنہا نہیں چھوڑتا۔ پاکستان تو اہل پاکستان بلکہ تمام عالم اسلام کے لیے اللہ کا ایک نادر تحفہ ہے انشااللہ ، اللہ ہمیں کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا۔ آپ دعا کرتے رہیں یہ جگہ دعا کی مقبولیت کی جگہ ہے۔ اللہ ہماری ہمارے وطن عزیز کی حفاظت کرنے والا ہے۔ آمین۔

تازہ ترین خبریں